(پکّی اینٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے تیمم جائز ہے۔ مختارات النوازل، حلیہ وغیرہا۔ت)
( ۱؎ مختارات النوازل)
(۴۲) سرخی۔ باریک کٹی ہوئی پکّی اینٹ۔
وھو عہ مامر اٰنفا عن النوازل وغیرھا
(یہ وہی ہے جس کا بیان ابھی نوازل وغیرہا کے حوالہ سے گزرا۔ت)
عہ:وذلک لان التقیید بہ للمشی علی قول محمدمن لزوم التزاق شیئ بالیدولایتأتی الافیما جعل کالدقیق۔۱۲منہ غفرلہ(م)
وہ اس لئے کہ اس کی تقیید امام محمد کے قول پرمشی کی وجہ سے ہے کہ ہاتھ میں کچھ چپک جانا ضروری ہے اور یہ اسی میں ہوسکے گا جسے آٹے کی طرح پیس دیاگیا ہو۔۱۲منہ غفرلہ (ت)
(۴۳) کنکری۔ پتھر کے ریزے کہ زمین پرہوتے ہیں، عربی حصاۃ۔ نوازل محیط خانیہ خزانہ خجندی جوھرہ اگرچہ باریک ریزے ریگ میں ملے ہوئے
لم یخرج ای من الصعید مایصعد علی وجہہا من دقاق الحصی ۲؎حلیہ
(زمین کے اوپر جو چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں وہ صعید سے خارج نہیں۔ حلیہ ۔ت)
(۲؎ حلیہ)
(۴۴) درزی کی بٹیا جس سے وہ کپڑے کوکوٹ کر سلائی دباتاہے
لوتیمّم بفھر الخیاط عندھما یجوز وعن ابی یوسف روایتان ۳؎خلاصۃ
(اگرسنگِ خیاط سے تیمم کیا تو امام اعظم وامام محمدکے نزدیک جائز ہے اور امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں۔ خلاصہ۔ت)
اقول: یوھم ان لاخلف عن محمد مع ان الجوازھی الروایۃ النادرۃ عنہ و المشھورۃ کما فی الحلیۃ وغیرھا شرط التصاق جزء منہ بالید وقال فی وجیزالکردرعی فھر الخیاط وھو حجر یداس بہ الثیاب ان لم یصبغ یجوز عندھما بناء علی عدم الشتراط الالتصاق ۱؎۱ھ۔
اقول: اس عبارت سے یہ وہم پیداہوتاہے کہ اس مسئلہ میں امام محمد سے کوئی روایتِ اختلاف نہیں، حالانکہ قول جواز یہ امام محمد سے ایک نادر روایت ہے اور روایت ِ مشہورہ۔ جیسا کہ حلیہ وغیرہا میں ہے۔ یہ ہے کہ اس کے کسی جز کا ہاتھ سے چپکنا شرط ہے۔ اور وجیزکردری میں فرمایاہےکہ ''سنگِ خیاط یہ ایک پتھر ہوتاہے جس سے کپڑے کو پیٹا جاتاہے اگررنگاہوانہ ہو، اس سے دونوں حضرات کے نزدیک تیمم جائز ہے اس بنیاد پر کہ چپکنا شرط نہیں ۱ھ(ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علٰی حاشیۃ الہندیۃ الخامس التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۷)
اقول: والضمیر فی عندھما للشیخین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کما یفھم من سباقہ ویشھد لہ البناء المذکور فقد مشی علی روایۃ الجواز عن ابی یوسف ونسب المشھورۃ عن محمد الیہ خلافا لما فی الخلاصۃ۔
اقول: دونوں حضرات سے مراد (عندھما کی ضمیرمیں) شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہماہیں جیسا کہ ماسبق سے سمجھ میں آتا ہے اور جو بنیاد ذکر کی ہے وہ بھی اس پرشاہد ہے وہ امام ابویوسف کی روایتِ جواز پر چلے ہیں اور امام محمد کی روایتِ مشہورہ ان کی طرف منسوب کی ہے اس کے برخلاف جو خلاصہ میں ہے۔(ت)
(۴۵) گچ۔ چُونے کاپتھر جسے پھونک کرچُونابناتے ہیں کماسیأتی اصل، قدوری، ھدایۃ، ملتقی، وکثیر (جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ اصل قدوری، ہدایہ، ملتقی اور کثیر۔ت)
(۴۶) گچ کی ہوئی دیوار، درمختار۔
(۴۷) کلسن چُونا ردالمحتار، جاز وعلیہ الفتوی نصاب حلیہ (جائز ہے اور اسی پرفتوٰی ہے۔ نصاب، حلیہ۔ ت) اقول یعنی وہ کہ سنگِ گچ یاسنگِ مرمر کوئی پتھر پھونک کر بناہو۔
(۴۸)۔ پتھر کی راکھ اقول یعنی چونا کہ گزرگیا۔
(۴۹)۔ یاکھنگر کہ اس کاغیر اس سے سخت ترہے۔
(۵۰) یاکوئی پتھر پھونک کرپیس لیاجائے۔
(۵۱) یانرم پتھر پیس کر پھونکاجائے، یہ سب صورتیں پتھر کی راکھ ہیں اور سب سے تیمم جائز والمسألۃ مرت عن الحلیۃ وخزانۃ الفتاوٰی وجامع الرموز والدر وش وط علی الدر والمراقی (اور یہ مسئلہ حلیہ، خزانۃ الفتاوٰی، جامع الرموز، درمختار، شامی، طحطاوی علی الدر اور مراقی الفلاح کے حوالہ سے گزرچکا۔ت)
والنورۃ طلاء مرکب من اخلاط یزال بہ الشعر۱؎ نتائج شبیۃ
(نورہ چند خلطوں سے ملاہوا ہے ایک طلا ہے جس سے بال اڑایاجاتاہے۔ نتائج، شلبیہ۔ت)
(۱؎ شلبیۃ مع التبیین باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ /۳۸)
اقول: ورُبما تطلق علی نفس الکلس کما فی التذکرۃ وغیرھا وھذا اولی الجدۃ الافادۃ ومرعن البرجندی مافہمہ عن زادافقہاء ان التیمم بالنورۃ لایجوز لانہ مما یترمّد۲؎ اقول ھی (۱) من رماد حجرلاانھا ترمد وقد علمت الجواب۔
اقول: نورہ کبھی خود کلس کوبھی کہاجاتاہے جیسا کہ تذکرہ وغیرہا میں ہے۔ او ریہ زیادہ مناسب ہے تاکہ اس لفظ سے ایک جدید فائدہ حاصل ہو۔ اور برجندی کے حوالہ سے گزرا کہ انہوں نے زادالفقہا سے یہ سمجھا کہ نورہ سے تیمم جائز نہیں اس لئے کہ یہ رماد ہوجاتاہے اقول یہ پتھر کے رماد کاہواہی ہے ایسا نہیں کہ یہ رماد بن جاتاہے اور جواب پہلے بتادیا جا چکاہے۔(ت)
(۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ /۴۷)
(اور بعض لوگوں کاخیال یہ ہے کہ زمرد ار زبرجد ایک ہی ہے۔ت)
اقول: ویردہ(۲) عدھم کلا علی حدۃ وقد قال فی التذکرۃ عند ذکر انواع الزمرد قیل ان منہ نوعا یسمی الصابونی یضرب الی البیاض وفولس یقول انہ من الزبرجد۳؎ ۱ھ
اقول: اس خیال کی تردید اس سے ہوتی ہے کہ فقہاء نے ہرایک کوالگ الگ شمار کیاہے۔ تذکرہ میں انواع زمرد کے ذکر میں کہا ہے: کہاگیا ہے کہ اس کی ایک نوع کوصابونی کہاجاتاہے جوسپیدی مائل ہوتاہے اور فولس کاکہنا ہے کہ یہ زبرجد ہی سے ہے ۱ھ۔
( ۳؎ تذکرہ داؤدانطاکی حرف الزاء زمرد کے تحت مذکور ہے۔ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۸۰)
نعم فی الجامع عن ارسطو الزمرد والزبرجد حجران یقع علیہما اسمان وھما عہ فی الجنس واحد ۱؎ ۱ھ واتحاد الجنس لایمنع اختلاف لایمنع اختلاف النوع والصنف کاللعل والیاقوت الرمانی والنیلم والبسراق۔
ہاں جامع میں ارسطو کے حوالہ سے ہے کہ زمرد اور زبرجددوپتھر ہیں جن کے دونام ہیں اور ان دونوں کی جنس ایک ہے ۱ھ جنس میں اتحاد، نوع یاصنف میں اختلاف سے مانع نہیں جیسے لعل ویاقوت رمانی اور نیلم وبسراق۔(ت)
عہ: وعلیہ یحمل مافی التذکرۃ بلفظ وعن المعلم انہ والزمرد سواء اھ نقلہ عنہ ای عن ارسطو فی التحفۃ والمخزن ان معدنھا واحد۔
اور اسی پروہ محمول ہوگا جوتذکرہ کے اندر ان الفاظ میں ہے: اور معلم سے منقول ہے کہ یہ اور زمرد دونوں برا برہیں۱ھ۔ اور اسے تحفہ اور محزن میں اس سے ---- یعنی ارسطو سے---- یہ نقل کیاہے کہ ''ان دنوں کامعدن ایک ہے''۔
(۱؎ جامع ابن بیطار)
(۲ تذکرۃ اولی الالباب زبرجد کے تحت مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۵ )
اقول: ولایدل علی اتحاد ھما فرب شیئ یتکون فی معدن شیئ اٰخر الاتری انھما یتولدان فی معدن الذھب کما قال ارسطوا ما مافی التذکرہ قال ھرمس لافرق بینھما الاتلون الزبرجد ۳ ۱ھ فیحتمل التاویل اوھو قیل اما قول القاموس الزمرد الزبر جد معرب۱ھ فقد قال فی التاج قال التیفاشی فی کتاب الاحجار قال الفراء ان الزبر جد تعریب الزمرد ولیس کذلک بل الزبرجد نوع اٰخرمن الحجارۃ وقال ابن ساعد الانصاری قیل معدنہ قرب معدن الزمرد قال شیخنا وھذا نص فی المغایرۃ قال و فرق جماعۃ اٰخرون بان الزمرد اشد خضرۃ من الزبرجد ۱ھ واللّٰہ تعالٰی اعلم بخلقہ یخلق مایشاء ویختار ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول: یہ بات زبرجد وزمرد دونوں کے ایک ہونے پردلالت نہیں کرتی، اس لئے کہ بہت ایسی چیزیں ہیں جو کسی دوسری چیز کے معدن میں بنتی ہیں۔ ان ہی دونوں کودیکھ لیجئے کہ یہ سونے کے معدن میں پیداہوتے ہیں جیسا کہ ارسطو نے کہا۔ رہا وہ جو تذکرہ میں ہے کہ ''ہرمس نے کہا: ان دونوں میں سوا اس کے کوئی فرق نہیں کہ زبرجد متلوّن ہوتاہے ۱ھ'' تو اس عبارت میں تاویل کی گنجائش ہے یایہ ایک ضعیف قول ہے۔ اب قاموس کی عبارت دیکھئے کہ ''زمرد: زبرجد اس کا معرب ہے۱ھ'' اس پر تاج العروس میں لکھاہے: تیقاشی نے کتاب الاحجار میں رقم کیاہے کہ فراء نے کہا زبرجد، زمرد کی تعریب ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں، بلکہ زبرجد پتھر کی ایک دوسری نوع ہے۔ اور ابن ساعد انصاری کہتے ہیں: کہاگیا کہ اس کامعدن زمرد کے معدن کے قریب ہوتاہے۔ ہمارے شیخ نے فرمایا: یہ اس بارے میں نص ہے کہ دونوں دو۲پتھر ہیں۔ انہوں نے کہا: کچھ دوسرے حضرات نے دونوں میں یہ فرق بتایا ہے کہ زمرد، زبرجد سے زیادہ سبزہوتاہے ۱ھ۔ اور اللہ ہی اپنی مخلوق کوخوب جانتاہے جوچاہتاہے تخلیق فرماتاہے او اختیار کرتاہے۔۱۲منہ غفرلہ(ت)
(۳ تذکرۃ اولی الالباب زبرجد کے تحت مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۵ )
(۵۷) بلخش یتیمّم البلخش قالہ الثمانیۃ المذکورون
(بلخش سے تیمم ہوسکتاہے۔ مذکورہ آٹھوں کتابوں میں اسے بیان کیاگیاہے۔ت)
اقول: کتب لغت حتی کہ قاموس محیطمیں اس لفظ کاپتانہیں، نہ تاج العروس نے اس سے استدراک کیا نہ جامع ابن بیطار و تذکرہ انطاکی و تحفہ و مخزن میں اس کاذکر عجب(۱) کہ کتاب مُغرب میں بھی اس سے غفلت کی حالانکہ وہ فقہ حنفی کالغت ہے اور یہ لفظ کتب فقہ حنفیہ میں موجود پھر میں نے تاج العروس میں زیرِلفظ بدخشان دیکھا کہ اس کی کان بدخشان میں بتائی،
اس میں استدراک کے تحت لفظ باذش کے بعد یہ لکھا ہے: بدخشاں، اور بذخش بھی کہاجاتاہے۔ یہ طخارستان کے بالائی حصہ میں ایک شہر ہے اور عام لوگ اسے بلخشاں کہتے ہیں اس کے پہاڑون میں بلخش، لازورد اورحجر الفتیلہ کی کانیں ہیں۔(ت)
( ۱؎ تاج العروس فصل الباء من باب الشین احیاء التّراث العربی مصر ۴ /۲۸۱)