| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
نمک۷۔ اگرآبی ہوناجائز ۱فتح ۲منیہ ۳خلاصہ ۴جوہرہ ۵محیط ۶درر ۷بزازیہ ۸سراجیہ ۹ظہیریہ ۱۰خزانہ اس پراتفاق ہے ۱۱تبیین ۱۲بحر ۱۳عبدالحلیم ۱۴شرنبلالی ۱۵خادمی اور اگرجبلی ہو اقول یعنی اجزائے ارض سے بناہو خواہ پہاڑ سے نکلے یازمین شور سے دو۲روایتیں ہیں تبیین اور دونوں طرف تصحیحین بحر امام شمس الائمہ حُلوانی نے فرمایا: اصح یہ کہ ناجائز ہے ذکرہ فی المستغنی (اسے مستغنی میں ذکرکیاہے۔ت) خلاصہ۔ اسی طرح امام فقیہ النفس نے شرح جامع صغیرمیں فرمایا:
من الناس من قال یجوز بالملح الجبلی والاصحج انہ لایجوز ۱؎ اھ حلیہ۔
کچھ لوگ اس کے قائل ہیں کہ پہاڑی نمک سے جائز ہے اوراصح یہ ہے کہ ناجائز ہے۔ اھ حلیہ۔(ت)
(۱؎ شرح الجامع الصغیر للقاضی خان)
امام۳ شمس الائمہ سرخسی کی طرف بھی منسوب ہوا کہ میرے نزدیک صحیح عدم جواز ہے۔
ففی المنیہ طبع الہند ان کان جبلیا یجوز وقال شمس الائمۃ السرخسی الصحیح عندی انہ لایجوز کذا ذکرہ فی المحیط۲؎ ۱ھ وفی الغنیۃ طبع قسطنطینیۃ جعل لفظ السرخسی من الشرح ۳؎ وفی الحلیۃ (م) قال شمس الائمۃ (ش) وفی بعض النسخ بزیادۃ السرخسی ونقل ھذا فی الخلاصۃ عن الحلوانی فلعلہ عنہما۴؎۱ھ۔
منیہ مطبوعہ ہند میں ہے: ''اگر پہاڑی ہوجائز ہے اور شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا: میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں، ایسا ہی انہوں نے محیط میں ذکر کیا'' ۱ھ۔ اور غنیہ مطبوعہ قسطنطنیہ میں لفظ ''سرخسی'' شرح میں رکھا ہے اور حلیہ میں ہے: ''(متن) شمس الائمہ نے فرمایا (شرح) اور بعض نسخوں لفظ ''سرخسی'' کے اضافہ کے ساتھ ہے اور خلاصہ میں اسے حلوانی سے نقل کیا ہے توشاید یہ دونوں ہی (شمس الائمہ ۔سرخسی و حلوانی۔) سے مروی ہوا''۔ ۱ھ(ت)
(۲؎ منیۃ المصلی باب التیمم مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۶) (۳؎ غنیہ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۷۸) (۴؎ حلیہ)
اقول: قال فی السراجیۃ قال الشیخ الامام السرخسی وحسام الدین اذاکان جبلیا یجوز وان مائیا لا ۱؎۱ھ فالظاھر ان السرخسی وقع فی تلک النسخۃ سھوا مکان الحلوانی او عن السرخسی روایتان واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: (میں کہتاہوں) سراجیہ میں لکھا ہے: ''شیخ امام سرخسی اور حسام الدین نے فرمایا: ''پہاڑی ہوتوجائز ہے اور اگر آبی ہوتوجائز نہیں۔''۱ھ تو ظاہر یہ ہے کہ اس نسخہ میں حلوانی کی جگہ سرخسی سہواً آگیا ہے یایہ کہ سرخسی سے دو۲ روایتیں ہوں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
( ۱؎ فتاوٰی سراجیہ باب التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص۷)
اس قول کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ وہ پگھلتا ہے۔ تبیین۔
ونقلہ فی الشلبیۃ عن الدرایۃ عن قاضیخان ای فی شرحہ للجامع الصغیر اوکتاب اٰخر لافی فتاواہ کما قدیتوھم من قولہ وفی قاضیخان الخ وفصلہ فی الغنیۃ بقولہ کانّ وجہہ انہ لما استحال التحق بالمائی لتبدل طبعہ حتی انہ یذوب فی الماء وینحل بالبرد ویشتدد بالحر کالمائی فخرج من کونہ من اجزاء الارض۲؎۱ھ۔
اور اسے شلبیہ میں درایہ سے اس میں قاضیخان سے یعنی ان کی شرح جامع صغیر یا کسی اور کتاب سے نقل کیاہے۔ یہ ان کے فتاوٰی میں نہیں جیسا کہ ان کی عبارت ''وفی قاضیخان الخ'' سے وہم ہوتاہے۔ اور غنیہ میں اس کی تفصیل ان الفاظ میں کی ہے: ''گویا اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جب وہ بدل گیاتوآبی سے لاھق ہوگیا کیونکہ اس کی طبیعت، آبی کی طبیعت میں تبدیل ہوگئی یہاں تک کہ وہ بھی پانی میں پگھلتا، سردی سے گھلتا، اور گرمی سے سخت ہوتاہے جیسے آبی کاحال ہے س لیے وہ جزوزمین ہونے سے خارج ہوگیا۔'' ۱ھ(ت)
(۲؎ غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۸)