Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
145 - 166
اس سے مظنون ہوتاہے کہ لعل کوکہتے ہوں کہ نسبت بدخشان سے لعل ہی مشہور ہے مگرانوارالاسرار میں اس کاتذکرہ نظرآیا اس میں لکھا:
البلخش حجربناحیۃ المشرق فی معادن الذھب لونہ لون الیاقوت الاحمر وھو اشف من الیاقوت ۱؎۔
  بلخش اطراف مشرق میں سونے کی کانوں میں ایک پتھر ہوتاہے جوسرخ یاقوت کے رنگ کا اور یاقوت سے زیادہ شفاف ہوتا ہے۔(ت)
( ۱؎ انوارالاسرار)
اس میں اتنی بات کہ سرخ رنگ ہے اور یاقوت سے زیادہ شفاف لعل پرصادق ہے مگر سونے کی کان مین پیداہونا ظاہراً اس کے خلاف ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۵۸) عقیق الثمانیۃ الاالتبیین خانیۃ خلاصۃ خزانۃ غنیۃ مراقی
 (آٹھوں کتابیں سوائے تبیین کے، خانیہ، خلاصہ، خزانہ، غنیہ، مراقی۔ت)
 (۵۹) مرجان یعنی مونگا علی مافی عامۃ الکتب ویأتی
 (جیسا کہ عامہ کتب میں ہے اور آگے بھی اس کا ذکر آئے گا۔ت)
 (۶۰) سُرمہ اصل قدوری ہدایۃ ملتقی والعامۃ۔ اقول مگرپِسے ہوئے سے بے ضرورت صنع ہے اگرچہرے پردھبّہ دے
لانہ من المثلۃ کما یأتی فی الطین
 (اس لئے کہ یہ مُثلہ میں شمار ہے جیسا کہ مٹّی کے بارے میں آرہاہے۔ت)
(۶۱) اِثمِد یعنی اصفہانی سرمہ سیاہ وسرخ ہوتاہے، حدیث میں ا س کی تعریف فرمائی ۔ اصل، نوازل، خانیہ، خلاصہ، خزانہ۔
 (۶۲) کبریت گندھک مرّ عن ثمانیۃ کتب
 (آٹھ کتابوں کے حوالہ سے ذکر ہوا۔ت)
 (۶۳) زرنیخ ہڑتال مرّ عن ستّۃ وعشرین کتابا
 (چھبیس۲۶ کتابوں کے حوالہ سے گزرچکاہے۔ت)
زرد توکثیرالوجود ہے نیز
 (۶۴) سرخ، حلیہ، غنیہ۔

(۶۵) سپید۔ حلیہ۔

(۶۶) سیاہ۔ غنیہ۔
 (۶۷) مردارسنگ معدنی ویأتی
 (اورآگے بھی ذکرآئے گا۔ ت)
 (۶۸) تُوتیا۔ نوازل، خزانہ اقول یعنی معدنی پتھر اگرملے نہ جست کہ سونے چاندی تانبے کی طرح اجساد سبعہ میں کاایک ہے کما یأتی (جیسا کہ آرہاہے۔ت) اگرچہ  عہ  تحفہ (۱) ومخزن میں ناواقفانہ اسے معدنی توتیاکہا۔
عہ:  فرہنگ خاتمہ مخزن میں ہے: روئے توتیا شبہ است ومشہور بروح توتیاست چہ آں توتیائے غیرمصنوع ومعدنی ست چہ آں توتیائے غیرمصنوع ومعدنی ست۔

روئے توتیاجست کوکہتے ہیں اور روحِ توتیا کے نام سے مشہور ہے۔ اس لئے کہ یہ غیر مصنوع اور معدنی توتیاہے۔ت)

تحفہ میں اتنا اور ہے: بخلاف سائر اقسام توتیا کہ روئیدہ معدن نيستند۔  (بخلاف اور ساری اقسام توتیا کے کہ وہ معدن کی پیداشدہ نہیں۔ت)
اقول: یہ صحیح نہیں بلکہ صُفر کوکہ تانبے کی ایک قسم ہے فارسی میں رُو کہتے ہیں۔ تحفہ میں ہے:
رُوئے اسم فارسی طالیقون ست
(رُو، طالیقون کافارسی نام ہے۔ت) اسی میں ہے:
 طالیقون بفارسی مس رست گویند وصفرعربی۔
طالیقون کوفارسی میں مس رست کہتے ہیں اور عربی میں صُفر۔(ت)
اس سے امتیاز کے لئے جست کوروئے توتیاکہتے ہیں کہ توتیائے مصنوع جست اور رانگ سے بھی بنتاہے۔ مخزن میں ہے:
ہم چنیں از قلعی وشبہ یعنی روئے توتیا شنیدہ شد کہ بعمل آورند۔
اسی طرح سنایاگیا کہ قلعی اور شبہ یعنی روئے توتیا سے بھی بناتے ہیں۔(ت)
شبہ بفارسی روئے توتیا وبہندی جست۔
شبہ، فارسی میں روئے توتیا اور ہندی میں جست۔(ت)
جست ایک کثیرالوجود چیز ہے او ر
توتیائے معدنی معدوم یانادرالوجود۔
جامع ابن بیطار میں ہے:
فی کثیر من الاحایین قد یحتاج الی التوتیاولاتوجد۔
بسااوقات توتیا کی ضرورت پڑتی ہے اور ملتی نہیں۔(ت)
پھر وہ توتیائے معدنی کیسے ہوسکتاہے؟ بلکہ مخزن میں توسرے سے معدنی توتیاماناہی نہیں کہ
انچہ بتحقیق پیوست آنست کہ غیرمصنوع نمی باشد
 (جوکچھ تحقیق میں آیا وہ یہ ہے کہ غیرمصنوع نہیں ہوتا۔ت) ۱۲منہ غفرلہ (م)
 (۶۹) معدنی شیشہ
 (۷۰) لاہوری نمک جسے سیندھا اور ملح اندرانی کہتے ہیں ویأتیان ان شاء اللّٰہ تعالٰی (دونوں کاذکر ان شاء اللہ تعالٰی پھر آئے گا۔ت)

(۷۱) وہ نمک کہ مٹّی سے بناہو۔
اقول: دلت علیہ مسألۃ السبخۃ وجواز التيمّم بھا اذاکان ملحھا من تراب کما سیأتی اذلولم یجزبہ وھو علی وجھھا لم یجزبھا کمطلی بانٰک ومصبوغ بغیر الجنس۔
اقول: اس کی دلیل زمین شور اور اس سے جوازتیمم کامسئلہ ہے جب کہ اس کانمک مٹی سے پیداہواہو جیسا کہ آگے آرہاہے۔ اس لئے کہ اگر اس نمک سے تیمم جائز نہ ہوتا جبکہ یہ اس زمین کی سطح پرپڑارہتاہے تو اس زمین سے تیمم جائز نہ ہوگا جیسے رانگ سے قلعی کئے ہوئے اور غیرجنس زمین سے رنگے ہوئے مٹی کے برتن سے تیمم جائزنہیں۔(ت)
(۷۲) خاک جس میں اس سے کم راکھ ملی ہو۔
جوھرۃ فتح بحروتقدم عن ثمانیۃ اُخر فی النکات
(جوہرہ، فتح، بحر اور مزید آٹھ کتابوں کے حوالہ سے نکات کے تحت اس کابیان گزرچکا۔ت)
(۷۳) یونہی اگرآٹا مل گیا اور خاک زائد ہے جوھرہ۔

(۷۴) سوناکپڑا آدمی جانور جس چیز پرمٹّی یاایساغبار ہو کہ ہاتھ پھیرے سے انگلیوں کانشان بن جائے۔
فتح، بحر، در وکثیر وفی التبیین یجوز بالنقع سواء کان الغبار علی ثوبہ او علی ظھر حیوان ۱؎
(اور تبیین میں ہے کہ غبار سے تیمم جائز ہے چاہے وہ اس کے کپڑے پرہو یاکسی جانور کی پشت پرہو۔ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق     باب التیمم ،مطبعہ امیریہ بولاق مصر   ۱ /۳۹)
مزیدات (ایک سوسات۱۰۷ چیزیں کہ مصنّف نے زائد کیں)

(۷۵) خاک شفا

(۷۶) مسجد کی دیوار

(۷۷) مسجد کاکچّا خواہ پکّا فرش

(۷۸) زمین جس پرشبنم پڑی ہے۔
 (۷۹) سخت زمین جس پرمینہ برس کرپانی نگل گیا
وھما فی معنی ما یأتی من ارض  رش علیہا الماء وبقی نداہ
 (یہ دونوں اس زمین کے معنی میں ہیں جس پرپانی کاچھڑکاؤ ہوا اور تری باقی رہ گئی اس کاذکر آگے آرہاہے۔ت)
 (۸۰) گھڑا جس کے اندرپانی بھرااوپرسے بھیگا ہوا۔

(۸۱) کھریامٹّی

(۸۲) ملتانی مٹّی اور وہ پیلی مٹی کی غیر ہے جس کے بورے پیسے پیسے بکتے ہیں ان میں وہی فرق ہے جوگیرو اور سرخ مٹّی میں۔

(۸۳) گِلِ سرشوے سردھونے کی مٹّی سفیدی مائل بزروی خوشبوہوتی ہے گِلِ شیرازی وطین فارسی کہلاتی ہے۔

(۸۴) گِلِ خوردنی خالص سوندھی مٹّی خوشبو خوش ذائقہ جسے طین خراسانی کہتے ہیں۔ بعض حاملہ عورتیں اور پست طبیعت لوگ اسے کھاتے ہیں۔ طبّاً مضر اور شرعاحرام(۱) ہے مگرتیمم جائز جبکہ دوائیں ملاکر اسے مغلوب نہ کردیا ہو خالص سے ہماری یہی مراد ہے۔

(۸۵) پنڈول

(۸۶) پھوڑی مٹی کہ چکنی کے مقابل ہے لس نہیں رکھتی جلد بکھرجاتی ہے۔

(۸۷) کاٹھیاوار میں سنکر کی مٹی کہ سونے کی مثلی ہوتی ہے۔

(۸۸) چولہے کی بھٹ

(۸۹) تنور کاپیٹ

(۹۰) دیوار کی لُونی

(۹۱) ندی کنارے کاگیلاریتا

(۹۲) بالُو۔ بھاڑ کاریتا

(۹۳) سراب کہ دُور سے پانی نظرآتا ہے۔

(۹۴) ریگِ روان کہ پانی کی طرح بہتاہے۔

(۹۵) دیگچیوں کاتَلا جس پرپاک لیوا چڑھا ہے اگرچہ آنچ کھاچکا۔

(۹۶) درختوں کاتنہ جس پر اَہْلے نے مٹی چڑھا دی خشک ہونے پرتیمم کیاجائے۔

(۹۷) سانپ کی بانبی۔

(۹۸) کنکر، مٹّی ہے کہ محجر ہوجاتی ہے۔ معدنی چیزوں کی طرح زمین کے اندر سے نکلتاہے۔

(۹۹) کھرنجا

(۱۰۰) پکّی سڑک جبکہ (۲) نئے بنے ہوں ان پرلید، گوبر، پیشاب وغیرہ نجاست نہ پڑی یاپڑی اور زور کامینہ برسا کہ پاک کرگیا یادھوکر پاک کرلیے گئے۔

(۱۰۱) ریہ کہ ایک قسم کی نمکین خاک ہے۔

(۱۰۲) سچّی چینی کے برتن جبکہ ان پر غیرجنس کاروغن نہ ہو۔

(۱۰۳) گندھک کے برتن پیالے وغیرہ۔

(۱۰۴) مٹّی کے کھلونے جن پرغیرجنس کی رنگت نہ ہو۔

(۱۰۵) غلیل کے غُلّے اگرچہ ان میں روئی وغیرہ کاخلط ہو جبکہ مٹّی غالب ہو۔

(۱۰۶) پتھر کی بجری کہ قدرتی پتھردال کے برابر ہے۔

(۱۰۷) سیمنٹ ایک پتھرہے پھُنکاہوا۔

(۱۰۸) ہرونجی دیواروں پرسرخ رنگ میں کام آتی ہے۔
Flag Counter