اقول : یہ قانون تازہ بجائے خود صحیح ہے مگر معرفت جنس وغیرجنس کوکافی نہیں کہ اس کا عکس کلّی نہیں کہ جو غیرجنس ارض ہو اسے زمین کھالے، زمین سونے چاندی کو بھی نہیں کھاتی بہرحال اس ہمارے مبحث پراثرنہیں اس کے حاصلات اور اُن پراشکالات بعینہا مانند نہم ہیں۔
(۱۱) فاضل چلپی نے بالکل دہم کااتباع کیا مگرلین بجائے انطباع لیا کہ
وکل شیئ یلین ویذوب بھا ۱؎ الخ
اور ہروہ چیز جوآگ سے نرم ہو اور پگھل جائے الخ۔ ت) اور اسی کو حاصل کلام تبیین ٹھہرایا کما مر(جیسا کہ گذرا۔ت)
(۱؎ ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱/ ۱۷۴)
اقول: یہ ہرگز(۱) اس کاحاصل نہیں لین وانطباع میں فرقِ عظیم ہے کما تقدم (جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ت) ان کو یہ شبہ اتباع دُرر سے لگا اگرچہ دونوں فاضل ہمعصراعیان قرن تاسع سے ہیں مگر ان کی کتاب دُررسے اٹھارہ برس بعد ہے تصنیف۲ دُرر ۸۸۳ھ میں ختم ہوئی اور ذخیرۃ العقبٰی۹۰۱ھ میں ہے اور اس کے خاتمہ میں سطریں کی سطریں خاتمہ دُررسے ماخوذ ہیں۔ ہاں لین وانطباع کی تبدیل نے اسے کلام تبیین سے یوں بھی جدا کردیا کہ اس میں تین احتمال تھے، اس میں احتمال اتحاد کی گنجائش نہیں کہ لین وذوبان میں فرق بدیہی ہے۔
رہے وہ اول جمع اقول توذکر لین لغوکہ لازم ذوبان ہے اور حاصل حاصل اول عبارت نہم ہوگا دوم تردید۔ اقول توذکرذوبان لغو کہ مجردلین کافی ہے اور اب حاصل عبارت چہارم کی طرف عود کرے گا۔
(۱۲) امام جلیل ابوالبرکات نسفی نے ایک شق احتراق لی اور دوسری انطباع ولین کافی میں ہے:
بطاھر من جنس الارض لابما ینطبع ویلین اویحترق۲؎۔
جنس زمین کی کسی پاک چیز سے۔ ایسی چیز سے نہیں جومنطبع اور نرم ہوجائے یاجل جائے۔(ت)
( ۲؎ کافی)
اقول: بدستورتین احتمال ہیں اور تینوں پراشکال۔ اتحاد خود باطل ہے اور اس پرحاصل لین واحتراق اور جمع یعنی احتراق ہویا انطباع ولین کااجتماع اس میں لین لغو اور حاصل احتراق یاانطباع اور تردید پرانطباع بے کار اور حاصل مثل احتمال اول۔
(۱۳) فاضل معین ہروی نے جانب جنس احتراق وانطباع لیا اور جانب غیرمیں لین بواو عاطفہ اضافہ کیا، شرح کنزمیں کہا:
جنس الارض ما لایحترق ولاینطبع ومالیس من جنس الارض ما یحترق او ینطبع و یلین۱؎۔
جنس زمین وہ ہے جو نہ جلے اور نہ منطبع ہو اور جو جنسِ زمین سے نہیں یہ وہ ہے جوجل جائے یامنطبع اورنرم ہوجائے ۔ (ت)
( ۱؎ شرح کنزمع فتح المعین باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۹۱)
اقول: یہ حقیقت امرپرصریح متناقض ہے جملہ اولٰی کامفاد کہ مجردلین منافی ارضیت نہیں اور ثانیہ کی تصریح کہ منافی ہے لاجرم یہاں عطف تفسیری متعین جوخود باطل اور احتمال اول عبارت ۱۲ کی طرف مائل۔
(۱۴) اقول: یہ سب باوصف اس قدر اختلافات کے ایک امر پر متفق تھے کہ یہ اوصاف جنس وغیر جنس میں فارق ہیں علاّمہ مولٰی خسرو نے غرر ودُرر متن وشرح دونوں میں وہ روش اختیار فرماء کہ انہیں فارق ہی نہ مانابلکہ جواز تیمم کے لئے ان کو جنس ارض کی قید جانا یعنی جنس ارض میں خاص اس شے سے تیمم جائز ہے جوآگ سے جل کر نہ نرم پڑے نہ راکھ ہو یہ حاصلِ متن ہے شرح میں فرمایا جوچیز جنسِ ارض سے نہیں یاانطباع خواہ ترمّد رکھتی ہے اس سے تیمم روا نہیں تومتن وشرح نے صاف بتایا کہ خود جنس ارض دونوں قسم کی ہوتی ہے ایک وہ کہ آگ سے نرم یاراکھ ہوتی ہے دوسری نہیں۔ متن کی عبارت یہ ہے :
علی طاھر من جنس الارض وھو لاینطبع ولایترمّد بالاحتراق۲؎۔
جنس زمین کی پاک چیز پرجب کہ وہ جلنے سے نہ منطبع ہو اور نہ راکھ ہو۔(ت)
(۲؎ دررالحکام شرح غرر الاحکام باب التیمم مطبوعہ کاملیہ بیروت ۱/ ۳۱)
شرح میں فرمایا :وذلک لان الصعید اسم لوجہ الارض باجماع اھل اللغۃ فلایتناول مالیس من جنسھا اوینطبع اویترمد۳؎۔
اوریہ اس لئے کہ صعید باجماعِ اہلِ لغت روئے زمین کانام ہے تو یہ لفظ اس چیز کوشامل نہ ہوگا جوجنس زمین سے نہیں یامنطبع یاراکھ ہونے والی ہے۔ (ت)
( ۳؎ دررالحکام شرح غرر الاحکام باب التیمم مطبوعہ کاملیہ بیروت ۱/ ۳۱)
پرظاہر(۱) کہ یہ طریقہ تمام سلف وخلف مشایخ وعلماسے جداہے۔
وحاول العلامۃ الشرنبلالی ردہ الی الوفاق فقال علی قول الشرح فی العطف باوتسامح کان ینبغی بالواو لانہ عطف خاص ۱؎۱ھ۔
علامہ شرنبلالی نے اسے موافقت کی جانب پھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے فرمایا ہے '' شرح کی عبارت میں اَو(یا) کے لفظ سے عطف تسامح ہے۔ یہ عطف واو سے ہوناچاہئے کیوں کہ یہ عام پرخاص کاعطف ہے ۱ھ(ت)۔
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام مع دررالاحکام باب التیمم مطبوعہ کاملیہ بیروت ۱/ ۳۱)
اقول: وما(۱) ذا یفعل بالمتن فانہ لم یقل وھو مالابل قید جنس الارض بجملۃ حالیۃ والاحوال شروط ثم قولہ لانہ عطف خاص وان کان حقا علی مالحققہ ان شاء اللّٰہ لکنہ مخالف لمسلکہم ومسلک نفسہ المار عنہ فی العبارۃ الثالثۃ۔
اقول: متن کوکیاکریں گے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ وھو مالاینطبع الخ۔ (اور وہ (جنسِ زمین) وہ ہے جومنطبع نہ ہو الخ) بلکہ اس میں جنس زمین کوجملہ حالیہ سے مقید کیاہے اور حال شرط کی حیثیت رکھتاہے۔ پھر ان کایہ کہنا کہ یہ خاص کاعطف ہے اگرچہ بجائے خود حق ہے جیسا کہ ہم ان شاء اللہ تعالٰی اس کی تحقیق کریں گے لیکن یہ مصنفین بالاکے موقف اور خود علامہ شرنبلالی کے موقف کے خلاف ہے جوان کے حوالہ سے عبارت سوم کے تحت بیان ہوا۔(ت)
یہ عبارت اگرچہ جنس وغیرمیں فاضل بتانے سے جدارہی پھر بھی اتناحاصل دیا کہ لین وترمُّد مانع تیمم ہیں تو اس جملہ میں وہ عبارت چہارم کی شریک ہوئی۔
بالجملہ ہمارے بیان سے واضح ہوا کہ یہ چودہ ۱۴ عبارتیں اس وجہ سے کہ ۷، ۸، ۹، ۱۰، ۱۲ میں تین تین احتمال تھے اور ۱۱ میں دو۲، پچیس۲۵ عبارات ہوکراُن کاحاصل نوقولوں کی طرف رجوع کرگیا۔
(۱) غیرجنس ارض ہونے کامدار صرف انطباع
(۲) فقط ترمّد
(۳) ترمّد یاانطباع
(۴) ترمّد یالین عہ
عہ : غیردُرر میں یہ بروجہ مناط لیاجائے گا اور دُررمیں طرف ایک طرف سے کلیہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
(۵) ترمّد یاذوبان
(۶) ترمّد یااجتماع ذوبان وانطباع
(۷) ترمُّد یاذوبان یاانطباع
(۸) احتراق یالین
(۹) احتراق یاانطباع
خاص خاص عبارات پر جو ان کے متعلق اشکالات تھے مذکور ہوئے، اب اصل مبحث کے اشکال ذکرکریں وباللہ التوفیق غیرجنس ارض ہونے کامناط سات قول اخیر میں کہ دو۲دو۲ یاتین۳ وصف پرمشتمل ہیں ان اوصاف میں سے کس وصف کاوجود ہے اور جنس ارج ہونے کامناط ہرقول کے ان سب اوصاف کاانتفا ہے یعنی ان میں سے ایک بھی ہو توجنس ارض نہیں اور اس سے تیمم ناجائز اور اصلاً کوئی نہ ہوتو جنس ارض ہے اور تیمم جائز۔ اب اگرجنس ارض سے کوئی شے ایسی پائی جائے جس میں کسی قول کے اوصاف ملحوظ سے کوئی وصف پایاجاتاہو وہ اس قول کے مناط ارضیت کی جامعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاء جن کو اس مناط کاشامل ہوناچاہئے تھا اس سے خارج ہوگئیں اور اگرغیرجنس سے کوئی چیز ایسی ثابت ہوجس میں ایک قول کے اوصافِ معتبرہ سے اصلاً کوئی نہیںوہ اس قول کی مانعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاجن کااس مناط سے خارج ہونا درکارتھا اس میں داخل رہیں دوقول اول کی مانعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاجن کا اس مناط سے خارج ہونا درکارتھا اس میں داخل رہیں دوقول اول کی مانعیت پرنقوض وہیں گزرے اور وہ دونوں قابل لحاظ بھی نہیں باقی یہاں ذکرکریں واللہ الموفق نقوض جمع میں کسی جنس ارض میں ایک وصف کاتحقق کافی ہے لہٰذا ہرقول پرجداکلام کرنے سے اوصاف کی تلخیص کرکے ہروصف پرکلام کافی ہوگا کہ وہ وصف جتنے اقوال وعبارات میں ہو اس کے نقض سب پروارد ہوں۔
انطباع پر نقوض اقول اوّلا کبریت کہ جب آگ سے ذائب کرکے کسی سانچے میں ڈال دیں یقینا سردہوکر اسی صورت پررہتی ہے، خالص گندھک کے پیالے کٹوریاں گلاس بنتے ہیں ہمارے شہرمیں ایک صاحب بکثرت بناتے تھے جسے شبہ ہو وہ اب آزما دیکھے، تو اس میں یقینا جس صورت پرچاہیں ڈھالے جانے کی صلاحیت ہے توبلاشبہ منطبع ہوئی اور یہ انطباع آگ سے ہی ہواکہ قبول صورت پرچاہیں ڈھالے جانے کی صلاحیت ہے توبلاشبہ منطبع ہوئی اور یہ انطباع آگ سے ہی ہوا کہ قبول صورت پر اسی نے مہیا کیا اگرچہ بقائے صورت بعد برودت ہے جیسے چھوٹے بڑے بتاسوں، شکر کے کھلونوں، سونے چاندی کی اینٹوں وغیرہا میں، تولازم کہ گندھک جنس ارض سے نہ ہو اور اس سے تیمم ناروا ہو حالانکہ کتب معتمدہ میں اس کا جنس ارض سے ہونا اور اس سے تیمم کاجواز مصرح ہے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ت)
ثانیا زرنیخ، یہ بھی بلاشبہ آگ سے بہتی اور سرد ہوکرپھر متحجر ہوجاتی ہے تویقینا قابل انطباع ہے جس کاخود ہم نے تجربہ کیاغایت یہ کہ بہ نسبت کبریت کے زیادہ قوی آنچ چاہتی ہے۔
وھذا معنی قول ابن زکریا الرازی فی کتاب علل المعدن ثم ابن البیطار ۔
کتاب علل المعادن میں ابن زکریا رازی پھر جامع میں ابن بیطار کی درج ذیل عبارت کایہی معنی ہے:
فی الجامع تکوین الزرنیخ کتکوین الکبریت غیران البخار البارد الثقیل الرطب فیہ اکثر والبخار الدخانی فی الکبریت اکثر ولذٰلک صار لایحترق کاحتراق الکبریت وصار اثقل واصبر علی النار منہ ۱؎۔
''زرنیخ بھی اسی طرح بنتی ہے جیسے کبریت۔ فرق یہ ہے کہ زرنیخ میں، سردثقیل، تربخارات زیادہ ہوتے ہیں اور کبریت میں دخانی بخار زیادہ ہوتاہے اسی لئے زرنیخ اس طرح نہیں جلتی جیسے کبریت جلتی ہے اور آگ پرکبریت سے زیادہ ثقیل ثابت ہوتی اور دیرتک ٹھہرتی ہے''۔(ت)
(۱؎ جامع ابن بیطار)
حالانکہ اس کاجنس ارض وصالح تیمم ہونا تو اس اعلٰی تواتر سے روشن جس میں اصلا محل ارتیاب نہیں کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ت)
ترمُّد پرنقوض اول اوّلا خزانۃ الفتاوٰی و حلیہ و جامع الرموز و درمختار میں تصریح ہے کہ پتھر کی راکھ سے تیمم جائز ہے۔
ونظم الدر لایجوز بتمرد الارماد الحجر فیجوز۲؎۔
درمختار کی عبارت یہ ہے :''راکھ بننے والی چیز سے تیمم جائز نہیں مگرپتھر کی راکھ مستثنٰی ہے اس سے جائز ہے''۔ (ت)
( ۲؎ الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۶)
معلوم ہوا کہ پتھربھی راکھ ہوسکتاہے توجنسِ ارض کب رہا اور اس سے تیمم کیونکررواہوا۔
ثانیا: ترکستان میں ایک پتھرہوتاہے کہ لکڑی کی جگہ جلتاہے اس کی راکھ سے تیمم رواہے۔ حلیہ میں ہے :
فی خزانۃ الفتاوی قال العبد الضعیف ان کان الرماد من الحطب لایجوز و اکان من الحجر یجوز لانہ من الارض وقدرأیت فی بعض بلاد ترکستان کان حطبھم الحجر۳؎۔
خزانۃ الفتاوٰی میں ہے:'' بندہ ضعیف کہتاہے راکھ اگرلکری کی ہوتوتیمم جائز نہیں اور اگرپتھر کی ہوتوجائز ہے کیونکہ وہ جنس زمین سے ہے اووور میں نے ترکستان کے بعض شہروں میں دیکھا کہ ان کے یہاں پتھر ہی کاایندھن ہوتاہے''۔ (ت)
( ۳؎ حلیہ)
اسی طرح خزانہ سے قہستانی اور قہستان سے طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے۔
ثالثا ورابعا: علامہ برجندی نے نورہ ومردارسنگ سے دونقض اور واردکیے کہ یہ جل کرراکھ ہوجاتے ہیں حالانکہ جنسِ ارض سے ہیں۔ شرح نقایہ میں بعد نقل عبارت مارہ زاد الفقہا ہے:
ھذا یدل علی ان التیمم بالنورۃ و المردار سنج لایجوز فانہما یحترق بالنار ویصیران رماداوقد صرح قاضی خان انہ یجوز التیمم بھما الا ان یقال ان محترقہما لایسمّی رمادا فی العرف۱؎۔
(۱؎ شرح النقایہ للبرجندی، فصل فی التیمم، مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱/ ۴۷)
اس سے پتاچلتاہے کہ نورہ اور مرداسنگ سے تیمم ناجائز ہے کیونکہ یہ دونوں آگ سے جل راکھ ہوجاتے ہیں حالانکہ قاضی خان نے تصریح فرمائی ہے کہ ان دونوں سے تیمم جائز ہے مگر یہ کہاجاسکتاہے کہ عرف میں جلے ہوئے نورہ ومردارسنگ کوراکھ کے نام سے یاد نہیں کیاجاتا۔(ت)
لین پرنقوض اقول اوّلاً چُونے کاپتھر اور جتنے احجار تکلیس کیے جاتے ہیں یقینا اپنی حالت اصلی سے صلابت میں کم ہوجاتے ہیں تکلیس کرتے ہی اس لئے ہیں کہ جو سخت جرم پِس نہیں سکتا پسنے کے قابل ہوجائے۔
ثانیاً کبریت (اور) ثالثاً زرنیخ ضرور آگ پرنرم ہوتی ہیں حالانکہ کتب میں بلاخلاف ان سے تیمم جائز لکھاہے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ت)
ذوبان پرنقوض اقول یہی کبریت اور زرنیخ دونوں اس پربھی نقض ہیں ان کی نرمی بَہ جانے پر منتہی ہوتی ہے جیسا کہ مشاہدہ شاہد--- علاتفتازانی نے مقاصد و شرح مقاصد میں معدنیات کی پانچ قسمیں کیں۔ دوم ذائب مشتعل، اور فرمایا:
ذلک لکبریت والزرنیخ ۲؎۔
(وہ کبریت اور زرنیخ کی طرح ہے۔ت)
(۲؎ شرح المقاصد،المبحث الاول المعدنی،دارالمعارف النعمانیہ لاہور، ۱/ ۳۷۴)