Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
134 - 166
احتراق پرنقوض اقول اولاً وثانیاً یہی گندھک، ہڑتال ایسی جلتی ہیں کہ شعلہ دیتی ہیں۔

ثالثا: چ کہ اس کاپتھر جلانے ہی سے بنتی ہے۔

رابعا : مان و بدخشان میں ایک پتھر حجرالفتیلہ ہے کوٹنے سے روئی کی طرح نرم ہوجاتاہے اس کی بتی بناکر چراغ میں روشن کرتے ہیں تیل ڈالتے رہیں توایک بتی دوتین مہینے تک کفایت کرتی ہے
ذکرہ فی المخزن وذکرہ فی تاج العروس فی مستدرکہ بعد باذش ان معدنہ بدخشان۱؎۔
 (اسے مخزن میں ذکرکیاہے اور تاج العروس کے اندر''باذش'' کے بعد اپنے اضافہ کے تحت بتایاہے کہ اس پتھر کامعدن بدخشاں میں ہے۔ت)
 (۱؎ تاج العروس    فصل الباء من باب الشین        احیاء التراث العربی بیروت        ۴/ ۲۸۱)
خامسا: شام میں ایک پتھر حجرالبُحَیْرہ ہے آگ میں ڈالے سے لپٹ دیتاہے۲؎۔
ذکرہ فی المحزن و التحفۃ
(اسے مخزن اور تحفہ میں ذکرکیا۔ت)
 (۲؎ مخزن الادویہ    فصل الحاء مع الجیم        مطبوعہ نولکشور کانپور        ص ۲۳۱ )
سادسا: سنگِ خَزَامی جزیرہ صِقْلَبَّہ میں ایک پتھر ہے کہ آگ سے بھڑکتا اورپانی کاچھینٹا دینے سے اور زیادہ مشتعل ہوتاہے اور تیل سے بجھتاہے۳؎ قالافیھما (مخزن و تحفہ میں ہی اسے بھی بتایاہے۔ت)
 (۳؎ مخزن الادویہ    فصل الحاء مع الجیم        مطبوعہ نولکشور کانپور        ص ۲۳۱)
سابعا: ریل کاکوئلہ کہ پتھر ہے اور لکڑی ساجلتاہے۔

ثامنا :جلی ہوئی زمین کامسئلہ خود کتب معتمدہ مثل مختارات النوازل و قاضیخان و فتح و حلیہ و بحر و غیاثیہ و جواہرالاخلاطی و مراقی الفلاح و دُرمختار و ہندیہ وغیرہا میں مذکور کہ س سے تیمم رواہے کماسیأتی ان شاء اللہ تعالٰی (جیسا کہ اس کابیان آگے آئے گا ان شاء اللہ تعالٰی۔ت)

تنبیہ: کبریت سے نقض پر علامہ سیّد ابوالسعود ازہری کو تنبہ ہوا اور عبارت مارئہ ملامسکین کی شرح میں فرمایا:
الظاھر ان ھذا اغلبی لاکلی فلایشکل بان البعض یحترق لاکبریت۴؎ ۱ھ
ظاہریہ ہے کہ حکم اکثری ہے کلی نہیں۔ اس لیے یہ اشکال نہ ہوگا کہ جنس زمین سے ایسی چیزیں بھی ہیں جوجلی جاتی ہیں جیسے کبریت ۱ھ (ت)
 (۴؎ فتح المعین         بحث جنس الارض        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/ ۹۱)
اقول: (۱) بل الایراد لامردلہ عن ظاھر العبارۃ والعذر لایجدی لانھم بصدد اعطاء معرف لما یجوزبہ التیمم ومالافاذا کان شیئا یختلف ویتخلف لزم المتخلیط والتغلیط۔
اقول: ظاہرعبارت پراعتراض واشکال توضرور وارد ہوگا اور عذر مذکورکرآمدنہ ہوگا اس لیے کہ جس چیز سے تیمم جائز ہے اور جس سے ناجائز ہے اس کی وہ حضرات ایک جامع ومانع تعریف کرناچاہتے ہیں توجب کوئی چیز اس ضابطہ سے مختلف یا اس سے جداومتخِلّف ہوگی توبجائے تعریف کے تخلیط وتغلیط لازم آئے گی۔(ت)
نقوض منع۔ اقول اگلے نقوض میں عبارت غرر و درر بھی شریک تھی کہ اس کا بھی اتناحاصل تھا کہ جس میں تردد یالین ہو اس سے تیمم جائز نہیں، بلکہ اگرچہ جنس ارض سے ہو حالانکہ زرنیخ وکبریت وجصّ ورمادِ حجرونورہ ومردار سنج معدنی وارض محترقہ ومطلق حجر سے جوازِ تیمم عامہ معتمدات میں مصرح ہے کما سیأتی ان شاء اللہ تعالٰی کالحجر والزرنیخ۱؎(جنسِ زمین سےجیسے پتھر اور زرنیخ۔ت)
(۱؎ دررالحکام شرع غررالاحکام    باب التیمم  مطبع کاملیہ بیروت    ۱/ ۳۱)
مگرنقوض منع اس پروارد نہیں کہ دوسری جانب سے کلیہ نہ اس کامنطوق ہے نہ مفہوم۔

اب نقوض سنیے فاقول منع پر نقض کثیر و و افرہیں یہاں بعض ذکر ہیں:

(۱) سانبھر (۲) پارا یہ سب اقوال پروارد ہیں کہ نہ آگ سے جلیں نہ گلیں نہ پگھلیں نہ نرم پڑیں نہ راکھ ہوں (۳) اولا (۴) پالا (۵) کَلْ کابرف (۶) رال (۷) کافور (۸) زاج تین قول اول پر کہ نہ راکھ ہوں نہ آگ سے منطبع (۹) کیچڑ جس میں پانی غالب ہو(۱۰) پانی (۱۱) عرق (۱۲) عطر (۱۳) ماء الجبن (۱۴) دودھ (۱۵) بہتاگھی (۱۶) تیل (۱۷) گازوغیرہا اشیا کہ نہ آگ سے نرم ہوں نہ راکھ ہوں نہ ان میں سات قول پیشین پر (۱۸) جماہواگھی (۱۹) شکر کاقوام۔ قول ششم پرکہ نہ راکھ ہوں نہ ان میں ذوبان واطباع کااجتماع کماتقدم فی بیان النسب (جیسا کہ نسبتوں کے بیان میں گزرچکا۔ت)

(۲۰) علامہ برجندی نے عبارت ہفتم پرخود راکھ سے نقض کیا شرح نقایہ میں عبارت زادالفقہاء نقل کرکے لکھا:
ھذا یدل علی ان التیمم بنفس الرماد یجوز وقد ذکرفی الخلاصۃ اجمعوا انہ لایجوز لکن ذکرفی النصاب قال ابوالقاسم یجوز وابونصر لاوبہ نأخذ۲؎۔
اس سے پتاچلتاہے کہ خود راکھ سے تیمم جائز ہے حالانکہ خلاصہ میں ہے کہ اس پرعلماءکااجماع ہے کہ راکھ سے تیمم ناجائزہے۔ لیکن نصابمیں لکھا ہے کہ ابوالقاسم کہتے ہیں: جائز ہے۔ اور ابونصر کہتے ہیں ناجائز ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں۔(ت)
 ( ۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی        فصل فی التیمم    مطبوعہ نولکشورلکھنؤ    ۱/ ۴۷)
اقول:  بلکہ وہ سب اقوال پرنقض ہے کہ راکھ نہ آگ سے نرم پڑے نہ جلے نہ دوبارہ راکھ ہو ۔بالجملہ کوئی قول کوئی عبارت متعدد نقوض سے خالی نہیں،
واللّٰہ المستعان لکشف الران÷ والصلٰوۃ والسلام الاتمان ÷ علی سیّد الانس والجان÷ واٰلہ وصحبہ÷ وابنہ وحزبہ÷ فی کل حین واٰن÷ اٰمین۔
اور اللہ تعالٰی ہی سے اس دشواری والتباس کے ازالہ کے لیے مدد طلی ہے اور کامل درود وسلام ہو انس وجن کے سردار اور ان کی آل، اصحاب فرزند اور ان کی جماعت پرہرلمحہ ہرآن۔ الٰہی قبول فرما۔(ت)
استعانت توفیق بطلبِ تحقیق
اقول:  بعونہٖ عزوجل عبارات علماء کے اسالیب مختلفہ پراشکالات اور تعریفات کی جامعیت پرنقوض سب کاحل ان تین حرفوں میں ہے:

(۱) احتراق سے ترمّد مقصود اور ایسے اطلاقوں کے اطلاق فقہا سے اکثرمعہود والہذاحلیہ نے ترمد لے کردوجگہ صرف احتراق کہا۔

(۲) رماد کے تین اطلاق ہیں:

ایک عامتر کہ صوراحتراق میں انتفاد وانطفا کے سوا سب کوشامل یعنی بقیہ جسم بعد زوال بعض باحتراق ۔ باایں معنی احجار مکلسہ بھی اس میں داخل،
تذکرہ داؤد وانطاکی میں ہے: (رماد) ھو مایبقی من الجسد بعد حرقہ ومنہ ماخص باسم فیذکر کالنورۃ والاسسفیداج وماخص باسم الرماد وھوالمذکورھنا ۱؎۔
رماد۔ کسی جسم کاوہ جز ہے جو اس کے جلنے کے بعد رہ جاتاہے اس میں سے بعض وہ چیزیں ہیں جن کا کوئی خاص نام پڑگیا ہو انہیں تواسی نام کے تحت ذکرکیاجائے گا جیسے نورہ اور اسفیداج اور بعض چیزیں وہ ہیں جن کو رماد ہی کانام دیا جاتاہے وہی یہاں مذکورہیں۔(ت)
 (۱؎ تذکرہ داؤد وانطاکی، حرف الراء میں رماد کے تحت مذکورہے ، مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۷۰)
جامع عبداللہ بن احمد مالقی اندلسی ابن البیطار میں جالینوس سے ہے: الناس یعنون بہ الشیئ الذی یبقی من احتراق الخشب (الی ان قال) والنورۃ ایجا نوع من الرماد۲؎۔
لوگوں کے نزدیک اس لفظ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جولکڑی كے جلنے كے بعد رہ جاتی ہے (یہاں تک کہ کہا) اور نورہ بھی رماد ہی کی ایک قسم ہے۔(ت)
 ( ۲؎ جامع ابن بیطار)
دوسرا: متوسط کہ اجزائے رطبہ کثیرہ فی الجزم فنا ہونے کے بعد جو اجزائے یابسہ بچیں رماد ہیں عام ازین کہ جسم بستہ رہے جیسے کوئلہ، یانہیں جیسے لکڑی کی راکھ۔ اسی قبیل سے ہے رماد عقرب کہ عقرب نرکولوہے یاتانبے یامٹی کے برتن میں رکھ کر سرخمیر سے بند کرکے اس تنور میں شب بھررکھتے ہیں جسے گرم کرکے آگ اس میں سے بالکل نکال لی ہو اور سرِ تنور بند کردیتے ہیں کہ گرمی باقی رہے اور تاکید ہے کہ تنور بہت گرم نہ ہو کہ عقرب خاک نہ ہوجائے
۱؎ کما فی القرابادین الکبیر والمخزن وغیرھما
 (جیسا کہ قرادین کبیر اور مخزن وغیرہمامیں ہے۔ت)صبح نکال کرپیس کرسنگِ گردہ  ومثانہ وعسرالبول وغیرہا کے لیے استعمال کرتے ہیں اور (۱) شرعاً ناجائز ہے۔
 (۱؎ مخزن لادویہ    فصل الراعہ مع المیم     مطبوعہ نولکشور کانپور        ص ۳۱۱ )
تیسرا:خاص ترخاکسترکہ جسم کثیر الرطوبات اتناجلایاجائے کہ رطوبات سب فناہوجائیں اور جسم ریزہ ریزہ ہو یاہاتھ لگائے ہوجائے کہ رطوبت باعثِ اتصال وتماسک ہے یعنی اجزامیں باہم گرفت ہونا اور یبوست باعث تفتت وتشتت یعنی ریزہ ریزہ ومنتشر ہوناجیسے گندھا ہوا آٹا اور خشک۔ تاج العروس میں ہے:
الرماد دقاق الفحم من حراقۃ النار وما ھبامن الجمر فطار  دقاقا۲؎ اھ وفی القاموس الفحم الجمر الطا فی۳؎۱ھ
 (رماد) آگ سے جلی ہوئی چیز کے کوئلے کے ریزے اورانگارے میں سے وہ جوغبار ہوکرریزہ ریزہ اڑے ۱ھ۔ اور قاموس میں ہے الفحم۔ بجھاہوا انگار(یعنی کوئلہ) ۱ھ۔ (ت)
 (۲؎ تاج العروس     فصل الراء من باب الدال    احیاء التراث العربی بیروت        ۲/ ۳۵۷)

(۳؎ القاموس المحیط    باب المیم فصل الفاء    مطبع مصطفی البابی مصر        ۴ /۱۶۰)
اقول: اصاب فی جعل الرماد  دقاقا وفی (۲) اضافتھا الی الفحم نظر فالفحم المدقوق لایسمی رمادا وانما ھو ما ذکرنا من اجزاء الجسم الیابسۃ المتفتتۃ بعد الاحراق التام۔
اقول: تاج العروس میں ''رماد'' ریزوں کو بنانا تودرست ہے مگرکوئلہ کی طرف اس کی اضافت محلِ نطرہے کیونکہ پِسے ہوئے کوئلہ کورماد (راکھ) نہیں کہاجاتا۔ رماد وہی ہے جو ہم نے بتایا یعنی جسم کے وہ اجزا جو مکمل طور سے جلانے کے بعد خشک اور ریزہ ریزہ ہوجائیں۔(ت)
عرف عامہ میں رماد کازیادہ اطلاق اسی صورت اخیرہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ غالباً اس سے لکڑی کی راکھ مراد لیتے ہیں کما تقدم عن ابن البیطار عن جالینوس (جیسا کہ ابن بیطار سےبحوالہ جالینوس بیان ہوا۔ ت) اور وہ ایسی ہی ہوتی ہے یہاں اس سے مراد معنی اوسط ہے کہ اس شکل ثالث کوبھی شامل ۔

(۳) لین، ذوبان، انطباع سب سے مراد وہ حالت ہے کہ آگ سے جسم منطرق میں پیداہوتی ہے منطرق وہ جسم کہ مطرقہ یعنی ہتھوڑے کی ضرب سے متفرق نہ ہوبلکہ بتدریج عمق میں دبتا اور عرض وطول میں پھیلتا جائے جیسے سونا، چاندی، تانباوغیرہا اجساد سبعہ۔ ظاہرہے کہ یہ آگ سے نرم ہوتے ہیں یہ لین ہوا اور ضرب مطرقہ سے متعفتت نہیں ہوتے بلکہ جیسی گھرٹ منظور ہوقبول کرتے ہیں یہ انطباع ہو اور زیادہ آنچ دی جائے توپگھل جاتے ہیں یہ ذوبان ہوا۔ رہایہ کہ لین وذوبان وانطباع تواوراجسام میں بھی ہوتے ہیں پھرخاص اجساد منطرقہ کی کیاخصوصیت اور اس تخصیص پر کیا حجت۔

اقول: اس کافوری جواب تویہ ہے کہ یہ تینوں محض اوصاف ہیں صلابت وجمود وامتناع کے مقابل ان سے ذاتِ اجزائے جسم پرکوئی اثرنہیں بخلاف احتاق بمعنی فساد بعض کہ اکثروہی متبادرکہ اس میں نفسِ اجزاپراثرہے اور ترمّد میں تو اور اظہر۔ علمائے کرام نے دو شقیں فرمائی ہیں:

ایک میں احتراق وترمّد رکھا یہ وہ ہے جس میں خود بعض اجزا کاجل جانا فناہوجاناہے۔

دوسری میں لین، ذوبان، انطباع۔ تویہ وہ ہیں جن کاذاتِ اجزا پر اثرنہیں یعنی تمام اجزا برقراررہیں اور جسم نرم ہوجائے گھڑنا قبول کرے یابہہ جائے یہ نہیں ہوتا مگرانہیں اجساد منطرقہ میں۔ غیرمنطرق میں جب آگ اتنا اثرکرے کہ اسے نرم کردے قابلِ عمل کردے گلا پگھلادے توضرور اس کی بعض رطوبتیں جلائے گی سب اجزا برقرار نہ رہیں گے بخلاف منطرقات کہ ان کی رطوبتیں بہہ جانے پر چرخ کھانے سے بھی کم نہیں ہوتیں۔ سہل سابالائی جواب تویہ ہے اور بتوفیقہٖ تعالٰی تحقیق انیق وتدقیق دقیق منظور ہو جو نہ صرف ان اوصاف ثلٰثہ بلکہ خمسہ میں ان معانی کا مرادہونا واضح کردے تووہ بعونہ تعالٰی استماع چند نکات سے ہے جوبفضلہٖ عزوجل قلب فقیر پرفائض ہوئے۔

نکتہ اولٰی(۱)۔ اقول وبربی استعین (میں کہتاہوں اور اپنے رب ہی سے مدد کاطالب ہوں۔ت) منطبع ہونے کو شَے کاصرف صالح قبول صورت ہوناکافی نہیں ورنہ ہررطب حتی کہ پانی بھی منطبع ہوکہ سہولت تشکل لازمہ رطوبت ہے بلکہ اس کے ساتھ حفظ صورت بھی درکار۔ قبول کو رطوبت چاہےئ اور حفظ کواجزا کاتماسک، کہ جس صورت پرکردیاجائے قائم رہے یہ دونوں منشااگر شے میں خود موجود ہیں جب تووہ آپ ہی صالح انطباع ہے اور اگرایک ہے دوسرانہیں تووہ دوسرا جس سے پیداہو اس کاانطباع اس کی طرف منسوب ہوگا کہ اس نے اسے منبع کیامثلاً شيئ متماسک الاجزا میں صلابت مانع قبول صورت ہے، پانی نے اس قابل کیا جیسے چاک کی مٹی تووہ منطبع بالماء ہے یاآگ سے جیسے تپایا ہوا لوہا تومنطبع بالنار یانرم شے میں فرط رطوبت مانع حفظ صورت ہے مٹی کے ملانے یاآگ کے سکھانے سے قابل حفظ ہوئی تو منطبع بالطین یا بالنار ہے اور اگردونوں نہیں اور دوچیزوں کے معاً عمل سے دونوں قوتیں پیداہوگئیں تو اس کاانطباع اس مجموعہ کی طرف منسوب ہوگا اور اگرتعاقب ہوا پہلے ایک سے قبول خواہ حفظ کی صلاحیت آگئی پھر دوسری کے عمل سے دوسری تو اس کاانطباع متأخر کی طرف نسبت کیاجائے گا کہ پہلی کے عمل تک وہ شے صالح انطباع نہ ہوئی تھی دوسری کے عمل سے ہوئی شرع (۱) مطہر میں اس کی نظیر کپڑاہے کہ تانے کاعتبار نہیں اگرچہ ریشم کاہوکہ اس وقت تک کپڑانہ ہواتھا بانے نے اسے کپڑا کیا تو اسی کااعتبار ہے بالجملہ انطباع اس کی طرف منسوب ہوگا جس نے صلاحیت انطباع کی تکمیل کی یہاں تک کہ اگرمثلاً قبول کی قوت شے میں آپ تھی اور قوت حفظ پر آگ نے مدد دی مگر اس نے صالح حفظ نہ کردیابلکہ یہ صلاحیت اس کے بعد دوسری شے سے پیداہوئی تووہ اسی دوسری شے سے منطبع ٹھہرے گی نہ آگ سے۔ یہاں سے ظاہرہواکہ جتنی چیزوں کو آگ پگھلاکر پانی کرے جس سے وہ سانچے میں قبول صورت کریں ان كا یہ انطباع جانب نارمنسوب نہ ہوگا کہ جس سیال۔ حفظ صورت کے کے قابل نہین ہوتایہ قابلیت سرد ہوکہ آئے گی وکبریت وزرنیخ اور ان کے امثال منطبع بالنار نہیں بلکہ شکر کا قوام بھی کہ اگرچہ رقّت اس میں آپ تھی جس سے صالح قبول صورت تھا اور نار نے صلاحیت حفظ صورت پرمدد دی کہ لزوجت پیدا کی جو وجہ تماسک اجزا ہے مگرحفظ کے لیے چوبیس درکارتھے اس کی مانع رہی کہ کہ نارموجب ذوبان ہے نار سے جداہوکر جب ہوالگی سرد ہونے نے صلاحیت حفظ دی تو یہ بھی انطباع بالنار نہ ہوا شکّر کے کھلونے اور زیادہ بڑے بتاسے توسانچے میں بنتے ہیں چھوٹے اور متوسط قوام کی بوندیں چادر پرگراکر مگرجب تک آگ سے جداہوکر ہوانہیں لگتی حفظ صورت کی صلاحیت نہیں آتی۔

ہاں شے کے منطبع بالنار کہلانے کو یہ ضرور نہیں کہ ہمیشہ اسی سے منطبع ہوبلکہ صرف اتناکافی کہ فی نفسہٖ ان میں ہو جو منطبع بالنار ہوسکتے ہیں اگرچہ کبھی منطبع بالغیر بھی ہوتوچرخ کھاکر سونے چاندی کاسانچے میں منطبع بالبرد ہونا انہیں اجساد منطبعہ بالنار سے خارج نہیں کرتا۔

تنبیہ: اب صلاحیت ذوبان وانطباع بالنار میں نسبت عموم من وجہ ایسے جرم کے ثبوت پرموقوف کہ آگ سے نرم ہوکر قابل شکل ہو اور ساتھ ہی فی نفسہ ہردی ہوئی صورت کاحفظ کرسکے اور آگ کتنا ہی عمل کرے اسے بہانہ سکے یہ حیز خفامیں ہے واللہ تعالٰی اعلم جب یہ نہ ہو ظاہرا ذوبان انطباع سے عام مطلقاً ہے والعلم عند ذی الجلال بحقیقۃ کل حال (اور ہرحالت کی حقیقت کاعلم بزرگی وجلال والے ہی کوہے۔ت)
Flag Counter