رسالہ ضمنیہ
المطر السعید علی نبت جنس الصعید(۱۳۳۵ھ)
جنس صعید کی نبات پربارانِ مسعود (ت)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ، ونصلی علی رسولہ الکریم
سیّدنا امام الائمہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک ہر اس چیز سے کہ جنس ارض سے ہو تیمم رواہے جبکہ غیرجنس سے مغلوب نہ ہو اور اس کے غیر سے ہمارے جمیع ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک روانہیں لہٰذا جنس ارض کی تحدید وتعدید درکار۔ اس میں چار۴ مقام ہیں:
مقام اوّل تحدید۔
اقول: وباللّٰہ التوفیق وبہ الوصول الی اعماق التنقیح والتحقیق
(میں کہتاہوں اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے، اور اسی کی مدد سے تنقیح وتحقیق کی گہرائیوں تک رسائی ہے۔ت) علمائے کرام نے بیان جنس ارض میں اُن آثار سے کہ اجسام میں نار سے پیداہوتے ہیں پانچ لفظ ذکرفرمائے ہیں:
(۱) احتراق (۲) ترمُّد
(۳) لین (۴) ذوبان
(۵) انطباع
اوّلاً ان کے معانی اور ان کی باہم نسبتوں کابیان، پھر کلمات علما میں جن مختلف صورتوں پراُن کاورود ہوا اس کاذکر پھربیانات پرجواشکال ہیں اُن کا ایراد پھر
احتراق: جلنا، امثال، مطعومات میں اس کا اطلاق اس صورت پرآتاہے کہ شَے اثرِ نار سے کُلاًّ یابعضاً فاسدوخارج عن المقاصد ہوجائے کھاناپکنے کواحتراق نہ کہیں گے بلکہ طبخ ونضج وادراک۔ ان کے غیرمیں کبھی آگ سے مجرد تأثرقوی کواحتراق کہتے ہیں اگرچہ اس سے اجزاومقاصد شے برقرار رہیں جیسے زمین سوختہ کہ اثرِ نار سے بشدّت ہوکرسیاہ ہوگئی درمختار میں ارضِ محترقہ کامسئلہ ذکرفرمایا کہ اس سے تیمم جائز ہے۔ طحطاوی و شامی نے کہا:
اذا حرق ترابہا من غیرمخالط لہ حتی صارت سوداء جازلان المتغیر لون التراب لاذاتہ ۱؎۔
جب زمین کی مٹّی کسی اورملنے والی چیز کے بغیر اس حد تک جلادی گئی ہوکہ سیاہ بن گئی ہو تو اس سے تیمم ہوسکتاہے اس لئے کہ اس سے محض مٹی کے رنگ میں تغیر آیاہے حقیقت اورذات میں تبدیلی نہیں(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۷)
بلکہ ایسی اشیاء میں کبھی مقصود کے لئے مہیّا ہوجانے کو جسے مطعومات میں پک جاناکہتے تھے احتراق بولتے ہیں اسی باب سے ہے احراق احجار وتکلیس یعنی اُن کاچونابنانا۔
ترمُّد: راکھ ہوجانا
اقول: احتراق(۱) کی چار۴صورتیں ہیں: انتفا،انطفا، انتقاص کہ دو۲قسم ہوجائے گا۔
انتفا یہ کہ شَے جل کر بالکل فناہوجائے جیسے رال، گندھک، نوشادر۔
انطفا یہ کہ بعد عملِ ناراس کے سب اجزاء برقرار رہیں یہ احتراق ارض ہے اگروہاں خارج سے پانی کی کوئی نم تھی کہ خشک ہوگئی تووہ کوئی جزء زمین نہ تھی۔
انتقاص یہ کہ نار اس کے اجزاء رطبہ یابسہ میں تفریق کردے اور جسم کاحصہ باقی رہے۔ اس صورت میں اگررطوبات بہت قلیل تھیں عمل نار سے حجمِ جسم میں فرق نہ آیانہ پہلے سے بہت ضعیف ہوگیا تویہ تکلیس احجارہے ورنہ ترمُّد۔ اس میں اگررطوبات کثیرہ سب فناہونے سے پہلے آگ بجھ گئی کہ آئندہ بوجہ بقائے رطوبت دوبارہ جلنے کی صلاحیت رہی توفحم، انکشت، کولاہے ورنہ رماد، خاستر، راکھ۔ اس میں غالباً اجزاء بکھرجاتے ہیں یاچھوئے سے بکھر جائیں گے کہ آگ بالکل تفریفق اتصال کرچکی والعیاذ باللّٰہ تعالٰی منہا (اللہ تعالٰی کی اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ت) محاورہ عامہ میں اکثر اسی کو رماد کہتے ہیں۔
لین: نرم پڑنا۔ یہ نضج وطبخ کو بھی شامل ہے کہ ہرشے پک کراپنی حالت خامی ے نرم ہوجاتی ہے بلکہ تکلیس کوبھی کہ چونابھی اپنے پتھرسے نرم ہوگا۔
اقول: اس میں کُلاًّ یابعضاً عہ۱ بقائے جسم شرط ہے بھڑک ہوکرفناہوجانانرم ہونانہیں، نیز یہ بھی لازم کہ اگرچہ گرہ قدرے سست ضرور ہوئی کہ پہلی سی باہم گرفت وصلابت نہ رہی مگر عہ۲ جسم کہ منجمد تھا اپنے انجماد پررہے نہ یہ کہ عہ۳ پانی ہوکربہہ جائے، بہہ جانے کونرم پڑنا نہ کہیں گے۔
عہ۱ : یہ تعمیم اس لئے کہ فنائے بعض اجزا جس طرح تکلیس وترمُّد میں ہے لین باقی کے منافی نہیں۔(م)
عہ۲: یعنی وہی جس قدربعد احتراق باقی ہے کل خواہ بعض ۱۲منہ (م)
عہ۳: اس کے بعد بحمداللہ تعالٰی ہم نے شرح مقاصدمیں دیکھا کے عدم سیلان کولین میں شرط فرمایا۔ حیث قال اللین کیفیۃ تقتضی قبول الغمزالی الباطن ویکون للشیئ بھا قوام غیرسیال ۱۲منہ غفرلہ (م)
ان کے الفاظ یہ ہیں: لین (نرمی) ایسی کیفیت ہے جواندر کی جانب دباؤ قبول کرلینے کی مقتضی ہوتی ہے اور اس کیفیت کی وجہ سے شے کاایک غیرسیّال قوام ہوتاہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
ذوبان: پگھل جانا۔
اقول: یہ وہ صورت ہے کہ اجزائے عہ۴ موجودہ کی گرہ قریب انحلال ہے نہ توپوری کھل گئی کہ اثرِنار سے ان میں کے رطبہ یابسہ کو چھوڑکراُڑجائیں نہ وہ گرفت رہی کہ جسم کی مٹھی اگرچہ نرم پڑگئی ہوبندھی رہے جوصورت تکلیس احجار میں تھی لہٰذا یہ اجزائے رطبہ فراق چاہ کراُڑناچاہتے ہیں کہ آگ کی گرمی اسی کی مقتضی اور گرہ بہت سست ہوگئی لیکن اجزائے یابسہ انہیں نہیں چھوڑتے کہ ہنز تماسک باقی ہے اس کشمکش میں روانی توہوئی مگرمع بقائے اتصال زمین ہی پررہی اس نے صورتِ سیلان پیداکی۔
عہ۴: احتراز ہے ان اجزاسے کہ جل کراُرگئے کہ ان کی گرہ ضرور کھل گئی ۱۲مہ غفرلہ(م)
انطباع: یہ لفظ اگرچہ عربی ہے مگرزبانِ عرب پرنہیں، نہ اُن سے کبھی منقول ہوا ولہٰذا قاموس، محیط حتی کہ تاج العروس کے مستدرکات تک اس کاپتانہیں، ہاں فقہائے کرام نے اس کااستعمال فرمایا، جس کا پہلا سراغ امام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تک چلتاہے، شيخ الاسلام غزینی اس کے معنی فرمائے، پارہ پارہ ونرم ہونا۔ طحطاوی علی الدرالمختار و ردالمختارمیں ہے:
قولہ ولا بمنطبع ھومایقطع ویلین کالحدید منح۱؎
(اس کاقول ''ولابمنطبع'' یہ وہ ہے جوٹکڑے ٹکڑے ہو اور نرم ہوجائے جیسے لوہا، منح۔ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۶)
اقول: اس سے تویہ ظاہر کہ لین معنی انطباع میں داخل اور اس کاجز ہے لیکن ان سے پہلے علامہ مولٰی خسرو عہ نے انطباع کوخود لین سے تفسیر فرمایا جس سے روشن کہ دونوں ایک چیزہیں،
عہ: انہیں کااتباع اخی چلپی نے کیا کماسیأتی (جیسا آگے آئے گا۔ت) ۱۲منہ غفرلہ (م)
غرر ودرر میں ہے، (وھولاینطبع) ای لایلین ۲؎
(یعنی نرم نہ ہو۔ ت)
(۲؎ دررالحکام شرح غررالاحکام باب التیمم مطبعۃ فی دارالسعادۃ احمدکامل الکائنۃ ۱/ ۳۱)
علامہ ابن امیرالحاج حلبی نے جنس ارض میں نفی اطباع ولین دوجگہ لکھ کرغیرجنس میں فقط لین کانام لیا۔
حلیہ میں ہے: قال مشایخنا جنس الارض مالایحترق بالنارفیصیر رمادا ومالایلین ولاینطبع ویدخل فیما لایلین ولاینطبع ولایحترق الیاقوت ومااحترق بالنار او لان بہا فلیس من جنس الارض۳؎۔
ہمارے مشائخ نے فرمایا جنس ارض وہ ہے جو آگ سے جل کر راکھ نہ ہوجائے اور جونرم نہ ہو اور منبع نہ ہو۔ یاقوت بھی انہی چیزوں میں داخل ہے جو نہ نرم ہوتی ہیں نہ منطبع ہوتی ہیں نہ جلتی ہیں۔ اور جو آگ سے جل جائے یا اس سے نرم ہوجائے وہ جنسِ ارض سے نہیں۔(ت)
( ۳؎ حلیہ)
یہ اس عینیت وجزئیت اور ان کے علاوہ لزوم کوبھی محتمل یعنی لین لازم انطباع ہوکہ جب کہہ دیا کہ جو آگ پرنرم پڑے جنسِ ارض نہیں اس سے خود ہی معلوم ہوا کہ جو منطبع ہو جنسِ ارض نہیں کہ تینوں تقدیروں پرہرمنطبع میں لین ضرور ہوگا اور اس سے نفی جنسیت کرچکے مگرصدرکلام میں لین پرانطباع کاعطف ہے اور اسی طرح شرح نقایہ برجندی میں زادالفقہاء سے ہے:
یلین وینطبع۴؎
(نرم اور منطبع ہو۔ت)
(۴؎ شرح نقایۃ برجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱/ ۴۷)
یہ عینیت کی تضعیف کرتاہے کہ عطف تفسیری میں معطوف زیادہ مشہور ومعروف چاہئے نہ کہ یہ بالعکس لین میں کیاخفا تھی کہ اسے تفسیر کیا اور کاہے سے انطباع سے جس کے معنی میں یہ کچھ خفاہے۔ باقی کتب کثیرہ مثل تحفۃ الفقہا و بدائع ملک العلماء و کافی و مستصفٰی و جوہرہ نیرہ و غنیہ و بحرو مسکین و ایضاح و ہندیہ میں اس کاعکس ہے۔
ینطبع ویلین ۵؎
(منطبع اور نرم ہو۔ت)
(۵؎ فتاوٰی ہندیۃ فصل اول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۶)
یہاں برتقدیر عینیت عطف تفسیری بے تکلف بنتاہے اور برتقدیر جزئیت ولزوم بعد انطباع ذکرلین لغورہتاہے۔
عنایہ میں سب سے جدا اوینطبع اویلین ۱؎ _______ بحرف تردید ہے کہ یہ منطبع ہویانرم پڑے، یہ عطف تفسیری کی رگ کاٹتاہے۔ غرض ان مفادات میں امرمشوش ہے۔
(۱؎ العنایۃ مع الفتح باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۱۲)