Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
142 - 166
مقامِ دوم (اُن ایک سو اکاسی۱۸۱ چیزون کابیان جن سے تیمم جائز ہے) اُن بعض اشیاء کاشمار جن سے ہمارےعہ۱ امام جاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب میں تیمم جائز ہے انہیں دو۲قسم کریں:

منصوصات، جن کی تشریح کتابوں میں اس وقت پیش نظر ہے۔
مزیدات کہ فقیر نے اضافہ کیں
وکان حقا علی افرازھا کیلا یساق المعقول مساق المنقول
 (انہیں الگ کرنا میری ذمہ داری جتھی تاکہ معقول کاذکر منقول کی جگہ نہ ہو۔ت)
عہ۱ : خصہ بالذکر لان لمحمد خلافا فی کل مالایلتزق بالید ولابی یوسف فی جمیع غیرالتراب ۱۲منہ غفرلہ (م)

صرف ان کاذکر اس لئے ہے کہ امام محمد کا ہراس چیز کے بارے میں اختلاف ہے جوہاتھ سے چپکنے والی نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کامٹی کے علاوہ ساری چیزوں میں اختلاف ہے۔۱۲منہ غفرلہ(ت)
منصوصات نقلِ عبارات میں طول تکرار ہے لہٰذا صرف شمار اسمائے بعض کتب پرقناعت کریں مگر خلافیات یاخفیات ہ اُن مین تکثیر اسمامناسب۔
 (۱) خاک کہ اصل الاصول ہے
اصل المحرر المذھب ومتون عامۃ
 (یعنی خاک سے جواز تیمم محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی مبسوط اور فقہ کے عام متون میں مذکور ہ۔ت)
پھراگرمُنبت یعنی قابلِ نبات ہو تو اس سے جوازتیمم پراجماعِ اُمت اقول تومستحب یہ ہے کہ اس کے ملتے اور کسی چیز سے تیمم نہ کرے
فان الخروج عن الخلاف مستحب بالاجماع
 (کیونکہ سرحد خلاف سے نکل آنا بالاجماع مستحب ہے ۔ ت)
 (۲) ہمارے نزدیک خاکِ شور بھی جس میں کوئی چیز اُگنے کی صلاحیت نہ ہو خلاصۃ خزانۃعہ۲ بزازیۃ مراقی الفلاح۱؎۔
عہ۲ :المراد بھا خزانۃ المفتین فی ھذہ الفصول حیث اطلق۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)

ان فصلوں میں جہاں بھی خزانہ کاحوالہ آئے اس سے مراد خزانۃ المفتین ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح        مایجوزبہ التیمم        مطبعۃ ازہریہ مصر ص ۶۸)
 (۳) ریتا اصل ومتون عامۃ خلافا لابی یوسف فی قولہ الاٰخر (امام ابویوسف کے قول دوم کے برخلاف۔ت)

(۴) پتھر مرّعن ۳۳ کتابا(۳۳کتابوں کے حوالہ سے اس کابیان گزرچکا۔ ت) اگرچہ صاف دھلا بے غبار ہو خانیۃ، خلاصۃ، مراقی، در وکثیر۔
 (۵) باریک پسا ہویاسالم نوازل خانیۃ بزازیۃ خزانۃ المفتین درھندیۃ وغیرھا وقیدہ فی الشلبیۃ عن المجتبی بالمدقوق
 (نوازل، خانیہ، بزازیہ، خزانۃ المفتین، در، ہندیہ وغیرہا۔ اور مجتبٰی، کے حوالہ سے شلبیہ میں اس کے ساتھ ''پسے ہوئے'' کی قیدلگائی۔ت)
اقول: مشی علی قول محمدمن لزوم ان یلتزق بالید شیئ ومذہب الامام الاطلاق۔
اقول:  (میں کہتاہوں) یہ امام محمدکے قول پرگئے ہیں کہ ہاتھ سے کچھ چپک جانا ضروری ہے اور امام اعظم کے مذہب میں یہ قید نہیں۔(ت)
 (۶) غبار متون وعامہ۔ اقول جبکہ نہ ناپاک خاک سے اُٹھا ہو اگرچہ نجاست کااثر زائل ہوجانے سے نماز کے لئے پاک ہوگئی ہو نہ کسی ترچیز ناپاک پرگرا ہو نہ ناپاک خشک چیز پرگرکر اسے تری پہنچی ہو اگرچہ پھر وہ تری خشک بھی ہوجائے وقد تقدم بعضہ (اس میں سے کچھ کابیان گزرچکا۔ت)
(۷) ناپاک خشک چیز پرگرا ہواغبارجبکہ اسے تری نہ پہنچے
 تقدم فی الدروس السالفۃ عن الحلیۃ والنھایۃ والھندیۃ ومثلہ فی الفتح
(گزشتہ اسباق میں حلیہ، نہایہ، ہندیہ کے حوالہ سے اس کا بیان گزرا، اسی کے مثل فتح القدیرمیں بھی ہے۔ت)

(۸) ترزمین پرجس پرچھڑکاؤ  ھُوا کما یأتی (جیسا کہ آرہاہے۔ت)

(۹) مقبرے کی زمین جبکہ اس کی نجاست مظنون نہ ہو،
لویتمّم بتراب المقبرۃ ان غلب علی ظنہ نجاسۃ لایجوز وا لا یجوز کما فی السراج ۱؎ ط علی المراقی۔
اگرقبرستان کی مٹی سے تیمم کیا اگر اس کاغالب گمان ہوکہ یہ مٹی نجس ہے توتیمم جائزنہیں، ورنہ جائز ہے جیسا کہ سراج میں ہے۔ طحطاوی علی المراقی الفلاح۔(ت)

(۱۰) گردبادبگولا، اس سے تیمم کے دو۲ طریقے اوپرگزرے خلاصۃ ، بزازیۃ۔

(۱۱) جلی ہوئی زمین قدمرّو یأتی (اس کابیان گزرچکا اور آگے بھی آئے گا۔ت)

(۱۲) نمک زار زمین جس میں سے نمک نکلتا ہو اگرچہ خفیف تربھی ہو جبکہ وہ نمک مٹّی سے بنا ہو ویأتی (اور آگے بھی آئے گا۔ت)
 (۱۳) پیلی مٹّی اصل، نوازل، خلاصۃ، خزانۃ ہندیۃ۔ 

(۱۴) سرخ مٹّی ھی والبدائع و الخانيۃ۔

(۱۵) گیرو  ھی الاالبدائع، تبیین، فتح، بحر، نھر (بدائع کے سوایہ سبھی یعنی اصل، خلاصہ، خزانہ، ہندیہ، ہندیہ، خانیہ، مزیدبرآں تبیین، فتح، بحر، نہر۔ (ت) اقول وہ سرخ مٹی کاغیرہے۔
فقد عددھما مفر زین قال فی الخانیۃ یجوز التیمّم بالمغرۃ والکحل والطین لاحمر۱؎۔اھ۔
اس لئے کہ فقہا نے گیرو اور سرخ مٹی کو الگ الگ شمار کیاہے۔ خانیہ میں فرمایا: گیرو، سُرمہ اور سرخ مٹّی سے تیمم جائز ہے ۱ھ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان    مایجوزبہ التیمم        مطبوعہ نولکشورلکھنؤ    ۱/ ۲۹)
Flag Counter