| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
(۴۵) ظروف گلی کا وہ رخ جس پر رانگ وغیرہ غیرجنس کی قلعی ہے۔ (۴۶) جس پرغیرجنس کی رنگت ہے۔ (۴۷) روغنی ظروف وقد تقدمت (ان سب کاذکر گزرچکا ہے۔ت)(۴۸) وہ ٹھیکری جس میں دوائیں ڈال کرپکائی ہوں وسیأتی ان شاء اللّٰہ مفصلا (اس کابیان ان شاء اللہ تعالٰی آگے تفصیل سے آئے گا۔ت)(۴۹) مٹّی جس میں راکھ اور (۵۰) جس میں آٹا برابر یازائد ملے ہوں جوھرہ نیّرہ۔(۵۱)کیچڑ جس پرپانی غالب ہو۔(۵۲) ناپاک زمین اگرچہ خشک ہونے سے اثر نجاست زائل ہو کرنماز کے لیے پاک مانی گئی ہو۔(۵۳) غبار کہ ناپاک زمین سے اٹھا۔(۵۴) غبار کہ ترچیز ناپاک پر گرا اگرچہ پھر خشک ہوگیا۔(۵۵) غبار کہ خشک چیز ناپاک پرگرا اور اس کوتری پہنچی۔(۵۶) درزی کی بٹیا رنگین۔(۵۷) قبرستان کی مٹّی جہاں نجاست کا ظن ہو وقد تقدم کلہا فی المقابلات (ان سب کابیان مقابلات میں گزرچکا ہے ۔ ت)مزیدات (۵۸) زمین یاپہاڑ جس پر دوب اُگی ہے۔ (۵۹) جس پربرف جماہواہو۔ (۶۰) جس کا برف پگھل کربہہ رہا ہے۔(۶۱) جس پر مینہ برس رہا ہے۔(۶۲) جس پر مینہ برس کر کھل گیا مگرپانی جاری ہے۔(۶۳) پکّافرش یادیوار جس پرکاہی جمی ہے۔(۶۴) باورچی خانہ کی دیوار کی لجھی پھری ہے۔(۶۵) وہ زمین جس پر کسم کی لجھی پھری ہے۔(۶۶) مٹّی کاچراغ جس پر کانٹھ چڑھی ہے۔(۶۷) گِلِ حکمت کہ مرکب نسخہ ہے عہ اور غیرجنس ارض کاحصہ زیادہ ہے۔
عہ: صنعتہ(۱)طین خالص جزء فحم مسحوق شعر مقصوص،ملح مکلس،خطمی، خبث الحدید،کلس،قشرالبیض، من کل نصف جزء الخ من التذکرۃ قال وقد تنقص ھذہ الاجزاء وقد تغیر اوزانہا ولایزید علی ماذکرنا فلیتحفظ بہ ۱ھ۱۲منہ غفرلہ(م) اس کانسخہ یہ ہے: خالص مٹّی، پساہوا کوئلہ، تراشا ہوا با، چونادارنمک، خطمی، لوہے کامیل، سفید چُونا، انڈے کا چھلکا، سب سے نصف حصّہ الخ__ ازتذکرہ__اس میں لکھا ہے کہ یہ اجزا کبھی کم بھی کردئے جاتے ہیں اور کبھی ان کے وزنوں میں تبدیلی بھی کردی جاتی ہے مگرجتنے ہم نے ذکرکیے ان سے زیادہ نہیں ہوتے تو اسے محفوظ رکھنا چاہیے۱ھ۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
(۶۸) رام پور چینی کہ مٹّی پرمسالا ہے، ہاں جس طرف چینی نہ چڑھی ہو اس طرف رواہے۔(۶۹) تام چینی کہ ٹین اور مسالاہے۔(۷۰) وہ سچّی چینی یا(۷۱) مٹّی کے کھلونے جن پرغیر جنس کاروغن ہے۔(۷۲) وہ نورہ اور (۷۳) گلِ خوردنی اور (۷۴) غلیل کے غُلّے جن میں غیرجنس مقدار میں کم نہیں۔(۷۵) پارے کاکٹورا(۷۶) پارے کاکشتہ(۷۷) سونے، چاندی، رانگ کسی دھات کاکشتہ(۷۸) شبہ مصنوع یعنی پیتل۔ یہ معدنی نہیں تانبا اور جَسْت ملاکر بناتے ہیں اسے صُفرسمجھنا غلط ہے۔(۷۹) گانسا۔ ہفت جوش ساتوں دھات کامجموعہ۔(۸۰) بھرت، (۸۱) نکل، (۸۲)جرمن سلور، (۸۳)لکڑی وغیرہکسی غیرجنسِ ارض کاکوئلہ، (۸۴)شورہ، (۸۵)نوشادر، (۸۶)سُہاگا، (۸۷) پھٹکڑی(۸۸)زاج اخضیر ہندی یعنی نیلا تھوتھا(۸۹)بورہ ارمنی(۹۰) کہربا جس کی تسبیخ ہوتی ہے یہ پتھر نہیں گوند ہے تذکرۃ ابن سینا۔
صمغ کالسندروس___ الغافقی رطوبۃ تقطر من ورق الدوم نقلہما ابن البیطار ___ الظاھرانہ صمغ الجوز اوصمغ شجرۃ غیرہ انوارالاسرار۔
سُندروس کی طرح ایک گوند ہے۔ غافقی گوکھل کے پتّوں سے ٹپکنے والی ایک رطوبت ہے۔ ان دونوں کو ابن بیطار نے نقل کیا۔ ظاہر یہ ہے کہ وہ اخروٹ کاگوند ہے یااس کے علاوہ کسی اور درخت کاگوند ہے۔ انوارالاسرار۔(ت)
(۹۱) سفیدہ کاشغری کہ قلعی کاسپیدہ ہے یعنی رانگ اورجَست سے بنتا اور دکھتی آنکھ میں بھراجاتاہے۔(۹۲) کاجل کہ پاراجاتاہے۔(۹۳) طباشیر بانس کی رطوبت ہے کہ جم جاتی ہے۔(۹۴) سیندور رانگ اور سفیدہ سے بنتاہے۔(۹۵) شنجرف مصری (۹۶) شنجرف شامی (۹۷) شنجرف مہوسان سب مصنوع چیزیں ہیں پارے اور گندھک سے مختلف ترکیبوں پربناتے ہں ہرترکیب میں پارا غالب ہے۔(۹۸) شنجرف ہندی اس میں دونوں مساوی بتائے جاتے ہیں بہرحال جنسِ ارض سے نہیں۔(۹۹) شنجرف رمانی یہ سیماب ومس سوختہ سے بنتی ہے اس کے دونوں جزغیرجنس ہیں۔ ان کے نسخے انوارالاسرار و جامع ابن بیطار و تذکرہ و تحفہ و مخزن وغیرہا میں ہیں اور معدنی کبریت احمر کی طرح عنقا قالہ فی التذکرۃ (اسے تذکرہ میں بیان کیاگیا ہے۔ت)(۱۰۰) رہی شنجرف رومی جس میں پارا بارہ ۱۲ جز، گندھک آٹھ ہرتال پانچ ہے اس میں اگرچہ جنس ارض غالب ہے مگر باہم طبخ سے امتزاج شدید ہوکر سخت محلِ نظر ہے جس کابیان مقام چہار وذکرِ خلط میں آتاہے اِن شاء اللہ تعالٰی لہٰذا اس کابھی ممنوعات ہی میں شمار رکھا واللہ تعالٰی اعلم باحکامہ (اور اللہ تعالٰی اپنے احکام کو خوب جاننے والا ہے۔ت)(۱۰۱) لوبان ، (۱۰۲) اگر (۱۰۳)مولی کانمک (۱۰۴) سجی کہ ایک گھاس کاکھارہے۔ (۱۰۵)لیموں کاسَتْ، (۱۰۶)نباتات کے اُڑائے ہوئے جوہر(۱۰۷)جلاکرنکالے ہوئے نمک۔(۱۰۸)کانچ (۱۰۹)سیپ(۱۱۰)گھونگھا (۱۱۱)سنکھ(۱۱۲)خرمہرہ(۱۱۳)سیپ کاچونا اور (۱)اس کاکھانابھی حرام وہ (۱۱۴)لاجورد و(۱۱۵) توتیا و(۱۱۶)مہرہ مارکہ مصنوع ہوں اور اکثر مصنوع ہی ملتے ہیں۔ (۱۱۷)سنکھیا مشہورزہر یہ بھی پتھرنہیں عدہ فی التذکرۃ من المولدات التی لم تکمل صورھا (تذکرہ کے اندراسے ان مولدات سے شمار کیا ہے جن کی صورتیں ناتمام رہ گئی ہیں۔ت) بعض نے کہا چاندی کادھواں ہے قالہ فی المخزن وغیرہ (اسے مخزن وغیرہ میں بیان کیاہے۔ت)(۱۱۸)وہ پتھر کہ پہاڑی بکری، (۱۱۹)بند،(۱۲۰)ساہی کے سروجوف میں بنتے ہیں۔(۱۲۱) سنگِ ماہی پتھر چٹے کے سر میں کہ ایک مچھلی ہے۔(۱۲۲)گئو ردہن گائے کے بدن میں۔(۱۲۳)مارمہرہ سانپ کے سَر میں جسے مَنْ کہتے ہیں۔(۱۲۴) سنگ قمر جبال مغرب میں چٹانوں پراس گِرکرجم جاتی ہے تیرہ رنگ جب چودھویں کاچاند چمکتاہے تو سفید برّاق ہوجاتی ہے اس پربھی تیمم جائز نہیں اور (۱۲۵) جس چٹان پر وہ جمی ہوئی ہو اس پربھی نہیں۔(۱۲۶)سنگِ گردہ (۱۲۷)سنگِ مثانہ یہ دونوں آدمی کے بدن میں بنتے ہیں۔ والعیاذباللہ تعالیٰ۔(۱۲۸) سنگِ بصری(۱) پتھرنہیں بلکہ سیسہ کادھواں ہے۔(۱۲۹) سنگ راسخ جلاہوا تانبا۔(۱۳۰)سنگِ سَبُوْیہ، یہ ایک قسم کے بیج ہیں سختی کے سبب سنگ کہلاتے ہیں۔ یہ تین سوگیارہ ۳۱۱ چیزوں کابیان ہے ۱۸۱ سے تیمم جائز جن میں ۷۴ منصوص اور ۱۰۷زیادات فقیر او ۱۳۰ سے ناجائز جن میں ۵۸ منصوص اور ۷۲زیاداتِ فقیر ایساجامع بیان اس تحریر کے غیرمیں نہ ملے گا بلکہ زیادات درکنار اتنے منصوصات کااستخراج بھی سہل نہ ہوسکے گا۔
وللّٰہ الحمد اولا واٰخرا÷ وبہ التوفیق باطنا وظاھرا÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی وسلم علٰی حبیبہ واٰلہ وصحبہ متوافرامتکاثرا÷ اٰمین÷
اور ساری خوبیاں اوّلاً وآخراً خدا ہی کے لیے ہیں اور اسی سے باطناً وظاہراً توفیق ارزانی بھی ہے۔ خدائے تعالٰی کاکثیر ووافر درودوسلام ہو اس کے حبیب، ان کی آل اور ان کے اصحاب پر۔ الٰہی قبول فرما۔(ت)
مقام چہارم (بعض اختلافی چیزوں کی بحث) ذکر بعض اخلاقیات مع ترجیحات وتوفیقات تتمیما للافادات (تاکہ افادات کی تکمیل ہوجائے۔ت) ارض نَدِیّہ یعنی ترزمین۔ ۱۔بدائع، ۲۔خانیہ، ۳۔خلاصہ، ۴۔بزازیہ، ۵۔خزانۃ المفتین، ۶۔ولوالجیہ، ۷۔درایہ، ۸۔شلبیہ، ۹۔جوہرہ، ۱۰۔منیہ، ۱۱۔ہندیہ میں اس سے جواز کی تصریح ہے وذکرہ ابن الشلبی عن الکا کی عن الولوالجی عن الامام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (اسے ابن شلجی نے کاکی سے، انہوں نے ولوالجی سے، انہوں نے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیان کیاہے۔ت)
اقول: وانما خصہ بالذکر لتصویرہ بما اذالم یتعلق بیدہ شیئ فیأتی فیہ خلاف الامام الثالث ایضا کالثانی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم جمیعا ووقع فی شرح النقایۃ للبرجندی یجوز بالارض الندیۃ من غیرطین وھذا عندابی حنیفۃ وعندھما لایجوز ۱۱ھ۔
اقول:اورخاص طور سے اسی کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس کی صورت یہ فرض کی ہے کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہ چپکے۔ اس صورت میں امام ثانی (ابویوسف) کی طرح امام ثالث (محمد) کابھی اختلاف ہوگا رضی اللہ تعالٰی عنہم جمیعا ۔ اور برجندی نے شرح نقایہ میں یہ لکھ دیا ہے کہ"بغیر کیچڑ والی تر زمین سے تیمم جائز ہے ۔یہ حکم امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہے ،اور صاحبین کے نزدیک ناجائز ہے "اھ۔(ت)
(۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشور بالسرور ۱/۴۷)
اقول اولاً(۱): بنی علی الضعیف من عدم الجواز بالطین ویأتی۔
اقول اولاً :یہ قول ضعیف۔ کیچڑ سے عدمِ جوازِ تیمم پر۔ مبنی ہے۔
وثانیاً :لاوجہ (۲) بخلاف محمد مطلقا فقد قال ملک العلماء فی البدائع لوتیمّم بہ اجزأہ عند ابی حنیفۃ و محمد لان الطین من اجزاء الارض ومافیہ من الماء مستھلک عہ وھو یلتزق بالیدفان خاف ذھاب الوقت تیمّم و صلی عندھما وعلی قیاس قول ابی یوسف یصلی بغیر تیمّم بالایماء ثمّ یعید اذا قدر علی الماء اوالتراب کالمحبوس (۳) فی المخرج اذالم یجد ماء ولاتراب نظیفا ۲؎ اھ ۔
ثانیاً :اس مسئلہ میں امام محمد کااختلاف مطلقاً ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ملک العلماء نے بدائع میں یہ تحریر فرمایا ہے: ''اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ و امام محمد کے نزدیک کافی ہوگا اس لیے کہ کیچڑ اجزائے زمین میں سے ہے۔ اور اس میں جوپانی ہے مٹّی میں فنا شدہ ہے اور وہ ہاتھ سے چپکتی ہے۔ تواگر وقت نکلنے کااندیشہ ہوطرفین کے نزدیک کیچڑ سے تیمم کرکے نماز اداکرلے اور امام ابویوسف کے قیاس پریہ حکم ہوگا کہ بغیر تیمم کے اشارہ سے نماز کی صورت اداکرلے پھر جب پانی یامٹّی پرقدرت پائے تواعادہ کرلے۔ جیسے اس شخص کاحکم ہے جوبیت الخلاء میں قید کر یاگیاہو اور اسے نہ پانی دستیاب ہونہ صاف مٹّی''۔۱ھ۔
عہ: ای الطین اضافہ تتمیما للشریطۃ علی قول محمد ۱۲ منہ غفرلہ (م) یعنی کیچڑ __ ہاتھ سے چپکنے کی بات امام محمد کے قول پر شرط کی تکمیل کے لیے بڑھائی ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۲؎ بدائع الصنائع بیان مایجوزبہ التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۵۴)
نعم عنہ روایۃ اخری قال فی الحلیۃ بعد نقل مافی البدائع ماذکرہ عن محمد من جواز التیمّم بالطین احدی الروایتین عنہ کما ھوظاھر الخلاصۃ وقد صرح فی النھایۃ بان فی احد الروایتین عن محمد لایجوز التیمم بالطین۱؎۱ھ۔
ہاں امام محمد سے ایک اور روایت بھی آئی ہے۔ حلیہ میں بدائع کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے ''کیچڑ سے جواز تیمم کاحکم جو امام محمد سے نقل کیاہے وہ ان سے نقل شدہ ایک روایت ہے جیسا کہ خلاصہ کی ظاہرعبارت سے معلوم ہوتاہے اور نہایہ میں تو اس بات کی صراحت موجود ہے کہ امام محمد سے ایک روایت یہ آئی ہے کہ کیچڑ سے تیمم جائز نہیں۔۱ھ۔(ت)
(۱؎ حلیہ)