(۱۰۹) سیل کھری اس س دیوار پر سفید چمکدار چکنی قلعی ہوتی ہے اگرچہ تھوڑا دودھ بھی ملاتے ہیں۔ مگروہ قلیل ہے اور اعتبارغالب کا کما تقدم (جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ت)
(۱۱۰) گٹی کہ عمارت کے کام کاچوناہے۔
(۱۱۱) کالا چونا یہ بھی کارِ عمارت میں آتاہے او رکوئلہ مغلوب۔
(۱۱۲) گٹّا ، پکّی اینٹ توڑ کر کالاچُونا اور گٹّی ملاتے ہیں۔
(۱۱۳) صندلہ گٹّی اور سرخی ملاکر۔
(۱۱۴) قلعی کاسفیدہ جس سے دیوار پرسفیدی ہوتی ہے معدنی پتھر ہے عربی اسفیداج الجصاصین۔
(۱۱۵) کہگل کی دیوار لان التبن قلیل مستھلک (اس لئے کہ اس میں بھُس تھوڑا اور فناہوتاہے۔ت)
(۱۱۶) یونہی جس درودیوار یاچھت پرصندلہ یاسیمنٹ ۱۱۷ پھراہو۔
(۱۱۸) جس درودیوار پر بالوتَرہو۔
(۱۱۹) جن پربادامی، (۱۲۰) لاکھی، (۱۲۱) سرخ، (۱۲۲) سبز، (۱۲۳) زرد، (۱۲۴) دھانی، (۱۲۵) آسمانی، (۱۲۶) کتھی، (۱۲۷) زنگاری، (۱۲۸) خاکی، (۱۲۹)فاختی، (۱۳۰)پیازی، (۱۳۱)فیروزی رنگتیں ہوں کہ اگرچہ سرخ میں شنجرف، سبز میں مصنوع توتیاآم کی چھال بکائن کے پتّے، زرد میں کبھی ملتانی کے سواٹیسو کے پھول، دھانی میں کبھی سبزگل کے سوا وہی توتیا چھال، آسمانی میں کوئلہ ، مصنوع لاجورد، کتھی میں ببول کی چھال، زنگاری میں سبزتوتیا، خاکی میں کوئلہ، فاختی میں لاجورد وپیازی میں پیوڑی، فیروزی میں توتیا وغیرہ وغیرہ اشیائے غیر کی آمیزش ہے مگربہرصورت اصل گٹی ہے اسی کاحصہ کثیروغالب اور اُن کاخلط اس میں رنگت لانے کے لئے ہوتاہے۔
(۱۳۲) پکّی قبر کہ وہاں ظنِ نجاست نہیں۔
(۱۳۳) سنگِ مرمر
(۱۳۴) سنگِ موسٰی
(۱۳۵) سنگِ سپید
(۱۳۶) سنگِ سرخ
(۱۳۷) چُوکا، گہراسبز
(۱۳۸) سنگِ ستارہ سرخی مائل بہت چمکدار ذرّے ذرّے نمایاں۔
(۱۳۹) گؤونتی سپید نیلگوں جھلکدار، اس کے نگینے بھی بنتے ہیں۔
(۱۴۰) حجرالیہود و(۱۴۱) مقناطیس، (۱۴۲)سنگِ سماق جس کے کھرل مشہورہیں۔
(۱۴۳)سان، (۱۴۴)سلی، (۱۴۵)کرنڈ، (۱۴۶)کسولی، (۱۴۷)چقماق، (۱۴۸)ریل کا کوئلہ کہ پتھر ہے۔ (۱۴۹) سلیٹ،(۱۵۰)ترکستان کا وہ پتھر کہ لکڑی ساجلتاہے۔
(۱۵۱) شام شریف کاوہ پتھر کہ آگ میں ڈالے سے لپٹ دیتاہے۔
(۱۵۲) صِقلَبَّہ کاوہ پتھر کہ گرم پانی سے مشتعل ہوتا اور تیل سے بجھتاہے۔
(۱۵۳) حجرالفتیلہ جس کی بتّی بناکر جلاتے ہیں ان چاروں پتھروں کابیان اوپرگزراہے۔
(۱۵۴) بلورمعدنی پتھر ہے ولاینافیہ مامر من ظن ارسطو انہ من انواع الزجاج المعدنی
(اور ارسطو کاخیال جوبیان ہوا کہ ''وہ معدنی زجاج کے اقسام سے ہے'' اس کے منافی نہیں۔ت)
(۱۵۵) سنگِ جراحت اور وہ (۱۵۶) لاجورد، (۱۵۷) زہرمہرہ، (۱۵۸)مہرہ مارکہ معدنی ہوں۔
(۱۵۹) دریائی توتیا کہ پتھر ہے امین الدولہ نوشتہ کہ توتیا بحری نیز باشدوآں سنگہائے سفید مستدیر شبیہ بسنگریزہ است، مخزن۱؎
(امین الدولہ نے لکھا ہے کہ توتیا بحری بھی ہوتاہے، یہ سفید، گول سنگریزہ کے مشابہ پتھر ہوتے ہیں۔ مخزن۔ت)
(۱؎ مخزن الادویۃ فصل التاء مع الواو مطبوعہ نولکشور کانپور ص۱۹۰)
(۱۶۰) الماس یعنی ہیرا (۱۶۱) لعل (۱۶۲) نیلم
(۱۶۳) پکھراج
(۱۶۴) یشب
(۱۶۵) گئوسیدک چمکدر جواہرسے ہے زرد سرخی مائل نورتن عہ ۱ میں داخل۔
عہ ۱ : اس میں آٹھ پتھر ہیں: یاقوت، پنّایعنی زمرد، نیلم، پکھراج، لہسنیا، مونگا، ہیرا، گئو سیندک اور نواں موتی۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)
(۱۶۶) سنگِ شجری، درخت کی اسی جھلک نظرآتی ہے۔ زیور میں جڑاجاتاہے۔
(۱۶۷) سنگِ سنہرا مشابہ پکھراج مگرااس سے ہلکا۔ یہ بھی جڑائی میں کام آتاہے۔
(۱۶۸) بُسَدّ کہ مستقل پتھر ہے یابیخ مرجان۔ بہرحال قابل تیمم ہے۔
(۱۶۹) دَہنج یعنی دَہنَہ فِرِنْدی جسے لوگ دہن فرنگ بولتے ہیں۔
(۱۷۰) عینُ الہِر یعنی لہسنیا۔
(۱۷۱) جزع یعنی مہرہ یمانی۔
(۱۷۲) دانہ سلیمانی۔
(۱۷۳) سبز، (۱۷۴)خاکی، (۱۷۵)سنہری ہرتال۔
زرنیخ سات قسم ہوتی ہے چارقسمیں حلیہ وغنیہ سے گزریں تکمیل عہ۲ کے لئے ہم نے انہیں اضافہ کیا ورنہ اس طرح اقسام گنی جائیں توشمار بہت ہومثلاً کبریت بھی زرد، سرخ، سیاہ، سفید، زردمائل، سبزی مائل بکبووی، پچرنگی متعدد اقسام کی ہوتی ہے۔ اور درزی کی بٹیا شمار فرمائی۔
عہ۲: شاید حلیہ و غنیہ نے ہڑتال کی سبز قسم اس لئے ترک فرمائی کہ کمیاب ہے۔ تذکرہ میں ہے: (زرنیخ) خمسۃ اصناف اصفر وھواشرفہا واحمریلیہ فی الشرف وابیج یسمی زرنیخ والنورۃ ودواء الشعر وھذا اوطی الانوع واخضر اقلہا وجودا ونفعا واسود اشدھا حدۃ واکثرھا کبریتیۃ ۱؎ اھ۔
ہڑتال کی پانچ قسمیں ہیں: (۱) زرد۔ یہ ساری قسموں سے بہتر ہوتی ہے۔ (۲) سرخ۔ عمدگی میں اسی کے قریب ہوتی ہے۔ (۳) سفید۔ اسے زرنیخ، نورہ اور بال کی دوابھی کہاجاتاہے اور یہ سب سے زیادہ پامال قسم ہے۔ (۴) سبز۔ یہ سب سے کم یاب اور کم نفع ہے۔ (۵) سیاہ ۔ یہ حدّت میں سب سے شدید اور کبیریتیت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۱ھ(ت)
(۱؎ تذکرہ اولی الالباب حرف الزاء زرنیخ کے تحت مذکور ہے۔ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۷۸)
اقول: سبز قسم کے بارے میں جوبتایا یہ معہود کے برخلاف ہے اس لئے کہ معہودیہ ہے کہ جوچیز زیادہ نفع بخش ہوتی ہے وہ کم یاب ہوتی ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مشہور یہی پانچ قسمیں ہیں اور خاکی او رسنہری ابن البیطار نے کتاب الاحجارسے نقل کیں۔(م)
(۱۷۶) توسِل (۱۷۷) بٹا
(۱۷۸) چکّی کے پاٹ (۱۷۹) تولنے کے باٹ کہ پتھر کے ہوں۔
(۱۸۰) کھرل کیوں نہ معدود ہوں۔
اقول: مگریہاں ایک دقیقہ ہے جس کاذکر کتب میں نظر سے نہ گزرا بعض (۱) پتھر پیدائشی یا ان میں دانت پیدا کرنے سے ایک سمت میں ایسے کھدڑے ناہموار ہوتے ہیں کہ ان پرکفدست کی ضرب سے ہتھیلی کی پوری سطح پتھر سے مس نہ کرے گی اس صورت میں اگر اکثر کف کو مس نہ ہو ا تیمم صحیح نہ ہوگا لہٰذا قبال وادبار جن کاذکر حواشی میں گزرا یعنی ہاتھ جنسِ ارض پرملنا آگے لے جانا پیچھے لانا کہ سنّت تھا یہان فرض ہوگا کہ تمام کف یاکم ازکم اکثر کو پتھر سے مس ہوجائے، یہی حکم کنکریاں ناہموار زمین وغیرہ میں ملحوظ رہنالازم۔
ثم اقول: وہ حکم کہ ان شاء اللہ الکریم آگے آتا ہے کہ چہرہ وہردودست کو اکثر کف سے مسح کرنا ضرور ہے یہاں (۲) اگرجنس ارض پرخود اکثرکف ہی کامسح ہوا تولازم ہوگا کہ یہ اکثر تمام وکمال یا اس کااتنا حصہ جس پراکثر صادق آئے چہرہ ہردودست سے مس کرے ورنہ اگرکف سے مسح کیا اور وہ اس حصے سے مل کر اکثر کف ہے جس نے جنسِ ارض سے مس نہ کیاتھا توتیمم نہ ہوگا۔
ثم اقول: وہ جوگزرا(۳) کہ کف دست کے لیے جنس ارض پرضرب ہی بس ہے انہیں دوبارہ مسح نہ کرے اس حالت میں ہے کہ پورے کف دست کاجنس ارض سے مس ہوگیا ہو ورنہ اگراکثر کامس ہوا اور اسی اکثر سے چہرہ دہردودست کو مسح کیا تویہ مسح اُن کے لیے کافی سہی خود کفدست کے جو بعض حصّے باقی رہ گئے استیعاب نہ ہوا تیمم نہ ہوا لہٰذا اس صورت میں لازم ہے کہ ہتھیلیوں پربھی ہاتھ پیرے۔
وھذا کلہ وان لم ارہ صحیح واضح ان شاء اللہ تعالٰی فاحفظ تحفظ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
یہ سب اگرچہ میری نظر سے نہ گزرا مگران شاء اللہ تعالٰی صحیح وواضح ہے تو اسے یاد رکھو محفوظ رہو گے اور خدائے تعالٰی خوب جاننے والا ہے۔(ت)
(۱۸۱) ابرک عہ بھی حسبِ (۴) تصریح اہل فن پتھر ہے توضرور کہ اس سے بھی تیمم جائز ہو۔
عہ : یہ لفظ اردو میں یونہی کاف سے ہے فقیر کی رائے میں ممکن کہ اصل ابرق قاف سے ہو براقت سے ماخوذ یعنی نہایت جچمکدار جس طرح فارسی میں ابلق کو ابلک کہتے ہیں۔۱۲منہ غفرلہ (م)
انوارالاسرارمیں ہے: حجر الطلق حجر براق مؤلف من ورقات ۱ ؎الخ (ابرک کاپتھر ایک چمکدار پتھرہوتاہے جو چندورقوں سے ملاہواہوتاہے۔ت)
( ۱؎ انوارالاسرار)
جامع ابن بیطارمیں محمد بن عبدون سے ہے :(طلق) حجر براق یتحلل اذادق الی طاقات صغار دقاق۲؎۔
طلق (برک) ایک بہت چمکدار پتھرہوتاہے جب اسے کُوٹاجاتاہے توچھوٹی چھوٹی باریک تہوں میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ (ت)
(۲؎ جامع ابن بیطار)
اسی میں دیسقوریدوس سے ہے: الطلق حجریکون بقبرس شبیہ بالشب الیمانی یتشظی وتتفسخ شظایاہ فسخا و یلقی ذلک الفسخ فی النار ویلتھب ویخرج وھو متقدالاانہ لایتحرق۳؎۔
طلق،قبرس میں شب یمانی کے مشابہ ایک پتھرہوتاہے جو تہوں میں چاک ہوجاتاہے اور اس کی تہیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں اس ٹکڑے کو آگ میں ڈالاجاتاہے اور بھڑک اٹھتاہے اور روشن ہوکرنکلتاہے مگر وہ جلتانہیں ہے۔(ت)
(۳؎ جامع ابن بیطار)
تذکرہ انطاکی میں ہے : ھوزئبق خالطہ اجزاء ارضیۃ وتغلب علیہ الیبس فتلبد طبقات انعقدت بالبرد۴؎۔
وہ پارہ ہے جس سے زمینی اجزاء مل گئے ہیں اور اس پر خشکی غالب کرکے ایسی تہوں میں جمادیا ہے جوٹھنڈک کی وجہ سے بندھ گئی ہیں۔(ت)
(۴؎ تذکرہ داؤد انطاکی حرف الطاء مصطفی البابی مصر ۱ /۲۳۳)
مخزن میں ہے: ماہیت آں جسمے معدنی ست متکون از زیبق خالص وکبریت قلیلے غالب براں ارضیت ویبس ۔ گفتہ اند دوصفت مے باشد یکے صفائحی ورق ورق میگردد دوم مانند سنگ جص۵؎۔
اس کی ماہیت ایک معدنی جسم ہے۔ خالص پارہ اور تھوڑی کبریت سے بنتاہے اس پرارضیت اور خشکی غالب ہوتی ہے۔ کہاگیا ہے کہ وہ دوقسم کاہوتاہے ایک صفائحی جوورق ورق ہوجاتاہے دوسری قسم گچ کے پتھر کی طرح ہوتی ہے۔(ت)
(۵؎ مخزن الادویہ فصل الطاء مع اللام مطبوعہ نولکشورکانپور ص ۴۰۹)
بلکہ سنگ گچ اسی کی ایک قسم ہے۔ جامع میں زکریارازی کی کتاب علل المعادن سے ہے: