Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
152 - 166
اور اس سے مراد لکڑی یا اس کے مثل اور اشیاغیرجنس ارض کی راکھ ہے پتھرکی راکھ سے جواز اور یہ کہ اس سے چونا مراد اوپر گزرا، بدائع میں ہے :
با لاجماع لانہ من اجزاء الخشبۃ ۳؎
 (بالاجماع __اس لئےکہ  وہ لکڑی کے اجزا سے ہے۔ت)
(۳؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مایجوزبہ التیمم    مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۴)
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے: لانہ من اجزاء الشجر لامن اجزاء الارض ۴؎۱ھ
 (اس لیے کہ وہ درخت کاجز ہے زمین کاجُز نہیں۔ت)
 ( ۴؎ قاضیخان        فصل فیمایجوزبہ التیمم    مطبع نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۲۹)
اقول: واحسن منھما مافی شرحہ للجامع الصغیر لایجوز بالرماد فی الصحیح من الجواب لانہ لیس من اجزاءالارض ۱؎ اھ لشمولہ رماد کل مالیس من جنس الارض۔
اقول: ان دونوں عبارتوں سے بہتروہ ہے جو ان کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ ''صحیح جواب یہ ہے کہ راکھ سے تیمم جائز نہیں اس لیے کہ وہ اجزائے زمین سے نہیں''۱ھ۔ اس لیے کہ یہ عبارت ہر اس چیزکی راکھ کو شامل ہے جو جنس زمین سے نہیں۔
(۱؎ شرح جامع صغیر للقاضی خان)
فان قلت ماالترمد(۱) الاذھاب الاجزاء الرطبۃ وبقاء الیابسۃ ومعلوم ان الناریۃ لاتبقی فماھی الاجزاء ارضیۃ فلم لایجوز التیمّم بھا۔
اگریہ اعتراض ہوکہ راکھ ہونا یہی توہے کہ تراجزاء ختم ہوجائیں اور خشک اجزاء رہ جائیں اور معلوم ہے کہ ناری اجزاء بھی باقی نہیں رہ جاتے توصرف زمینی اجزاء ہے۔ پھر ان سے تیمم کیوں جائز نہیں؟
اقول: کانہ الٰی ھذا نظر الامام الصفار والصوب ان البسائط لاتبقی علی حقائقھا فی امثال المرکبات فکما ان مائیۃ تقطر من الشجر لیست من اجزاء الماء حتی لم یجزاالتوضی بہا فکذلک الرماد لیست من اجزاء الارض بل اجزاء ذلک الشیئ بعد جانقلاب الاعیان فلم یجز التیمّم بہ والیہ یشیر مامراٰنفا عن الامامین ملک العلماء وفقیہ النفس رحمہھما اللّٰہ تعالٰی۔
میں کہوں گا(اقول) معلوم ہوتاہے کہ اسی امر کی طرف امام صفار نے نظرفرمائی ہے اور صحیح یہ ہے کہ امثال مرکبات میں بسائط اپنی حقیقتوں پرباقی نہیں رہتے جیسے وہ مائیۃ جودرکت سے ٹپکتی ہے پانی کے اجزاء سے نہیں یہاں تک کہ اس سے وضو جائز نہیں تو اسی طرح راکھ بھی زمین کے اجزاء سے نہیں، بلکہ اسی شَے کے اجزا انقلاب اعیان کے بعد بھی ہیں تو اس سے تیمم جائز نہیں اسی کی طرف اس کابھی اشارہ ہے جو ابھی امام ملک العلماء اور امام فقیہ النفس کے حوالہ سے گزرا، رحمہما اللہ تعالٰی۔ (ت)

آجر ۵ یعنی پکّی اینٹ۔ عامہ کتب مثل ۱خانیہ و۲خلاصہ و۳خزانۃ المفتین و۴منیہ و۵سراجیہ و۶کافی و۷نہر وغیرہا میں اس سے مطلقاًجواز کی تصریح ہے ۸تبیین الحقائق میں ہے یہی ظاہر الروایۃ ہے، ۹مختارات النوازل و۱۰حلیہ و۱۱فتح و۱۲بحر جو۱۳ ہندیہ میں ہے، یہی صحیح ہے ۱۴ فتح اللہ المعین میں ہے یہی اصح ہے۔

تنبیہ : یہاں تک توکوئی اختلاف عہ  قابلِ لحاظ نہیں کہ جب یہی ظاہرالروایۃاور یہی صحیح ہے توخلاف کی گنجائش نہ رہی مگرایک صورت خلط کی ہے کہ اس میں غیرجنس ارض سے کوئی شے ملی ہو عامہ مشایخ نے اسے خزف یعنی ٹھیکری میں ذکر فرمایا، اور فتح القدیر نے خشتِ پختہ میں اقول ہے یہ کہ اینٹ میں کوئی اور چیز ملاکرپکانے کادستورنہیں اگرخلط ہوگا توخس وخاشاک کا، اور اب مسئلہ غلبہ مخالط ا س سے متعلق نہ ہوگا کہ اینٹ کی مٹّی میں کوڑا اتنا نہیں ہوتا، بخلاف خزف جیسے گِلِ خوردنی کے طباق کہ اور خوردنی چیزیں ملاکر پکائے جاتے ہیں بہرحال مسئلہ میں خصوصیت نہ خزف کی ہے نہ آجر کی بلکہ جس مٹّی میں غیرکاخلط ہوگا وہی احکام پیداہوں گے لہٰذا ہم مسئلہ خلط کو مستقل لکھیں گے ان شاء اللہ تعالٰی۔
عہ :روایت خلاف یہ ہے: فی محیط الشیخ رضی الدین لایجوز بالاٰجرفی روایۃ لانہ بالطبخ تغیر عن حالہ وصار بحال لایوجد مثلہ من جنسہ خلقۃ فی الارض وفی ظاھر الروایۃ یجوز لانہ طین متحجر فیکون کالحجر الاصلی ۱ھ حلیۃ ۱۲منہ غفرلہ (م)

محیط شیخ رضی الدین میں ہے کہ ایک روایت کے مطابق پکّی اینٹ سے تیمم جائز نہیں۔ کیونکہ پکانے کی وجہ سے اپنے حال سے بدل گئی ہے اور ایسے حال پر ہوگئی ہے کہ اس کی جنس سے تخلیق کے اعتبار سے اس کی مثل زمین میں نہیں پائی جاتی۔ اور ظاہر الروایۃ کے مطابق اس سے تیمم جائز ہے کیونکہ یہ کیچڑ والا پتھر ہے، لہٰذا اس کاحکم اصلی پتھر کی طرح ہوگا۔(ت)
۶سبخہ یعنی زمین نمک زار۔ اس میں عبارت چار۴طور پرہیں:

(۱) اطلاق جواز ۱خانیہ ۲نوازل ۳خزانہ ۴فتح ۵شرح مختصر الطحاوی ۶منیہ ۷نہر ۸ط۔
 (۲) اگرآب نمک میں غرق ہوجائز نہیں
غنیۃ وقد تقدم وقال ایضا تحت قول المنیۃ السبخۃ بمنزلۃ الملح مانصہ فان غلب علیھا النز لا یجوز التیمّم بہا کالملح المائی وان غلب التراب جاز کالملح الجبلی۱؎ ۱ھ
 (غنیہ۔ اس کاکلام گزرچکا۔ اور منیہ کی عبارت ''السبخۃ بمنزلۃ الملح'' (زمین نمک زار نمک کے درجہ میں ہے) کے تحت غنیہ میں یہ بھی تحریر ہے: ''تواگر اس میں پھوٹنے والی تری کو غلبہ ہو تو اس سے تیمم جائز نہیں جیسے پانی والے نمک سے جائز نہیں اور اگرمٹّی کاغلبہ ہوتوجائز ہے جیسے پہاڑی نمک سے جائز ہے''۔۱ھ۔(ت)
غنیۃ المستملی ،  فصل فی التیمم ، مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ،  ص۷۸)
اقول : اراد التشبیہ فی نفس الجواز وعدمہ والافالملح الجبلی نفسہ من جنس الارض لاان التراب غالب فیہ والملح المائی من اجزاء الماء لامن ماء غالب و تراب۔
اقول :ان کامقصد صرف جوازوعدمِ جوازمیں تشبیہ دینا ہے ورنہ پہاڑی نمک توخود جنس زمین سے ہے یہ نہیں کہ اس میں مٹّی غالب ہے اور آبی نمک پانی کے اجزا سے ہے ایسا نہیں کہ آب غالب اور مٹّی سے ملاہوا ہے۔(ت)

ثم اقول (پھر میں کہتاہوں ۔ت) یہ ضرور مطلقاً ملحوظ ہے اور اطلاق کتب بربنائے غالب احوال کما اشار الیہ فی الغنیۃ (جیسا کہ غنیہ میں اس کی طرف اشارہ کیاہے۔ت)

(۳) وہ نمک اگرمٹّی سے ہے جائز ہے او ر اگرپانی سے بناہے ناجائز ہے ۱خلاصۃ ۲بحر ۳ھندیہ ۴محیط رضوی ۵خزانۃ الفتاوی ۶حلیہ۔

(۴) تصریح تعمیم اگرچہ نمک پانی سے ہو جب بھی جائز جب تک پانی غالب نہ ہو یہ حلیہ کی بحث ہے:
حیث قال علی قول الاسبیجابی یجوز التیمّم بالسبخۃ ھذا باطلاقہ یفید الجوازبھا سواء کانت مائیۃ اومنعقدۃ من الارض وھو بقول ابی حنیفۃ ومحمد اشبہ لانہ غایہ المائیۃ انھا ارض ذات نز وانھا طین وقد صرح فی الخلاصۃ انھما علی الخلاف وکذا صرح غیرہ فی الطین اللھم اذاکان الماء غالبا کما سنذکرہ ویحل عدم الجواز بالمائیۃ علی ھذا ۱؎ ۱ھ۔
اسبیجابی کی عبارت ''نمک زار سے تیمم جائز ہے'' پر صاحب حلیہ یہ لکھتے ہیں: اس کلام کے اطلاق سے یہ مستفاد ہوتاہے کہ نمک زار سے مطلقاً تیمم جائز ہے خواہ آبی ہو یازمین سے بناہوا اور یہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے قول کے زیاد ہ ،مناسب ہے اس لیے کہ آبی زیادہ سے زیادہ یہ کہ تری والی زمین ہے اور وہ مٹّی ہی ہے۔ اور خلاصہ میں تصریح فرمائی ہے کہ دونوں ہی میں اختلاف ہے۔اسی طرح دوسرے حضرات نے۔ خاکی کے بارے میں صراحت کی ہے۔ شاید یہ اس صورت میں ہو جب پانی کاغلبہ ہو جیسا کہ ہم عنقریب ذکر کریں گے، اور آبی سے عدمِ جواز بھی اسی پرمحمول ہوگا۔۱ھ۔(ت)
 (۱؎ حلیہ)
اقول:  بلکہ نمک(۱) آبی وترابی میں فرق ظاہر ہے اور قولِ فیصل یہ ہے کہ روئے زمین پراگرخشک یاخفیف نم کانمک پھیلا ہے تواگرنمک ترابی ہے جائز اور آبی ہے توناجائزہے فان علی وجہ الارض غیرجنسہا کاٰنیۃ مدھونۃ اومصبوغۃ بغیر جنس الارض (اس لیے کہ روئے زمین پرغیرجنس زمین ہے جیسے غیرجنس زمین سے پالش کیے ہوئے یارنگے ہوئے برتن۔ ت) یہی قول سوم کامنشا اور اسی کی صورت اولٰی پرقول اول محمول۔

اقول: اور اس کااطلاق اس لیے کہ غالباً زمین شور میں نمک ترابی ہی ہوتاہے اور اگرنمک کاپانی پھیلا ہے مطلقاً ناجائز لغلبۃ المائیۃ (کیونکہ پانی غالب ہے۔ت) اور یہی قول دوم ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter