اقول: عبارۃ الخلاصۃ عن نص الامام محمد نفسہ فی المبسوط ھکذا و فی الاصل قال ابوحنیفۃ ومحمد یجوز التیمم بجمیع ماکان من جنس الارض ومن اجزائھا نحو التراب والرمل والنورۃ (وعداشیاء الی ان قال) وقال ابویوسف لایجوز الابالتراب ثم عندنا لافرق فی الحجر علیہ غبار اولم یکن مغسولا اوغیر مغسول مدقوقا اوغیر مدقوق وقال محمد ان کان الحجر مدقوقا اوعلیہ غبارجاز التیمّم والافلا۔ وان تیمّم بارض قدرش علیہا الماء وبقی علیہا ندوۃ جاز ولوکان فی طین طاھر لایتیمّم بل یلطخ بعض ثیابہ اوجسدہ ویترکہ حتی یجف ثم یتیمّم بہ ومع ھذا الوتیمم بالطین فھو علی الخلاف وقال الکرخی یجوز التیمّم بالطین ولوتیمّم بالحجر الاملس اوالمغسول یجوز عندابی حنیفۃ وعند ابی یوسف لایجوز وعن محمد روایتان فی روایۃ یجوز ان کان علیہ غباروفی روایۃ یجوز مطلقا وبالاٰجر یجوز عند ابی حنیفۃ وعن محمد روایتان وقول ابی یوسف متردّد و الخزف الجدید علی الاختلاف الا اذا استعمل فیہ شیئ من الادویۃ فحینئذ لایجوز ولوتیمّم بارض نزّت علی الاختلاف الذی ذکرنا فی الخزف وعلی ھذا الخلاف التیمّم بالطین ۱؎ اھ۔
اقول: خلاصہ میں خود امام محمد کی کتاب مبسوط کے حوالہ سے یہ عبارت پیش کی ہے۔''اصل میں ہے: ابوحنیفہ و محمد کہتے ہیں تیمم ہراس چیز سے جائز ہے جو زمین کی جنس اور اس کے اجزا سے ہوجیسے مٹی، ریت، چُونا (اور بھی کچھ چیزیں شمار کرائیں یہاں تک کہ فرمایا) اور ا بویوسف کہتے ہیں: مٹّی کے علاوہ کسی چیزسے جائز نہیں۔ پھر ہمارے نزدیک پتھر میں اس کی کوئی تفریق نہیں کہ اس پرگرد ہے یانہیں، دھلاہواہے یانہیں، پِساہواہے یانہیں، اور امام محمد کہتے ہیں: اگرپتھر پساہواہو یا اس پرگرد ہو توتیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اگر کسی ایسی زمین سے تیمم کیا جس پر پانی چھڑکاگیاتھا اور اس پر ابھی تری باقی ہے تو یہ تیمم جائز ہے اور اگرپاک کیچڑ میں ہو تو ''تیمم نہ کرے'' بلکہ اپنے کسی کپڑے یاجسم کو اس سے آلودہ کرکے خشک ہونے تک چھوڑدے پھر اس سے تیمم کرے۔ اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کر ہی لیا تو اس میں اختلاف ہے۔ اور امام کرخی فرماتے ہیں: کیچڑ سے تیمم جائز ہے۔ اور اگرصاف، چِکنے یادُھلے ہوئے پتھر سے تیمم کرلیا توامام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور امام ابویوسف کےنزدیک جائز نہیں اور امام محمد سے دو۲روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر اس پرغبار ہوتو جائز ہے اور دوسری روات میں یہ ہے کہ مطلقاً جائز ہے۔ اور پکّی اینٹ سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک تیمم جائز ہے۔ امام محمد سے دو۲روایتیں ہیں۔ اور امام ابویوسف کاقول متردّد ہے۔ نئے خزف (مٹّی کے پکے ہوئے برتن وغیرہ) میں بھی اختلاف ہے مگر جب اس میں کوئی دوا استعمال کی گئی ہو تو اس وقت اس سے تیمم جائز نہیں۔ اگرکسی ایسی زمین سے تیمم کیا جس میں پانی کی تری ابلتی ہے تو اس میں بھی وہی اختلاف ہے جوخزف سے متعلق ذکرہوا۔ اور کیچڑ سے تیمم میں بھی یہی اختلاف ہے۔''اھ۔(ت)
فقد ذکرنص محمد فی ظاھر الروایۃ جواز التیمّم بکل ماکان من جنس الارض واجزائھا وانہ مع الامام فیہ وان الخلاف لابی یوسف ثم اشار بمسألۃ الحجر المدقوق ان محمد ایشترط الالتزاق بالید ثمّ احال التیمّم بالطین علی الخلاف المذکور فنص علی الجوازعند الطرفین لانہ من جنس الارض واجزائھا قطعا ولاشک انہ یلتزق بالید فکان کلامہ ککلام ملک العلماء سواء بسواء۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ خلاصہ میں امام محمد کی ظاہرالروایۃ کی عبارت ذکرفرمائی ہے کہ ہراس چیز سے تیمم جائز ہے جو زمین کی جنس اور اس کے اجزا سے ہو اور یہ کہ اس مسئلہ میں امام محمد، امام اعظم کے ساتھ ہیں اختلاف امام ابویوسف کاہے۔ پھر پسے ہوئے پتھر کامسئلہ بیان کرکے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ امام محمد کے نزدیک ہاتھ سے لگنا، چپکنا شرط ہے۔ پھر کیچڑ سے تیمم کے بارے میں اسی ذکرشدہ اختلاف کا حوالہ دے کریہ صراحت فراہم کردی کہ طرفین کے نزدیک جائز ہے اس لیے کہ یہ یقینا زمین کی جنس اور اس کے اجزا سے ہے اور ہاتھ سے اس کے چپکنے، لگنے میں بھی کوئی شک نہیں۔ توان کاکلام ٹھیک ویسے ہی ہوا جیسے ملک العلماء کاکلام ہے۔
ثم افاد بمسألتی الحجر المغسول والاٰجران محمدا فی روایۃ عنہ یوافق الامام فی عدم اشتراط التزاق شیئ بالید ثم احال مسألۃ الخزف علی الاختلاف والظاھران المراد بہ الاختلاف المذکور فی الاٰجرلذکرہ عقیبہ ولاشتراک العلۃ فیھما انہ لاینفصل منھما شیئ یلتزق بالیدفا فادان عن محمد فی الخزف روایتین فی روایۃ یجوز مطلقا وفاقا للامام الاعظم وفی اخری لا الا اذا کان مدقوقا اوعلیہ غبارکما ذکرفی الحجر وھی الروایۃ المشھورۃ عنہ ثم انہ احال مسألتی الارض النزۃ والطین علی الاختلاف المذکور فی الخزف فقد یؤخذ منہ ان عنہ فیہما ایضا روایتین ھذا معنی قول الحلیۃ کما ھو ظاھر الخلاصۃ۔
پھر دھلے ہوئے پتھر او رپکّی اینٹ کے مسئلوں سے یہ افادہ فرمایا کہ امام محمد اپنی ایک روایت میں امام اعظم کے موافق ہیں کہ ہاتھ سے کچھ چپکنا شر ط نہیں۔ پھر خزف کے مسئلہ میں بھی اختلاف کاحوالہ دیا اور ظاہریہی ہے کہ اس سے مراد وہی اختلاف ہے جوپکّی اینٹ کے بارے میں ذکر ہوا کیونکہ اسی کے بعد اسے ذکرکیا ہے اور اس لئے بھی کہ دونوں میں یہ علّت مشترک ہے کہ دونوں ہی سے کوئی ایسی چیز الگ نہیں ہوتی جو ہاتھ سے چپک جائے۔ اس سے یہ بھی مستفاد ہوا کہ خزف میں بھی امام محمدسے دو۲ روایتیں ہیں ایک روایت میں مطلقاً جائز ہے جیسا کہ امام اعظم کا مذہب ہے اور دوسری روایت میں جائزنہیں مگر اسی وقت جب کہ خزف پسا ہوا ہو یا اس پرغبار ہو جیسا کہ پتھر سے متعلق ذکرکیا اور یہی ان کی مشہور روایت ہے۔ پھرانہوں نے تری والی زمین کے مسئلوں میں بھی اسی اختلاف کاحوالہ دیا جوخزف میں ذکرہو ا اس سے یہ اخذ ہوتاہے کہ امام محمد سے ان دونوں کے بارے میں بھی دو۲ روایتیں ہیں __حلیہ کی عبارت''کما ھوظاھر الخلاصۃ'' (جیسا کہ خلاصہ کے ظاہر سے معلوم ہوتاہے) کایہ مطلب ہوا (جوعبارت خلاصہ کی تفصیل کرکے ہم نے واضح کیا)۔(ت)
اقول: لکن الروایتین انما ھما الجواز مطلقا والجواز بشرط الالتزاق(۱) اما عدم الجواز بالطین مطلقا فی روایۃ عن محمد کما ذکر عن النھایۃ فلیس ظاھر الخلاصۃ ولامتوھما منھا ثمّ لا(۲) شک ان الطین یلتزق منہ شیئ بالید کما افادہ ملک العلماء فتتفق الروایتان علی الجواز ولایبقی محل لاستدراکہ علی البدائع بالخلاصۃ لعدم دلالتھا علی روایۃ اخرٰی ولا(۱) بالنھایۃ اذلاملتفت الی النوادر مع الظواھر وانما کان قصاراہ ان یقول ماذکرہ عن محمد ھو مذھبہ ویروی عنہ خلافہ علی مافی النھایۃ اذا عرفت ھذا وقد استقرعرش التحقیق علی ان الروایات الظاھرۃ عن محمد متفقۃ علی جواز التیمّم بالطین فقول(۲) البرجندی عندھما لایجوز لیس کما ینبغی۔ ھذا ثم قال فی الحلیۃ تیمم بارض قدرش علیہا الماء وبقی لھاندوۃ جازکذا فی الفتاوی الخانیۃ وغیرھا وفی خزانۃ الفتاوی لوتیمم بالثرٰی ان کان الی الجاف اقرب جاز وان کان الی البلل اقرب لایجوز ۱؎ اھ
اقول: لیکن یہ دو روایتیں کیاہیں؟ یہی کہ مطلقاً جواز ہے یاچپکنے کی شرط کے ساتھ جواز ہے مگریہ کہ امام محمدسے کسی روایت میں کیچڑ سے مطلقاً عدمِ جواز منقول ہے جیسا کہ حلیہ نے نہایہ کے حوالہ سے ذکر کیا یہ بات نہ توخلاصہ کے ظاہر سے مستفاد ہوتی ہے نہ ہی اس کااس سے وہم ہوتاہے۔ پھر یہ امریقینی ہےکہ کیچڑ سے ہاتھ میں کچھ ضرور چپکتاہے جیسا کہ ملک العلماء نے افادہ فرمایا تودونوں ہی روایتیں (کیچڑ سے تیمم کے) جواز پرمتفق ثابت ہوئیں۔ اور خلاصہ کے حوالہ سے بدائع پراستدراک کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ اس لیے کہ عبارت خلاصہ کی اور روایت کاکوئی پتا نہیں دیتی۔ اسی طرح نہایہ کے حوالہ سے بھی استدراک کاموقع نہیں اس لیے کاظاہر روایۃ کے ہوتے ہوئے نوادرقابلِ التفات نہیں۔ صاحب حلیہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے تھے کہ ''ملک العماء نے امام محمد سے جونقل کیا وہ امام محمد کامذہب ہے اور ان سے اس کے خلاف بھی ایک روایت آئی ہے جیساکہ نہایہ میں ہے'' جب یہ بات معلوم ہوگئی اور عرش تحقیق اس پر مستقر ہوا کہ امام محمدسے نقل شدہ ظاہرروایات کیچڑ سے جوازتیمم پرمتفق ہیں توبرجندی کایہ لکھنا کہ ''صاحبین کے نزدیک ناجائز ہے'' مناسب نہیں (یعنی امام ابویوسف کی طرح اسے امام محمدکابھی مذہب قراردے دینا درست نہیں۱۲م الف) یہ ذہن نشین رہے۔ پھرحلیہ میں یہ لکھا ہے: ''ایسی زمین سے تیمم جائز ہے جس پرپانی چھڑکاگیاتھا اور نمی رہ گئی ہے۔ فتاوٰی خانیہ وغیرہا میں ایسا ہی ہے۔ اور خزانۃ الفتاوٰی میں ہے کہ : نمناک مٹّی سے تیمم کیا تو وہ اگرخشک ہونے سے زیادہ قریب ہوتوجائز ہے اور اگرترہونے سے زیادہ قریب ہوتوناجائز ہے۱ھ۔(ت)
(۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشوربالسرور ۱ /۴۷)
اقول: نفس البلل لایمنع التیمم کما علمت من تظافر المعتمدات علیہ فکیف مایقرب منہ فیجب حمل الجواز فیہ علی معنی الحل ای ان کان اقرب ال البلل بحیث یلطخ الوجہ لایحل لما فیہ من المثلۃ کما سیأتی۔
اقول: خود تری تیمم سے مانع نہیں، جیسا کہ اس پرکتب معتمدہ کے باہمی اتفاق سے ناظر پرعیاں ہوچکا ہے توجومٹّی تری سے قریب ہو وہ کیونکر تیمم سے مانع ہوگی؟لہٰذا ضروری ہے کہ عبارت بالا میں لفظ جواز کو حلّت کے معنی پر محمول کیاجائے۔ یعنی مٹّی اگرتری سے زیادہ قریب ہواس طرح کہ چہرے کوآلودہ کردے تو(تیمم میں اس کااستعمال) حلال نہیں کیوں کہ اس میں مثلہ(صورت بگاڑنا) لازم آئے گا۔ جیسا کہ اس کابیان آرہاہے۔(ت)
طین یعنی کیچڑ: ۱۔بدائع، ۲۔خلاصہ، ۳۔بزازیہ، ۴۔ایضاح کرمانی،۵۔معراج الدرایہ،۶۔شلبیہ، ۷۔سراجیہ، ۸۔والواجیہ، ۹۔مبتغی، ۱۰۔بحر، ۱۱۔نہر، ۱۲۔ہندیہ میں جواز تیمم کی تصریح ہے۔
وقدمرت عبارات البدائع والخلاصۃ ومثل الخلاصۃ فی البزازیۃ وعن البدائع نقل فی الھندیۃ ولفظ ابن الشلبی عن الکاکی عن الکرمانی ماذکر فی الاصل انہ یلطخ الثوب بالطین ویتیمّم بعد الجفاف اذاکان فی طین ردغۃ ھوقولہ اما عند ابی حنیفۃ یجوز التیمّم بالطین الرطب اذالم یعلق منہ شیئ ۱؎ ۱ھ۔
بدائع اور خلاصہ کی عبارتیں گزرچکیں، خلاصہ ہی کے مثل بزازیہ میں بھی ہے اور بدائع سے ہندیہ میں نقل کیاہے۔ اور ابن الشلبی کے الفاط کاکی پھرکرمانی سے روایت کرتے ہوئے وہی ہیں جواصل (مبسوط) میں ذکرہوئے کہ آدمی کپڑے پرکیچڑ لگالے اور خشک ہوجانے کے بعد اس سے تیمم کرے جب سخت کیچڑوالی زمین میں ہو۔ یہ امام محمد کاقول ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک ترکیچڑ سے تیمم جائز ہے جب اس میں سے کچھ بدن پر نہ چپکے۱ھ۔(ت)
اقول: ای وان لم یعلق منہ شیئ کما سیأتی فی عبارۃ الامام الاجل الکرخی فیکون تصریحا بالخفی لاجل خلاف محمد لیدل علی الظاھر بالاولٰی والجواز بمعنی الحل فیتلق بما اذالم یعلق حذرا عن المثلۃ وفی السراجیۃ لوتیمّم بالطین یجوز۲؎۱ھ۔
اقول: مراد یہ ہے کہ اگرچہ اس میں سے کچھ بدن پرنہ چپکے جیسا کہ عن قریب امام اجل کرخی کی عبارت میں آرہا ہے تویہ امام محمد کے خلاف کی وجہ سے خفی بات کی صراحت کردیتاہے تاکہ ظاہربات پربدرجہ اولٰی دلالت ہو__ یاجواز بمعنی حلّت ہے تونہ چپکنے والی صورت سے اس کاتعلق مثلہ سے بچنے کے لیے ہوگا۔ سراجیہ میں ہے:''اگرکیچڑ سے تیمم کیاتوجائزہے اھ۔
(۱؎ حاشیۃ الشلبیۃ مع التبیین باب التیمم مطبوعہ امیریہ بولاق مصر ۱ /۳۹)
(۲؎ فتاوی سراجیۃ باب التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنو ص ۷ )
وزعم البرجندی ان فی الخلاصۃ لایجوزالتیمّم بالطین بل یلطخ بعض ثیابہ الخ ۱؎۔
اور جندی نے یہ کہہ دیا کہ خلاصہ میں ہے: کیچڑ سے تیمم ''جائزنہیں'' بلکہ اسے اپنے کسی کپڑے میں لگالے گا الخ۔ (ت)
( ۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱/ ۴۷)
اقول: قدمنا نص الخلاصۃ ولیس فیہ لایجوز بل لایتیمّم وقد قال متصلابہ ومع ھذالوتیمّم بالطین فھو علی الخلاف ای یجوز عند الطرفین خلافا لابی یوسف وقال فی اواخرالکلام وعلی ھذالخلاف التیمّم بالطین۲؎ فمن العجب نسبۃ عدم الجواز الیہ۔
اقول: خلاصہ کی عبارت ہم پیش کرآئے ہیں اس میں لایجوز (ناجائز) نہیں بلکہ لایتیمّم (تیمم نہ کرے)ہے۔ اور اس سے متصلاً ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ''اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرہی لیا تو اس میں اختلاف ہے'' یعنی برخلاف امام ابویوسف کے __ طرفین کے نزدیک جائز ہے __ اور اواخر کلام میں یہ بھی لکھا ہے اور اسی اختلاف پرکیچڑ سے تیمم بھی ہے __ توخلاصہ کی طرف عدم جواز کی بات منسوب کرنا بڑاعجیب ہے۔(ت)
یوں ہی خانیہ(۱۳) وخلاصہ میں امام کرخی(۱۴) اورخانیہ میں امام شمس الائمہ (۱۵)حلوانی سے اس کاجواب نقل کیا مگر امام خجندی عدمِ جواز کے قائل ہیں، جوہرہ نیّرہ میں ہے :
لولم یجد الا الطین یلطخ بہ طرف ثوبہ اوغیرہ حتی یجف ثم یتیمم بہ وان لم یمکنہ قال فی ان لم یمکنہ قال فی الججندی عہ لایصلی مالم یجد الماء اوالتراب الیابس وفی الکرخی بالطین الرطب وان لم یعلق بیدیہ والصحیح جواز التیمّم بالطین عند ابی حنیفۃ وزفر ۱؎۔
اگرکیچڑ کے علاوہ کچھ نہ ملے تواسے اپنے کپڑے کے کنارے یاکسی اور چیز پرکیچڑ لگالے تاکہ وہ خشک ہوجائے پھر اس سے تیمم کرے اور اگریہ اس کے لیے ممکن نہ ہوتوخجندی میں کہاہے: جب تک پانی یاخشک مٹّی نہ ملے نماز نہ پڑھے۔ اور کرخی میں ہے: ترکیچڑسے تیمم جائز ہے اگرچہ اس کے ہاتھوں میں نہ چپکے اور صحیح یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام زفر کے نزدیک کیچڑ سے تیمم جائز ہے۔(ت)
عہ :مشایخنا قالواھذاقول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فان عندہ لایجوز التیمّم الابالتراب والرمل اما عند ابی حنیفۃ فالتیمّم بالطین جائز لانہ من اجزاء الارض ۳ اھ منحۃ الخالق عن الرملی عن الولوالجیۃ۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)
ہمارے مشایخ نے فرمایا یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کاقول ہے کیونکہ ان کے نزدیک مٹّی یاریت کے علاوہ کسی چیز سے تیمم جائز نہیں لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک توکیچڑ سے تیمم جائز ہے اس لیے کہ وہ زمین ہی کے اجزاسے ہے۱ھ منحۃ الخالق از رملی از ولوالجیہ ۱۲منہ غفرلہ۔(ت)
بلکہ محیط سے منقول ہوا کہ بالاتفاق ناجائز ہے، رحمانیہ میں ہے: فی المحیط لایجوز التیمم بالطین عندالکل لان التراب لایصیرطینا مالم یصرمغلوبا لماء۲؎۔
محیط میں ہے: سب کے نزدیک کیچڑ سے تیمم ناجائز ہے اس لیے کہ مٹّی اسی وقت کیچڑ ہوتی ہے جب پانی سے مغلوب ہوجائے۔(ت)
( ۲؎ رحمانیہ )
اور تحقیق وتوفیق وہ ہے جو ۱۔محیط سرخسی ، ۲۔محیط رضوی، ۳۔حلیہ، ۴۔بحرالرائق، ۵۔درمختار، ۶۔عالمگیریہ، ۷۔فتح اللہ المعین وغیرہا میں افادہ فرمائی کہ جس کیچڑ میں پانی غالب ہے اس سے تیمم جائز نہیں اور مٹّی غالب ہے توجائز۔ حلیہ میں ہے:
قال رضی الدین فی محیطہ الصحیح ان الطین جنس الارض الا اذاصار مغلوبا بالماء فلایجوز۳؎۔
رضی الدین نے اپنی محیط میں فرمایا: صحیح یہ ہے کہ کیچڑ زمین ہی کی جنس ہے مگرجب پانی سے مغلوب ہوجائے توناجائز ہے۔(ت)
(۳؎ حلیہ)
ہندیہ میں ہے:وان صار طین مغلوبا بالماء فلایجوز بہ التیمّم ھکذا فی محیط السرخسی۴؎۔
اور اگرکیچڑپانی سے مغلوب ہوتو اس سے تیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی محیط سرخسی میں ہے۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۶۷)