اقول: (۱) لکن ھذا خلاف مااجمع علیہ کلماتھم فی تحدید جنس الارض۔
اقول : (میں کہتاہوں) لیکن جنس زمین کی تحدید میں جس بات پرکلمات علماء کااجماع ہے یہ تفصیل اس کے برخلاف ہے۔(ت) ظاہر۴ کافی اسی قول کااختیار ہے
اذا طلق فقال لابنحو الحنطۃ والملح
(اس لیے کہ انہوں نے نمک کو مطلق رکھتے ہوئے یوں کہا: ''گیہوں اور نمک جیسی چیزوں سے نہیں''۔ت) ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائز ہے ۱خلاصہ و۲خجندی و۳فتاوی میں اسی پرمشی کی ۴جوھرہ یوں ہی ۵محیط میں رحمانیہ اسی طرح ۶منیہ کمامر (جیسا کہ گزرا۔ت) عامہ مشایخ اسی پرہیں ۷بزازیہ یہی اصح ہے خلاصہ وجیز کردری اسی کو ۸امام صدرالدین شہید نے واقعات میں اختیار فرمایا ۹غیاثیہ یہی ۱۰ امام شمس الائمہ سرخسی کاقول ہے کما مر عن ۱۱ السراجیہ (جیسا کہ سراجیہ کے حوالہ سے گزرا۔ت) یہی مختار ہے ۱۲شلبیہ عن ۱۳ زاد الفقیر للمحقق علی الاطلاق (شلبیہ بحوالہ زادالفقیر از محقق علی الاطلاق ۔ت) ۔ یہی صحیح ہے ۱۴خانیہ ۱۵خزانہ ۱۶مراقی توامام قاضیخان کی تصحیح مختلف ہوئی، یونہی امام سرخسی سے نقل مختلف اور قاطع نزاع یہ ہے کہ فتوی جواز پر ہے ۱۷ تجنیس الامام صاحب الھدایہ ۱۸ بحر ۱۹ نھر ۲۰ ہندیہ ۲۱ ازہری ۲۲ط توجب یہی قول امام ہے اور یہی قول جمہور اور اسی پرفتوی توخلاف کی اصلاً گنجائش نہ رہی۔
زجاج ۸ یعنی شیشہ۔ عامہ کتب مثلاً ۱امام سمرقندی ۲وبدائع امام کاشانی و۳ظہیریہ و ۴خلاصہ و۵خزانہ ۶سراجیہ و۷کافی و۸حلیہ ۹وایضاح و۱۰درمختار و۱۱مسکین و۱۲ہندیہ میں اس سے مطلقاً عدم جواز لکھا مگر ۱محیط و۲تبیین الحقائق و۳فتح القدیر و۴بحرالرائق ۵ومجمع الانہر و۶ازہری و۷شامی میں عدم جواز کومصنوع سے مقید فرمایا جوریتے مین دوسری کوئی چیز غیرجنز ارض مثلاسجی وغیر ملاکر بنایاجاتاہے۔
اقول: یہی تحقیق ہے کہ زجاج ضرور معدنی بھی ہوتاہے اور معدنی ضرور قسم حجروجنس ارض سے ہے کما قدمنا بیانہ (جیسا کہ ہم نے اسے پہلے بیان کیا۔ت) اکثروں کااطلاق بربنائے غالب ہے کہ عام طور پر یہی مصنوع شیشہ ملتاہے اور معدنی کمیاب۔
واغرب العلامۃ ط فقال فی حواشیہ علی الدروالزجاج المتخذ من الرمل و قال تحت قول الدروزجاج ولواتخذ من رمل۱؎ واوضحہ فی حواشیہ علی مراقی الفلاح فقال یعتبر کونہا من جنسہا وقت التیمّم فلایجوز علی الزجاج وان کان اصلہ من رمل ۲؎۱ھ وکانہ ظن الواو فی قول الفتح والبحر الزجاج استخذ من الرمل وغیرہ بمعنی اوولیس کذلک بل ھی للجمع۔
اور علامہ طحطاوی نے عجب بات کی۔ انہوں نے درمختار پراپنے حواشی میں لکھا: ''اور شیشہ جوریت سے بناہو۔'' اور درمختارکے لفظ ''وزجاج'' کے تحت لکھا اگرچہ ریت سے بناہو۔ اور اسے مراقی الفلاح کے حواشی میں واضح کرکے یوں کہا: ''تیمم کے وقت اس کے جنس زمین سے ہونے کااعتبار ہے توشیشہ پرتیمم نہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی اصل ریت سے ہو'' ۱ھ ایسامعلوم ہوتاہے کہ فتح القدیر اور البحرالرائق کی عبارت ''الزجاج المتخذمن الرمل وغیر'' (شیشہ جوریت اور اس کے علاوہ سے بناہو) میں لفظ ''واو'' کواو(یا) کے معنی میں سمجھا۔ حالانکہ ایسانہیں۔ یہ واو ''جمع'' کے معنی میں ہے
۱؎ طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم مطبع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۲۸)
(۲؎ طحطاوی علی المراقی باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ص ۶۸)
ولفظ التبیین عن المحیط خالطہ شیئ اٰخر لیس من جنس الارض کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اٰخر لیس من جنس الارض ۱؎۱ھ ونحوہ فی المجمع والازھری۔
محیط کاحوالہ دیتے ہوئے تبین کے الفاظ یہ ہیں: اگر اس میں کوئی دوسری ایسی چیزمل گئی جوجنس زمین سے نہیں جیسے وہ شیشہ جوریت اور کسی ایسی چیز سے بنایاگیا ہوجوجنس زمین سے نہیں۱ھ۔ اور اسی کے ہم معنی مجمع او ازھری میں بھی ہے۔(ت)
( ۱؎ تبیین الحقائق باب التیمم مطبع الامیریہ مصر ۱ /۳۹)
مردارسنگ۔ ۱نوازل و۲محیط و۳خانیہ و۴خلاصہ و۵خزانہ و۶منیہ و۷سراجیہ بلکہ خود محررالمذہب نے ۸کتاب الاصل میں اس سے جواز تیمم کی تصریح (فرمائی اور خزانۃ الفتاوٰی سے حلیہ و جامع الرموزمیں ممانعت منقول اور تحقیق یہ ہے کہ معدنی سے جائز اورمصنوع سے ناجائز۔ محیط سرخسی پھر ہندیہ میں ہے:
وبالمردا سنج المعدنی دون المتخذ من شیئ اٰخر۲؎۔
اورمعدنی مردارسنگ سے (جائزہے) کسی اور چیز سے بناہواس سے ہیں۔(ت)
حلیہ میں ہے : مراد المجوز المعدنی والمانع مالیس بمعدنی وقد افصح البدائع والتحفۃ بالجواز موصوفا بکونہ معدنیا زاد التحفۃ دون المتخذ من شیئ اٰخر۳؎۔
جائز بتانے والے کی مراد معدنی ہے اور ممنوع کہنے والے کی مراد غیرمعدنی ہے۔ بدائع اور تحفہ میں جواز کو معدنی ہونے سے موصوف کرکے بتایا اور تحفہ نے یہ بھی اضافہ کیا؛ اس سے نہیں کسی اور چیز سے بناہو۔(ت)
( ۳؎ حلیہ)
۱۰مرجان۔ ۱تبیین الحقائق و۲معراج الدرایہ ۳وغایۃ البیان و۴توشیح و۵عنایہ و۶محیط و ۷خزانۃ الفتاوٰی و۸بحرو۹نہرو۱۰ہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں اس سے جواز کی تصریح ہے مگر ۱فتح میں ممانعت واقع ہوئی ۲درمختار و۳خادمی نے ان کااتباع کیا۴ شیخ الاسلام غزی نے بھی اسی طرف میل فرمایا اور اُن کے شیخ محقّق نے بحر میں فرمایا وہ سہو ہے نہر نے فرمایا سبق قلم ہے اور جواز ہے۔
کما فی الازھری و ش واغرب(۱)عبدالحلیم فقال اٰخذاً عن المنح اولعلھما تواردا علیہ فانہ یقول اقول انہ لیس بسھوبل الظاھر انہ قام عندہ انہ ینعقد من الماء کاللؤلؤ فحینئذ یکون النزاع لفظیا کما لایخفی۱؎۱ھ۔
جیسا کہ ازہری اور شامی میں ہے اور علامہ عبدالحلیم رومی نے عجب بات کی۔ انہوں نے منح الغفار سے اخذ کرکے کہا یادونوں ہی حضرات کاتوارد ہوا۔ لکھتے ہیں: ''میں کہتاہوں یہ سہو نہیں۔ بلکہ ظاہریہ ہے کہ ان کے نزدیک یہی ٹھہرا کہ وہ پانی سے بنتاہے جیسے موتی۔ تو اس وقت نزاعِ لفظی رہ جائے گا۔ جیسا کہ عیاں ہے'' ۱ھ۔(ت)
(۱؎ خادمی للعبدالحلیم خادمی باب التیمم مطبع درسعادۃ مصر ۱/ ۳۶)
اقول: بل حقیقیا کما لایخفی وکون المبنی ممالو اتفقوا علیہ لاتفقوا علی الحکم لایرفع الاختلاف فی المعنی بل یوجبہ عند الاختلاف فی المبنی وعبارۃ المنح علی مافی ش اقول الظاھر انہ لیس بسہولانہ انما منع جواز التیمم بہ لما قام عندہ من انہ ینعقد من الماء کاللؤلؤ فان کان الامر کذلک فلاخلاف فی منع الجواز والقائل بالجواز انما قال بہ لما قام عندہ من انہ من جملۃ اجزاء الارض فان کان کذلک فلاکلام فی الجواز والذی دل علیہ کلام اھل الخبرہ بالجواھر ان لہ شبہین شبہا بالنبات وشبہا بالمعادن وبہ افصح ابن الجوزی فقال انہ متوسط بین عالمی النبات والجماع فیشبہ الجماد بتحجرہ ویشبہ النبات بکونہ اشجاراً نابتۃً فی قعرالبحر ذوات عروق واغصان خضر متشعبۃ قائمۃ۱؎۱ھ۔
اقول: بلکہ نزاع حقیقی ہوگا جیسا کہ آشکارا ہے۔ اگر بنائے اختلاف ایسا امر ہو کہ اس پراتفاق ہوتاتوحکم پربھی اتفاق ہوتا اس سے معنوی طور پر اختلاف ختم نہیں ہوجاتابلکہ اگرمبنٰی مختلف ہے تواختلاف لازم ہے۔ منح الغفار کی عبارت جیسا کہ شامی میں ہے اس طرح ہے: میں کہتاہوں، ظاہر یہ ہے کہ سہو نہیں اس لیے کہ انہوں نے جوازتیمم سے اس لیے منع کیا کہ ان کے نزدیک یہی ٹھہرا کہ وہ پانی سے بنتاہے جیسے موتی۔ تواگرحقیقت امریہی ہوتو منع جواز میں کوئی اختلاف نہیں اور قائل جواز نے جائز اس لیے کہا کہ اس کے نزدیک یہی ٹھہرا کہ وہ اجزائے زمین سے ہے تو اگر وہ ایسا ہی ہو تو جواز میں کوئی کلام نہیں۔ جوہرشناسوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس میں دومشابہتیں پائی جاتی ہیں ایک مشابہت نبات سے ہوتی ہے اور ایک مشابہت معدنیات سے ہوتی ہے۔ ابن الجوزی نے اسے صاف طورپر بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ عالم نبات وعالم جماد کے درمیان متوسط ہے۔ اپنے تحجر اور پتھر کی طرح ٹھوس ہونے میں جماد کے مشابہ ہے اور اس بات میں نبات کے مشابہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں اس کے، رگوں اور پھوٹی ہوئی کھڑی ہری ہری ڈالیوں والے اُگنے والے درخت ہوتے ہیں۔۱ھ۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۶)
قال ش اقول وحاصلہ المیل الی ماقالہ فی الفتح لعدم تحقق کونہ من اجزاء الارض ومال محشیہ الرملی الی مافی عامۃ الکتب من الجواز وکانّ وجہہ ان کونہ اشجارا فی قعرالبحر لاینافی کونہ من اجزاء الارض لان الاشجار التی لایجوز التیمّم علیہاھی التی تترمد بالنار وھذا حجر کباقی الاحجار یخرج فی البحر علی صورۃ الاشجار فلہذا جزموا فی غامۃ الکتب بالجواز فیتعین المصیر الیہ۲؎۔
علامہ شامی لکھتے ہیں: میں کہتاہوں اس کاحاصل اس جانب میلان ہے جو فتح القدیر میں لکھا ہے اس لیے کہ اس کااجزائے زمین سے ہونا متحقق نہ ہوا اور اس کے محشی رملی کامیلان اس طرف ہے جوعامہ کتب میں جوازتحریرہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں درخت ہونااجزائے زمین سے ہونے کے منافی نہیں اس لیے کہ جن درختوں سے تیمم جائزنہیں یہ وہ ہیں جوآگ سے راکھ ہوجاتے ہیں اور مرجان (مونگا) دوسرے پتھروں کی طرح ایک پتھر ہے جوسمندر میں درختوں کی طرح نکلتاہے اسی لیے عامہ کتب میں جواز پرجز کیا تو اس کی طرف رجوع متعین ہے ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۶)