اقول: انما مفادہ الاجماع علی عدم جواز الصلاۃ بہ وھو حاصل قطعاً فان التیمّم الذی فعل مع القدرۃ علی الماء کیف تسوغ بہ الصلاۃ ولانظر فیہ الی کونہ جائزا فی نفسہ اولا الاتری ان التیمم لتعلیمہ جائز قطعا مع وجود الماء ولاتجوز بہ الصلاۃ وکون بعض ماذکر لایصح لہ التیمم کمس المصحف لایقضی ان الکل کذلک فالقراٰن فی الذکر لیس عندنا قراٰنا فی الحکم وبالجملۃ لانقل صریحا بایدی الطرفین وقضیۃ الدلیل المنع فان اللّٰہ عزوجل یقول ولم تجد واماء وھذا واجد فلاحظ لہ فی التیمم بخلاف من یفوتہ مطلوب مؤکد لا الی بدل فانہ فاقد حکما وان کان واجدا حقیقۃ وحسا واختیار البدل مع تیسرالاصل ممالا یساعدہ عقل ولانقل۔
اقول: مذکورہ کلامِ بزازیہ کا مفاد صرف یہ ہے کہ اس تیمم سے نماز جائز نہیں اور اتنی بات قطعاً حاصل ہے اس لئے کہ پانی پر قدرت ہوتے ہوئے جوتیمم کیا گیا اس سے نماز کیونکر جائز ہوسکتی ہے لیکن کلام مذکور میں اس تیمم کے بجائے خود جائز یا ناجائز ہونے پر کوئی نظر نہیں دیکھئے تعلیمِ قرآن کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم قطعاً جائز ہے اور اس تیمم سے نماز جائز نہیں مذکورہ امور میں سے بعض مثلا مَسِّ مصحف کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم کا عدمِ جواز اس کا مقتضی نہیں کہ سبھی کا حال ایسا ہی ہو۔ کیونکہ ہمارے نزدیک ذکر میں مقارنت (ساتھ ہونا) حکم میں مقارنت نہیں (یہ ہوسکتا ہے کہ ایک ساتھ چند چیزیں ذکر ہوں لیکن ان کے حکم میں باہم فرق ہو) مختصر یہ کہ کوئی صریح نقل طرفین کے ہاتھوں میں نہیں اور دلیل کا اقتضا یہ ہے کہ منع ہو، اس لئے کہ اللہ عزّوجلّ نے فرمایا ہے:
وَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً
(اور تم پانی نہ پاؤ)۔ اور یہ شخص ''پانے والا'' ہے، توتیمم میں اس کا کوئی حصہ نہیں بخلاف اس شخص کے جس سے کوئی ایسا مؤکد مطلوب فوت ہورہا ہے جو بدل نہیں رکھتا کیونکہ حکماً یہ شخص پانی ''نہ پانے والا'' ہے اگرچہ حقیقۃً و حِسًّا پانی والا ہے۔اور اصل میسر ہوتے ہوئے بھی بدل اختیار کرنے کی نہ عقل ہم نوائی کرتی ہے نہ نقل۔
فان قلت الاصل والبدل فی الوجوب ونحن انما اردنا تطوعا حیث لاوجوب ورأینا الشرع اتی بطھورین فاجتزأنا بادونھما التراب لان التطوع دون الایجاب۔
اگر یہ سوال ہو کہ اصل اور بدل وجوب میں ملحوظ ہیں اور ہم نے تو ایک نفل کا ارادہ کیا ہے جہاں وجوب نہیں اور شریعت نے ہمیں دونوں مُطَہِّر دیے ہیں (پانی بھی، مٹّی بھی) تو ہم نے کمتر مٹّی پر اکتفا کرلیا کیونکہ نفل بھی واجب سے کمتر ہی ہے۔
اقول: التراب فی ذاتہ ملوث لامطھر کمافی البدائع والکافی وغیرھما وانما عرف مطھرا شرعا اذا لم تجدوا ماء فیبقی فیما عداہ علی اصلہ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تو جواب یہ ہوگا کہ مٹّی اپنی ذات کے لحاظ سے مطہّر نہیں بلکہ ملوّث یعنی آلودہ کرنے والی ہے جیسا کہ بدائع اور کافی وغیرہ میں ہے اور شریعت میں مطہّر کی حیثیت سے اس کا تعارف صرف اس وقت کیلئے ہُوا ہے جب پانی نہ ملے ''اذالم تجدوا ماءً'' تو دیگر اوقات وحالات میں یہ اپنی اصل پر باقی رہے گی واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اُسی میں قول مذکور در وان لم تجز الصلاۃ بہ پر ہے ای فیقع طھارۃ لمانواہ فقط کما فی الحلیۃ لان التیمم لہ جھتان صحتہ فی ذاتہ وصحۃ الصلاۃ بہ فالثانیۃ متوقفۃ علی العجز عن الماء وعلی نیۃ عبادۃ مقصودۃ لاتصح بدون طھارۃ واما الاولی فتحصل بنیۃ ای عبادۃ کانت سواء کانت مقصودۃ لاتصح الا بالطھارۃ اوغیر مقصودۃ کذلک اوتحل بدونھا اومقصودۃ وتحل بدون طھارۃ فالتیمم فی کل ھذہ الصور صحیح فی ذاتہ کما اوضحح ۱؎ اھ۔
اُسی میں قول مذکور در ''اگرچہ اس سے نماز جائز نہیں'' پر ہے یعنی یہ صرف اس عمل کے لئے طہارت بن سکے گا جس کی نیت کی گئی تھی جیسا کہ حلیہ میں ہے۔ اس لئے کہ تیمم کی دو۲ جہتیں ہیں، ایک یہ کہ فی نفسہٖ درست ہو، دُوسری یہ کہ اس سے نماز بھی درست ہو،۔ دُوسری جہت اس پر موقوف ہے کہ پانی سے عاجز ہو اور اس پر کہ ایسی عبادت مقصودہ کی نیت ہو جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ لیکن پہلی جہت تو کسی بھی عبادت کی نیت سے حاصل ہوجاتی ہے خواہ ایسی(۱) عبادت مقصودہ ہو جو بغیر طہارت جائز نہیں یا ایسی(۲) عبادت غیر مقصودہ ہو جو بغیر طہارت جائز نہیں یا بغیر(۳) طہارت بھی جائز ہے یا عبادت مقصودہ ہو اور بغیر طہارت جائز ہو توتیمم ان تمام صورتوں میں فی نفسہٖ درست ہے جیسا کہ حلیہ نے اسے واضح طور پر بیان کیا اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۸)
اقول: ای عند فقد الماء کما قدمنا تنصیصہ بہ وھو عــہ مستفادھھنا من نفس الکلام لمن تدبر و من سابقہ ولا حقہ لمن نظر۔
اقول: یعنی پانی نہ ہونے کے وقت جیسا کہ ہم پہلے اس کی صراحت پیش کرچکے ہیں اور تدبر کرنے والے کیلئے یہاں پر خود اس عبارت سے بھی یہ مستفاد ہے اور نظر والے کیلئے سابق لاحق سے بھی۔ (ت)
عــہ وذلک لانہ ذکر للجھۃ الثانیۃ شرطین فقد الماء ونیۃ عبادۃ مقصودۃ مشروطۃ بالطھارۃ وفی الجھۃ الاولی بدّل الشرط الثانی بمطلق العبادۃ وسکت عن الاول فھو ملحوظ فیھا ایضا کیف ولولا ھذا لکان ھذا التعمیم عین تعمیم البحر والدر الذی قد انکرہ انکارا وکررہ سابقا ولاحقا مرارا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ اس لئے کہ انہوں نے دوسری جہت کیلئے دو۲ شرطیں ذکر کی ہیں: (۱) پانی کا نہ ہونا (۲) اور ایسی عبادت مقصودہ کی نیت جس میں طہارت کی شرط ہے۔اور پہلی جہت میں شرط ثانی کے بدلے مطلق عبادت کو ذکر کیا ہے اور شرط اول سے سکوت اختیار کیا ہے تو وہ بھی اس میں ملحوظ ہے۔ ملحوظ کیوں نہ ہو جبکہ اگر ایسا نہ ہو تو یہ تعمیم بعینہٖ بحر ودرمختار کی تعمیم ہوجائے گی جس سے وہ صاف انکار کرچکے ہیں اور پہلے اور بعد میں بار بار اس کی تکرار بھی کی ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ثم اقول: ظاہر ہے کہ کسی شے کا دُور کرنا اُس کے انقطاع کے بعد ہی ہوگا ازالہ واستمرار یا اعدام وبقا جمع نہیں ہوسکتے تو یہ شرط کہ تیمم(۱) اُس وقت ہو جب حیض ونفاس وحدث منقطع ہوچکے ہوں کما زادہ العلامۃ الشرنبلالی فی نورالایضاح (جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے نورالایضاح میں اس کا اضافہ کیا ہے۔ت) باآنکہ اپنی غایت وضوع سے چنداں قابلِ تعرض نہ تھی خود ہمارے اسے دُور کرنے کیلئے کہنے میں آگئی وباللہ التوفیق۔ بالجملہ اس لفظ سے فوائد جلیلہ پیدا ہوئے:
(۱) اشتراطِ نیت
(۲) اشتراط انقطاع منافی
(۳) بیان نیت
اقول: تیمم(۲) دس۱۰ نیتوں سے صحیح ہے: نیت(۱) رفع حدثِ اصغر یا اکبر(۲) یا مطلق حدث(۳) نیتِ وضو(۴) یا غسل(۵) یا مطلق طہارت (۶) نیت استباحت نماز(۷) نیت عبادتِ مقصودہ (۸)مشروط بہ طہارت نیت عبادت (۹)دیگر غیر مقصودہ یا غیر مشروطہ یا غیر مقصودہ وغیر مشروطہ نیت(۱۰) اُس تاکیدی مطلوب شرع کی کہ اگر پانی سے طہارت کریں تو بلابدل فوت ہوجائے۔ دسویں صورت پانی ہوتے ہوئے بھی ممکن ہے اور پہلی نو(۹) اُسی وقت روا ہیں کہ پانی پر قدرت نہ ہو۔ پہلی آٹھ(۸) کی نیت سے ہر نماز بھی بے تکلّف ادا ہوسکتی ہے اگرچہ کسی اور عبادت کی غرض سے کیا ہو اور نویں سے کوئی نماز ادا نہ ہوگی اور دسویں سے خاص وہی نماز ادا ہوگی جس کی ضرورت سے کیا ہے نہ دوسری اگرچہ وہ بھی اسی قسم فائت بے بدل بلکہ اسی کی نوع سے ہو مثلاً نمازِ جنازہ(۳) قائم ہُوئی وضو کرے تو چاروں تکبیریں ہوچکیں گی اسے تیمم سے پڑھا اتنے میں اور جنازہ آگیا اگر وضو کرسکتا ہے اس دوسرے کیلئے وضو لازم ہے اگر وضو کا وقفہ تھا اور نہ کیا اب وضو کا وقفہ نہ رہا تو اس کیلئے دوسراتیمم کرے پہلا جاتا رہا۔ ہاں اگر(۴) دوسرے جنازے کی نماز ایسی بلافصل برپا ہُوئی کہ بیچ میں وضو نہ کرسکتا تو اُسی پہلے تیمم سے پڑھ سکتا ہے درمختار میں ہے:
لوجیئ باخری ان امکنہ التوضی بینھما ثم زال تمکنہ اعاد التیمم والا لا بہ یفتی ۱؎۔
اگر دُوسرا جنازہ لایا گیا تو ان دونوں کے مابین اگر (اتنا وقت ملا جس میں) وضو کرنے کی گنجائش تھی، پھر ختم ہوگئی تو دوبارہ تیمم کرے، ورنہ نہیں۔ اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے۔ اھ (ت)
(۱؎ الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۷)
ہمارا لفظ مذکورہ بحمدہ تعالٰی ان د سوں نیتوں کو شامل ہے پہلی تین تو عین منطوقہیں یونہی اُن کے بعد کی تین کہ ان کی ملزوم ہیں اور یہاں نیت استباحتِ نماز کے یہی معنی ہوں گے کہ وہ مانعیت جو میرے اعضاء سے قائم ہے دُور ہوجائے کہ بے اُس کے اباحت نماز نہیں ہوسکتی وہی اس کا طریقہ معینہ ہے۔ رہا کسی اور عبادت کی غرض سے تیمم مشروطہ میں قطعاً یہی قصد قلبی ہوگا کہ اس عبادت کے ادا کرنے کے قابل ہوجاؤں اور نیت اسی قصد دلی کا نام ہے تو اسے نیت استباحت اور اسے نیت رفع حدث لازم اور غیر میں قصد طہارت خود ظاہر کہ یہ تیمم نہ کیا مگر ادباً کہ عبادت بے طہارت نہ کروں۔
وقد سلک فی البحر الرائق نحو من ذلک فقال شرطھا ان یکون المنوی عبادۃ مقصودۃ لاتصح الابالطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃ اورفع الحدث اوالجنابۃ وماوقع فی التجنیس من ان النیۃ المشروطۃ فی التیمم ھی نیۃ التطھیر وھو الصحیح فلاینافیہ لتضمنھا نیۃ التطھیر وانما اکتفٰی بنیۃ التطھیر لان الطھارۃ شرعت للصلاۃ وشرطت لاباحتھا فکانت نیتھا نیۃ اباحۃ الصلاۃ۱؎ اھ۔
اور البحرالرائق میں بھی کچھ اسی طرح کی راہ اختیار کی ہے، لکھتے ہیں: اس کی(تیمم نمازکی ) شرط یہ ہے کہ جس امر کی نیت کی گئی وہ ایسی عبادت مقصودہ ہو جو بغیر طہارت درست نہیں یا جواز نماز یا رفع حدث یا رفع جنابت کی نیت ہو۔ اور یہ جو تجنیس میں لکھا ہوا ہے کہ ''تیمم میں جس نیت کی شرط ہے وہ نیت تطہیر ہے اور یہی صحیح ہے'' تو یہ عبارت ہمارے مذکورہ بیان کے منافی نہیں اس لئے کہ جواز نماز کی نیت کے ضمن میں تطہیر کی نیت بھی پالی جائے گی اور تجنیس میں صرف نیت تطہیر پر اس لئے اکتفا فرمایا ہے کہ طہارت نماز کیلئے مشروع ہُوئی ہے اور جوازِ نماز کیلئے طہارت کی شرط بھی ہے تو طہارت کی نیت جواز نماز کی بھی نیت ہے'' اھ (ت)
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۰)
اقول:(۱) صدر کلام یقتضی ان الاصل نیۃ التطھیر وجازت نیۃ استباحۃ الصلاۃ لتضمنھا ماھو المقصود وعُجزہ یقضی بالعکس ان نیۃ التطھیر تنبئ عن الاصل فاکتفی بھا ولفظ المحقق فی الفتح بعد نقل کلام التجنیس ومازاد غیرہ من نیۃ استباحۃ الصلاۃ لاینافیہ اذا یتضمن نیۃ التطھیر ۱؎ اھ وجعل فی الحلیۃ الاصل ارادۃ الصلاۃ فقال لفظ التیمم ینبئ عن القصد والاصل(۱) ان یعتبر فی الاسماء الشرعیۃ ما تنبئ عنہ من المعانی ثم مطلق القصد غیر مراد بالاجماع وسوق الاٰیۃ یفید الامر بالقصد الی الصعید لاقامۃ الصلاۃ عند عدم الماء المطلق فیتقید الامر بہ فلایوجد المأمور الشرعی وھو التیمم بدون نیۃ فعلہ للصلاۃ اولما ھو منزل منزلتھا وھو عبادۃ مقصودۃ بنفسھا لاتصح الابالطھارۃ فلاجرم ان ذکر القدوری ان الصحیح من المذھب انہ اذانوی الطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃ اجزأہ لان کلامن النیتین تقوم مقام نیۃ ارادۃ الصلاۃ لان الطھارہ شرعت لھا وشرطت لاباحتھا ومثلہ رفع الحدث ورفع الجنابۃ ۲؎ اھ۔
اقول: بحر کے شروع کلام کا اقتضا یہ ہے کہ اصل، نیتِ تطہیر ہے۔ اور اباحت نماز کی نیت اس لئے جائز ہے کہ اس کے ضمن میں وہ نیت تطہیر بھی پالی جاتی ہے جو اصل مقصود ہے۔ اور ان کے کلام کا آخری حصہ اس کے برعکس یہ فیصلہ دے رہا ہے کہ تطہیر کی نیت چُونکہ اصل(جوازِ نماز کی نیت) کا پتا دیتی ہے اس لئے اس پر اکتفا کیا۔ حضرت محقق نے فتح القدیر میں تجنیس کی عبارات نقل کرنے کے بعد یہ تحریر فرمایا ہے: ''دوسرے حضرات نے جواز نماز کی نیت کا جو اضافہ کیا ہے وہ اس عبارت کے منافی نہیں اس لئے کہ جواز کی نیت، نیتِ تطہر پر بھی مشتمل ہوگی'' اھ۔ (یعنی جب جوازِ نماز کی نیت ہوگی تو اس کے ضمن میں نیتِ تطہیر جو اصل ہے یہ بھی پالی جائے گی ۱۲ م الف) اور حلیہ میں ارادہ نماز کو اصل قرار دیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں: ''لفظ تیمم کا معنی قصد ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ شرعی الفاظ جن معانی کا اظہار کرتے ہیں انہی کا اعتبار ہو پھر مطلق قصد بالاجماع مراد نہیں اور آیت کا سیاق یہ بتاتا ہے کہ آبِ مطلق نہ ہونے کے وقت نماز کی ادائیگی کے لئے قصدِ صعید کا حکم ہے۔ تو یہ امر اسی سے مقید رہے گا۔ اس لئے مامور شرعی یعنی تیمم بغیر اس کے نہ پایا جائے گا کہ نماز کے لئے اسے عمل میں لانے کی نیت ہویا ایسے کام کے لئے جو نماز کے قائم مقام ہویعنی کسی ایسی عبادت مقصودہ کیلئے جو بغیر طہارت جائز نہ ہو یقیناً اسی لئے قدوری نے ذکر فرمایا ہے کہ ''صحیح مذہب یہ ہے کہ جب طہارت یا جواز نماز کی نیت کرے تو کافی ہوگی اس لئے کہ دونوں نیتوں میں سے ہر ایک ارادہ نماز کی نیت کے قائم مقام ہے کیوں کہ طہارت اسی کیلئے مشروع ہوئی اور اس کے جواز کیلئے طہارت کی شرط بھی ہے رفعِ حدث اور رفعِ جنابت کی نیت بھی اسی کے مثل ہے''۔ اھ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱/۱۱۴)
(۲؎ حلیہ)