Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
131 - 166
واقول: تحقیق یہ ہے کہ انطباع طبع سے ماخوذ ہے طبع بمعنی عمل وصنعت ہے۔ قاموس و تاج العروس میں ہے:
 (و) الطبع ابتداء صنعۃ الشیئ یقال طبع الطباع (السیف) اوالسنان صاغہ (و) السکاک (الدرھم) سکہ (و) طبع (الجرۃ من الطین عملہا۲؎)
طبع __  کسی چیز کے بنانے کی ابتداء __ کہاجاتاہے طبع الطباع السیف اوالسنان (ڈھالنے والے نے تلوار یانیزہ ڈھالا یعنی بنایا) اور السکاک الدرھم یعنی سکہ ساز نے درہم بنایا۔ اور طبع الجرۃ من الطین یعنی مٹّی سے گھڑابنایا۔(ت)
 (۲؎ تاج العروس    فصل الطاء من باب العین    احیاء التراث العربی بیروت        ۵/ ۴۳۸)
توانطباع بمعنی قبول صنعت ہے یعنی شے کاقابلِ صنعت ہوجانا کہ وہ جس طرح گھڑناچاہے گھڑسکے جس سانچے میں ڈھالناچاہے ڈھل سکے اور یہ نہ ہوگا مگربعد لین ونرمی تولین نہ اس کاعین ہے نہ جز بلکہ اس کی علت اور گھڑنے کی صورت میں اسے لازم ہے جیسے سونے چاندی لوہے کاآگ سے نرم ہوکرہرقسم کی گھڑائی کے قابل ہوجانا اور ڈھالنے کی صورت میں ذوبان اس کی علّت اور اسے لازم ہے، جیسے سونے چاندی کوچرخ دے کر روپیہ اشرفی اینٹ بنانا،
مغرب۸ میں ہے: قول شمس الائمۃ السرخسی مایذوب و ینطبع ای یقبل الطبع وھذا جائز قیاسا وان لم نسمعہ۳؎۔
شمس الائمہ سرخسی کی عبارت ہے: مایذوب وینطبع یعنی جوپگھلے اور ڈھلائی قبول کرے۔ قیاساً یہ جائز ہے اگرچہ ہم نے اسے نہ سنا۔(ت)
 ( ۳؎ المغرب)
اقول: عند التحقیق کلام شیخ الاسلام تمرتاشی کابھی یہی مفاد۔ پُرظاہرکہ بالفعل پارہ پارہ ہوجانا مراد نہیں بلکہ اس کی قابلیت، اور وہ دوطورپرہوتی ہے، ایک یہ کہ چیز سخت ہو کہ ضرب سے بکھرجائے جیسے کھنگریہ انطباع (پارہ پارہ کیاجائے۔ت) اور یہ نہ ہوگا مگربصورت لین ولہٰذا ویلین (اورنرم پڑے۔ت) اضافہ فرمایا کہ قابلیت صنعت بوجہ لین پر دلالت کرے واللہ الموفق (اور اللہ توفیق دینے والا ہے۔ت) شاید یہی نکتہ ہےکہ منح نے اپنے متبوع درر کے قول سے عدول فرمایا واللہ تعالٰی اعلم۔

تنبیہ: ہماری تقریر سے واضح ہوا کہ مٹّی بھی منطبع ہوتی ہے ابھی قاموس سے گزرا،
طبع الجرۃ من الطین ۱؎
(مٹی سے گھڑابنایا۔ ت)
( ۱؎ القاموس المحیط        فصل الطاء، باب العین    مطبع مصطفی البابی مصر    ۳/ ۶۰)
 مگریہاں مراد وہ ہے جس کی صلاحیت آگ سے نرم ہوکرپیداہوئی ہو ولہٰذا فتح القدیر میں فرمایا:
اذا حُرّق لاینطبع ۲؎
 (جب جلایاجائے تومنطبع نہ ہو۔ت)
 (۲؎ فتح القدیر ،باب التیمّم   ، نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۱۲)
مراقی الفلاح میں ہے: ینطبع بالاحراق۳؎
 (جلانے سے منطبع ہو۔ت)
 (۳؎ مراقی الفلاح مع الطحطاوی باب التیمم مطبعۃ ازہریۃ مصر    ص۶۹)
عامہ علمانے کہ یہاں منطبع مطلق چھوڑاہے اس سے یہی منطبع بالنارمراد ہے جس طرح لین وذوبان کوبھی اکثر نے مطلق رکھا اور مراد وہی ہے کہ نار سے ہو ورنہ پانی میں مٹّی بھی گلتی پگھلتی ہے۔

بیانِ نِسَب: احتراق وترمُّد میں نسب اوپرگزری کہ ترمُّد اس سے خاص اور اسی کی چارصورتوں سے ایک صورت ہے۔ رہے باقی تین اقول (میں کہتاہوں۔ت) ان میں لین وذوبان اُن معانی پرکہ ہم نے تقریر کئے خودمتباید ہیں، مگریہاں کلام اُن کی صلاحیت میں ہے کہ جو اس کے صالح ہو جنس ارض سے نہیں بسب صلاحیت لین دونوں سے عام ہے جو ذائب ہوگا پہلے نرم ہی ہوکرذائب ہوگا یونہی سخت چیز میں گھڑنے کی صلاحیت نرمی ہی سے آئے گی اور جوآگ سے نرم ہوسکے یہ ضرورنہیں کہ بہہ بھی سکے یاگھڑنے ڈھالنے کے بھی قابل ہوسکے جیسے چونے کاپتھر وغیرہ احجارمکلَّسہ اور ذوبان وانطباع میں عموم وخصوص من وجہ ہے سوناچاندی ذائب بھی ہیں اور منطبع بھی، اورجماہواگھی ذائب ہے منطبع نہیں اور شکر کاقوام منطبع ہے ذائب نہیں چھوٹے بتاسے اور مختلف پیمانوں کے بڑے اور رنگ برنگ صورتوں تصویروں کے کھلونے بنتے ہیں آنچ سے ہی قوام ان انطباعوں کے قابل ہوتاہے مگرآگ سے بہے گا نہیں جل جائے گا۔ ہاں جوچیز آگ پرصابرہونہ فناہو نہ راکھ جیسے فلزات بظاہروہاں انطباع وذوبان پرہوگی حتی کہ فولاد میں اگرچہ بتدابیر کمافی شرحی المواقف عہ  والمقاصد(جیسا کہ شرح مواقف و شرح مقاصدمیں ہے۔ت) اورممکن کہ خالق عزوجل نے بعض ایسی محکم الترکیب بنائی ہوں کہ آگ سے صرف نرم ہوسکیں اُن کے پانی کردینے پرآگے کبھی قادرنہ ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ  : فان قیل الحدید لایذوب وان کان یلین قلنا یمکن اذابتہ بالحیلۃ ۴؎ اھ شرح المواقف۔ الذوبان فی غیرالحدید ظاھرا مافی الحدید فیکون بالحیلۃ۱ھ شرح المقاصد ۵؎  ۱۲منہ غفرلہ(م)

اگریہ کہاجائے کہ لوہاپگھلتانہیں اگرچہ نرم ہوجاتاہے، تو اس کاجواب یہ ہے کہ لوہابھی فی الجملہ کسی تدبیر سے پگھلایاجاسکتاہے۱ھ شرح مواقف۔ لوہے کے علاوہ میں توپگھلنا ظاہرہے، رہالوہاتواس میں بھی تدبیرسے ہوسکتاہے ۱ھ شرح المقاصد۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
 (۴؂ شرح المواقف	 القسم الرابع	۷/ ۱۷۳ )

(۵؂ شرح المقاصد 	المبحث الاول 	۱/ ۳۷۳ )
بیان تنوع کلمات علماء واشکالات: اوصاف خمسہ مذکورہ کے عدم سے جنس ارض یاوجود سے اس کے غیر کی پہچان بتانے میں کلماتِ علماچودہ۱۴  وجوہ پر آئے :

(۱) بعض نے صرف انطباع لیا کہ جس میں یہ نہیں وہ جنس ارض ہے۔

 شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے:
ذکرالجلابی ان جنس الارض کل جزء من لاینبع ۱؎۔
جلابی نے ذکرکیا ہے کہ جنس ارض ہروہ جز ء ہے جومنطبع نہ ہو۔(ت)
 (۱؎ شرح النقایہ للبرجندی فصل فی التیمم  مطبوعہ نولکشورلکھنؤ    ۱/ ۴۷)
اقول: یہ ظاہر البطلان(۱) ہے کہ لکڑی کپڑے ناج ہزاروں چیزوں پرصادق۔
فان قلت قد اخرجہا بقولہ کل جزء منہ ای من الارض ذکرالکنایۃ تسامحااوباعتبار المذکور۔
اگریہ اعتراض ہو کہ انہوں نے بکل جزء منہ ج(یعنی ہرجزء زمین) کہہ کر ان سب چیزوں کوخارج کردیاہے اور منہا کی بجائے منہ مذکر کی ضمیر تسامحاً یامذکورکااعتبار کرکے لائے ہیں۔
اقول:  اولاً ضاع قولہ لا ینطبع فلیس جزء منہا لینطبع بالنار۔
اقول: اولاً : یہ ہو توان کا قول ''لاینطبع'' (منطبع نہ ہو) بے کار ہوجائے گا اس لئے کہ زمین کاکوئی جزء ایسانہیں جوآگ سے مطبع ہو۔
وثانیا : یعود حاصلہ ان جنس الارض کل جزمنہا وھذا کتعریف شیئ بنفسہ فانما الشان فی معرفۃ ان ای شیئ من اجزائھا۔
جنسِ زمین، زمین کاہرجزہے اور یہ گویا کہ شیئ کی تعریف خود اسی شے سے کرناہے اس لئے کہ یہاں تویہی جاننا مقصود ہے کہ کون سی شے زمین کاجزہے۔(ت)
 (۲)صرف ترمُّد کہ جوچیز جل کرراکھ نہ ہوجنس ارض ہے نافع شرح قدوری میں ہے:
جنس الارض مااذا احترق لایصیر مادا ۲؎
(جنسِ زمین وہ ہے جو جل کرراکھ نہ ہو۔ت)
 ( ۲؎ نافع شرح قدوری)
Flag Counter