البتہ بلاضرورت اس سے تیمم ناجائز یعنی مکروہ وممنوع وگناہ ہے کہ (۱)منہ کیچڑ سے ساننا صورت بگاڑنا ہے اور صورت بگاڑنا مُثلہ اور مُثلہ حرام ہے یہاں تک کہ (۲) جہاد میں جوحربی کافروں کوبھی مُثلہ کرنا صحیح حدیث میں منع فرمایا جن کے قتل کاحکم فرمایا اس کے بھی مثلہ کی اجازت نہ دی۔ افسوس(۳) اُن مسلمانوں پر کہ باہم کھیل میں ایک دوسرے کے منہ پر کیچڑ تھوپتے ہیں یاہنسی سے کسی کے سوتے میں اس کے منہ پر سیاہی لگاتے ہیں یہ سب حرام ہے اور اس سے پرہیز فرض، خلاصہ و خانیہ و بدائع وغیرہا میں کہ کیچڑسے تیمم کی ممانعت فرمائی اور اس کی (۴) یہ ترکیب بتائی کہ اپنے بدن یا کپڑے کے حصے خواہ کسی اور چیز پرکیچڑ کالیس کرلے جب وہ خشک ہوجائے اس سے تیمم کرے اور یہ نفیس ترکیب خود محررالمذہب سیدنا امام محمدرحمہ اللہ تعالٰی نے کتاب الاصل میں ارشاد فرمائی اس کا منشایہی تقبیح صورت سے بچانا ہے نہ یہ کہ کیچڑ سے تیمم درست ہی نہیں۔
اقول(۵) وبہ ظھر مافی ظاھر کلام الایضاح حیث جعل الارشاد الی ھذا الصنیع قول محمد خاصۃ قابلہ بقولہ اما عند ابی حنیفۃ فیجوز الخ انہ صنیع سنیع طلوب عندالامام ایضا قطعا ولیس ارشاد محمد الیہ لابطالہ التیمّم بالطین۔
اقول: اسی سے وہ خامی بھی دور ہوجاتی ہے جوامام کرمانی کی عبارت اِیضاح کے ظاہر میں ہے اس طرح کہ اس طرز کی رہنمائی کو انہوں نے خاص امام محمدکا قول بنادیا اور اس کے مقالہ میں اپنی یہ عبارت لائے کہ '' لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک ترکیچڑ سے تیم جائز ہے الخ۔ اور حق یہ ہے کہ یہ ایک عمدہ طریقہ ہے جوبلاشبہ امام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی مطلوب ہے اور اس طرز کی جانب امام محمد کی رہنمائی اس لیے نہیں کہ وہ کیچڑ سے تیمم باطل قرار دیتے ہیں۔(ت)
واقرب تاویل لہ ما اقول یرید ان ایجاب ھذا الصنیع مطلقا سواء علق بیدہ شیئ اولا قول محمد خاصۃ لانہ ان علق لطخ و ان
جلم یعلق لم یصح التیمم عندہ امام الامام فلایوجبہ اذالم یعلق بیدہ شیئ۔
کلام ''ایضاح'' کی قریب ترتاویل وہ ہے جو میں کہتاہوں (اقول) ان کی مراد یہ ہے کہ اس ترکیب کو مطلقاً واجب قراردینا، خواہ ہاتھ میں کچھ لگے یانہ لگے، خاص امام محمد کاقول ہے، اس لیے کہ اگرکیچڑہاتھ میں چپکتی ہے توآلودگی ہوگی اورنہیں لگتی تو انکے نزدیک تیمم ہی درست نہیں۔ لیکن امام اعظم اسے ہاتھ میں کچھ نہ لگنے کی صورت میں واجب نہیں کہتے۔(ت)
ولہٰذا تصریح(۱) فرماتے ہیں کہ یہ ترکیب اس وقت ہے کہ ابھی نماز کے وقت میں اتنی وسعت ہو اور اگردیکھے کہ ایسا کرے گا تو اس کے خشک ہونے تک نماز کاوقت جاتارہے گا تولازم ہے کہ یونہی کیچڑ سے تیمم کرکے نماز پڑھ لے وقت نہ جانےدے اقول مگر اب (۱) لازم ہوگا کہ دونوں ہتھیلیاں باہم خوب ملے رگڑے کہ جہاں تک ممکن ہو کیچڑ چھوٹ جائے اور جو حصہ رہے خشکی پر آجائے کہ جب غبار وزمین خشک پرہاتھ مار کر جھاڑنا اور اثرِ خاک سے صاف کردینا سنّت ہو تو یہاں وجوب چاہئے نیز تصریح فرماتے ہیں کہ اگرکسی نے ایسا نہ کیا اور کیچڑ سے تیمم کرلیا براکیا مگرتیمم ہوگیا، خلاصہ سے گزرا:
مع ھذا الوتیمم بالطین فھو علی الخلاف ۱؎ اھ ای صح عندالامام والثالث خلافا للثانی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم۔
اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو اس میں اختلاف ہے۱ھ۔ یعنی امام اعظم و امام محمد کے نزدیک جائزہے، امام ابویوسف کے نزدیک اس کے برخلاف ہے اللہ تعالٰی ان سبھی حضرات سے راضی ہو۔(ت)
وجیز کردری میں ہے: لابالطین بل یلطخ جسدہ بہ فاذا جف تیمّم ومع ھذا الوتیمم بہ فعلہ ھذالخلاف۲؎۔
کیچڑ سے تیمم جائز نہیں بلکہ اپنے جس کے کسی ایک حصے پرکیچڑلگائے خشک ہونے پر اس سے تیمم کرلے، اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو اس میں یہی اختلاف ہے۔(ت)
ولو الجیہ پھر رملی علی البحر پھر منحۃ الخالق میں ہے: عند ابی حنیفۃ ان خاف ذھاب الوقت تیمّم بالطین لان التیمّم بالطین عندہ جائز لانہ من اجزاء الارض الاانہ لایتیمم قبل خوف ذھاب الوقت کیلا یتلطخ بوجھہ فیصیر بمعنی المثلۃ۱؎۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگروقت نکلنے کااندیشہ ہو توکیچڑ سے تیمم کرلے کیونکہ ان کے نزدیک کیچڑ سے تیمم جائز ہے اس لیے کہ وہ اجزائے زمین سے ہے لیکن وقت نکلنے کااندیشہ سے پہلے اس سے تیمم نہ کرے تاکہ چہرہ اس سے آلودہ ہوکر مُثلہ کے معنی میں نہ جائے۔(ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۴۸)
بدائع و ہندیہ میں ہے : لوکان فی طین وردغۃ لایجد ماء ولاصعیدا ولیس فی ثوبہ وسرجہ غبار یلطخ ثوبہ اوبعض جسدہ بالطین فاذا جف تيمّم بہ ولاینبغی ان یتیمّم مالم یخف ذھاب الوقت لان فیہ تلطخ الوجہ من غیر ضرورۃ فیصیر بمعنی المثلۃ وان یتیمّم بہ اجزأہ عند ابی حنیفۃ و محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما الٰی اٰخر ماقدمنا۲؎۔
کیچڑ اور دلدل میں ہو نہ پانی دستیاب ہے نہ مٹّی، نہ کپڑے یازِین پرغبار ہی ہے تواپنے کپڑے یاجسم کے کسی حصّے پرکیچڑ لگالے، جب خشک ہوجائے تو اس سے تیمم کرے اور جب تک وقت نکلنے کااندیشہ نہ ہو اس سے تیمم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں بلاضرورت ِ چہرہ آلودہ ہوکر مثلہ (صورت بگاڑنے) کے معنی میں ہوجاتاہے اور اگر اس سے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ و امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک کافی ہوگا۔ آخر عبارت تک جو ہم پہلے نقل کرآئے ۔ (ت)
فتاوٰی امام قاضیخان میں ہے: ذکر شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ لاینبغی ان یتیمّم بالطین لان فیہ تلطیخ الوجہ ولوفعل جاز۳؎۔
شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ تعالٰی نے ذکر فرمایا ہے کہ کیچڑ سےتیمم نہیں کرنا چاہئے اس لیے کہ اس میں چہرہ کی آلودگی ہوتی ہے اور اگرکرہی لیاجائے تو جائز ہے۔(ت)
اقول: انہی (۱) عبارات سے ظاہوہوا کہ بحال گنجائش وقت اس ترکیب پرعمل صرف مستحب نہیں بلکہ واجب ہے کہ جب وہ معنی مُثلہ میں ہے اور مثلہ حرام قطعی توجو اس کے معنی میں ہے لااقل مکروہ تحریمی۔
وبہ(۲) ظھر ضعف ماوقع فی الحلیۃ حیث قال وعلی ھذالا یلزم المسافر ماذکر بل یستحب لہ ذلک ولفظ البدائع (فذکر مانقلنا عنہا) وکأنہ یستشھد بقولھا لاینبغی ان یتیمّم ومثلہ قول شمس الائمۃ۔
اسی سے اس کاضعیف ہونا عیاں ہوجاتاہے۔جوحلیہ میں لکھ دیاہے کہ: اس بنیاد پر عمل مذکور مسافر کے لیے لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور بدائع کی عبارت یہ ہے (اس کے بعد بدائع کی وہ عبارت ذکر کی جوابھی ہم نے اس سے نقل کی) معلوم ہوتاہے کہ وہ بدائع کے الفاظ لاینبغی ان یتیمّم (تیمم نہیں کرناچاہئے۔۔۔۔۔۔) سے شہادت پیش کرناچاہتے، شمس الائمہ کے الفاظ بھی اسی کے مثل ہیں۔(ت)
اقول : ان کان (۱)لہذا میل الی عدم الوجوب فقول الخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ ولوالجیۃ والمبتغی بل وشمس الائمۃ ایضا علی روایۃ المنیۃ لایتیمّم بالطین ۱؎ ظاھر فی الوجوب فان استویا وجب الرجوع الی الدلیل وھو قاض بالوجوب کما علمت لاجرم ان صرح فی المنیۃ وغیرھا بلفظۃ لایجوز کما ستسمع وقال العلامۃ الخیر الرملی کما فی المنحۃ لما کان فی معنی المثلۃ وجب تاخیر فعلہ الی ذلک الوقت لئلا یباشر ماھو فی معنی المثلۃ لغیر ضرورۃ۲؎ اھ
اقول: اگران الفاظ کاکچھ رجحان عدم وجوب کی طرف ہے توخانیہ، خلاصہ، والوالجیہ، متبغی بلکہ برروایتِ منیہ شمس الائمہ کے الفاظ لایتیمّم بالطین (کیچڑ سے تیمم نہ کرے) وجوب کے بارے میں واضح ہیں۔ اگر دونوں کاپلّہ برابر ہو تو دلیل کی طرف رجوع ضروری ہوگا۔ اور دلیل وجوب ہی کافیصلہ کرتی ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ لامحالہ منیہ وغیرہ میں لفظ ''ناجائز'' کی صراحت آئی ہے جیسا کہ آگے آپ سنیں گے۔ اور علامہ خیرالدین رملی نے جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے، یہ فرمایا: ''جب یہ مثلہ کے معنی میں ہے تو یہ عمل اس وقت تک مؤخر کرنا واجب ہو تاکہ بلاضرورت ایسے کام کامرتکب نہ ہو جومثلہ کے معنی میں ہے''۔(ت)
(۱؎ منیۃ المصلی باب التیمم مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۶)
(۲؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۴۸)
اقول :لکن یعکر علیہ ان لووجب الاوجب عدم التیمّم بہ الابعد الجفاف وان خرج الوقت کما ھو قول الامام ابی یوسف فان المنع الشرعی ایضا مثبت للعجز عن استعمال الماء کما قدمنا فی مسألۃ الحباب ومسألۃ الھبہ ومسألۃ المشترک بین ناس بملک فاسد فکذا ینبغی انی یثبت العجز عن استعمال ھذا التراب۔
اقول: لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتاہے کہ اگریہ عمل واجب ہوتاتوجب تک خشک نہ ہو اس سے عدمِ تیمم واجب کرتے اگرچہ وقت نکل جائےجیسا کہ امام ابویوسف کاقول ہے اس لیے کہ شرعی ممانعت سے بھی پانی کے استعمال سے عجزثابت ہوتاہے جیسا کہ ہم پہلے سبیل کے پانی، ہبہ کے مسئلہ اور چندآدمیوں کے درمیان ملک فاسد سے مشترک پانی کے مسئلہ میں بیان کرآئے ہیں تو اس مٹی کے استعمال سے بھی عجز ثابت ہونا چاہئے۔(ت)
واقول: فی الجواب بتوفیق الوھاب حفظ الوقت فریضۃ واتیان الفریضۃ اھم من ترک المکروہ تحریما فلایجعل عجزا عن التراب جاذلابدل لہ بخلاف الماء فان لہ خلفا وھو التراب واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب۔
(اقول) خدائے وہاب کی توفیق سے اعتراض مذکور کہ جواب میں، میں کہتاہوں کہ وقت کاتحفظ فرض ہے اور فرض کی بجاآوری مکروہ تحریمی کے ترک سے اہم ہے تو اسے مٹی سے عجز نہ قرار دیاجائے گا اس لیے کہ اس کاکوئی بدل نہیں، پانی کامعاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ اس کا ایک نائب وبدل مٹّی موجود ہے اور خدائے تعالٰی درست وصواب کوخوب جاننے والاہے۔(ت)
بالجملہ بحمداللہ تعالٰی واضح ہے اور کیچڑ سے منع کایہی منشا کہ ہم نے تقریر کیا اور اسی سے عبارات میں توفیق وباللہ التوفیق۔
اقول: لکنھا مزلۃ زلت فیھا اقلام اعلام من قبل حمل الجواز علی معنی الصحت دون الحل فاغربھا ماقدمت عن البرجندی حیث عزا الی الخلاصۃ ماعزولم یبال بماصرح بہ فی نفس السطر وبعد بعدۃ اسطر ومنھا ماقدمنا عن الایضاح ان لم یؤول بما فتح علی الفتاح ومھا قال فی المنیۃ لایجوز التیمم بالطین قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایتیمّم بالطین وان فعل یجوز۱؎ ۱ھ ھذا مافی نسختنا المتن وعلیھا شرح فی الغنیۃ و وقع فی نسخۃ شرحہا فی الحلیۃ قال شمس الائمۃ لایجوز التیمم بالطین وان فعل یجوز۲؎۱ھ قال فی الحلیۃ الجوازبہ قال الکرخی وعلیہ مشی شمس الائمۃ الحلوانی الاانہ قال لاینبغی ان یتیمّم بہ لان فیہ تلطیخ الوجہ ولوفعل جازذکرعنہ بھذااللفظ قاضیخان فی فتاواہ لاباللفظ الذی حکاہ المصنف عنہ فان ظاھرہ التناقض۳؎۔
اقول: لیکن یہ ایک پھسلن ہے جہاں متعدد علمائے اَعلام کے قلم لفظ جواز کوبجائے حلت کے صحت کے معنی پر محمول کرلینے کی وجہ سے لغزش کھاچکے ہیں۔ (۱) سب سے زیادہ عجیب وغریب وہ ہے جو برجندی سے میں نے نقل کیاکہ انہوں نے خلاصہ کی طرف منسوب کرڈالا وہ سب جو منسوب کیا، اور اس کاخیال نہ کیا جو صاحب خلاصہ نے خود اسی سطر میں اور پھر چند سطر بعد بھی صراحت فرمائی ہے۔ (۲) وہ بھی ہم نے امام کرمانی کی ایضاح سے نقل کیا، اگر اس کی وہ تاویل نہ کی جائے جوفقیر پر خدائے فتاح نے منکشف فرمائی۔(۳) منیہ میں کہا : ''کیچڑ سے تیمم جائز نہں۔ شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: کیچڑ سے ''تیمم نہ کرے''، اور اگرکرلیاتوجائز ہے''۔ ۱ھ۔ یہ ہمارے نسخہ متن میں ہے۔ اسی نسخہ پر شرح غنیہ بھی ہے اور ایک دوسرے نسخہ میں جس پر شرح حلیہ ہے یوں لکھا ہے ''شمس الائمہ نے فرمایا: کیچڑ'' سے تیمم جائز نہیں'' اور اگرکرلیا تو جائز ہے'' اھ۔ حلیہ میں لکھا: ''اس سے جوا زکے قائل کرخی ہیں اور اسی پر شمس الائمہ حلوانی بھی گئے ہیں مگر انہوں نے یہ فرمایا کہ اس سے تیمم نہیں کرناچاہئےاس لیے کہ اس میں چہرہ کی آلودگی ہوتی ہے اور اگرکرلیاتوجائز ہے۔ ان سے ان ہی الفاظ کے ساتھ قاضی خان نے اپنے فتاوٰی میں نقل کیا ہے ان الفاظ میں نہیں جو ان سے مصنف نے حکایت کی اس لیے کہ اس کاظاہر توتناقض لئے ہوئے ہے۔''۱ھ(ت)
(۱؎ منیۃ المصلی باب التیمم مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۶)
(۲؎ غنیۃ امستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹)
(۳؎ حِلیہ )
اقول: من(۱) سمع ھذالایتبادر ذھنہ الا الی ان لایجوز بمعنی لایحل ویجوز بمعنی یصح والظاھر ھو المتبادر غیر ان الشارح العلامۃ لایسلم عدم الحل ایضا کما تقدم فلم یستقم لہ ھذا المعنی الواضح ومنھا قال فی البحر وقیدالجواز بالطین الولوالجی فی فتاواہ وصاحب المبتغٰی بان یخاف خروج الوقت اماقبلہ فلاکیلا یتلطخ وجھہ فیصیر بمعنی المثلۃ من غیر ضرورۃ وھوقید حسن ینبغی حفظہ۱؎ اھ
اقول: جوبھی یہ سنے گا اس کاذہن اسی بات کی طرف جائے گا کہ لایجوز (جائز نہیں) لایحل (حلال نہیں) کے معنی میں ہے اور یجوز (جائز ہے ) یصح (درست ہے) کے معنی میں ہے اور ظاہریہی متبادرہوتاہے۔ مگر شارح علامہ عدم حلّت بھی نہیں مانتے جیسا کہ گزرچکا اس لیے یہ واضح معنی ان کے لیے راست نہ آسکا۔ (۴) بحر میں فرمایا: ''والوالجی نے اپنے فتاوٰی میں، اور صاحب مبتغی نے بھی کیچڑ سے جوازکو اس بات سے مقید کیاہے کہ وقت نکلنے کااندیشہ ہو۔ اس سے قبل جائز نہیں تاکہ چہرہ آلودہ ہوکربلاضرورت مثلہ کے معنی میں نہ ہوجائے۔ اور یہ اچھی قید ہے جسے یاد رکھنا چاہئے''۔
اقول؛ فانظر الی التعلیل ھل یرشد الی عدم الجواز بمعنی الحل ام بمعنی الصحۃ فاندفع(۱) واللّٰہ الحمد مارد بہ علیہ اخوہ المدقق فی النھر والعلامۃ الرملی فی حاشیۃ البحر وتبعھماش فی المنحۃ فاھمین انہ یقول قیدبہ الولوالجی صحۃ التیمم بالطین فلو تیمّم بہ قبل ذھاب الوقت لم یصح و لعل ھذا شیئ لم یخطر ببال المحقق البھر ولاارادہ÷ ولا فی عبارتہ ماعینہ او افادہ÷
اقول: بیان علت پرغورکیجئے کیا اس سے اس بات کی راہ ملتی ہے کہ جواز بمعنی حلت کاعدم مراد ہے یابمعنی صحت کا؟۔ توبحمداللہ وہ اعتراض دفع ہوگیا جس سے صاحب بحر پران کے برادر مدقق نے نہر میں اور علامہ رملی نے حاشیہ بحر میں رد کیا اور علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان دونوں حضرات کی پیروی کی۔ يہ سب ان حضرات نے یہ سمجھتے ہوئے کیا کہ صاحبِ بحریہ فرمارہے ہیں کہ کیچڑ سے تیمم درست ہونے کے لیے والولوالجی نے یہ قید لگائی ہے، تو اگر اس سے وقت نکلنے (کے اندیشہ) سے پہلے تیمم کرلیا تو ووہ درست ہی نہ ہوا۔ اور شاید یہ معنی ایسا ہے جو محقق بحر کے خیال میں بھی نہ آیا ہو، نہ ہی انہوں نے یہ مراد لیا، نہ ہی ان کی عبارت میں کوئی ایسا لفظ ہے جس سے اس کی تعیین ہو یا جس سے یہ مستفاد ہو۔(ت)
نعم فی عبارتہ مایوھم (۲) ظاھرہ انہ حمل حکم تلطیخ الثوب علی عدم الجواز بہ قبل الجفاف حیث قابلہ بقول الامام بالجواز اذقال اذالم یجد الاالطین یلطخہ بثوبہ فاذا جف تیمّم بہ وقیل عند ابی حنیفۃ یتیمم بالطّین وھو الصحیح لان الواجب عندہ وضع الید علی الارض لااستعمال جزء منہ و الطین من جنس الارض الا اذا صار مغلوبا بالماء فلایجوز التیمّم کذا فی المحیط ۱؎ ۱ھ وھو لیس اول من ذھب وھلہ الی ھذا۔ ثمّ ماذکر فی تعلیل قول الامام یوھم ان الطین لایعلق منہ شیئ بالیداو ان جھذا ھو الغالب فیہ وھو عکس ماسلکہ فی البدائع والصواب مع ملک العلماء و اللّٰہ تعالٰی اعلم۔
ہاں ان کی عبارت میں ایک امر ایساہے جس کے ظاہر سے یہ وہم پیداہوتاہے کہ انہوں نے کپڑے میں کیچڑ لگانے کاحکم اس پرمحمول کیا ہے کہ سوکھنے سے پہلے کیچڑ سے تیمم جائز ہی نہیں اس طرح کہ اس کے مقابہ میں امام کاقول جواز پیش کیاہے۔ عبارت یوں ہے: ''جب کیچڑ کے سواکچھ نہ ملے تو اسے کپڑے میں لگالے جب خشک ہوجائے تو اس سے تیمم کرے اور کہاگیا کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک کیچڑ سے تیمم کرلے گا۔ اور یہی صحیح ہے کیونکہ ان کے نزدیک واجب یہی ہے کہ زمین پرہاتھ رکھے اس کے کسی جزکو استعمال کرنا واجب نہیں اور کیچڑ جنسِ زمین ہی سے ہے۔ مگرجب پانی سے مغلوب ہوتو اس سے تیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی محیط میں ہے'' اھ او ر یہ پہلے شخص نہیں جن کاوہم غیرارادی طور پر اس طرف چلاگیا پھر امام اعظم کے قول کی علّت بتاتے ہوئے جوانہوں نے ذکر کیا اس سے یہ وہم ہوتاہے کہ کیچڑ سے ہاتھ میں کچھ لگتانہیں یا اس میں اکثر یہی ہوتاہے۔ یہ اس راہ کے برعکس ہے جس پرصاحب بدائع گامزن ہوئے اورصواب ملک العماء کے ساتھ ہے۔ اور خدائے برترخوب جانتاہے۔(ت)