اقول: فی قولہ فیتقید الامر بہ فلا یوجد الخ ۔نظر ظاھر لما قدمنا عن البدائع ان حکم التیمم وارد علی خلاف القیاس وقد قال فی الحلیۃ نفسھا صدر الفصل التعبد ورد بمسحھما علی الاعضاء المخصوصۃ۔ الخ فلوتقید الامر الوارد بارادۃ الصلاۃ لم یجز التیمم لغیرھا کدخول المسجد وتلاوۃ القراٰن للجنب او مسہ للمحدث وھو خلاف الاجماع ولیست فی معنی الصلاۃ من کل وجہ حتی تلحق بھا دلالۃ لاسیما وقد حصر المنزل منزلتھا فی عبادۃ مقصودۃ الخ بل الصواب عندی ان اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی انزل من السماء ماء طھورا لیطھرنا بہ وامرنا بہ فی الوضوء والغسل لالخصوص اقامۃ الصلاۃ بل لکل مایطلب فیہ الطھارۃ مقصودا بنفسہ کان اولا ثم قال فلم تجدوا ماء ای کافیا لطھرکم فتیمّموا لتطھیرکم صعیدا طیبا فالاصل ھو نیۃ التطھیر کماافادہ ما فی الفتح والکل انما یدور علیہ ولذا اقتصر علیہ الامام البرھان فی التجنیس وماالتطھیر المراد ھنا الا ازالۃ النجاسۃ الحکمیۃ وھو الذی اخذتہ فی التعریف فالحمداللّٰہ الذی القی فی قلبی واجری علی قلمی ماھو الامر المحقق عند محقق الائمۃ الکراموالحمدللّٰہ ولی الانعام۔
اقول: صاحبِ حلیہ کا کلام ''تو یہ امر اسی سے مقید رہے گا الخ''۔ عیاں طور پر محلِ نظر ہے۔ اس لئے کہ بدائع کے حوالہ سے ہم پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ تیمم کا حکم خلافِ قیاس وارد ہے۔ خود حلیہ میں بھی شروع فصل میں لکھا ہے کہ ''التعبد ورد بمسحھما علی الاعضاء المخصوصۃ یعنی برخلاف قیاس بطور عبادت اعضائے مخصوصہ پر ان دونوں کے مسح کا حکم وارد ہوا ہے'' اب یہ وارد ہونے والا حکم اگر ارادہ نماز سے مقید ہوتا تو کسی غیر نماز جیسے مسجد میں داخل ہونا، جنابت والے کا قرآن پڑھنا، بے وضو شخص کا مصحف چھُونا کسی کام کیلئے تیمم جائز ہی نہ ہوتا اور یہ اجماع کے خلاف ہے اور یہ افعال ہر جہت سے معنی نماز میں داخل نہیں ہیں کہ بطور دلالت انہیں نماز سے لاحق کردیا جائے۔ خصوصاً جب کہ صاحبِ حلیہ نماز کے قائم مقام فعل کو ایسی عبادت مقصودہ میں محصور قرار دے رہے ہیں جو بغیر طہارت صحیح نہیں ہوتی، بلکہ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالٰی نے ہماری تطہیر کیلئے آسمان سے پاک پانی اتارا۔ اور وضو وغسل میں اسے استعمال کرنے کا ہمیں حکم دیا۔ خاص ادائے نماز کیلئے نہیں بلکہ ہر اس کام کیلئے جس میں طہارت مطلوب ہو خواہ وہ بجائے خود مقصود ہو یا نہ ہو۔ پھر فرمایا: ''ولم تجدوا ماءً '' ای کافیا لطھرکم (فتیمموا) لتطھیرکم (صعیدا طیبا) یعنی تم اپنی طہارت کیلئے کافی پانی نہ پاؤ اپنے کو پاک کرنے کیلئے پاکیزہ رُوئے زمین کا قصد کرو۔ تو اصل وہی نیت تطہیر ہے جیسا کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا۔ اور اسی نیت پر ہر ایک کام کا مدار ہے۔ اسی لئے امام برہان الدین مرغینانی نے تجنیس میں اسی پر اکتفا کیا۔ اور یہاں جو تطہیر مقصود ہے وہ یہی نجاست حکمیہ کا دُور کرنا ہے۔ اسی کو میں نے اپنی تعریف میں لیا ہے۔ تو خدا کا شکر ہے کہ میرے دل میں اسی کا القا فرمایا اور میرے قلم پر وہی جاری کیا جو محققین ائمہ کرام کے نزدیک امر محقَّق ہے۔ اور ساری خوبیاں احسان وانعام کے مالک خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
بقی ان یقال این التطھیر وازالۃ النجاسۃ فی الصورتین الاخیر تین اذلوطھر وزالت لجازلہ کل شیئ۔
یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ آخری دو (نویں، دسویں) صورتوں میں تطہیر اور ازالہ نجاست کہاں؟ اس لئے کہ اگر وہ پاک ہوجاتا اور نجاست دُور ہوجاتی تو اس کیلئے سب کچھ جائز ہوجاتا۔
اقول: بل ولکن فی حق مانوی ولولا ذلک کیف عــہ حلت لہ تلک الصلاۃ ودخول المسجد جنبا بذلک التیمم ولاغرو فی اعتبارھا زائلۃ فی حق بعض الاشیاء دون بعض فماھی الا حکمیۃ تثبت باعتبار الشرع وتنتفی بعدمہ ونری الحقیقۃ تزول فی حق انسان دون اٰخر ولاجل دون غیرہ کما تقدم فی صدر الرسالۃ وقدمرھھنا عن البدائع انہ یقع طھور الماء اوقعہ لاغیر ۱؎ اھ ومثلہ فی الحلیۃ وفی ش یقع طھارۃ لمانواہ لہ فقط ۲؎ اھ۔
جواب (اقول): کیوں نہیں۔ تطہیر اور ازالہ نجاست ہے مگر اسی عمل کے حق میں جس کی نیت کی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کیلئے اس تیمم سے نماز کیسے جائز ہوجاتی اور بحالت جنابت مسجد میں داخل ہونا کیسے جائز ہوجاتا اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کچھ چیزوں کے حق میں یہ اعتبار نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ نجاست، نجاستِ حکمیہ ہی تو ہے جس کا ثبوت وانتفاء شریعت کے اعتبار اور عدمِ اعتبار سے ہی ہوتا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ نجاست حقیقیہ کا بھی یہ حال ہے کہ کسی انسان کے حق میں زائل ہوجاتی ہے اور کسی کے حق میں نہیں۔ یونہی کسی امر کے لئے زائل قرار پاتی ہے کسی کے لئے نہیں۔ جیسا کہ شروع رسالہ میں گزر چکا۔ اور یہاں بدائع کے حوالہ سے گزرا کہ یہ تیمم اسی کام کیلئے طہارت بنے گا جس کیلئے اسے عمل میں لایا، دوسرے کیلئے نہیں اھ۔ اسی کے مثل حلیہ میں ہے۔ اور شامی میں ہے: ''صرف اس عمل کیلئے طہارت بنے گا جس کی نیت کی ہے''۔ اھ (ت)
عــہ کلام فی المشروطات بالطھارۃ ومن قولہ اقول وقد تقدم کلام فی غیرھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہاں سے ان امور کے بارے میں کلام ہے جن میں طہارت کی شرط ہے۔ اور آنے والے ''اقول الخ'' سے ان کے علاوہ امور سے متعلق کلام ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول: وقد تقدم قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حین تیمّم لرد السلام لم یمنعنی ان ارد علیک السلام الا انی لم اکن علی طھر ۳؎ فارشد ان التیمم لرد السلام یجعل التیمم طاھرا فی حقہ مع ان السلام لایحتاج الی الطھارۃ فاذا اعتبر مطھراً فیما لیست الطھارۃ ضروریۃ لہ لعدم الماء حکما ففی عدمہ حقیقۃ اولی فمالاحل لہ الابالطھارۃ اجدر واحری وماابد المحقق فی الفتح من احتمال کونہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مایصح معہ التیمّم ثم یرد السلام اذا صار طاھرا ۴؎ اھ
اقول: (میں کہتا ہوں): رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک بیان ہوچکا ہے کہ جوابِ سلام کے لئے جب تیمم کیا تو فرمایا تھا: ''لم یمنعنی ان ارُدَّ علیک السلام'' (مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے صرف یہ بات مانع تھی کہ میں باطہارت نہ تھا) اس فرمان سے یہ ہدایت حاصل ہُوئی کہ جوابِ سلام کی غرض سے ہونے والاتیمم،تیمم کرنے والے کو جواب سلام کے حق میں طاہر بنادیتا ہے حالانکہ سلام کیلئے طہارت کی ضرورت نہیں تو جب یہ تیمم اُس عمل میں جس کیلئے طہارت ضروری نہیں پانی کے عدم حکمی کی وجہ سے مطہّر مانا گیا ہے تو عدم حقیقی کی صورت میں تو بدرجہ اولٰی مُطہّر ہوگا اور وہ عمل جو بغیر طہارت جائز ہی نہیں ہوتا اس کیلئے تو اور زیادہ مناسب وبہتر طریقہ پر مطہّر ثابت ہوگا۔ حضرت محقّق نے فتح القدیر میں یہ احتمال ظاہر فرمایا ہے کہ ''ہوسکتا ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کسی ایسے امر کی نیت کی ہو جس کے ساتھ تیمم درست ہوتا ہے پھر جب طاہر ہوگئے تو سلام کا جواب دیا ہو'' اھ
(۳؎ سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱/۴۷)
(۴؎ فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۱۴)
ردہ فی البحر بان المذھب ان التیمّم للسلام صحیح وان التجویز المذکور خلاف الظاھرکمالایخفی ۱؎ اھ
لیکن البحرالرائق میں اس احتمال کو ان الفاظ میں رَد کردیا ہے کہ ''مذہب یہ ہے کہ سلام کے لئے تیمم درست اور صحیح ہے۔ اور احتمال مذکور خلاف ظاہر ہے جیسا کہ عیاں ہے''۔ اھ (ت)
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۰ تا ۱۵۱)
اقول: ویلزم علی ھذا انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان عادما للماء حال التیمّم ۲؎ کماحملہ علیہ الامام النووی فی شرح مسلم وھو فی غایۃ البعد اشد البعد لان الواقعۃ کانت بالمدینۃ الکریمۃ فصدر الحدیث مررجل فی سکۃ من السکک فسلم علیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فلم یرد علیہ حتی اذاکاد الرجل ان یتواری فی السکۃ ضرب بیدیہ علی الحائط ۳؎ الحدیث
اقول: اس احتمال کی بنیاد پر یہ بھی لازم آئے گا کہ بحالت ِتیمم حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دسترس میں پانی نہ تھا جیسا کہ شرح مسلم میں اسی پر امام نووی نے محمول کیا ہے حالانکہ یہ بعید ہی نہیں انتہائی بعید ہے اس لئے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے۔ ابتدائے حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ''گلیوں میں سے ایک گلی میں ایک آدمی گزرا جس نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سلام کیا تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب نہ دیا یہاں تک کہ جب وہ گلی سے اوجھل ہونے کے قریب تھا تو سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دیوار پر دونوں ہاتھ مارے'' الحدیث۔
(۲؎ شرح مسلم للنووی مع المسلم باب التیمم قدیمی کتب خانیہ کراچی ۱/۱۶۱)
(۳؎ سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱/۴۷)
بل فی الصحیحین اقبل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من نحوبئر فلقیہ رجل فسلم علیہ فلم یرد علیہ حتی اقبل علی جدار فمسح وجھہ ویدیہ ثم ردّ علیہ السلام ۴؎ اھ وبئر جمل موضع بالمدینۃ الکریمۃ علی صاحبھا واٰلہ افضل صلاۃ وسلام۔
بلکہ صحیحین میں تو یہ صراحت ہے کہ ''رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بئر جمل کی سمت سے تشریف لارہے تھے ایک شخص سے ملاقات ہوگئی اس نے سلام کیا حضور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب نہ دیا یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آکر چہرے اور ہاتھوں پرتیمم کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا'' اھ۔ اور بئر جمل خود مدینہ منورہ میں ایک مقام ہے۔ صاحبِ مدینہ اور اُن کی آل پر بہتر درود وسلام۔ (ت)
(۴؎ صحیح للمسلم باب التیمم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۶۱)
چہار دہم: جنس ارض اس کی معرفت کو جنس ارض کسے کہتے ہیں اور کیا کیا چیز جنس ارض سے ہے کیا کیا نہیں امر مہم ہے کہ اُسی پر مدار مسائل تیمم ہے
فاستمع وباللّٰہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
(تو بغور سماعت ہو۔ اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے، اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندیوں تک رسائی ہے۔ ت)