Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
151 - 166
زمین (۳) وخاکِ سوختہ۔ ان میں عبارات دو۲طورپرآئیں، اول بلاقید جائز ہے  ۱مختارات النوازل ۲حلیہ ۳ ط یہی اصح ہے ۴ فتح ۵ظہیریہ ۶ھندیۃ ۷مبتغی ۸حلیہ اسی پرفتوی ہے ۹جواھر الاخلاطی ۱۰غیاثیۃ  ۱۱نصاب حلیۃ۔
دوم اگر راکھ پرخاک غالب ہوجائز ہے ورنہ نہیں ۱خانیہ ۲بحر ۳دُر ۴خادمی ۵مراقی۔
بل جمع بینھما فقال یجوز بالارج المحترقۃ والطین المحرق الذی لیس بہ سرقین قبلہ والارض المحترقۃ ان لم یغلب علیہا الرماد ۲؂
(بلکہ انہوں نے دونوں کوجمع کرکے یوں کہا: جلی ہوئی زمین اور اس جلائی ہوئی مٹّی سے تیمم جائز ہے جس میں پہلے گوبرنہ تھا، اور جلی ہوئی زمین سے، اگر اس پراکھ غالب نہ ہو۔ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح    باب التیمم      مطبع الازہریہ مصر        ص ۶۸)
اقول:  تحقیق یہ ہے کہ مسئلہ فی نفسہا مطلق بالقید ہے کہ زمین وخاک جل کرراکھ نہیں ہوسکتیں ہاں زمین پرکھتی یاگھاس وغیرہ اور اشیاء تھیں او ر وہ جلائی گئیں اور ان کی راکھ خاک سے ملی تویہاں وہ قید غلبہ ملحوظ ہوگی۔ طحطاوی و شامی میں ہے:
ای احترق ماعلیہا من النبات واختلط الرماد بترابہا فحینئذ یعتبر الغالب۱؎۔
یعنی زمین پراُگے ہوئے گھاس پودے جل گئے اور زمین کی مٹّی سے راکھ خلط ہوگئی، ایسی صورت میں جوغالب ہے اس کااعتبار ہوگا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار        باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/ ۱۷۷)
طحطاوی علی المراقی میں قول مکرر مراقی پرہے :
الاولی الاکتفاء بھذہ عن قولہ سابقا وبالارض المحترقۃ الاان یحمل ماسبق علی ان الارض احرق ترابھا من غیرمخالط۲؎۔
اپنی پہلی عبارت ''اور جلی ہوئی زمین'' کی بجائے اسی پر اکتفاکرنابہترتھا۔ مگریہ کہ ماسبق کو اس پرمحمول کریں کہ زمین کی مٹّی کسی اور چیز کی آمیزش کے بغیر جلائی گئی۔(ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح   باب التیمم    مطبع الازہریہ مصر        ص ۶۸)
بحرالرائق میں ہے:فی قاضیخان اذا احترقت الارض بالنار ان اختلطت بالرماد یعتبرفیہ الغالب ان کانت الغلبہ للتراب جازبہ التیمّم والافلاوفی فتح القدیر یجوزفی الاصح لم یفصل والظاھر التفصیل۳؎۱ھ۔
قاضیخان میں ہے: جب زمین آگ سے جل جائے تواگروہ راکھ سے مخلوط ہو تو اس میں اعتبار اس کا ہوگا جوغالب ہے۔ اگرمٹی غالب ہے تو اس سے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور فتح القدیر میں ہے: ''مذہب اصح میں جائز ہے'' انہوں نے تفصیل نہ کی اور ظاہریہ ہے کہ تفصیل ہونی چاہئے ۱ھ(ت)
 (۳؎ البحرالرائق    باب التیمم    مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۴۸)
اقول: انما (۱) صحح الجواز بارض محترقۃ ولاتفصيل فیہا کما علمت انمایجیئ التفصیل من قبل المخالط ولاذکر لہ ھنا فاذاجاء علی ذکرہ صرح باعتبار الغلبۃ نقلا عن الخانیۃ ھذا۔
اقول: انہوں نے جلی ہوئی زمین ہی سے توجواز کوصحیح بتایا ہے، یقینا اس میں کوئی تفصیل نہیں جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ تفصیل تومخالط کی جہت سے ہوتی ہے اور اس کایہاں کوئی ذکرہی نہیں۔ جب اس کے ذکرپرآئے توبہ نقل خانیہ اعتبار غلبہ کی صراحت فرمائی۔ یہ ذہن نشین رہے۔(ت)
وماذکرالشرنبلالی فی الطین المحرق فاقول (۱) یتراای لی ان یستثنی منہ مااذا کان السرجین قلیلا ÷ واحرق طویلا÷ حتی ذھب عہ۱  السرقین÷ وطھر الطین ÷ فان الاحراق عہ۲  ایضامن المطھرات بالیقین÷ ولیست النار کالشمس والریح عہ۳ جفیما مر÷ بل لاتبقی ولاتذر÷ نسأل اللّٰہ تعالٰی ان یعافینا منہا ومن کل شر÷
اور شرنبلالی نے جلائی گئی مٹّی کے بارے میں جو ذکرکیا فاقول اس سے متعلق میراخیال یہ ہے کہ اس سے اس صورت کااستثنا ہوناچاہئے جب گوبرکم رہاہو اور دیرتک جلایاگیاہو یہاں تک کہ گوبر ختم ہوگیا اور مٹّی پاک ہوگئی۔ اس لیے کہ جلانابھی یقینا پاک کرنے والی چیزوں میں ہے اور آگ کامعاملہ دھوپ اور ہواکی طرح نہیں بلکہ يہ جس پرگزرتی ہے کچھ بچاتی چھوڑتی نہیں۔ خداہی سے سوال ہے کہ ہمیں اس سے اور ہرشر سے عافیت عطافرمائے۔(ت)
عہ۱: ان فنی فذالک وان ابقی رمادا فالمعتمد طہارتہ لانقلاب العین والفرض انہ قلیل مغلوب بالتراب ۱۲منہ غفرلہ (م)
اگرختم ہوگیا تب توصرف مٹّی رہی۔ اور اگر راکھ ہوکر رہ گیا تو معتمد یہ ہے کہ وہ پاک ہے اس لیے کہ گوبر مٹی سے بدل گیا۔ فرض یہ کیاگیا ہے کہ گوبر کم اور مٹّی سے مغلوب ہے۔۱۲منہ غفرلہ(ت)
عہ۲:تنویر رش بماء نجس (اوبال فیہ صبی حلیہ ۱ھ ش) لاباس بالخبز فیہ درمختار بعد ذھاب البلۃ النجسۃ بالنارخانیۃ ۱ھ ش کطین نجس فجعل منہ کوزبعد جعلہ علی النارتنویر ۱؂ ۱۲منہ غفرلہ (م)

کسی تنّور میں نجس پانی چھڑکاگیا(یااس میں کسی بچے نے پیشاب کردیا۔ حلیہ۱ھ ش) تو اس کے اندر روٹی پکانے میں کوئی حرج نہیں۔ درمختار ۔اس کے بعد کہ آگ سے ناپاک تری ختم ہوچکی ہو۔ خانیہ۱ھ ش۔ جیسے وہ مٹّی جوناپاک ہوگئی پھر اس سے آگ پرپکار کوزہ تیارکیاگیا۔ تنویر۔(ت)
 (۱؂ ردالمحتار مع الدر المختار شرح تنویرالابصار        باب الانجاس    دار احیاء التراث بیروت        ۱/ ۲۱۰ )
عہ۳ : یرید ماتقدم فی صدرالرسالۃ عن ملک العلماء ان احراق الشمس ونسف الریاح اثرھا فی تقلیل النجاسۃ دون استئصالہا ۱۲منہ غفرلہ (م)

اس سے اس کی طرف اشارہ مقصود ہے جوشروع رسالہ میں ملک العلماء کے حوالہ سے گزرا کہ نجاست دھوپ کے جلانے اور ہواکے اڑانے سے کم ہوجاتی ہے ختم نہیں ہوجاتی۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
رَماد۴ یعنی خاکستر۔ عامہ کتب مثل ۱خانیہ ۲ظہیریہ و۳سراجیہ و۴خزانۃ المفتین و۵محیط و۶کافی و۷صدر الشریعۃ و۸منیہ و۹درایہ ۱۰وشلبیہ و۱۱جوہر ہ و۱۲بحر و۱۳ہنديہ وغیرہا میں اس سے عدم جواز کی تصریح ہے ۱۴حلیہ میں ۱۵شرح جامع صغیرامام قاضیخان سے ہے یہی صحیح ہے ۱۶بدائع و۱۷خلاصہ میں ہے ا س پراجماع ہے
لکن فی البرجندی عن النصاب قال ابوالقاسم یجوزوابونصرلاوبہ ناخز۱؎ ۱ھ۔
 (لیکن برجندی میں نصاب کے حوالہ سے لکھا ہے :''ابوالقاسم نے فرمایا: جائز ہے۔ اور ابونصر نے فرمایا: ناجائز ہے۔ اور ہم اس کولیتے ہیں''۔ ۱ھ۔ت)
 (۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی    فصل فی التیمم        مطبع نولکشور لکھنؤ        ۱/۴۷)
اقول:  النصاب(۱) والخلاصۃ لامام واح ولفظہ فیھا بالاٰجر یجوز عند ابی حنیفۃ وعن محمد روایتان وقول ابی یوسف متردد واجمعوا انہ لوتیمّم بالرماد لایجوز۲؎ اھ فالکنایۃ للائمۃ الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فلاینفی خلاف بعض المشایخ وما استنبط البرجندی عن زاد الفقہاء قدمنا مافیہ۔
اقول: نصاب اور خلاصہ ایک ہی امام کی تصنیف ہیں، اور خلاصہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں: ''پکی اینٹ سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک تیمم جائز ہے اورامام محمد سے دو۲ روایتیں آئی ہیں۔ اور امام ابویوسف کاقول متردّد ہے اور اس پر ان حضرات کااتفاق ہے کہ اگرراکھ سے تیمم کیاتوناجائز ہے''۱ھ۔ اس عبارت میں ''ان حضرات'' سے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی طرف اشارہ ہے جس سے بعض مشائخ کے درمیان اختلاف کی نفی نہیں ہوتی۔ اور برجندی نے زادالفقہا سے جو استنباط کیا اس کی خامی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں(ت)۔
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوی    فصل فیمایجوزبہ التیمم    مطبع نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۳۶)
Flag Counter