اب یہ مثال غایت اشکال میں ہوگئی کہ خود اپنے نفس کی مبطل ہے تواس سے تقریر فقیرپر شبہ کیامعنی خود اسی پرشبہ شدیدہ کیاجائے وہ اگرخودمتناقض نہ ہوتی تو ان احکام مصرحہ عامہ متون وشروح وفتاوٰی منصوصہ خود محررالمذہب وامام اعظم صاحب مذہب کے مقابل مضمحل ہونی واجب تھی نہ کہ جب آپ ہی اپنا نقض ہے ہاں مسلک اس کی تاویل ہے اگرممکن ہواگرچہ بعید کہ تاویل بعید بھی تخطبہئ محض سے خیروبہترہے۔
فاقول: وباللہ التوفیق(تومیں کہتاہوں اور توفیق خداہی کی جانب سے ملتی ہے۔ت) جملہ(۱) معدنیات کاتکون گندھک اور پارے کے ازدواج سے ہے کبریت نر ہے کہ گرم ہے اور پارہ مادہ۔ انہیں کے اختلاف مقادیر واصناف واوصاف واحوال سے مختلف معدنی چیزیں پیداہوتی ہیں جن میں سے بعض کو ہمارے ائمہ کرام جنس ارض سے رکھتے ہیں جیسے یاقوت ، زمرد، زبرجدوغیرہا جواہر اور بعض کو نہیں جیسے ذہب وفضہ وحدیدوغیرہا معادن حالانکہ مادہ تکوّن سب کاایک ہے، تذکرہ انطاکی میں ہے:
(معدن) مادتہ الزئبق والبریت جیدین متساوین کالاکسیر اوزادالکبریت مع القوۃ الصابغۃ کما فی الذھب اوضدہ مع عدمھا کما فی الفضۃ (الٰی ان قال) فان حفظت المادۃ بحیث یذوبا فالمنطرقات والافالفلزات علی وزان الأول کالیاقوت اوالثانی کبعض الزمرد الی اٰخرہ عہ اولم تحفظ صوراولم تثبت معاصیۃ للتحلیل فالشبوب والاملاح ۱؎۔
(معدن) اس کامادہ پارہ اور گندھک ہے۔ دونوں عمدہ برابربرابر ہوں۔ جیسے اکسیر۔ یاکبریت زیادہ ہو ساتھ ہی رنگنے والی قوت بھی ہو جیسے سونا میں یا اس کی ضد(پارہ) زیادہ ہو اور رنگنے والی قوت بھی نہ ہو جیسے چاندی میں (یہاں تک کہ یہ کہا) تواگرمادہ محفوظ ہو اس طرح کہ پگھل جائے تومنطرقات ورنہ فلزات بطوراول جیسے یاقوت یا بطوردوم جیسے بعض زمردالی آخرہ۔ یاکچھ صورتوں کومحفوظ نہ رکھے یاتحلیل کے مخالف نہ ثابت ہوتوشبوب واملاح۔(ت)
عہ : یرید موازاۃ سائر الاصناف۔۱۲منہ غفرلہ(م) دیگراصناف کامقابلہ مقصود ہے۔۱۲منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ تذکرہ داؤد انطاکی حرف المیم لفظ معدن کے تحت مذکورہے مصطفی البابی مصر ۱ /۳۰۰)
اسی میں ہے: (یاقوت) ھو اشرف انواع الجامدات وکلھا تطلبہ فی التکوین کالذھب فی المنطرقات بیمنع العارض واصلہ الزئبق ویسمی الماء والکبریت ویسمی الشعاع ۲؎ ملخصاً
(یاقوت) یہ جامدات کی قسموں میں سب سے عمدہ ہے او ر تکوین میں سارے جامدات کامطلوب ہے جیسے منطرقات میں سونا۔ توکسی عارض کی وجہ سے مانع بھی ہوتاہے۔ اس کی اصل پارہ ہے جسے پانی بھی کہاجاتاہے۔ اور کبریت جسے شعاع بھی کہاجاتاہے۔(ت)
(۲؎ تذکرہ داؤد انطاکی حرف الیاء لفظ یاقوت کے تحت مذکورہے مصطفی البابی مصر ۱ /۳۴۰)
مذہب مشہور ومنصور ومعتمد جمہورپرتواُن کی معیار وہی ضابطہ ترمُّد وانطباع ہے وبس۔ اور بعض اکابر نے اسے یوں لیا کہ جوکچھ اجزائے ارض سے ہے جب تک زمین میں ہے اس سے مطلقاً تیمم رواہے حتی کہ سونا چاندی جب تک اپنی کان میں ہوکہ اس وقت تک یہ جنسِ ارض سے ہے جب زمین سے نکال کرگلایا پگھلایا اجزائے ارضیہ سے صاف کیا اب غیرشے ہوئے اور اس سے تیمم ناروا۔ تبیین الحقائق میں ہے:
وفی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان یجوز بالکیزان والحباب ویجوز بالذھب والفضۃ والحدید والنحاس ومااشبھھا مادامت علی الارض ولم یصنع منہا شیئ وبعد السبک لایجوز۳؎۔
قاضیخان کی شرح جامع صغیر میں ہے: کوزوں اور گھڑوں سے تیمم جائز ہے اور سونے،چاندی، لوہے، تانبے اور ایسی دوسری دھاتوں سے بھی جائز ہے جب تک یہ زمین پر ہوں اور ان سے کوئی چیز بنائی نہ گئی ہو اور ڈھالنے کے بعد ان سے تیمم جائز نہیں۔(ت)
(۳؎ تبیین الحقائق باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ /۳۹)
شرح وقایہ میں ہے: اما الذھب والفضۃ فلایجوز بھما اذاکانا مسبوکین وان کانا غیرمسبوکین مختلطین بالتراب یجوز ۱؎۔
سوناچاندی جب ڈھلے ہوئے ہوں توان سے تیمم جائزنہیں اور گلائے پگھلائے نہ گئے ہوں بلکہ مٹی سے ملے ہوئے ہوں توجائز ہے۔(ت)
شرح الکنز علامہ عینی پھر شرح سید ازہری پھر طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: قبل السبک یصح التیمّم ماداما فی المعدن وکذاالحدید والنحاس لانھما من جنس الارض۲؎۔
ڈھالنے سے پہلے تیمم درست ہے جب تک یہ دونوں اپنی کان میں ہوں۔ یہی حکم لوہے اور تانبے کاہ۔ اس لئے کہ یہ جنسِ زمین سے ہیں۔(ت)
فتاوٰی ظہیریہ پھرخزانہ المفتین میں ہے: مالیس من جوھر الارض اوکان من جوھر الارج الاانہ خلص عن جوھرہ بالاذابہ والاحراق فانہ لایجوز بہ التیمم فالذھب والفضۃ والنحاس والحدید ومااشبہ ذلک یجوز بہ التیمّم مادام فی الارض ولم یصنع منہ شیئ فاذا صنع منہ شیئ لم یجزبہ التیمم اذالم یکن علیہ غبار۴؎۔
جوزمین کاجوہرنہ ہو یازمین ہی کاجوہرہومگر وہ پگھلانے، جلانے کے ذریعہ اپنے جوہرواصل سے جداہوگیاہو تواس سے تیمم جائزنہیں۔ تو سونا، چاندی، تانبا، لوہا اور ایسی ہی دوسری چیزوں سے جب تک یہ زمین میں رہیں اور ان سے کچھ نہ بنایاگیاہو، تیمم جائز ہے جب ان سے کوئی چیزبنادی جائے تواس سے تیمم جائزنہیں جبکہ اس پرغبارنہ ہو۔(ت)
(۴؎ خزانۃ المفتین)
توحاصل یہ ہوا کہ آگ سے لین واحترق دوہیں ایک متقدم کہ معدنی معدن سے نکالتے وقت اجزائے ارضیہ سے اپنی جدائی میں ان کامحتاج ہو ا ن کے نزدیک یہ مطلقاً اسے جنس ارض سے خارج کردیتے ہیں اگرچہ نہ لین مورث انطباع وانطراق ہو نہ احتراق تاحد ترمُّد دوسرامتأخر کہ اجزائے ارضیہ سے جداوصاف ہونے کے بعد اس شے کی حالت دیکھی جائے یہاں اگراحتراق بحد ترمُّد یالین موجب انطراق کاصالح ہے توجنسِ ارض سے نہیں ورنہ ہے۔ جوچیز بڑے قطعے کان سے نکلے کہ صاف کرنے میں جلانے، گلانے کی محتاج نہ ہو اس میں وہ عہ قاعدہ معیار جاری ہوگا یاقوت وبلور سے تیمم جائز ہوگا اور لوہے سے نہیں اور جوریزہ ریزہ نکلے کہ گلا، جلاکر صاف کی جائے اس سے بعد صفاوہ مطلقاً ناجائز مانیں گے زجاج اسی قبیل سے ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہی معدن میں ملتا اور آگ پرگلا کر صاف کیاجاتاہے ۔
عہ: اقول قسمیں چار۴ہوئیں:
(۱) نہ اپنے تصفیہ میں احراق وتلیین کامحتاج ہو نہ بعد کومنطرق جیسے یاقوت۔ (۲) تصفیہ میں محتاج نہ ہو اور بعد کو (۳) اس کاعکس کہ تصفیہ میں محتاج ہو اور بعد کو نامنطرق جیسے شیشہ۔ (۴) پہلے بھی محتاج ہو اور بعد کو بھی منطرق جیسے سونا۔ان کے نزدیک سواقسم اول کے سب جنس ارض سے خارج ہیں دوم میں صرف بربنائے معیار، سوم میں صرف بربنائے لین متقدم، چہارم میں اگرچہ دونوں جمع ہیں مگرلین متقدّم۔ اسے جنس ارض سے خارج کرچکا۔معیار کی حاجت نہیں لہٰذا ہم نے اجزائے معیار کوقسم دوم ہی مین رکھا، ورنہ وہ اس سے خاص نہیں۔ یہ ان کے طور پرہے اور معتمد صرف لحاظ معیار، تواول وسوم دونوں جنس ارض ہیں اور دوم وچہارم نہیں واللہ تعالٰی اعلم ۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)
ارسطو نے جو اس کی ایک قسم کومتحجرکہااس بناپر تھا کہ وہ بلور کوبھی نوع زجاج مانتاہے اس کے کلام میں عبارتت مذکورہ کے بعد ہے:
والبلور جنس من الزجاج غیرانہ یصاب فی معدنہ مجتمع الجسم ویصاب الزجاج مفترق الجسم فیجمع کما ذکرنا بحجر المغنیا ۱؎۱ھ یشیر الی قولہ منہ ماھو رمل فاذا اوقد علیہ النار والقی معہ حجر المغنیسا جمع جسمہ۔
بلورزجاج ہی کی ایک قسم ہے فرق یہ ہے کہ بلور کاجسم معدن میں مجتمع ملتاہے اور زجاج کاجسم متفرق ملتاہے پھرجیسا کہ ہم نے بتایاسنگ مغنیسا کے ذریعہ جمع کیاجاتاہے۱ھ۔ یہ اشارہ اس عبار ت کی جانب ہے: اس میں سے ایک وہ ہے جوریت ہوتاہے جب اس پر آگ جلائی جاتی ہے او ر اس کے ساتھ سنگِ مغنیسا بھی ڈالاجاتاہے تواس کاجسم مجتمع ہوجاتاہے۔(ت)
( ۱؎ جامع ابن بیطار)
اسی طرح انوارالاسرارمیں ہے مخزن سے گزراسنگے ست ریزہ۲؎
(ریزہ ریزہ پتھرہوتاہے۔ت)۔
(۲؎ مخزن الادویہ فصل الزاء مع الجیم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۳۲۰)
ولہٰذا ان علمانے لین و انطباع دولفظ کہے لین متقدم کے لئے اور اس کی مثال میں زجاج ہے اور انطباع متأخر کے لئے اس کی مثال میں حدید وغیرہ ہیں آخر نہ دیکھا کہ امام جلیل نسفی نے احتراق کی مثالوں میں رماد بھی ذکرفرمائی اور وہ ہرگز قالب احتراق نہیں لاجرم اس کے لئے احتراق متقدم مراد ہے کہ جلنے سے حاصل ہوئی، یوں ہی زجاج کے لئے لین اور اس پرشاہد عدل امام طاہر کاخلاصہ میں کلام ہے کہ زجاج کو اسی لین متقدم میں گنا، فرماتے ہیں:
لو تیمّم علی الذھب والفضۃ والشبہ او النحاس اوالرصاص اوالدقیق او الزجاج اوالحنطۃ او الشعیر مما لیس من جوھر الارض اومن جوھرھا الاانہ خلص من جوھرھا بالاذابۃ والاحراق لایجوز التیمّم بالاتفاق ۱؎۱ھ فقولہ لیس من جوھر الارض للدقیق والحنطۃ والشعیر وقولہ اومن جوھر ھو الخ للبواقی۔
اگرسونا، چاندی، پیتل، تانبا، سیسہ، آٹا، شیشہ، گیہوں، جَو کسی ایسی چیز سے تیمم کیا جوجوہرِ زمین سے نہیں یازمین ہی کے جوہرسے ہے مگرپگھلانے یاجلانے کے ذریعہ زمین کے جوہر سے نکلی ہے تو اس سے تیمم بالاتفاق جائز نہیں ۱ھ۔ ان کی عبارت ''جوہرزمین سے نہیں'' آٹا، گیہوں اور جَو سے متعلق ہے اور ان کا قول ''یازمین کے جوہرسے ہے مگر الخ'' باقی چیزوں سے متعلق ہے۔(ت)
یوں اُن عبارات کی توجیہ ہوجائے گی اور معنی انطباع پرکہ ہم نے تحقیق کئے غبار نہ آئے گا نہ زرنیخ وکبریت یہ سب عبارات متحد ہوگئیں باقی کثیر و وافر عبارات جن میں مثال زجاج نہیں اس نفیس ووجیہ توجیہ سے موجّہ ہیں جوسابق گزری جس سے وہ مذہب جمہورمشہور ومنصور پرماشی ہیں مگرعبارتِ عنایہ کہ اس کا اَوْ اسی توجیہ لاحق پر بنے گا ان دو۲ توجیہوں سے تمام عبارات موجّہ ہوگئیں۔
الاقوال(۱) الدر منطبع کزجاج فلم اجدلہ طبا ونسبتہ وحدہ الی السہوا سھل من نسبۃ سائر الکبراء الیہ ھذا ما عندی فان کان عند غیری احسن من ھذا فلیبدہ بامعان÷ فان المقصود اتباع الحق حیث کانا ÷ واللّٰہ المستعان÷ وعلیہ التکلان÷ والصّلوۃ والسلام الاتمان الاکملان÷ علی سید الانس والجان÷ واٰلہٖ وصحبہٖ کل حین واٰن ÷ والحمد للّٰہ رب العٰلمین÷
مگردرمختارکی عبارت ''منطبع کزجاج'' کاکوئی علاج میں نہ پاسکا۔ اور تنہا اسے سہو کی جانب منسوب کرلینا سارے بزرگوں کوسہو پرقرار دینے سے آسان ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے خیال میں آیا۔ اگرکسی کے پاس اس سے بہتر ہوتو بنگاہِ غور اس کا اظہار کرے کیونکہ مقصود حق کااتباع ہے حق جہاں بھی ملے اور خداہی سے مدد طلبی ہے اور اسی پرتوکّل ہے اور تام وکامل درودوسلام اِنس وجِن کے سردار اور سرکار کی آل واصحاب پرہرلمحہ وہرآن۔ اور ساری خوبیاں سارے جہان کے مالک خداہی کے لیے ہیں۔(ت)