اقول اولا : ان تکلفات سے عبارات توملتئم ہوگئیں ورنہ صریح رَد موجودتھا کہ ساتوں عبارات پیشین میں لین کہہ کر زجاج سے مثال دی ہے اور انطباع زجاج لین سے نہیں بلکہ ذوبان سے ہے مگر احکام غلط ہوگئے کبریت وزرنیخ یقینا ذائب بالنار اور بایں معنی منطبع بالنار ہیں تواس طورلازم کہ جنسِ ارض سے نہ ہوں اور ان سے تیمم ناجائز حالانکہ کبرت کے جنس ارض وصالح تیمم ہونے کی تصریح کتب معتمدہ مثل تبیین الحقائق (۱)وفتح القدیر(۲) اور بحرالرائق(۳) ونہرالفائق(۴) ومراقی الفلاح(۵) وفتاوٰی عالمگیریہ(۶) وفتح اللہ المعین(۷) وطحطاوی علی الدرالمختار (۸) وغیرہامیں ہے اور اصلا کسی نے اس میں اشارہ خلاف بھی نہ کیا اور زرنیخ کاتواتر تواس عظمت وشان سے ہے كہ اس کے امثال سے کسی میں نہیں خود محرر مذہب امام محمدرضی اللہ تعالٰی عنہ نے کتاب الاصل(۱) میں کہ کتب ظاہرالروایۃ سے ہے خود امام مذہب امام الائمہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس پرنص فرمایا پھر قدوری(۲) وہدایہ(۳)وملتقی(۴) وکافی(۵) و صدرالشریعۃ(۶) وتبیین(۷) وفتح القدیر(۸) وحلیہ(۹) و غنیہ(۱۰) ودرر(۱۱) و مسکین (۱۲) و برجندی(۱۳) و بحر(۱۴) و نہر (۱۵) و مراقی الفلاح(۱۶) و طحطاوی علی الدر(۱۷) و جلابی(۱۸) ونوازل (۱۹) امام فقیہ ابواللیث و محیط(۲۰) وخانیہ(۲۱) وخلاصہ(۲۲) وخزانۃ المفتین (۲۳) و منیہ(۲۴) و سراجیہ(۲۵) و ہندیہ (۲۶)وغیرہا متون وشروح وفتاوٰی نے بلااشعارنام خلاف اس کاجواز بتایا،کیا ایسے صریح نصوص جلیلہ علیہ متظافرہ متواترہ اس قابل ہوسکتے ہیں کہ کسی مثال کے مفہوم سے ان کو رد کردیاجائے حاشایہ سب نصوص اس وقت میرے پیش نظر ہیں یہاں تبرکاً صرف نص امام محرر المذہب اور کبریت میں فتحِ تبیین وتبیینِ فتح پرقناعت کروں۔ خلاصہ میں ہے:
فی الاصل قال ابوحنیفۃ ومحمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما یجوز التیمّم بجمیع ماکان من جنس الارض ومن اجزائھا نحو التراب والرمل والنورۃ والزرنیخ والجص و الحجر والمدروالاثمدوالکحل والطین الاحمر والاصفر والمغرۃ والحائط والمردارسنج ونحوہ ۱؎۔
مبسوط میں ہے امام ابوحنیفہ و امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا: تیمم ہراس چیز سے جائز ہے جو زمین کی جنس اور زمین کے اجزا سے ہو جیسے مٹی، ریت، چونا، ہڑتال، گچ، پتھر، ڈھیلا، اثمد، سرمہ، گلِ سرخج، گلِ زرد، گیرو، دیوار، مردارسنگ وغیرہ۔(ت)
امام فخرزیلعی نے فرمایا: یتیمم بطاھرمن جنس الارض کالتراب والحجر والکحل والزرنیخ والنورۃ و الجص والرمل والمغرۃ والکبریت والیاقوت والزبرجد والزمرد والبلخش والفیروزج والمرجان۲؎۔
تیمم کرے جنسِ زمین کی کسی پاک چیز سے جیسے مٹی، پتھر، سرمہ، ہڑتال، چونا، گچ، ریت، گیرو، گندھک، یاقوت، زبرجد، زمرد، بلخش، فیروزہ، مرجان۔(ت)
( ۲؎ تبیین الحقائق باب التیمم مطبوعہ امیریہ بولاق مصر ۱ /۳۸)
امام محقق علی الاطلاق نے فرمایا: دخل الحجر والجص والنورۃ والکحل والزرنیخ والمفرۃ والکبریت ۱؎ الخ۔
پتھر، گچ، چونا، سُرمہ، ہڑتال، گیرو، گندھک الخ، داخل ہے۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۱۲)
ثانیا: سب سے طرفہ یہ کہ مفاد مثال زجاج خود مثال زجاج سے منقوض یہ نقض ہم نے نقوض انطباع میں ذکرنہ کیا کہ اسی مقام کے لیے اس کاذخیرہ رکھنا مناسب تھا تحفہ و بدائع سے درمختار و ہندیہ تک آٹھوں کتابوں نے زجاج مطلق رکھا ہے کہ معدنی ومصنوع دونوں کو شامل او راس کا معدنی ضرور حجر ہے۔ جامع عبداللہ بن احمد اندلسی مالقی ابن بیطار میں ہے:
(زجاج) قال ارسطاطا لیس منہ متحجر ومنہ رمال والزجاج الوان کثیرۃ فمنہ الابیض الشدید البیاض الذی لاینکرمن البلوروھو خیراجناس الزجاج ومنہ الاحمر والاصفر والاخضر والاٰسمانجونی وغیرذلک وھو حجر من الاحجار کالمائق الاحمق من الناس لانہ یمیل الی کل صبغ یصبغ بہ والی کل لون یلون بہ ۲؎۔
(زجاج) ارسطو نے کہا اس میں متحجر بھی ہوتاہے اوراس میں ریت والا بھی ہوتاہے۔ اور زجاج کے بہت سے رنگ ہوتے ہیں، کوئی بہت سفیدی والا ہوتاہے جوبلور سے بیگانہ نہیں معلوم ہوتا اور یہ زجاج کی سب سے بہتر جنس ہوتی ہے۔ اور سرخ، زرد، سبز، آسمانی وغیرہ بھی ہوتاہے اور یہ پتھروں میں سے ایک پتھرہوتاہے جیسے انسانوں میں انتہائی بھولابے وقوف شخص ہوتاہے کیونکہ وہ ہررنگ لَون کی طرف جس سے اسے رنگاجائے مائل ہوجاتاہے۔(ت)
(۲؎ جامع ابن بیطار )
انوارالاسرار الآيات البینات کتاب المعدن میں ہے: اما حجر الزجاج فانواع کثیرۃ فی معادن کثیرۃ فمنہ متحجر ومنہ مترمل ۳؎ ۔
لیکن سنگِ زجاج توبہت سے معدنوں میں اس کی بہت سی قسمیں ہیں اس میں پتھر والابھی ہوتاہے اور ریت والا بھی ہوتاہے۔(ت)
( ۳؎ انوارالاسرار)
اسی میں ہے: حجر الزجاج اذااصابتہ النار ثم خرج الی الہواء من غیرات یتدخن تکسر ولم ینقنع بہ ۱؎۔
سنگِ زجاج کوجب آگ کی آنچ لگے پھردخان ہوئے بغیر ہوا میں نکل آئے توٹوٹ جاتاہے اور کارآمد نہیں رہتا۔(ت)
(۱؎ انوارالاسرار)
تحفہ تنکابنی میں ہے:ارسطو بلور را ازجنس معدنی اودانستہ وآئینہ سنگ ازجملہ معدنی وغیربلورست۲؎۔
ارسطو نے بلور کو اس کی معدنی جنس سے سمجھا ہے اور پتھرکاآئینہ معدنیات میں سے اور بلور کے علاوہ ہے۔(ت)
(۲؎ تحفۃ المومنین علی حاشیۃ مخزن الادویہ فضل الزاء مع الجیم مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۳۱۶)
مخزن میں ہے : (زجاج) دو۲نوع ست معدنی ومصنوع ومعدن آن اکثر جاست انچہ درتبریز توابع شیراز وغیرانست سنگے ست تیرہ رنگ ریزہ۳؎ الخ۔
زجاج کی دو۲قسمیں ہیں: معدنی اور مصنوعی۔ اور اس کامعدن اکثرجگہ ہے جوشیراز کے توابع میں سے تبریز وغیرہ میں ہوتاہے وہ ایک تاریک رنگ کا ریزہ ریزہ پتھرہوتاہے الخ۔(ت)
(۳؎ مخزن الادویہ فصل الزاء مع الجیم مطبوعہ منشی نولکشورلکھنؤ ص۳۲۰)
اور حجر بتصریح متواتر عامہ کتب میںعلی الاطلاق بلاتخصیص جنسِ ارض سے ہے چھبیس۲۶ کتابیں کہ زرنیخ میں مذکورہوئیں وہ سب اور اُن کے علاوہ (۲۷) وقایہ و(۲۸) اصلاح و(۲۹) نورالایضاح متون و(۳۰) درمختار و(۳۱) شلبیہ و(۳۲) مجتبی شروح و(۳۳) بزازیہ فتاوٰی وغیرہا زائد ہیں توزجاج سے تیمم جائز ہو اور وہ جنسِ ارض سے ہے حالانکہ اس معنی پرقید انطباع اسے خارج کررہی ہے کہ وہ خود ان کے اقرار سے منطبع ہے توجمع منقوض ہے۔
اگرکہیے زجاج میں ان علماء کا اطلاق مقید یعنی زجاج مصنوع پرمحمول ہے جوریتے اور کسی اور چیزغیرجنس ارض سے ملاکربنایاجاتاہے محققین شراح کابیان اس پرشاہد، تبیین میں محیط سے ہے:
ان خالطہ شیئ اٰخر لیس من جنس الارض لایجوز کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اٰخر لیس من جنس الارض۴؎۔
اگراس میں کسی ایسی چیز کی آمیزش ہو جوجنسِ ارض سے نہیں توجائز نہیں۔ جیسے وہ شیشہ جوریت اور کسی ایسی چیز سے بنایاگیاہو جوجنس زمین سے نہیں۔(ت)
( ۴؎ تبیین الحقائق باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ /۳۹)
فتح القدیر میں ہے:خرجت الاشجار والزجاج المتخذ من الرمل وغیرہ ۱؎۔
درخت اس سے خارج ہوگئے اور وہ شیشہ بھی جو ریت اور دوسری چیز سے بنایاگیا۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۱۲)
بحرالرائق میں ہے: لایجوز بالاشجار والزجاج المتخذ من الرمل وغیر۲؎۔
درختوں سے جائز نہیں اور اس شیشے سے بھی جائز نہیں جوریت اور دوسری چیز سے بنایاگیا ہو۔(ت)
مجمع الانہرمیں ہے: لایجوز بالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اٰخر۳؎۔
اس شیشے سے جائز نہیں جوریت اور کسی دوسری چیز سے بنا ہو۔(ت)
(۳؎ مجمع الانہر باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۸)
اسی طرح ابوالسعودازہری میں ہے۔ عبارت درمختار کفضۃ وزجاج (جیسے چاندی اور شیشہ۔ت) پرردالمحتار میں لکھا:
ای المتخذ من رمل وغیرہ ۴؎ بحر
(یعنی وہ شیشہ جو ریت اور دوسری چیز ملاکربنایاگیاہو۔بحر۔ت)توجسے منطبع کہا وہ جنسِ ارض سے نہیں اور جوجنس ارض سے ہے اسے منطبع نہ کہا۔
(۴؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر، ۱ /۱۷۶)
اقول: یہ اس وقت ہے کہ خود سنگ شیشہ معدنی اس معنی پر منطبع نہ ہو حالانکہ وہ بھی یقینا مثل مصنوع آگ سے گلتا، پگھلتا، ہو اسے ٹھنڈا ہوتا، سانچے میں ڈھلتا ہے، پھر مفرکدھرجامع میں ارسطوسے متصل عبارت مذکورہ ہے:
وھو سریع التحلل مع حرالنار سریع الرجوع مع الھواء البارد الی تحجرہ ۵؎۔
اور وہ آگ کی حرارت کے ساتھ تیزی سے تحلیل ہوجاتاہے اور ٹھنڈی ہوا کے ساتھ بہت جلد سنگی حالت کی جانب عود کرآتاہے۔(ت)
(۵؎ جامع ابن بیطار)
انوارالاسرار میں بعد عبارت سابقہ ہے: وھو من الین الاحجار علی النار وسریع الجفاف بعد التزویب ۱؎۔
اور وہ آگ پرسارے پتھروں سے زیادہ نرم ثابت ہوتاہے اور پگھلانے کے بعد بہت جلد خشک بھی ہوتاہے۔(ت)
(۱؎انوارالاسرار)
اسی میں ہے: یستحیل مع حرالنار ویجمدسریعا مع برودۃ الھواء۲؎۔
آگ کی حرارت کے ساتھ بدل جاتاہے اور ہوا کی برودت کے ساتھ بہت جلد جم جاتاہے۔(ت)