جبسین وہی گچ ہے اور یہ حقیقت میں وہ ابرک ہے جو ابھی پکّی نہ ہو اور کہاگیا یہ پارہ ہے جس پرزمینی اجزا کا غلبہ ہوا توپتھر بن گیا۔(ت)
(۴؎ تذکرہ داؤد انطاکی، حرف الجیم، دار الكتب العلمیہ، بیروت ۱/۱۰۳ )
اور گچ سے جوازتیمم عامہ کتب متون وشروح وفتاوٰی میں منصوص اور خود محرر مذہب نے اس پرنص فرمایا تو ابرک سے بھی جوازلازم۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مقام سوم: وہ بعض اشیاءجن سے ہمار ے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک تیمم صحیح نہیں۔ ظاہر ہے کہ اشیائے معدودہ کہ جنس ارض ہیں ان کے سوا دنیا کی تمام چیزین ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقابل تیمم ہیں تو ان کاشمار نامقدور مگرہم یہاں بدستور ان کاذکر کریں جن پرکتب میں نص اس وقت پیش نظر۔ عام ازیں کہ اُن میں کوئی محلِ خفا ہو یانہ ہو جیسے علما نے نص فرمایا ہے کہ گھاس لکڑی مہندی برف سے تیمم باطل ہے اس پر بعض عوام کہیں گے علما نے ایسی چیزیں کیوں گنائیں ان سے تیمم نہ ہوسکنا ہرشخص جانتاہے یہ اُن کی غلط فہمی ہے ہر شخص اگرجانتا بھی ہے تویوں ہی کہ علما ئے کرام افادہ فرماگئے ورنہ کیا اپنے گھر سے جان لیتا اقول بلکہ یہ اب تمہارے لیے ظاہر ہیں ورنہ ان میں وہ خفا ہے کہ بعض ائمہ مجتہدین پر اُن کاناقابل ہونا ظاہر نہ ہوا مقدمہ عشماویہ اور اس کی شرح الاحمدبن تركی المالکی میں ہے :
(فرائضہ اربعۃ) رابعھا (الصعید الطاھر وھو کل ماصعد علی وجہ الارض) ای من جنسھا من ثلج اوخضخاص اومعدن غیر نقدوجوھر الا ان لایجد غیرھما۱؎۔
تیمم کے فرائض چار ہیں۔ چوتھا فرض، پاک صعید۔ اور یہ ہروہ چیز ہے جوروئے زمین پرچڑھی ہوئی ہے۔ یعنی جنس زمین سے ہو جیسے برف یاخضخاص یانقد (سونے چاندی) اور موتی کے علاوہ کوئی دھات مگر یہ کہ ان دونوں کے سواکچھ نہ ملے۔(ت)
(۱؎ مقدمہ عشماویہ شرح احمدبن کمال ترکی المالکی)
حاشیہ یوسف سفطی مالکی میں ہے: قولہ من ثلج ومثلہ الماء الجامد والجلید وکذا یتیمّم علی الملح ولوکان مصنوعا من حلفاء اومن اراک والمعتمد انہ یجوز التیمّم علی الخشب وعلی الزرع وعلی الحشیش بشروط ثلثۃ اذا لم یجد غیر ذلک وضاق الوقت ولم یمکن قلعہ فمن کان علی شجرۃ او مرکب ولم یمکن قلعہ فمن کان علی شجرۃ او مرکب ولم یجد ماء ولا ترابا یتیمّم علی الخشب ھذا ھو المعتمد۲؎ ۔
ان کی عبارت ''من ثلج'' ۔ برف، اس کے مثل جماہوا پانی اور پالابھی ہے۔اسی طرح نمک پربھی تیمم کرسکتا ہے اگرچہ حلفاء یااراک سے بناہوا ہو اور معتمد یہ ہے کہ لکڑی پر، کھیتی پر اور گھاس پر تین شرطوں سے تیمم جائز ہے: (۱) جب دوسری چیز نہ ملے۔ (۲) اور وقت تنگ ہو۔ (۳) اور اسے اکھاڑنا ممکن نہ ہو تو جوشخص کسی درخت یاسواری پرہو اور اسے نہ پانی ملے نہ مٹّی تو وہ لکڑی پرتیمم کرلے گا۔ یہی معتمد ہے۔(ت)
( ۲؎ حاشیہ یوسف سفطی)
پھرمزیدات لکھیں اور ان میں غالباً محلِ خفا وشبہ وافادہ تازہ کالحاظ رکھیں۔ وباللہ التوفیق۔
عہ: ذکروا الرصاص (۱) وقال فی الانوار الرصاص ھو الاسرب وفی التذکرۃ الاسرب ھو المراد اذا اطلق ھذالاسم والقلعی یخص باسم القصدیر ۱ ۱ھ وھو مدلول کلام جالینوس المنقول فی رصاص من الجامع وعکس فی التحفۃ والمخزن فقالا ازمطلق اومراد قلعی ست ورصاص ابیض نامند وبفارسی ار زیز ۲ ۱ھ ۔
فقہا نے''رصاص'' ذکر کیا ہے۔ انوار میں لکھا ہے: رصاص یہ اسرب ہے ۔ اور تذکرہ میں ہے: تو اسرب ہی مراد ہوگا جب یہ نام بولاجائے اور قصدیر کے نام کے ساتھ قلعی مخصوص ہے ۱ھ۔ اور یہی جالینوس کے کلام کابھی مدلول ہے جوجامع میں ''رصاص'' کے تحت منقول ہے۔ اور تحفہ و مخزن میں اس کے برعکس بتایا۔ دونوں میں یوں لکھا ہے: مطلق سے مراد قلعی ہے اور اسے رصاص ابیض کہتے ہیں اور فارسی میں ارزیز کہتے ہیں ۱ھ۔
(۱؎تذکرۃ اولی الالباب تحت لفظ رصاص مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۶۷ )
(۲؎تحفۃ المؤمنین علی ہامش مخزن الادویۃ تحت لفظ رصاص نولکشور کانپور ص ۳۰۳ )
زادالمخزن وبہندیرانگا واز مقید باسود اسرب کہ بہندی سیسانامند ۱۱ھ وجعلہ الغافقی شاملا لھما فقال کما فی الجامع ھو ضربان الاسود وھو الاسرب والاٰنک ولاخر الرصاص القلعی وھو القصدیر ۲ ۱ھ و بہٰذا جزم فی القاموس واقرہ فی التاج العروس فلذا حملنا علیہ کلام العلماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مخزن میں مزید یہ بھی ہے: اور ہندی میں رانگاکہتے ہیں اور اسود سے مقید ہوتو اسرب مراد ہوتاہے جسے ہندی میں سیسا کہتے ہیں ۱ھ۔ اور غافقی نے لفظ رصاص میں دونوں (رانگا اور سیسا) کوشامل قراردیا۔ لکھا ہے جیسا کہ جامع میں ہے اس کی دو قسمیں ہیں: سیاہ یہ اسرب اور آنک (رانگ اور سیسا) ہے، دوسری قسم رصاص قلعی، یہ قصدیر ہے ۱ھ۔ اسی پرقاموس میں جزم کیا اور تاج العروس میں بھی اسے برقرار رکھا۔ اسی لیے ہم نے علما کے کلام کو اسی پرمحمول کیا ۱۲ منہ۔ غفرلہ (ت)
(۱ مخزن الادویۃ رصاص کے تحت ص ۳۰۹) (۲ تاج العروس ۴/ ۳۹۷ )
(۲۴) صفر کہ عہ۱ معدنی زرد تانبا پیتل کے مشابہ ہے آنچ سے سیاہ نہیں پڑتا
السبعۃ الاول تحفہ ایضاح معادن فتح بحر تنویر
اس سے یہی سات جسم منطبع بالنار مراد ہیں جن کو اجساد (۱) سبعہ یامنطرقات، ہفت فلزات، سات دھات کہتےہیں۔
عہ۱:فی التذکرۃ (صفر) النحاس۳؎ ۱ھ و فی القاموس من النحاس۴؎ ۱ھ وفی التاج وقیل ماصفر منہ ورجحہ شیخنا لمناسبۃ التسمیۃ ۵؎۱ھ وماقلتہ مذکور فی التحفۃ و المخزن فی طالیقون۔اقول وھو الاقرب وکلام القاموس لاینافیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تذکرہ میں ہے صُفر: نحاس (تانبا) ۱ھ۔ قاموس میں ہے : من النحاس ۱ھ (تانبے کی ایک قسم ہے)۔ تاج العروس میں ہے: اور کہاگیا صفر تانبے کی وہ قسم ہے جوزرد ہو۔ اسی کو ہمارے شیخ نے مناسبت قسمیہ کے باعث ترجیح دی ہے۱ھ۔ اور میں نے جولکھا وہ تحفہ اور مخزن میں طالیقون کے تحت مذکور ہے۔ اقول اور یہی اقرب ہے اور قاموس کی عبارت اس کے منافی نہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
ان میں چھ۶ یہی کہ گزرے صُفرتانبے ہی میں داخل ہے اور ساتوں شبہہ معدنی جسے خار صینی اور روحِ توتیا یارُوئے توتیاکہتے ہیں یعنی عہ۲ (۲۵)جست ، (۲۶)موتی خانیہ خلاصہ ظھیریہ خزانہ فتح خزانۃ الفتاوی جامع الرموز۔ اگرچہ (۲۷) غبارے سے پسے ہوئے ہوں محیط سرخسی بدائع مجمع الانھر دُر خادمی ھندیہ۔
عہ۲:فی المخزن تحت طالیقون اجساد سبعہ طلانقرہ مس آہن سرب قلعی روحِ توتیا۱ھ و فی فھرست روئے توتیا شبہ و مشہور بروح توتیا۱ھ وقال فی شبہ بفارسی روئے توتیا وبہندی جست۔ آب دران سردمیگردد واوانی خالص آن شکنندہ می باشد ۱ھ۔ مخزن میں طالیقون کے تحت ہے۔ ساتوں اجسام سونا، چاندی، تانبا، لوہا، سیسا، رانگ،روح توتیا۱ھ اور اس کی فہرست میں ہے روئے توتیا شبہ ہے اور روحِ توتیا سے مشہور ہے۱ھ۔ اور شبہ کے تحت لکھا ہے: فارسی میں روئے توتیا اور ہندی میں جست۔ پانی اس میں سرد ہوجاتاہے اور خالص جست کابرتن ٹوٹنے والاہوتاہے۱ھ۔
وفی التحفۃ خاصیت اوست کہ ہرگاہ آب رادرظرف دہن تنگے ازان کردہ درظرف دہن بازے قدرے شورہ ریختہ ظرف آب را دران حرکت معتدل دہند آب رابغایت سردمے کند ومعمول اہل ہنداست ۱ھ۔
اور تحفہ میں ہے: اس کی خاصیت یہ ہے کہ جست کا ایک برتن تنگ منہ والا لے کر اس میں پانی رکھیں اور ایک کشادہ منہ والا برتن لے کر اس میں تھوڑا شورہ ڈالیں پھرپانی والا برتن اس میں رکھ کر معتدل حرکت دین پانی انتہائی سرد ہوجائے گا یہ طریقہ اہل ہند کے یہاں رائج ہے۱ھ۔
تذکرہ میں شبۃ بالتانیث اس مشہوردھات کو کہتے ہیں جواب روح توتیا سے مشہور ہے اور اسے خارصینی بھی کہاجاتاہے ۱ھ۔ اقول صاحب تذکرہ کااسے تائے تانیث کے ساتھ بتانا خطا ہے اس لیے کہ قاموس کے باب الہاء میں یہ درج ہے: شبہ وشبھان۔ دونوں لفظ (ش و ب پر) حرکت کے ساتھ۔ زردتانبااور اس پرکسرہ بھی استعمال ہوتاہے۱ھ۔ ۱۲منہ غفرلہ۔(ت)
اقول: وما فی الشلبیۃ عن الدرایۃ لایجوز باللؤلؤ المدقوق فلیس بتقیید بل تنصیص بالاخفی لان ماکان من اجزاء الارض یجیزہ محمد ان کان مدقوقا والالافافادان ھذالایفیدہ الدق لما قال بعدہ لانہ یتولد من الحیوان ولیس من اجزاء الارض۱؎۔
اقول: شلبیہ میں درایہ کے حوالہ سے لکھا ہے: لایجوز باللؤلؤالمدقوق (پسے ہوئے موتی سے تیمم جائزنہیں) اس عبارت میں "پسے ہوئے" کالفظ تقیید کے طور پر نہیں (جس سے یہ سمجھاجائے کہ پسا ہو انہ ہو تو اس سے تیمم ہوسکتاہے) بلکہ یہ اخفی کی تنصیص وتوضیح کے لئے ہے۔ اس لیے کہ جنس زمین کی چیز پسی ہوئی ہو تو امام محمداس سے تیمم جائز کہتے ہیں ورنہ نہیں۔اس لیے (موتی کے ساتھ ''پسے ہوئے'' کالفظ بڑھاكر) یہ افادہ فرمایا کہ موتی کو پیسنابھی کار آمد نہیں بناسکتا۔کیونکہ اس کے بعد فرمایا ہے اس لیے کہ وہ حیوان سے پیداہوتاہے اور اجزائے زمین سے نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ حاشیہ شلبیۃ مع التبیین باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱/ ۳۹)
(۲۸) مرجان فتح منح دُر خادمی۔ یعنی چھوٹے موتی کہ ان کوبھی مرجان کہتے ہیں مقدسی ش۔(۲۹) سانبھر (۳۰) ہرنمک کہ پانی سے بناہو ویأتی (آگے بھی بیان آئے گا۔)(۳۱) مشک (۳۲) عنبر (۳۳) کافور ظھیریہ خزانہ ہندیہ خزانۃ الفتاوی حلیہ(۳۴) زعفران (۳۵) سُک کہ ایک قسم خوشبو ہے الاولان (پہلی دونوں۔ ظہیریہ، خزانہ۔ت)(۳۶) زاج۔ کسیس(۱) پھٹکڑی عہ کے سوا اور جنس ہے کسیس کہ زرد ہے اور (۳۷) ہیراکسیس سبزاور (۳۸) سیاہ کسیس کے اسی کے اقسام ہیں۔
عہ :اور جس(۲) نے پھٹکڑی کوزاج سمجھا جیسا کہ تحفہ ومخزن میں خود اپنے بیانوں کے خلاف لکھایوں ہی زکریارازی کا کلام اُس میں مضطرب ہے اس نے غلطی کی جس کی تفصیل انوارالاسرارمیں ہے۔(م)
(۳۹) مردار سنگ مصنوع الاخیران وجامع الرموز(آخری دونوں۔ خزانۃ الفتاوی، حلیہ(ت) وجامع الرموز)(۴۰) پارا درایہ شلبیہ۔
(۴۱) مصنوع شیشہ کہ ریتے میں دوسری چیزملاکر بناتے ہیں جیسے سجی محیط تبیین فتح بحر مجمع الانھرش۔ تقدم کلھا (ان سب کاذکر پہلے آچکا ہے۔ت)(۴۲) راکھ یعنی لکڑی وغیرہ غیرجنس ارض کی جس کی تحقیق گزری۔ (۴۳) نمک زار زمین جس کانمک پانی سے بناہو۔ وستأتی الثلٰثۃ ان شاء عزوجل (ان تینوں کاذکر آگے بھی آئے گا اگر خدائے عزیز وجلیل نے چاہا۔ت)(۴۴) نمک زار جس کانمک مٹّی سے ہو مگر اس کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے
ذکر الاسبیجابی فی شرحہ یجوز التیمّم بالسبخۃ۱؎ منیۃ بناء علی الغالب وھو عدم الغرق بالنز ۲؎ غنیہ
(اسبیجابی نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے: نمک زار سے تیمم جائز ہے۔ منیہ۔ اس بنیاد پرکہ اکثریہی ہوتاہے کہ زمین سے پھوٹنے والی تری سے مٹّی ڈوب نہیں جاتی۔غنیہ۔ت)