اقول : یہ بھی (۱) فلزات مثلاً سونے، چاندی، فولاد، نیز تیل، گھی، دودھ وغیرہا لاکھوں اشیاء پرصادق ۔ اگرکہئے سونے چاندی کاکشتہ اُن کی راکھ ہے اقول اولا یہ راکھ کے معنی سے ذہول ہے جوہم نے بیان کئے ثانیا عقیق ویاقوت کابھی کشتہ ہوتاہے تووہ بھی جنس ارض نہ ہو، حالاں کہ بے شک ہیں کماسیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ت)
(۳) انطباع وترمُّد کہ جو منطبع یاخاکستر ہو جنس ارض سے نہیں، فتح القدیرمیں ہے: قیل ما کان بحیث اذاحرق بالنار لاینطبع ولایترمد فھو من اجزاء الارض ۱ھ ۱؎۔
کہاگیا جوایسا ہوکہ آگے سے جلایا جائے تونہ منبع ہونہ راکھ ہوتووہ زمین کاجز ہے۔۱ھ
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۱۲)
اقول: ولایرید الترییف فقد اقرہ وفرع علیہ۔
اقول : (قیل''کہاگیا'' سے اس معنی کو ذکرکرکے) اس کی خرابی وکمزوری بتانامقصود نہیں کیوں کہ انہوں نے اس قول کوبرقراررکھا ہے اور اس پرتفریع بھی کی ہے۔(ت)
جامع المضمرات پھر جامع الرموز میں ہے: جنس الارض مما لایحترق فیصیر رمادا اوینطبع۲؎۔
جنس زمین وہ ہے جو جل کرراکھ یامنطبع نہ ہو۔(ت)
(۲؎ جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان (ایران) ا/۶۹)
مراقی الفلاح میں ہے : الضابطۃ ان کل شیئ یصیر رمادااوینطبع بالاحراق لایجوز بہ التیمم ولاجاز۳؎۔
ضابطہ یہ ہے کہ ہروہ چیز جو جلانے سے راکھ ہوجائے یامنطبع ہوجائے اس سے تیمم جائزنہیں اور ایسی نہ ہوتو جائز ہے۔(ت)
( ۳؎ مراقی الفلاح باب التیمم مطبعہ ازہریہ مصر ص ۶۸)
تنویرالابصارمیں ہے : بمطھر من جنس الارض فلایجوز بمنطبع ومترمد ومعاون۴؎۔
جنسِ زمین کی کسی پاک کرنے والی چیز سے (تیمم ہوگا) تومنطبع ہونے والی اور راکھ ہونے والی چیز اور معدنوں سے جائزنہیں۔(ت)
(۴؎ الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۵ تا ۱۷۶)
اقول: پہلی تین عبارتوں میں احراق سے مجرد عمل نارمراد ہے اور اخیر میں معاون سے فلزات ورنہ کبریت وزنیخ ومردار سنگ وتوتیاکے بھی معاون ہیں اور ان سے جواز تیمم مصرح کما سیأتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی (جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب آرہاہے۔ت)
(۴) لین وترمُّد کہ جو آگ سے نرم پڑے یاراکھ ہوجنس ارض نہیں۔ غنیہ میں ہے:
ھرما یلین عہ بالنار اویترمُّد ۱؎۔
(یہ وہ ہے جو آگ سے نرم ہو یاراکھ ہوجائے۔ت)
عہ : وقال بعدہ کالذھب والفضۃ والحدیدد وغیرھا مما ینطبع ویلین بالنار اھ وذلک ماقدمنا عنہا عندبیان معنی الانطباع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس کے بعد فرمایا: جیسے سونا، چاندی، لوہا وغیرہ ایسی چیز جوآگ سے منطبع اور نرم ہو۱ھ یہ وہی ہے جوغنیہ کے حوالہ سے ہم نے انطباع کامعنی بیان کرتے ہوئے پہلے ذکرکیا۱۲ منہ غفرلہ(ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۶)
(۵) امام اکمل الدین نے ان پرانطباع کااضافہ فرمایا کہ یامنطبع ہو،
عنایہ میں ہے:قیل کل ما یحترق بالنار فیصررمادا اوینطبع اویلین فلیس من جنس الارض۲؎۔
کہاگیا ہروہ چیز جو آگ سے جل کرراکھ ہوجائے یامنطبع یانرم ہو وہ جنس زمین سے نہیں۔(ت)
(۲؎ العنایۃ مع فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۱۲)
اقول: جب مجرد(۱) لین کافی تواضافہ انطباع بے کار کہ انطباع بے لین نامتصور۔ لاجرم اس کامفاد عبارت چہارم سے زائد نہیں۔
(۶) علامہ ابن امیرالحاج حلبی نے جانب جنس میں مثل عنایہ ترمدولین وانطباع لیے کہ جس میں یہ نہ ہوں وہ جنسِ ارض سے ہے اور جانب غیرمیں احتراق ولین کہ جس میں ان سے کوئی ہوغیرجنس ہے۔
وقدتقدمت عبارت حلیتہ
(ان کی کتاب ''حلیہ'' کی عبارت گزرچکی۔ت)
اقول: جملہ ثانیہ بلکہ ایك جگہ اولی کے بیان میں بھی ذکراحتراق پراقتصار کایہ عذر واضح ہے کہ مطلق اسی مقید ترمُّد پرمحمول مگرثانیہ میں ترک ذکرانطباع معین کررہاہے کہ مجرد لین بھی جنس ارض سے اخراج کوبس ہے تویہاں بھی مثل عنایہ ذکر انطباع ضائع اور عبارت عبارتِ چہارم کی طرف راجع۔
(۷،۸) بہت اکابرنے لیے تویہی اوصاف ثلثہ مگرترمُّد کوایک شق کیااور لین وانطباع کوواو عاطفہ سے ملاکر دوسری شق۔ پھر بعض نے تولین وانطباع کہا۔ برجندی میں زادالفقہا سے ہے:
مایحترق بالنار ویصیر رمادااویلین و ینطبع فلیس من جنس الارض وما عداھما من جنسھا۱؎۔
ہروہ چیز جوآگ سے جل جائے اور راکھ ہوجائے یانرم اور منطبع ہوجائے وہ جنسِ زمین سے نہیں اور ان دونوں کے ماسوا جنسِ زمین سے ہیں۔(ت)
( ۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱/ ۴۷)
اور اکثرنے انطباع ولین۔ بدائع امام ملک العلمامیں ہے: کل مایحترق فیصیر رمادا او ینطبع ویلین فلیس من جنس الارض وماکان بخلاف ذلک فہومن جنسہا۲؎۔
ہروہ چیز جو جل کرراکھ ہوجائے یامنطبع اور نرم ہوجائے وہ جنسِ زمین سے نہیں اور جو اس کے برخلاف ہو وہ جنس زمین سے ہے۔ (ت)
ایضاح علّامہ وزیر میں تحفۃ الفقہا امام اجل علاء الدین سمرقندی سے ہے: لقانون الفارق بین جنس الارض وغیرھا ان کل مایحترق فیصیر رمادا او ینطبع ویلین فلیس من جنس الارض۴؎۔
جنسِ زمین اور اس کے علاوہ میں فرق وامتیاز کاقاعدہ یہ ہے کہ جو بھی جل کرراکھ ہوجائے یامنطبع اور نرم ہوجائے تووہ جنسِ زمین سے نہیں۔ (ت)
( ۴؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۵)
جوہرہ نیّرہ میں ہے :ھو مااذا طبع لاینطبع ولایلین واذا احرق لایصیر رمادا ۵؎۔
نس زمین وہ ہے کہ ڈھالاجائے تونہ ڈھلے اور نہ نرم ہو اورجب جلایاجائے توراکھ نہ ہو۔(ت)
(۵؎ الجوہرۃ النیّرہ باب التیمم مکتبہ امدادہ ملتان ۱/ ۲۵)
؟قول: نطباع ولین میں حرف واو اور ان میں اور ترمُّد میں حرف اَو خصوصاً اس اطباق کے ساتھ بنگاہِ اوّلین يقين دلاتاہے کہ یا(۱)تولین وانطباع شَے واحد ہیں یا(۲)اس شوق میں دونوں کااجتماع مقصود یعنی جوراکھ ہو یاجس میں انطباع اولین دونوں جمع ہوں وہ جنسِ ارض نہیں اور(۳) ایک ضعیف وبعید احتمال یہ بھی ہے کہ واو بمعنی اَوْ ہومگر اُن میں کوئی خالی ازاشکال نہیں۔
فاقول: اوّل صراحۃً باطل ہم روشن آئے کہ لین وانطباع متحدنہیں معہذا بحال تقدیم لین یہ عطف تفسیری معکوس ہوگا بہرحال اب یہ عبارات بھی جانب چہارم عود کریں گی۔
دوم پرلین لغورہا کہ انطباع بے لین متصور نہیں بلکہ بحال تقدیم انطباع اس باطل کاایہام ہا کہ کبھی نطباع بے لین بھی ہوتا ہے لہٰذا اجتماع لین سے مشروط کیا اور بعدف تنقیح حاصل صرف اتنا ہوا کہ ترمّد ہویاانطباع اورعبارات کے لیے عبارت سوم کی طرف ارجاع۔
سوم پرذکرانطباع فضول رہا کہ مجردلین کافی اور وہ انطباع کولازم یہ پھرعبارت چہارم کی طرف عود کرگیا۔
(۹) علامہ شیخی نادہ رومی نے ان تین میں لین کی جگہ ذوبان لیا اور وہی ایک شق ترمّد اور دوسری شق ذوبان وانطباع۔
قدم منھما الانطباع وفی کل شمس الائمۃ عہ السرخسی یذوب وینطبع ۱؎ کمامرعن المغرب۔
انہوں نے ان دونوں سے انطباع کوپہلے رکھا ہے اور شمس الائمہ سرخسی کے کلام میں ''یذوب وینطبع'' (پگھلے اور منطبع ہو) ہے، جیسا کہ مغرب کے حوالہ سے گزرا۔ (ت)
عہ : ومثلہ فی الخانیۃ وفی خزانۃ المفتین عن الظھیریۃ لایجوز التیمم بکل مایذوب وینطبع اھ ۱۲منہ غفرلہ (م)
اس کے مثل خانیہ میں ہے، اور خزانہ المفتین میں ظہیریہ کے حوالے سے یہ الفاظ ہیں کہ تیمم ہراس چیز سے جائز نہیں جوپگھلے اور منطبع ہو ۱۲منہ غفرلہ (ت)
( ۱؎ المغرب)
اقول:ولایختلفان ھھنا لان بینھما عموما من وجہ۔
اقول یہ دونوں یہاں مختلف ہیں کیونکہ دونوں میں عموم من وجہ ہے۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے: کل شیئ یحترق ویصیر رمادا لیس من جنس الارض وکذلک کل شیئ ینطبع ویذوب۱؎۔
ہروہ چیز جوجل جائے اور راکھ ہوجائے وہ جنس زمین سے نہیں اور ایسے ہی ہروہ چیز جو منطبع ہو اور پگھلے۔ (ت)
(۱؎ مجمع الانہر باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۸)
اقول۔ یہاں بھی بدستور تین احتمال اور تینوں پراشکال۔ اوّل: ذوبان وانطباع ایک ہوں توحاصل ترمّد وذوبان ہوگا۔
اقول: مگر اتحاد باطل کماعلمت (جیسا کہ معلوم ہوا۔ت)
دوم: دونوں کااجتماع شرط ہوتو حاصل یہ کہ غیرجنسِ ارض وہ ہے جوراکھ ہوسکے یاانطباع وذوبان دونوں کی صالح ہو۔
سوم: ضعیف واجید اعنی جس میں ترمّد یاذوبان یاانطباع ہوجنس ارض نہیں۔
اقول: ان دونوں پرنصوص توآگے آتے ہیں ان شاء اللہ تعالٰی اور ثالث کاضعف وبعد یوں روشن کہ غیر جنس ارض کے لیے دو قانون بنائے ایک میں ترمّد رکھا، دوسرے میں انطباع وذوبان کوبحرف واو جمع کیا تومتبادریہی ہے کہ یہ دونوں قانون واحد میں ہیں۔
(۱۰) امام فخرالملۃ والدین زیلعی نے بالکل مثل نہم فرمایا، صرف غیرجنس کاایک اور قانون بڑھایا کہ جسے زمین کھالے یعنی ایک مدت پرکہ ہرشے کہ مناسب مختلف ہوتی ہے اس میں اثرکرتے ہوئے خاک کردے۔ تبیین الحقائق میں ہے:
الفاصل بینھما کل شیئ یحترق بالنار ویصیر رماد الیس من جنس الارض وکذا کل شیئ ینطبع ویذوب بالنار وکل شیئ تاکلہ الارض لیس من جنسہا۲؎۱ھ
دونوں کے درمیان فرق وامتیازیوں ہوتاہے کہ ہروہ چیز جوآگ سے جل جائے اور راکھ ہوجائے وہ جنسِ زمین سے نہیں، ایسے ہی ہروہ چیز جوآگ سے منطبع ہو اور پگھل جائے اور ہروہ چیز جسے زمین کھاجائے وہ جنسِ زمین سے نہیں۱ھ۔
(۲؎ تبیین الحقائق باب التیمم مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۱/ ۳۹)
واثرہ الفاضل اخی چلپی بلفظۃ قیل مقر اوقال فی اٰخرہ ھذازبدۃ کلام الزیلعی۳؎ اھ فقد(۱) یوھم من لم یراجع التبیین انہ فیہ بلفظۃ قیل ولیس کذلک۔
یہ عبارت لفظ ''قیل'' سے فاضل اخی چلپی نقل کرکے برقراررکھی اور اس کے آخر میں لکھا کہ یہ کلام زیلعی کاخلاصہ ہے ۱ھ اس سے تبیین زیلعی کی طرف مراجعت کرنے والے کویہ وہم ہوتاہے کہ اس میں بھی یہ کلام لفظ قیل کے ساتھ ہوگا حالانکہ ایسا نہیں۔(ت)
(۳؎ ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱/ ۱۷۴)