Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
138 - 166
وللّٰہ الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ÷ والصلاۃ والسلام علی المولی الکریم واٰلہ وصحبہ وذوبہ÷
اور خدا ہی کے لیے حمد ہے کثیر پاکیزہ برکت والی حمد، اور درودوسلام ہرکرم والے آقا ااور ان کی آل، اصحاب اور ان کے سارے لوگوں پر۔(ت)

بحمدہ تعالٰی ہمارے اس بیان سے ظاہرہواکہ انطباع بالنار اور لین وذوبان کہ آثار ِ نار میں شمار ہوتے ہیں خود ہی صرف منطرقات میں ہوتے ہیں نہ یہ کہ ہوئے اور میں بھی ہیں اور ہم نے منطرقات کی تخصیص کرلی۔

نکتہ رابعہ:  (ان آثار میں کیاکیا طبیعت زمین کے مخالف ہے) بحمدہ عزوجل ہمارے بیان سے روشن ہواکہ ان اجسا م میں باعتبار آثارنار جسم کی چھ۶ حالتیں ہیں، تین۳ضعیف الترکیب میں نفاد، نکلس، ترمُّد۔ تین قوی الترکیب میں امتناع ،لین وذوبان۔

اقول: ان میں امتناع توظاہر ہے کہ طبیعت ارضیہ کے کچھ منافی نہیں بلکہ اس کامشہورخاصہ ہے یونہی نکلس بھی کہ اس جسم میں ہوتاہے جس میں اجزائے ارضیہ بکثرت اور رطوبات بہت کم ہیں اور (۴) اعتبارغالب ہی کاہے تووہ جسم جنس ارض ہی سے ہے خانیہ و ظہیریہ و خزانۃ المفتین و حلیہ و جامع الرموز و مراقی الفلاح و درمختار و ہندیہ میں ہے:
التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض یعتبرفیہ الغلبۃ ۱؎۔۱ھ ونظم الدر لو الغلبۃ لتراب جازوالالاخانیۃ ومنہ علم حکم التساوی۲؎۔
مٹّی میں جب ایسی چیز مل جائے تو جنسِ ارض سے نہ ہو تو اس میں غلبہ کااعتبار ہوگا۱ھ۔اور درمختارکی عبارت یہ ہے:   اگرغلبہ مٹی کاہوتوتیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اسی سے اس صورت کابھی حکم معلوم ہوگیا جس میں دونوں برابربرابر ہوں۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان    فصل بیمایجوزبہ لتیمم    مطبوعہ نولکشورلکھنؤ   ۱/۲۹)

(۲؎ درالمختار مع الشامی    باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر   ۱ /۱۷۷)
اسی طرح نفادبھی منافی نہیں کہ یہاں نفاد یاانتفا بایں معنی نہیں کہ شَے صفحہ ہستی سے معدوم ہوجائے بلکہ استحالہ جیسے پانی بھاپ ہوکراُڑجاتاہے فناہوگیا یعنی برتن خالی کرگیا اب اس میں کچھ نہ رہا یاپانی پانی نہ رہا بخارات ہوگیا اور (۱) معلوم ہے کہ استحالہ چاروں عنصروں پرواردہوتاہے خواہ بلاواسطہ جیسے مجاور کی طرف کہ اجزائے ارضیہ پانی ہوجائیں پانی ہَوا ہَوا آگ یابالعکس یاایک واسطہ سے جیسے ارضیہ ہوا، مائیہ آگ اور بالعکس پہلے میں پانی کی وساطت دوسرے میں ہواکی یادو۲واسطہ سے جیسے ارضیہ آگ اور بالعکس بوساطتِ آب وہوا توصورتیں بارہ ۱۲ ہیں کما فی شروح المقاصد والمواقف والتجوید للتفتازانی والسید والقرشجی (جیسا کہ علامہ تفتازانی کی شرح مقاصد، سیّد شریف کی شرح مواقف اور قرشجی کی شرح تجرید میں ہے۔ت) ہرعنصر کے لیے تین جن میں ارض بھی داخل بلکہ اجزائے(۲) ارضہ بلاواسطہ بھی آگ ہوجاتے ہیں
وھو قضیۃ ما فی المواقف وغیرھا ینقلب کل الی الاٰخربعضہا بلاواسطۃ وھو کل عنصریشارک اٰخر فی کیفیۃ ویخالفہ فی کیفیۃ۳؎ ۱ھ ملخصاً فان الارض مع النارکذلک۔
یہی مواقف وغیرہ کی عبارت ذیل کامقتضی ہے: ''ہرعنصر دوسرے سے بدل جاتاہے بعض کی تبدیلی بلاواسطہ ہوتی ہے اور یہ ہروہ عنصر ہوتاہے جوایک کیفیت میں دوسرے عنصر کاشریک ہو اور دوسری کیفیت میں اس کے مخالف ہو۔'' اھ اور نار کے ساتھ ساتھ ارض کاحال یہی ہے۔ت) (یبوست میں دونوں شریک ہیں اور حرارت وبرودت میں باہم مختلف ۱۲م۔ الف)
(۳؎ شرح المواقف المقصد الحادی عشرمن القسم الثالث    مطبعۃ السعادۃ مصر   ۷/۵۶۔۱۵۵)
ابن سینا نے اشارات میں یبوستِ نار پردلیل قائم کی کہ انھا اذاخمدت وفارقتھا سخونتھا تکون منہا اجسام صلبۃ ارضیۃ یقذفہا السحاب الصاعق ۱؎
 (وہ جب بجھ جائے اور اس سے اس کی گرمی جداہوجائے تواس سے ٹھوس اجسامِ ارضیہ بن جاتے ہیں جنہیں صحاب صاعق گراتاہے۔ت)
 (۱؎ شرح اشارات    تنبیہ فالجسم البالغ فی الحرارۃ طبعہ ھوالنار    مطبوعہ منشی نولکشورلکھنؤ    ص۶۹)
اور یہ مشاہدہ ہے چند سال ہوئے ضلع علی گڑھ میں ایک صاعقہ گرنا مسموع ہوا والعیاذباللہ تعالٰی جس میں سخت کڑک تھی سرد ہونے پر دیکھا تولوہاتھا جب آگ بلاواسطہ خاک ہوجاتی ہے خاک بلاواسطہ آگ کیوں نہ ہوگی لاجرم حسین میبذی نے کہا:
صرحوا ان النار القویۃ تحیل الاجزاء الارضیۃ نارا۲؎۔
لوگوں نے تصریح کی ہے کہ طاقتورآگ زمینی اجزاء کوآگ سے تبدیل کردیتی ہے۔(ت)
 (۲؎ المیبذی   (فصل بسائط العنصریہ) انقلاب العناصر    مطبع انوارمحمدی لکھنؤ    ص۲۲۴)
یوں بلاواسطہ آٹھ استحالے ہوئے زمین برودت جاکرآگ یبوست جاکر پانی پانی رطوبت جاکر زمین برودت جاکرہَوا ہُوا حرارت جاکر پانی رطوبت جاکر آگ آگ یبوست جاکر ہَوا حرارت جاکر زمین۔ فلاسفہ (۱) بیچ کے چھ مانتے ہیں اوّل وآخر کے دو۲نہ ماننا تحکم ہے تویہ ارض کے لئے چوتھی صورت ہوئی کہ ابتداء  آگ ہوجائے ہاں نہ رطوباتِ کثیرہ جزء ارض ہوتی ہیں جن پرترمُّد موقوف نہ دہنیت ماسکہ جس پرلین وذوبان توچھ۶ میں یہی تین منافی ارضیت ہوئے۔

وبعبارۃ اخری ان میں آثار نارپانچ ہیں کہ یاکل جسم صاعد ہوجائے گا جوہردوقسم کی پہلی صورت کو شامل یا بعض قلیل یابعض کثیریااصلانہیں اور متحجر رہے گا کہ ضرب مطرقہ سے بکھرجائے یامنطبع کہ اس کی ضرب سے متفرق نہ ہو اور بڑھے پھیلے اول منافی ارضیت نہیں کہ اجزاء ارضیہ آگ ہوکر سب صاعد ہوجائیں گے نہ دوم کہ بعض قلیل پراشتتمال ارضیت سے خارج نہیں کرتا نہ چہارم کہ یہ خوشانِ ارض ہے۔ ہاں سوم وپنجم کہ زندہ انطباع ہیں منافی ارض ہیں، ولہٰذا علمائے کرام نے یہی اوصاف لیے جن کے ثبوت سے جنس ارض کاانتفاہو اورانتفاسے ثبوت ہو فللّٰہ درھم ماادق نظرھم (توخداہی کے لیے ان کی خوبی ہے۔ ان کی نظر کیا ہی دقیق ہے۔ت) اوریہیں سے ظاہرہوا کہ ترمّد جومنافی ارضیت ہے یہی بمعنی اوسط ہے نہ بمعنی اول شامل تکلیس کہ جنس ارض میں بھی حاصل یونہی احتراق کہ منافی ارضیت ہے یہی بمعنی ترمّد ہے ورنہ بمعنی سخونت وتکلس ونفاد خود ارض میں موجود۔
کذالک ینبغی التحقیق ÷ وللّٰہ الحمد علی حسن التوفیق÷ وافضل صلاۃ واکمل سلام علی النّبی الرفیق÷ واٰلہ وصحبہ اساطین الدین واراکین التصدیق÷
یوں ہی تحقیق ہونی چاہئے اور حسن توفیق پرحمد خدا ہی کی ہے اور بہتر درود، کامل ترسلام ہونرمی والے نبی اور ان کی آل واصحاب پرجودین کے ستون اور تصدیق کے ارکان ہیں۔(ت)
حل اشکالات وتطبیقِ عبارات۔ اشکالوں کااٹھانا اورعبارتون کامتفق کردکھانا۔
بحمدہ تعالٰی ہمارے ان بیانات سے الفاظِ خمسہ کے معانی مقصودہ اور ان کی نسبتیں ظاہرہوگئیں کہ احتراق(۱) عین ترمُّد ہے اور ترمّد۲ بمعنی اوسط اور ۳لین وانطباع وذوبان سب کاحاصل انطراق، صلاحیت لین وانطباع متلازم فی الوجود ہیں اور ان کے مشتق متساوی فی الصدق اور ۵صلوح ذوبان بھی ظاہراً ان دونوں کالازم وملزوم اور ان کااس سے مطلقاً عموم بھی ایک احتمال غیرمعلوم۔ اب بارہ۱۲ عبارات اعنی باستثنائے دو۲پیشین اول موردایراد اور دوم باطل ہے سب کاحاصل دو۲وصفوں کااعتبار ہوا ترمّد وانطراق پانچوں وصف انہیں دو۲ کی طرف راجع ہوگئے اور بفضلہ تعالٰی اتنے فائدے ظاہرہوئے:

(۱) انطباع کی لین سے تفسیر کہ درر نے کی اس کے خلاف نہیں، صرف اصل مفہوم انطباع یعنی قابلیت عمل کااس میں اظہار فرمادیا ونعم فعل (اور کیاہی اچھاکیا۔ت)

(۳) یلین وینطبع خواہ ینطبع ویلین ہرایک میں ایضاح کے لئے جمع متساوین ہے ان میں نہ اتحاد مصداق باطل نہ جمع ہیں ایہام غلط نہ کوئی لغویت نہ تفسیر بالاخفی۔

(۴) اظہرتساوی انطباع وذوبان ہے توبدستور یذوب وینطبع خواہ ینطبع ویذوب ایک ہی بات ہے اور اجتماع مثل جمع ولین وانطباع البتہ اگرعموم انطباع ثابت ہوتو عبارات نہم ودہم ویازدہم نیزعبارات شمس الائمہ وظہیریہ وخانیہ وخزانۃ المفتین میں جمع ذوبان وانطباع یاذوبان ولین ضرور موہم غلط ہوگا کہ اب جنسیت ارض وجود ذوبان پرموقوف رہے گی حالانکہ مجروانطباع سے حاصل لاجرم واوبمعنی اَوْلینا ہوگا اور ذکر ذوبان ضائع۔ ان اکابر سے اس کا صدور ہمارے اس استظہار کی صحت پر دلیل ہے کہ ذوبان بھی ملازم انطباع ہے۔
 (۵) عبارت ششم میں ایک طرف اضافہئ انطباع دوسری طرف ترک کاحاصل ایک ہی ایضاحاً بڑھایا اور ایجازاً کم کیا۔

(۶) یوں ہی عبارت سیزدہم میں ترک وذکرلین۔

(۷) ینطبع ویلین میں نفع ایضاح مراد ہے کہ لفظ انطباع قلیل السماع اور یلین وینطبع میں ازاعت وہم ہے کہ توہم لیں بمعنی عام کااندفاع۔

(۸) یوں ہی ذوبان وانطباع کی تقدیم وتاخیر میں۔

(۹) عبارت یازدہم میں خوبی یہ ہے کہ قسم دوم میں نار کے دونوں اثراصلی لے لیے اگرچہ ذکرلین کافی تھا۔

(۱۰) سوم وچہارم وچہاردہم میں نفع ایجاز ہے کہ ملزومات ثلٰثہ انطراق سے صرف ایک لیا کہ دلالت علٰی المقصود پربس تھا باقیوں کامسلک ایضاح کے لیے اطناب۔

(۱۱) عبارت عنایہ میں برخلاف کل اومساحت ہے یاالف زیادت ناسخ یااوتکییر فی التعبیر کے لیے یعنی ینطع کہو یایلین حاصل ایک ہے۔

(۱۲) غرر میں بعد وھو لفظ مابڑھنا چاہیے اور دُرر میں پہلا اوگھٹنا کہ وہ جنس کی تفسیر ہوجائے اور یہ غیرجنس کابیان واللہ تعالٰی اعلم۔

نقوض جمع کادفع(۱۳) کبریت وزرنیخ منطرق نہیں تومنطبع کہاں۔
 (۱۴) یہاں ترمّد بمعنی اوسط ہے اور
ررماد حجربمعنی اول لاجرم قول درمختار الا رماد حجر ۱؂
(مگر پتھر کی راکھ۔ت
 (۱؂درمختار   باب التیمم       ۱/ ۴۲)
Flag Counter