Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
137 - 166
یہاں دواختلاف باہم دونوں کتابوں میں ہوئے انہوں نے قسم دوم یعنی شدید الاستحکام کی چار نوعیں کی:

(۱) معتدل جس میں اجزائے لطیفہ وکثیفہ تقریباً برابرہوں۔

(۲) لطیف بالغلبہ جس میں اجزائے لطیفہ بہت غالب ہوں۔

(۳) کثیف متقارب جس میں اجزائے کثیفہ غالب ہوں مگر نہ بشدّت۔

(۴) کثیف متفاحش جس میں کثیفہ بشدت غالب ہوں یہان تک متفق ہیں مگرموافقت نے معتدل کاحکم سیلان رکھا اور دوران کواسی کاتابع کیا اور کثیف متقارب کاحکم صرف لین رکھا اور شرح مقاصد نے معتدل کاحکم فقط دوران لیا اور کثیف متقارب میں کہیں سیلان کہیں لین کیا۔

اقول: صحیح(۱) یہ ہے کہ دوران نہیں مگرایک حالت سیلان جیسا کہ مواقف نے کیا اور سیلان(۲) نوع اول سے ہرگزخاص نہیں سوم میں بھی یقینا ہے جیسا شرح مقاصد نے کہا اور لین اگربمعنی صلاحیت نرمی لیاجائے تودونوں کوعام اور اگربایں معنی ہوکہ صرف ناربلاحیلہ اس سے زیادہ عمل نہ کرے توبے شک صرف نوع سوم سے خاص جیسادونوں نے کیا (۳) بلکہ اس کے بھی بعض افراد سے جیسا شرح مقاصدنے کہا اور پانچ عہ  اختلاف بیان فقیر کو ان بیانات اکابرسے ہوئے:

(۱) فقیرنے قسم اوّل یعنی ضعیف الترکیب میں تین۳ حکم رکھے نفاد، تکلس، ترمُّد۔ انہوں نے صرف ایک حکم لیا تفریق۔ یہ کوئی اختلاف نہیں کہ تینوں حکم اسی تفریق کی شکلیں ہیں۔
عہ :  پانچ گنائے ہیں ان میں پہلا حقیقۃ اختلاف نہیں چار رہے ان میں چوتھا دوہوکرپھرپانچ ہوگئے ۱۲منہ غفرلہ(م)
 (۲)فقیرنے نفاد قسم اوّل میں رکھا اور بیشک اس میں(۴) ہے جس پرکبریت شاہد اور کبریت کاضعیف الترکیب ہوناخودانہیں کتب سے ظاہر۔ شرح مواقف میں مباحث مشرقیہ امام رازی سے ہے:
الاجسام المعدنیۃ اماقویۃ الترکیب وح اماانیکون منطرق اما لغایۃ رطوبتہ کالزیبق اولغایۃ یبوستہ کالیاقوت ونظائرہ، واما ضعیفۃ الترکیب فاما ان تنحل بالرطوبۃ وھو الذی یکون ملحی الجوھر کالزاج ولنوشادر والشب اولاتنحل وھوالذی یکون دھنی الترکیب کالکبریت والزرنیخ ۱؎۔
معدنی اجسام یاتوقوی الترکیب ہوتے ہیں۔ اور اس وقت یاتومنطرق ہوتے ہیں۔ یہ اجسام سبعہ ہیں۔ یامنطرق نہیں ہوت۔ غایت رطوبت کی وجہ سے جیسے پارہ یاغایت یبوست کی وجہ سے جیسے یاقوت اور اس کے نظائر۔ یاضعیف الترکیب ہوتے ہیں پھریوتورطوبت کی وجہ سے گھل جاتے ہیں۔ یہ وہ جو نمک والا جوہر رکھتے ہیں جیسے زاج، نوشادر اور شب۔ یا گھلتے نہیں۔ یہ وہ ہیں جودُہنی (روغن والی) ترکیب رکھتے ہیں جیسے کبریت اور زرنیخ۔ (ت)
 (۱؎ شرح مواقف    الفصل الثانی فیمالانفس لہ من المرکبات    المطبعۃ السعادۃ مصر    ۷/ ۱۷۳)
شرح مقاصدمیں ہے: الذائب المشتعل ھو الجسم الذی فیہ رطوبت دھنیۃ مع یبوسۃ غیرمستحکم المزاج ولذلک تقوی النارعلی تفریق رطبہ عن یابسہ وھوالاشتعال وذلک کالکبریت والزرنیخ۲؎۔
شعلہ زن پگھلنے والاوہ جسم ہوتاہے جس میں یبوست کے ساتھ دہنی رطوبت ہومستحکم المزاج نہ ہو اسی لئے آگ اس کے رطب کویابس سے جداکرنے کی قوت رکھتی ہے اور یہی اشتعال ہے اس کی مثال کبریت اور زرنیخ ہے۔(ت)
 (۲؎ شرح المقاصد    المبحث الاول المعدنی        دارالمعارف النعمانیہ لاہور    ۱/ ۳۷۴)
انہوں نے قسم دوم میں صعود بالکلیہ رکھا اور وہ فی نفسہٖ حق تھا وہ وہی ہے کہ بیان فقیرمیں عدم قرار علی النار سے تعبیر اور سیماب سے ممثل ہوا مگر ان اکابر  عہ نے نوشادر سے ممثل کیا جس سے ظاہر کہ صورت نفاد بھی اسی میں لیتے ہیں کہ نوشادر میں یہی واقع ہے۔
عہ : اصفہانی نے شرح طوالع الانوار میں لفظ کی مثال دی یہ بھی اسی نفاد کی طرف گئی ۱۲منہ غفرلہ۔(م)
اقول:  اوّلا(۱): استحکام ترکیب کے منافی کہ جب گرہ نہ کھلے گی جسم نفاد نہ پائے گا۔

ثانیا : نوشادر(۲) ہرگزقوی الترکیب نہیں پھراسے اس قسم میں شمار فرمانا صریح سہو ہے اس کاضعیف الترکیب ہونا ابھی شرح مواقف سے بحوالہ امام رازی گزرا۔ اہل فن تصریح کرتے ہیں کہ وہ چار(۳) معدنیات غیرکامل الصورۃ سے ہے کہ زاجات واملاح ونوشادرات وشبوب ہیں۔ تذکرہ داؤدمیں زیرشب ہے:
قال اھل التحقیق لمولدات التی لم تکمل صورھا من المعدنیات اربعۃ اشیاء شبوب واملاح ونوشادرات وزاجات۳؎۔
اہل تحقیق کاقول ہے کہ وہ مولّدات جن کی صورتیں کامل نہ ہوئیں معدنیات میں سے چارچیزیں ہیں: شب، ملح، نوشادر، زاج۔(ت)
(۳؎ تذکرہ داؤد انطاکی    (حرف الشین) شب کے تحت    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۰۹)
 (۳) فقیرنے اس قسم دوم کی تین قسمیں کیں:

(i) شدید الاستحکام متفاحش رطب یہ سیماب ہے اور ان کی انواع اربعہ سے نوع دوم لطیف بالغلبہ۔

(ii) متفاحش یابس جیسے یاقوت وغیرہ یہ ان کی انواع سے نوع چہارم ہے۔

(iii) شدیدالاستحکام متقارب یہ اُن کی نوع اوّل وسوم ہیں اور یونہی (۱) چاہئے تھا کہ اقسام بحسب احکام ہیں مواقف نے سیلان معتدل سے خاص جانا اور لین کثیف متقارب سے اور شرح مقاصدنے دوران معتدل سے خاص جانا اور سیلان ولین کثیف متقارب سے لہٰذا انہیں دوجداقسمیں کرنی ہوئیں، (۲)اور حق یہ کہ یہ تخصیصات نہیں لہٰذا فقیر نے ان کو ایک ہی نوع کیا ہاں اگر ثابت ہوکہ بعض چیزیں صرف نرم ہوتی ہیں بہتی نہیں توالبتہ لین وذوبان کے لیے دو۲نوعیں کرنی ہوں گی مگروہ ثابت نہیں۔

(۴) فقیرنے اول کاحکم عدم قرارعلی النار رکھا انہوں نے صعود کل کہا دوم کا ان کی طرح سکونت سوم میں لین وذوبان ودوران جمع کیے، یہ مقاصد کے یوں موافق ہوا کہ اس کی وہ دونوں نوعیں اسی میں آگئیں اور یوں مخالف کہ دوران کو سیلان ہی کی فرح ٹھہرایا نہ کہ حکم مستقل، اور مواقف کے یوں موافق ہوا کہ دوران وسیلان جداحکم نہ ٹھہرائے اور یوں مخالف کہ انہوں نے اس میں صرف لین رکھا۔

(۵) دونوں کتابوں نے اجزائے خفیفہ وثقیلہ کے تجاذب کوعلت دوران رکھا اور فقیرنے اسی کو نفسِ سیلان کی علت رکھا تھا اور ان کے مطالعہ کے بعدکہ دوران بڑھایا اس کی علت میں اس پرتکافی قوتین کواضافہ کیامتامل (۳) پر روشن کہ یہی اظہر وازہرہے اور باقی احکام میں صحت بحمداللہ تعالٰی احکام فقیرکی طرف اوپربیان ہوچکی۔
Flag Counter