اور خلاصہ میں فرمایا: سرخ مٹّی، زردمٹّی اور گیرو سے تیمم جائز ہے ۱ھ۔ اسی کے مثل ان دونوں کے علاوہ میں بھی ہے۔ رہی قاموس کی یہ عبارت کہ ''گیرو ایک سرخ مٹّی ہے'' تومیں یہ کہتاہوں کہ اس میں یہ نہیں ہے کہ گیرو، سرخ مٹّی۔ اور اہل لغت کاطریقہ یہ ہے کہ بیان معنی کے لئے جب وہ معرفہ بولیں توغیرمعیّن مراد لیتے ہیں اور جب نکرہ لائیں تو کسی معین چیز کو مراد لیتے ہیں۔(ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی مایجوزبہ التیمم مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۳۵)
(۳؎ قاموس المحیط فصل المیم باب الرائ مطبع مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۴۰)
(۱۶) کالی مٹّی (اور)
(۱۷) سپید مٹّی بدائع ھندیۃ۔
(۱۸) سبزمٹّی نوازل خزانۃ تتار خانیۃ ھندیۃ۔
(۱۹) طفل مصری عہ طحطاویۃ جس سے مصرمیں کپڑے رنگتے ہیں تاج العروس۔
عہ: علامہ طحطاوی نے ایک مسئلہ کے ضمن میں کہ آتاہے طَفَل بالفتح کوبتایا کہ جنس ارض سے ہے تذکرہ داؤد و مخزن میں طفل کوطین قیمولیا نیز تذکرہ میں طین قیمولیا کو طفل اور دونوں کوطلیطلی سے تفسیرکیااور مخزن میں طین قیمولیا کوکہا بہندی کھری مٹی نامندواطفال برتحتہائے مشق میمالند (ہندی میں کھریا مٹّی کہتے ہیں اور اسے بچّے مشق کی تختیوں پرلگاتے ہیں۔ت)
اقول: مگرکتاب دیسقوریدوس و انوارالاسرار میں قیمولیا کے صرف دو۲ رنگ لکھے سفید وبنفشی، اور ابن حسان نے ایک سیاہ رنگ کی لکھی اور کہا وہ علاج میں کچھ کام نہیں آتی کما فی ابن البیطار (جیسا کہ ابن بیطارمیں ہے۔ت) اور طفل کارنگ تاج العروس میں زرد بتایا کہ الطفل بالفتح ھذاالطین الاصفر المعروف بمصروتصبغ بہ الثیاب (طفَلَ بالفتح : یہی مٹّی جو مصرمیں معروف ہے اور اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں۔ت) ابن بیطار نے علی بن محمدسے طفل کاسبزرنگ نقل کیا کہ طین شیراز لونہ مشبع الخضرۃ اکثر من خضرۃ الطفل ۱ھ واللّٰہ تعالٰی اعلم (طین شیراز، اس کارنگ طفل کی سبزی سے زیادہ گہراسبز ہوتاہے ۱ھ واللہ تعالٰی اعلم۔ت) علامہ طحطاوی وصاحب تاج العروس دونوں سادات ساکنان مصر قریب العصر ہیں توان کی مراد وہی ہوگی جو شرح قاموس میں ہے۔۱۲منہ غفرلہ (ت)
(۲۰) ڈھیلا اصل نوازل خلاصۃ خزانۃ منیۃ۔
(۲۱) گُلِ ارمنی (۲۲)گل مختوم عہ ۱ غنیۃ
عہ ۱: بحرمغرب(۱) میں ایک جزیرہ ملیون ہے وہاں ایک معبد ہے جس کی مجاور عورت ہوتی ہے بیرون شہر ایک ٹیلاہے جس کی مٹی متبرک خیال کی جاتی ہے وہ عورت تعظیم کے ساتھ اس کی مٹّی لاتی اور گوندھ کرٹکیاں بناکر اُن پرمہر لگاتی ہے دیسقوریدوس وغیرہ نے زعم کیا کہ اس میں بکری کاخون ملتاہے جالینوس کہتاہے میں اس کی تحقیق کے لئے انطاکیہ سے دوہزار میل سفر کرکے اس جزیرہ میں پہنچا میرے سامنے اس عورت نے وہاں سے ایک گاڑی مٹّی لی اور ٹکیاں بنائیں خون كاکچھ لگاؤنہ تھا میں نے وہاں کے مؤدب لوگوں علماء کی صحبت یافتوں سے پوچھا کیا پہلے کسی زمانے میں اس میں خون ملایاجاتا تھا؟ جس نے میرا یہ سوال سنا مجھ پرہنسنے لگا۔ ذکرہ ابن البیطار (اسے ابن بطارنے ذکرکیا۔ت)
اقول: والعجب(۲) ان الانطاکی فی التذکرۃ نسب زعم خلط الدم الی جالینوس والتنکابنی فی التحفۃ الیہ والی دیسقوریدوس مع ان جالینوس ھوالذی عنی ھذالعناء الشدید حتی کشف عن بطلانہ ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول: (میں کہتاہوں) اور حیرت ہے کہ انطاکی نے تذکرہ میں اس مٹی سے خون ملانے کا خیال جالینوس کی طرف منسوب کیا اور تنکابنی نے تحفہ میں یہ خیال جالینوس اور دیسقوریدوس دونوں کی طرف منسوب کیا حالانکہ جالینوس ہی وہ شخص ہے جس نے اس قدرشدید مشقت جھیل کراس خیال کے بے حقیقت ہونے کاانکشاف کیا۔۱۲منہ غفرلہ(ت)
(۲۳) گوندے کی دیوار اصل خلاصۃ جوھرۃ نوازل خزانۃ۔
(۲۴) ڈھیلوں کی دیوار محیط خانیۃ منیۃ۔
(۲۵) کچّی اینٹ کی دیوار غنیۃ۔
(۲۶) مٹّی سے لسی ہوئی درمختار۔
(۲۷) کچّی اینٹ فتح حلیہ بحر شلبیہ زاھدی۔
(۲۸) گارا(اور)
(۲۹) کیچڑ جس میں مٹّی غالب ہو اور پانی مغلوب۔ اس کی تفصیل مقامِ چہارم میں آئے گی ان شاء اللہ تعالٰی
(۳۰) جلی ہوئی خاک مختارات النوازل نصاب حلیہ۔
(۳۱) مٹّی کے آنجوری مٹکے محیط خانیۃ منیۃ خزانۃ کونڈے رکابیاں وغیرہا ہرظرف گلی جس پر روغن نہ ہو فتح شلبیۃ ازھری درمختار نہ غیرجنس کی رنگت خزانۃ الفتاوٰی حلیۃ بحرط۔
(۳۲) وہ ظروف گلی رنگین جن پرجنس ارض ہی مثلاً گیرو یاملتانی وغیرہ کی رنگت ہو)
یجوز باوان من طین غیر مدھونۃ ۱؎ دراو مدھونۃ بصبغ من جنس الارض کالطفل والمغرۃ ط۲؎۔
مٹّی کے ایسے برتنوں سے تیمم جائز ہے جن پرپالش نہ کی گئی ہو۔ درمختار۔ یا پالش ہوتوجنس ارض ہی کی کسی چیز جیسے طفل اور گیرو کے رنگ سے ہو۔ طحاوی۔(ت)
(۲؎ طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ بیروت ۱/۱۲۸ )
(۳۳) سبزچپکتی چکنی صاف مٹّی کے پیالے، تشتریاں،
یجوز بالغضارۃ منیۃ۳؎ وھو الطین اللازب الحر الاخضر۴؎حلیۃ وغنیۃ عن القاموس والمزاد مایعمل منہ کالسکارج۵؎ غنیۃ و فی المغرب الغضارۃ القصۃ الکبیر۶؎ حلیۃ۔
"غضارہ "سے تیمم جائز ہے ،منیہ ،غضارہ چپکتی ،عمدہ، سبز مٹی ہوتی ہے ،حلیہ وغنیہ بحوالہ قاموس ۔اس سے مراد وہ برتن ہے جو اس مٹی سے بنتاہے جیسے رکابیاں ،غنیہ ۔اور مغرب میں لکھاہے :غضارہ:بڑا پیالہ ۔حلیہ (ت )
جبکہ ان پررنگ کی قلعی نہ ہو غنیہ نہ کسی اور غیرجنس ارض کی قلعی یارنگ حلیہ ۔
وقد ذکرہ قبل ھذا استظہارا
(اس سے پہلے اسے ''ظاہر'' کہتے ہوئے ذکرکیا ہے۔ت) اقول وھو محل(۱) الجزم (میں کہتاہوں حالانکہ یہ جزم کاموقع ہے۔ت)
(۳۴) قلعی دارظرف گلی کا وہ رخ جس طرف قلعی نہیں خانیۃ خلاصہ غنیہ۔
اقول: وکانت عبارۃ المنیۃ لایجوز بغضارۃ مطلی بالاٰنک بطن الغضارۃ و ظھرھا سواء ۱؎۱ھ قد توھم المنع مطلقا اذا طلی بہ وجھھا فاولھا فی الغنیۃ بما فی الخانیۃ ای سواء فی المنع بالمطلی والجواز بغیرہ اما عبارۃ البزازیۃ اذا طلی وجھھا بالصیغ لایجوزبہ التیمّم وان لم یطل جاز ۲؎۱ھ فالکنایۃ لوجھھا۔
اقول: منیہ کی درج ذیل عبارت ''سبزمٹّی کے ایسے پیالے سے تیمم جائزنہیں جس پررانگ کی قلعی ہو، پیالے کااندرونی اور بیرونی رخ دونوں برابرہیں'' یہ وہم پیدا کررہی تھی کہ جب صرف سامنے کارخ قلعی کیا ہواہو توبھی مطلقاً ممانعت ہے اس لئے غنیہ میں اس کی تاویل اس سے کی جو خانیہ میں مذکور ہے یعنی قلعی شدہ سے ممانعت میں اور غیرقلعی شدہ سے جواز میں دونوں رُخ برابر ہیں۔ لیکن بزازیہ کی یہ عبارت:''جب سامنے کے رخ پررنگ سے پالش کردی گئی ہو تو اس سے تیمم جائز نہیں اور اگراس پرپالش نہ کی گئی ہوتو جائز ہے''۱ھ۔ تواس میں ''اس پر'' کااشارہ سامنے کے رخ سے متعلق ہے۔(ت)
(۱؎ منیۃ المصلی فصل التیم مکتبہ قادریہ جامعہ نضامیہ رضویہ لاہور ص۵۷)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ مع الہندیہ الخامس فی التیمم نورانی کتب خانہ پشاور۔ ۴ /۱۷)
(۳۵) ٹھیکری ھو الصحیح (یہی صحیح ہے۔ت) مختارات النوازل حلیہ اقول سالم ہو یا (۳۶) پسی ہوئی
وقیدہ فی الخزانۃ عن النوازل وفی الجوھرۃ عن الخجندی بالمدقوق
(خزانہ میں بحوالہ نوازل اور جوہرہ میں بحوالہ خجندی اس کے ساتھ ''پسی ہوئی'' ہونے کی قیدلگائی۔ت)
اقول: ومثلہ مثل مامر من الحجر المدقوق ولفظ النوازل ثم الخزانۃ یجوز بالاٰجرالمدقوق و الخزف المدقوق والسبخۃ والحجر الذی علیہ غبار اولم یکن بان کان مغسولا اواملس مدقوقا اوغیرمدقوق۱؎۱ھ۔
اقول: اور اس کی مثال پسے ہوئے پتھر کی ہے جس کابیان گزرا۔ اور نوازل پھر خزانہ کے الفاظ یہ ہیں:''تیمم جائز ہے پسی ہوئی اینٹ، پسی ہوئی ٹھیکری، زمینِ شور اور ایسے پتھر سے جس پرغبارہو یا ایسے پتھر سےجس پرغبار نہ ہو اس طرح کہ دھلا ہوا ہو، یاصاف چکنا ہو، پسا ہوا ہویاپساہوانہ ہو۱ھ۔ (ت)
(۱؎خزانۃ المفتین فصل فی التیمم قلمی نسخہ ۱/ ۱۲ )
اقول: ھذا(۱) مشی فی سطر واحد علی قولین مختلفین وای(۲) فرق بین الخزف والاٰجر فیقید الجواز بھما بالدق و بین الحجر فلافان قلت بل المعنی ولو مدقوقا اقول انما یترقی الی مافیہ خفاء اوخلف فان (۳) حق الوصلیۃ ان یکون الحکم فیما قبلھا اظھر منہ فیما بعدھا ولا (۴) اقول ان یکون ماقبلھا اھق بالحکم مما بعدھا کما قالوا فانہ غیرمطرد فلوارید ھذالقیل ولو غیرمدقوق لان خلاف محمدفیہ۔
اقول: یہ ایک ہی سطر میں دومختلف قولوں پرچلنا ہے۔ اینٹ اور ٹھیکری سے جوازتیمم کے لئے پسی ہوئی ہونے کی قید لگائی ہے اور پتھر سے جواز کے لئے یہ قید نہیں توآخر وجہ فرق کیاہے؟ اگرکہئے کہ معنی یہ ہے کہ اگرچہ پسی ہوئی ہوتو (اقول) میں یہ کہوں گا کہ ترقی اس معنی کی جانب کی جاتی ہے جس میں کوئی پوشیدگی یاکوئی اختلاف ہو۔ اس لئے کہ کلمہ وصلیہ کاحکم یہ ہے کہ اس کے ماقبل کاحکم، مابعد کے حکم سے زیادہ ظاہرہو اور میں یہ نہیں کہتا کہ اس کا ما قبل مابعد سے زیادہ مستحقِّ حکم ہو۔ جیسا کہ بعض حضرات نے کہا۔ اس لئے کہ یہ قاعدہ ہرجگہ جاری نہیں ہوپاتا۔ الغرض اگرترقی مقصود ہوتوکہاجاتاہے کہ اگرچہ پسی ہوئی نہ ہو اس لئے کہ امام محمد کااختلاف اسی میں ہے۔(ت)
(۳۷) پکّی اینٹ ویاتی (آگے بھی اس کاذکر آئے گا۔ت)
اقول: وتقییدہ بالمدقوق کما مر عن الخزانۃ عن النوازل ومثلہ فی الجوھرۃ عن الخجندی مرما فیہ وقد قال فی الکافی ولو غیرمدقوق۲؎۔
اقول: پسی ہوئی ہونے اس کو مقید کرنا جیسا کہ خزانہ میں بحوالہ نوازل اور اسی کے مثل جوہرہ میں بحوالہ خجندی ہے۔ اس کی خامی کابیان گزرچکا اور کافی کے الفاظ یہ ہیں:''اگرچہ پسی ہوئی نہ ہو''۔(ت)