Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
139 - 166
پر علامہ طحطاوی نے فرمایا: کالجص عہ ۲؎ (جیسے گچ۔ت)۔
عہ: اقول فیہ ان الجص ھو الحجر نفسہ لارمادہ وانما رمادہ الکلس و یردہ ایضا علی جمع الشامی بینھما و الجواب انہ قد یطلق الجص علی الکلس تجوزا کما فی الحلیۃ عن النصاب الحجر طبخ حتی صار جصا لتیمم جاز وعلیہ الفتوی ۱ھ فالکلس فی ش عطف تفسیر ۱۲منہ غفرلہ۔(م)

اقول:  (میں کہتاہوں) اس پر یہ اعتراض ہے کہ جص خود پتھرہی ہے پتھر کی راکھ نہیں راکھ تو کِلس (چونا) ہے۔ مثال میں علامہ شامی کے جص اور کِلس دونوں جمع کرنے پربھی یہ اعتراض ہوگا۔ اور جواب یہ ہے کہ کلس (چونا) کوکبھی مجازاً جص(گچ) کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ حلیہ میں نصاب کے حوالہ سے ہے۔ پتھر اتناپکایا گیا کہ جص (یعنی چونا) ہوگیا پھر اس سے تیمم کیاتو جائز ہے اور اسی پرفتوٰی ہے ۱ھ۔ توشامی میں لفظ کلس عطف تفسیری ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
 ( ۲؂الطحطاوی علی الدرالمختار	۱/ ۱۲۸)
علامہ شامی نے فرمایا: کجص وکلس ۱؂
 (جیسے گچ اور چُونا۔ت) یوں ہی حجر ترکستان ونورہ ومردار سنگ مدنی۔
 (۱؂ردالمحتار        باب التیمم       دار احياء التراث العربی بیروت      ۱/ ۱۶۰ )
 (۱۵) یہاں مرادلین انطراق ہے اور وہ نہ جص ومکلس میں نہ کبریت وزرنیخ میں۔

(۱۶) یو ں ہی کبریت وزرنیخ میں ذوبان انحلال ہے نہ ذوبان تعقد وانطراق کہ یہاں مراد۔

(۱۷) ان میں اور جص وحجر فتیلہ وسنگ بحیرہ وحجر خزامی اور ریل کے کوئلے اور ارض محترقہ میں احتراق ہو ترمُّد نہیں جو یہاں مراد۔

نقوض منع کادفع۔ اقول بحمد اللہ وہ بہت سہل ہے ہرتعریف میں جنس ملحوظ ہوتی ہے علمائے کرام نے بوجہ وضوح ونیز تصریحات باب یہاں اس کاذکر مطوی فرمایا جیسا کہ اکثر ان کی عادات کریمہ سے معہود، لہٰذانظرمیں نقوض نظرآتے ہیں اور حقیقۃً کچھ نہیں وہ جنس جسم ثقیل یابس الاصل بے مائیت یاقلیل المائیۃ ہے اس سے:

(۱) پانی عرق ماء الجبن، شیر، بہتاگھی، تیل، گاز  اور ان کے امثال کاخروج ظاہر۔

(۲) یونہی شکر کاقوام جماہواگھی وہ کیچڑ جس پرپانی غالب ہے اولا پالاکَلْ کابرف۔

(۳) یونہی پارے کامغلوب المائیۃ ہوناظاہرگویاوہ پانی ہے کہ پورا جمابھی نہیں۔

(۴) سانبھرپانی سے بنتی ہے۔

(۵) یوں ہی ہرقسم زاج انوارالاسرار میں ابن سیناسے ہے:
الزاجات جواھرتقبل الحل وقد کانت سیالۃ فانعقدت۲؎۔
زاجات ایسے جواہر جوحل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں پہلے سیال تھے پھرگرہ پکڑلی۔(ت)
 ( ۲؎ انوارالااسرار)
 (۶) اگرزاج بمعنی شب یعنی پھٹکڑی لوتووہ بھی مائیت منعقدہ ہے۔

(۷) رال اور کافور دونوں گوند ہیں اور گوند درخت کی رطوبت کہ جم جاتی ہے۔

(۸) رماد معنی دوم وسوم پر اس جسم کے جلے ہوئے اجزاہیں جواجزائے کثیرہ رطبہ پرمشتمل تھا، توبحمدہ تعالٰی سب جنس سے خارج لہٰذا جنسِ ارج سے خارج توجنسِ ارض کی تعریف میں اصح وواضح وجامع ومانع عبار پانزدہم عبارت رضویہ ہے وہ ثقیل عہ  یابس الاصل کہ نہ کثیر المائیۃ ہو نہ آگ سے منطرق۔ عدم ترمد خود جنس میں آگیا کماعلمت (جیسا کہ معلوم ہوا۔ت)تواصح تعریفات تعریف جلابی تھی اگرکل جزء منہ کی جگہ یہ جنس ہوتی۔
عہ:  ثقیل سے نارخارج ہوئی کہ طالب محیط ہے ورنہ باقی اوصاف اس پرصادق تھے یابس الاصل سے پانی خارج ہوا اور دونوں سے ہوا کہ نہ طالب مرکز ہے نہ خشک۔ باقی فوائد مباحث سابقہ سے ظاہر ہیں۔۱۲منہ غفرلہ(م)
ھکذا ینبغی التحقیق÷ واللّٰہ سبحٰنہ ولی التوفیق÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی علی السید الکریم الرحیم الرفیق÷ واٰلہ وصحبہ ھداۃ الطریق÷ اٰمین۔
اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے، اور اللہ سبحانہ وتعالٰی ہی توفیق کامالک ہے اور خدائے تعالٰی رحمت نازل فرمائے رحم وکرم اور نرمی والے آقا اور ان کی آل واصحاب پرجوراہِ حق کے ہادی ہیں۔ الٰہی قبول فرما۔(ت)
تنبیہ نبیہ: یہ ہے وہ کہ بتوفیق لطیف عبدِ ضعیف پرظاہرہوا جس نے کلمات ملتئم کردئے اور احکام منتظم اور نقوض منعدم۔ مگریہاں ایک شبہ قویہ ہے متعدد اکابر نے منطبع کی مثال میں زجاج لکھا بدائع پھر ہندیہ اور تحفہ پھر ایضاح میں ہے:
مایحترق کالحطب اوینطبع ویلین کالحدید والزجاج ۱؎۔
جوجلے، جیسے لکڑی، یامنطبع اور نرم ہو، جیسے لوہا اور شیشہ۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل مایتیمم بہ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۵۳)
اسی کے مانند شرح مسکین میں ہے، کافی میں ہے: لابماینطبع ویلین اویحترق کالنقدین والرصاص والزجاج ونحو الحنطۃ و الملح والرماد۲؎۔
اس سے نہیں جومنطبع اور نرم ہو یا جلے جیسے سونا، چاندی، سیسہ اور یشہ اور جیسے گیہون، نمک اور راکھ۔(ت)
 (۲؎ کافی )
حلیہ میں ہے: مالایحترق کالحطب ولایلین ولاینطبع کالزجاج۳؎۔
جولکڑی کی طرح جلنے والا نہ ہو اور شیشے کی طرح نرم ہونے والا اور منطبع ہونے والا نہ ہو۔(ت)
 ( ۳؎ حلیہ)
درمختارمیں ہے: لابمنطبع کفضۃ وزجاج۴؎۔
چاندی اور شیشے جیسی کسی منطبع چیز سے نہیں۔(ت)
 (۴؎ الدرالمختار مع الشامی    باب التیمم   مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۷۶)
اور ظاہر ہے کہ زجاج منطرق نہیں اس کاانطباع یوں ہی ہے کہ آگ سے پگھلتا اور سانچے میں ڈھلتا اور ٹھنڈا ہوکرصورت پرقائم رہتاہے توثابت ہوا کہ ان کے نزدیک یہی لین وذوبان بالنار کہ قبول صورت کے لئے مہیا کریں انطباع بالنار ہیں خواہ قیامِ صورت خود اس شے کے اپنے ذاتی وصف سے ہو جیسے سونے چاندی میں بصورتِ لین مجرد یابرد وزوال اثرِ نار سے جیسے ان میں بصورت ذوبان۔ اور عبارتیں اب بھی ملتئم ہوجائیں گی اگرچہ بتکلّف۔ لین سے خاص وہ مراد ہے کہ انطباع کے قابل کرے خواہ بذاتِ خود یاذوبان تک بڑھ کریوں ہی ذوبان سے، اور ظاہراً جوآگ سے ایسا نرم ہوسکے گا ایسا ذائب بھی ہوسکے گا توصلاحیتِ لین مزبور وذوبان مذکور متلازم ہوئیں اور یہ صلاحیت انطباع بالنار سے مقصود تولین یاذوبان یاانطباع جو کچھ کہاجائے حاصل ایک ہے او تخالفِ عبارات صرف تخالف تعبیر۔ ہاں فقط عبارت عنایہ اب بھی محل نظررہے گی اور کہہ سکتے ہیں کہ اس میں لین سے لین مجرد موجب انطباع مراد اور عطف خاص علی العام، اور فقہائے(۱) کرام اس میں حرفِ اَوْ جائز رکھتے ہیں ردالمختار صدرنکاح میں زیرقول شارح فاسقین اومحدودین (فاسقین یاجن پرحدجاری کی گئی ہو۔ت) ہے:
ذکرالاخص بعد الاعم واقع فی افصح الکلام علی انھم صرحوا انہ اذاقوبل الخاص بالعام یراد بہ ماعداالخاص لکن فی المغنی ان عطف الخاص علی العام مما تفردت بہ الواو وحتی لکن الفقھاء یتسامعون بجوازہ بثم وباو کما فی حدیث ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا او امرأۃ ینکحہا ۱؎۔
اعم کے بعد اخص کاذکرافصح کلام میں وارد ہے۔ علاوہ ازیں اربابِ فن نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ جب عام کے مقابلہ میں خاص لایاجائے تواس عام سے خاص کے ماسوا مراد ہوتے ہیں لیکن مغنی میں یہ ہے کہ عام پرخاص کومعطوف کرنے کے لئے ''واو اورحتی'' متفرد ہیں لیکن ''او'' کے ذریعہ اسے معطوف کرنے میں فقہاء تسامح برتتے ہیں۔ میں کہتاہوں۔ اور بعض حضرات نے ''ثم اور او'' کے ذریعہ اس عطف کے جواز کی صراحت ہے جیسے حدیث ومن کانت ھجرتہ الخ میں ہے: اور جس کی ہجرت کسی دنیا کی طرف ہو جسے حاصل کرے یاکسی عورت کی طرف جس سے نکاح کرے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب النکاح        مطبع مصطفی البابی مصر   ۲ /۲۹۷)
Flag Counter