Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
135 - 166
نکتہ ثانیہ۲:  اقول جسم کے اجزائے رطبہ ویابسہ سے مرکب ہو اس کا امتزاج دوقسم ہے، ضعیف جس کی گرہ کھل جائے اجزائے رطبہ ویابسہ سے جداہوجائیں، اور شدید الاستحکام کہ آگ جس کا فعل تفریق ہے ان کی گرہ کھولنے پرقادرنہ ہو۔

قسم اوّل میں تین ۳ صورتیں ہیں:

(۱) جسم کے اجزائے یابسہ لطیف ہیں کہ آگ انہیں بھی رطبہ کے ساتھ اڑادے گی اس صورت میں تو جسم فنا ہوجائے گا جیسے رال، گندھک، نوشادر، اسے انتفا یانفاد کہیے یہ بھک اڑجانے والے مادوں میں اکثرہوتاہے۔

(۲) اس میں اجزائے رطبہ بہ نسبت اجزائے ارض بہت کم ہیں (۱) جیسے پتھر کہ اجزائے ارضیہ رقیقہ ہی سے بنتاہے اور انہیں کاحصہ کثیروغالب ہے، لزج یعنی چپک دار رطوبتوں سے انہیں اتصال ہوا اور عمل حرارت سے یبوست آئی باربار یوں ہوکرلزوجت کے باعث اجزامیں کتنا ز آکرسخت جسم پیداہو جس کانام حجر ہے ازانجا کہ ترکیب شدید الاستحکام نہیں آگ تاحدِ تاثیراجزائے رطبہ کو جدا کرے گی اور وہ اکتناز کہ بوجہ (موجب تھا کم ہوکر جسم میں قدرے تخلخل آئے گا باقی تحجر بدستور رہے گا یہ صورت تکلیس احجار کی ہے۔

(۳) اجزائے رطبہ بھی بکثرت تھے آگ انہیں فنا کرکے ایک بڑاحصہ جسم کامعدوم کرے گی جو رہ گیا وہ رماد اور اس طرح جلنے کانام ترمُّد ہے، ظاہر(۲) ہے کہ ان تینوں صورتوں میں انطباع بالنار نہ ہوسکے گا اول میں توبدیہی کہ جس فناہی ہوگیا اور سوم میں بوجہ تفتت وتشتت حفظ صورت کی قوت باقی نہیں دوم میں وہ لین نہیں کہ قبول صورت کرے بوجہ صلابت عمل قلیل قبول نہ کرے گا اورضرب شدید سے متفتت ہوجائے گا۔ ہاں لین ان سب صورتوں میں ہوگا کہ گرہ نرم ہی ہوکرکھلتی ہے اور بعض صورتوں میں ذوبان بھی ہوگا جیسے گندھک پہلے نرم پڑتی پھر بہتی پھر فنا ہوجاتی ہے۔

قسم دوم میں دو صورتیں ہیں جن میں پہلی دو ہوکر تین ہوجائیں گی۔

(۱) گرہ اس قدر شدید محکم ہو کہ آگ اسے سست بھی نہ کرسکے۔ یہاں اگرجسم پررطوبت غالب ہو آگ پر قائم ہی نہ رہے گا کہ متنافیین جمع نہیں ہوتے ، یہ سیماب ہے۔

اقول: اس کے قائم علی النار نہ ہونے کاسبب یہ ہے کہ آگ کافعل تصعید ہے یعنی رطوبات کو جانبِ آسمان پھینکنا ان رطوبتوں پربھی اس نے اپناکام کیا اور یبوستیں جدانہ ہوسکیں لہٰذا ساراجسم بقدر عمل حرارت یونہی گرہ بستہ اڑا اور اپنی حالت پربرقرار رہا بخلاف صورت اول قسم اول کہ وہاں بھی اگرچہ اجزائے یابسہ بوجہ لطافت ہمراہ رطبہ خود بھی اڑے مگر گرہ کشادہ منتشر لہٰذا جسم ہباء منثورہوگیا۔ اور اگررطوبت غالب نہیں تو جسم آگ سے صرف گرم ہوگا ترکیبِ اجزا پر کچھ اثرنہ پڑے گا جیسے لعل یاقوت ہیرا یاطلق بھی جسے ابرک کہتے ہیں آگ اس کی بھی گرہ نہیں کھول سکتی مگر حیل وتدابیر خارجیہ سے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں لین، ذوبان، ترمُّد کچھ نہ ہوسکے گا کہ گرہ بدستور رہے گی تو انطباع نہ ہوسکنابھی ظاہر کہ وہ بے لین نامتصور اور صورت غلبہئ رطوبت یعنی سیلاب میں اگرچہ لین خود موجود مگروہی غلبہ رطوبت مانع حفظ صورت تو اس میں قابلیت انطباع یوں ہوتی کہ آگ اس کی رطوبتیں اتنی خشک کردے کہ اس میں ''یبس'' قابل حفظ صورت پیدا ہوجائے یہ اسی گرہ کھلنے پرموقوف اور وہ یہاں منتفی اس حالت کانام امتناع رکھیے نہ بایں معنی کہ اثر نار اصلاً قبول نہ کیا کہ تصعید یاسخونت توہوئی بلکہ بایں معنی کہ ترکیب اجزا پر اس کاکوئی اثرنہ لیا۔

(۲)آگ گرہ سست کرسکے مگرجسم میں دہنیت اس درجہ قوی ہوکہ کھلنے نہ دے جیسے سوناچاندی کہ آگ سے پانی ہوسکتے ہیں مگران کی رطوبت ویبوست جدانہیں ہوسکتی۔ ان میں نار کااثر اول لین ہوگا کہ نرم پڑ کر مطرقہ یعنی ہتھوڑے کی ضرب سے متاثر بھی ہوں گے اور اپنی شدّت دہنیت کے باعث مجتمع بھی رہیں گے متفتت ومتفرق نہ ہوسکیں گے لاجرم عمق میں دبتے ہوئے عرض وطول میں بتدریج پھیلیں گے اسی کانام انطراق ہے یعنی زیرمطرقہ صابر ہونا اور صرف(۲) یہی ایک صورت انطباع بالنار کی ہے، حفظ صورت کامادہ خود ان کی ذات میں تھا صلابت مانع قبول صورت تھی آگ نے نرم کرکے اس کے قابل کردیا اور کار انطباع تمام ہوگیا۔ ان (۳) پرنار کااثر انتہائی ذوبان ہوگا کہ گرہ زیادہ سست ہوکراجزائے رطبہ اڑنا چاہیں اور بوجہ امتناع تفرق اجزائے یابسہ انہیں اڑنے نہ دیں گے لہٰذا صورتِ سیلان پیدا ہوگی جیسا کہ بیانِ ذوبان میں گزرا بلکہ اگراجزائے لطیفہ وکثیفہ قریب تعادل ہیں تو ان کی تکافی قوت اس حرکتِ سیلان کومستقیمہ بھی نہ ہونے دے گی بشکل مستدیرہ ظاہرہوگی اسی کانام دوران یاچرخ کھانا ہے جس طرح ذہب فضہ میں مشہور ہے۔
نکتہ ثالثہ (۴): اقول لین وذوبان کہ قسم دوم میں ہیں نار کے آثار اصلیہ ہیں اور انطباع ودوران ان کے توابع اور لین وذوبان کہ قسم اول میں ہیں آثارِ اصلیہ نہیں بلکہ تابع ہیں۔ تحقیق اس کی یہ ہے کہ نارکا اثر اصلی تصعید ہے یعنی جسم کو اوپر پھینکنا۔ قسم اول میں آگ اس پرقادر ہوئی خواہ سارے جرم کو لے گئی کہ نفاد ہے یارطوبت قلیلہ کو کہ تکلیس یاکثیرہ کو کہ ترمد تویہ آثارِ اصلیہ ہوئے اگرچہ ان کے ضمن میں لین و ذوبان پیدا ہوجائیں۔ قسم دوم میں بحال غلبہ رطوبت آگ تصعید کلّی پرقادر ہوئے یہ خود اثراصلی ہے ورنہ صرف تسخین یعنی گرم کرسکی تویہاں اسی قدر اثراصلی ہوگا کہ آگ اس سے زیادہ نہیں کرسکتی ان دونوں صورتوں کو لین وذوبان سے علاقہ نہیں۔ رہیں قسم دوم کی اخیر دو صورتیں ان میں آگ کااثرہی یہی لین وذوبان ہیں کہ آگ یہاں اسی قدر پرقادر تویہ خود ہی آثار اصلیہ ہیں او ر انطباع وانطراق تابع لین کہ اس پرموقوف ہے اور دوران تابع ذوبان کہ اس پر متوقف ہے تویہی لین وذوبان آثار اصلیہ کے ساتھ شمار ہونے کے قابل اوروہ جو پہلی قسم میں ہیں ضمنی وتابع اور اپنی اپنی صورتوں کے لازم ملازم ہونے کے باعث صلاحیت میں ان سے جدا کوئی حکم نہ پیداکریں گے ان (۱) کے لین وذوبان انحلال گرہ ہیں جوشئ نفاد یاتکلس یاترمد کی صالح ہوگی ضرور اس لین یاذوبان کی بھی صالح ہوگی جو ان کے ضمن میں ہوتا ہے اور جو شئ لین وذوبان وانحلال کی صالح ہوگی ضرور ان تین میں سے کسی کی صلاحیت رکھے گی تو انہیں مستقل لحاظ کرنے کی نہ کوئی وجہ نہ کہیں حاجت۔ فقیر نے اپنے اس دعوے کی کہ لین  عہ وذوبان آثارِ نار میں گنیں گے تو ان سے یہی لین وذوبان قسم دوم مراد ہوں گے جن کو لین وذوبان تعقد كہئے کہ گرہ نہ کھلنے میں پیدا ہوئے نہ قسم اول والے جو لین وذوبان انحلال تھے کہ گرہ کھلنے میں حادث ہونے کلام علماء میں تصدیق پائی وللہ الحمد،
عہ : دوبارہ ذوبان اس کاشاہد وہ بھی ہے کہ انطاکی نے تذکرہ میں زیر لفظ معدن تقسیم معدنیات میں کہا:

ان حفظت المادۃ بحیث یذوب فالمنطرقات ۱؂ الخ فقد جعل الذوبان من باب حفظ المادۃ وماھو الاببقاء الاجزاء جمیعا رطبہا ویابسہا ۱۲ منہ غفرلہ۔(م)

اگرمادہ محفوظ رہے اس طرح کہ پگھل جائے تومنطرقات الخ اس عبارت میں پگھلنے کو حفظ مادہ کے باب سے قرار دیا اور یہ اس وقت ہوگا جب سارے خشک و تراجزاء باقی رہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ تذکرۃ اولی الالباب      حرف المیم      مصطفی البابی مصر        ۱/ ۳۰۰  )
یہ اقسام واحکام جس طرح قلبِ فقیر پرفیض قدیر عزجلالہ سے فائز ہوئے لکھ کر مقاصد و مواقف اور ان کی شروح کا مطالعہ کیا اور اپنے بیان میں ذکر دَوران انہیں سے لے کر بڑھایا والفضل للمتقدم (اور فضیلت اگلے کے لیے ہے۔ ت) ان کی مراجعت نے ظاہرکیا کہ قاضی عضد و علامہ تفتازانی و علامہ سید شریف رحمہم اللہ تعالٰی اگرچہ احکام اقسام میں مسلک فقیر سے جدا چلے مگرلین وذوبان قسم دوم ہی میں رکے اور یہی ہمیں مقصود تھا ان اکابر اور اس فقیر کے بیان میں فرق یہ ہے کہ فقیر نے قسم اول میں تین حکم رکھے: نفاد، تکلس، ترمُّد۔ اور قسم دوم میں چار صعود کل بمعنی عدم قرار اور سخونت ولین وذوبان انہوں نے بالاتفاق قسم اول میں صرف تفریق رکھی اور قسم دوم میں مواقف و شرح نے لیے یہی چار کہ فقیر نے ذکرکیے مگر صعود کل میں نفاد رکھا جسے فقیر نے قسم اول میں ذکرکیا اور دوران کو سیلان ہی میں لائے جس طرح فقیر نے ان کے اتباع سے کیا اور شرح مقاصد نے اس قسم میں پانچ حکم لیے چار اس طور پر کہ مواقف میں تھے مگرانہوں نے لین وسیلان کو دو۲ مختلف قسموں کے احکام رکھا اور انہوں نے دونوں کوایک قسم کے دو۲حکم لیا اور دوران کو سیلان یعنی ذوبان سے جداپانچواں حکم قرار دیا۔
Flag Counter