Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
136 - 166
مواقف عہ وشرح میں ہے: (الحرارۃ فیہا قوۃ مصعدۃ) ای محرکۃ الی فق لانہا تحدث فی محلہا الخفۃ المقتضیۃ لذلک (فاذا اثرت (۱) فی جسم مرکب من اجزاء مختلفۃ باللطافۃ والکثافۃ ینفعل اللطیف منہ اسرع فیتابدر الی الصعود الالطف فالالطف دون الکثیف فیلزم منہ تفریق المختلفات ثم الاجزائ(۲)) بعد تفرقھا (تجمع بالطبع) الی ما یجانسہا لان طبائعہا تقتضی الاحرکۃ الی امکنتہا الطبعیۃ ولانضمام الی اصولہا الکلیۃ (فان الجنسیۃ علۃ الضم) کما اشتہر فی الالسنۃ (ھذا اذالم یکن الالتئام بین بسائط، ذلک المرکب شدیدا) اما اذا اشتد الالتحام وقوی الترکیب فالنار لاتفرقہا فان کانت الاجزاء اللطیفۃ والکثیفۃ متقاربہ) فی الکمیۃ (کما فی الذھب افادتہ الحرارۃ سیلانا) وذوبانا (وکلما حاول الخفیف صعودا منعہ الثقیل فحدث وتجاذب وفیحدث دوران و ان غلب اللطیف جدا فیصعد ویستصحب الکثیف لقلتہ کالنوشادر) فانہ اذا اثرت فیہ الحرارۃ صعد بالکلیۃ (اولا) یغلب اللطیف بل الکثیف لکن لایکون غالبا جدا (فتفیدہ) الحرارۃ (تلیینا کما فی الحدید وان غلب الکثیف جدالم یتأثر) بالحرارۃ فلایذوب ولایلین (کالطلق) فانہ یحتاج فی تلینیہ الی حیل یتولاھا اصحاب الاکسیر من الاستعانۃ بما یزیدہ اشتعالاکالکبریت والزرنیخ ولذلک قیل من حل الطلق استغنی عن الخلق۱؎۔ ملخصاً
 (حرارت کے اندر صعودپیداکرنے والی قوت پیداہوتی ہے) یعنی ایسی قوّت جواوپر کی جانب حرکت پیداکرتی ہے اس لیے کہ آگ اپنے محل میں خفّت وسبکساری پیداکردیتی ہے جواوپر جانے کی مقتضی ہوتی ہے (تو جب یہ کسی ایسے جسم میں اثرانداز ہو جو لطافت وکثافت میں اختلاف رکھنے والے اجزا سے مرکب ہو تو اس جسم کا لطیف جززیادہ جلد اثر پذیر ہوکر صعود کی جانب بڑھے گا پہلے لطیف توپھر جو لطیف ترہومگرکثیف میں یہ اثرپذیری نہ ہوگی جس کی وجہ سے ان مختلف اجزا کی تفریق اور جدائی لازم آئے گی۔ پھر یہ اجزا باہمی جداکے بعد (طبعاً یکجاہوں گے) لطیف اپنے ہم جنس کے ساتھ۔ اس لیے کہ ان کی طبیعتیں ان کے مکان طبعی کی سمت حرکت اور ان کے اصول کلیہ سے انضمام اور ملاپ کی مقتضی ہوں گی(اس لیے کہ زبان زد ہے (یہ اس وقت ہوسکے گا جب اس مرکب کے بسیط اجزامیں شدید اتصال وپیوستگی نہ ہو۔ اگر سخت اتصال ہو اور ترکیب مضبوط ہو تو آگ ان اجزاکوجدا نہ کرسکے گی۔ تو اگرلطیف وکثیف اجزا مقدار میں قریب قریب ہوں جیسے سونے میں ہوتاہے تو حرارت اس میں بہاؤ اورپگھلاؤ پیداکردے گی اور جب بھی ہلکا جزصعود چاہے گا بھاری جز اسے روک دے گا جس سے تجاذب اور باہمی کشاکش پیداہوگی تودوران(چرخ ہونے اور گول ہونے) کی صفت رونما ہوگی۔ اور اگرلطیف جز  زیادہ غالب ہوگا توصعود وپاجائے گا اور کثیف کوبھی اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ لے جائے گا جیسے نوشادر میں ہوتا) اس لیے کہ اس میں جب آگ اثرکرتی ہے تو پوراہی اوپر چلا جاتاہے (یالطیف غالب نہ ہوگا) بلکہ کثف غالب ہوگا لیکن بہت زیادہ غالب نہ ہوگا(توحرارت اس میں نرمی پیدا کر دے گی جیسا کہ لوہے میں ہوتاہے۔ اوراگرکثیف بہت غالب ہوتو حرارت سے متاثر ہی نہ ہوگا) نہ پگھلے گانہ نرم ہوگا(جیسے طلق یعنی ابرک) کہ اسے نرم کرنے کے لیے کچھ خاص تدبیریں کرنی پڑتی ہیں جو اکسیربنانے والے عمل میں لاتے ہیں کہ ایسی چیز کی مدد لیتے ہیں جو اسے زیادہ شعلہ زن کردے جیسے کبریت اور زرنیخ کی مدد لیتے ہیں۔ اسی لیے کہاجاتاہے: جو طلق(ابرک) کی گرہ کھول لے وہ مخلوق سے بے نیازہوجاتاہے۔(ت)
عہ :قاضی بیضاوی نے بھی طوالع الانوارمیں اسی کااتباع کیا مگر نوع (۳)چہارم طلق والی کومطلق ذکرنہ کیا ۱۲منہ غفرلہ(م)
(۱؎ شرح المواقف    المقصد الاول فی الحرارۃ    المطبعۃ السعادۃ مصر    ۵/ ۱۷۱تا۱۷۴)
شرح مقاصد  عہ میں ہے: الخاصۃ الاولیۃ للحرارۃ احداث الخفۃ والمیل المصعد ثم یترتب علی ذلک باختلاف القوابل اٰثار مختلفۃ من الجمع والتفریق والتبخیر وغیرذلک وتحقیقہ ان مایتاثر عن الحرارۃ ان کان بسیطان استحال اولافی الکیف ثم افضی بہ ذلک الی انقلاب الجوھر، وان کان مرکبا فان لم یشتد التحام بسائطہ ولاخفاء فی ان الا لطف اقبل للصعود لزم تفریق الاجزاء المکتلفۃ وتبعہ انضمام کل الی مایشاکلہ بمقتضی الطبیعۃ وھو معنی جمع المتشاکلات وان اشتد فان کان اللطیف والکثیف قریبین من الاعتدال حدثت من الحرارۃ القویۃ حرکۃ دوریۃ لانہ کلما مال اللطیف الی التصعد جذبہ الکثیف الی الانحدار والافان کان الغالب ھو اللطیف یصعد بالکلیۃ کالنوشادروان کان ھو الکثیف فان لم یکن غالباً جداحدث تسییل کما فی الرصاص اوتلیین کما فی الحدید وان کان غالبا جد کما فی الطلق حدث مجرد سکونۃ واحتیج فی تلیینہ الی الاستعانۃ باعمال اُخر ۱؎۔ ملخصاً
حرارت کی پہلی خاصیت یہ ہے کہ وہ خفّت اور اوپرلے جانے والامیدان پیداکرتی ہے پھراثرقبول کرنے والے اجسام کے اختلاف کے لحاظ سے جمع، تفریق، تبخیر وغیرہ مختلف آثار اس پرمترتب ہوتے ہیں۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ حرارت سے متاثر ہونے والاجسم اگربسیط ہوتوپہلے اس کی کیفیت میں تغیّر ہوگا پھر یہ اسے جوہر کی تبدیلی تک پہنچائے گا۔ او اگرمرکب ہوتواگر اس کے بسیط اجزا کاباہمی اتصال شدید نہ ہو۔اور یہ بھی مخفی نہیں کہ جوجتنا زیادہ لطیف ہوتاہے اتناہی زیادہ وہ صعود قبول کرتاہے۔ تومختلف اجزاکی تفریق اور جدائی لازم آئے گی اور اس کے پیچھے ہرایک کابلحاظ اقتضائے طبیعت اپنے ہم شکل کے ساتھ انضمام بھی ہوگا۔ جمع متشاکلات اور ہم شکلوں کی یکجائی کایہی معنی ہے۔ اوراگراتصال شدید ہوتواگرلطیف وکثیف قریب بہ اعتدال ہوں توقوی حرارت سے حرکت دور یہ (گردش وچرخ والی حرکت) پیداہوگی اس لیے کہ جب بھی لطیف اوپرچڑھنے کی طرف مائل ہوگاکثیف اسے پستی کی طرف کھینچے گا۔ ورنہ اگرغالب لطیف ہوتوبالکلیہ صعودپاجائے گا اور اوپر چلاجائے گا جیسے نوشادر۔ اور اگرغالب کثیف ہو تواگربہت غالب نہ ہوتو بہاؤ پیداہوگا جیسے رصاص میں ہوتاہے یانرمی پیداہوگی جیسے لوہے میں رونما ہوتی ہے۔ اوراگربہت غالب ہو جیسے طلق (ابرک) میں۔ تومحض گرمی پیداہوسکے گی اور اس میں نرمی لانے کے لیے دوسرے عملوں سے مددلینے کی ضرورت ہوگی۔(ت)
عہ : بعینہٖ اسی طرح شرح تجریدمیں ہے انہوں نے حرف بحرف علّامہ کااتباع کیا مگراطلق کے ساتھ ایک مثال نورہ اور بڑھائی۔
حیث قال وانکان غالبا جدا کما فی الطلق و النورۃ حدث مجرد سخونۃ واحتیج فی تلیینہ الی الاستعانۃ باعمال الخ
انہوں نے کہااوراگر بہت غالب جیسے طلق اور نورۃ میں تو صرف گرمی پیداہوسکے گی اور اس میں نرمی لانے کے لیے دوسرے عملوں کی ضرورت ہوگی الخ (ت)
اقول: (۱) یہ اضافہ غلط ہے نورہ میں ضرور لین آجاتاہے کہ تکلیس کی غرض ہی یہ ہے کمامر ۱۲منہ غفرلہ (م)
 (۱؎ شرح المقاصد    المبحث الاوّل الخ (بحث کیفیاتِ محسوسہ)    دارالمعارف العمانیہ لاہور۔۱/ ۲۰۲)
Flag Counter