Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
127 - 166
اقول: وعلی ماحققنا فی رسالتنا نَبّہ القوم من اعتبار الھیأۃ مطلقا لاخلف فی الاولی واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: ہم نے اپنے رسالہ ''نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم'' (۱۳۲۵ھ) میں تحقیق کی کہ مطلقاً ہیأت کا اعتبار ہے اس کی بنیاد پر پہلے مسئلہ میں کوئی اختلاف ظاہر نہ ہوگا (یعنی یہ سجدہ قربت ہو یا نہ ہو اس ہیئت پر سونے سے طہارت نہیں ٹوٹتی تو دونوں ہی قول پر ایک جواب ہوگا ۱۲ م الف) واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ردالمحتار میں ہے:قولہ فی حق جواز الصلاۃ امافی حق صحتہ لنفسہ فتکفی نیۃ ماقصدہ لاجلہ ای عبادۃ کانت عند فقد الماء وعند وجودہ یصح بعبادۃ تفوت لاالی خلف ۱؎۔
 (۱؎ ردالمحتار،باب التیمم، مطبع مصطفی البابی مصر ، ۱/)۱۸۱
اس کا قول جوازِ نماز کے حق میں __ لیکن خود صحت تیمم کے حق میں تو اسی عمل کی نیت کافی ہے جس کے لئے تیمم کا قصد کیا خواہ وہ کوئی عبادت ہو یہ اُس صورت میں ہے جب پانی نہ ہو اور پانی موجود ہونے کی صورت میں صحتِ تیمم کیلئے ایسی عبادت کی نیت شرط ہے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو۔(ت)؂
دُرمختار میں ہے:قالوا لوتیمّم لدخول مسجد اوقراء ۃ ولومن مصحف اومسہ کتابتہ تعلیمہ زیارۃ قبورعیادۃ مریض دفن میت اذان  اقامۃ اسلام سلام ردہ لم تجز الصلٰوۃ بہ فتاوٰی الرملی وظاھرہ انہ یجوز فعل ذلک ۲؎۔
علما نے فرمایا ہے: مسجد میں داخل ہونا، قرآن پڑھنا، اگر چہ مصحف سے پڑھے، قرآن چھُونا، لکھنا، سکھانا، زیارتِ قبور، عیادت مریض، دفنِ میت، اذان، اقامت، اسلام، سلام، جوابِ سلام اگر ان امور کے لئے تیمم کیا تو اس سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں فتاوٰی رملی __اس کا ظاہر یہ ہے کہ خود ان امور کی ادائیگی جائز ہے۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار مع الشامی        باب التیمم         مطبع مصطفی البابی مصر           ۱/۱۷۹)
ردالمحتار میں ہے:التیمّم لھذہ المذکورات التی لاتشترط لھا الطھارۃ صحیح فی نفسہ یجوزفعلہ عند فقد الماء والا فلا نعم ما عــہ یخاف فوتہ بلابدل من ھذہ المذکورات یجوز مع وجودالماء ۱؎ ملخصاً
یہ مذکورہ افعال جن میں طہارت کی شرط نہیں ہے ان کے لئے تیمم فی نفسہ درست ہے جو پانی نہ ملنے کے وقت جائز ہے مگر پانی ہوتے ہوئے جائز نہیں، ہاں ان امور میں سے وہ جس کے بارے میں کسی بدل کے بغیر فوت ہونے کا اندیشہ ہو اس کے لئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے۔ (ت)
عــہ کسلام و ردہ اقول: قد یکون منہ الدفن اعنی تعجیل الماموربہ اذاخیف علی المیت فی المکث وقد یکون منہ عیادۃ المریض اذا اشتد الامر علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

جیسے سلام وجوابِ سلام __ اقول: اس میں دفن بھی کسی وقت آسکتا ہے یعنی تعجیلِ دفن جس کا اس وقت حکم دیا گیا ہے جب ٹھہرنے کی صورت میں میت کے لئے خطرہ ہو اور مریض کی عیادت بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے جب بیمار کا حال سنگین ہو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار  باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر۱/۱۸۰)
دُرمختار میں منیہ وشرح منیہ سے ہے:تیمّمہ لدخول مسجد ومس مصحف مع وجود الماء لیس بشیئ بل ھو عدم لانہ لیس بعبادۃ یخاف فوتھا ۲؎۔
پانی ہوتے ہوئے مسجد میں داخل ہونے اور مصحف چھونے کیلئے تیمم کرنا کوئی چیز نہیں بلکہ یہ تیمم نہیں اس لئے کہ یہ (دخولِ مسجد وغیرہ) کوئی ایسی عبادت نہیں جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار مع الشامی         باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر         ۱/۱۷۹)
ردالمحتار میں ہے: عللہ فی شرح المنیۃ بماذکرہ الشارح  عــہ وبان التیمم انما یجوز ویعتبر فی الشرع عند عدم الماء حقیقۃ اوحکما ولم یوجد واحد منھما فلایجوز اھ فیفید ان التیمم لمالا تشترط لہ الطھارۃ غیر معتبر اصلا مع وجود الماء الا اذاکان ممایخاف فوتہ لا الی بدل فلوتیمم المحدث للنوم اولدخول المسجد مع قدرتہ علی الماء فھو لغوبخلاف تیممہ لرد السلام مثلا لانہ یخاف فوتہ لانہ علی الفور ولذا فعلہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وھذا الذی ینبغی التعویل علیہ ۱؎ اھ۔
شرح منیہ میں اس کی علت وہی بتائی ہوئی جو شارح نے ذکر کی اور یہ کہ شریعت میں تیمم کا جواز واعتبار اس وقت ہے جب پانی حقیقۃً یا حکماً معدوم ہو اور دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہ پائی گئی اس لئے تیمم جائز نہیں اھ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ وہ عمل جس میں طہارت کی شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم کا کوئی اعتبار نہیں مگر جب ایسا عمل ہو جس کے بارے میں اندیشہ ہوگا کہ فوت ہوجائے گا اور اس کا کوئی بدل بھی نہیں (تو اس کے لئے تیمم جائز ہے)۔اس لئے اگر بے وضو شخص نے پانی پر قادر ہونے کے باوجود سونے کیلئے یا مسجد میں داخل ہونے کیلئے تیمم کیا تو وہ لغو ہے۔اس کے برخلاف جوابِ سلام کیلئے تیمم جائز ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے کا خطرہ ہے اس لئے کہ سلام کا جواب فوراً دینے کا حکم ہے۔اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے کیا __یہ وہ بات ہے جس پر اعتماد ہونا چاہئے اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار مع الشامی    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۷۹)
عــہ اقول انما علل بھذا اما عدم خوف الفوت فعلل بہ دعواہ انہ لم یوجد واحد منھما وذلک لان الماء موجود حقیقۃ والقدرۃ علی استعمالہ حاصلۃ فانما یکون معدوما حکما لخوف الفوت وھھنا لاخوف وبہ ظھرانہ لایصح جعلھماتعلیلین مستقلین فی الواقع ایضا ۱۲منہ غفرلہ (م)

اقول:  شرح منیہ میں صرف یہی ایک علّت بتائی ہے۔ اور اندیشہ فوت نہ ہونے کا ذکر اپنے اس دعوٰی کی دلیل میں کیا ہے کہ ''دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہ پائی گئی''۔ یہ اس لئے کہ پانی حقیقۃً موجود ہے اور اس کے استعمال کی قدرت بھی ہے۔ پانی فوتِ عمل کے اندیشہ ہی کے وقت حکماً معدوم قرار پاتا ہے اور یہاں خوف نہیں (تو حکماً بھی معدوم نہیں) اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ فی الواقع بھی ان دونوں کو دو مستقل تعلیلیں قرار دینا صحیح نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول:فی الاستدلال بالمنیۃ علی منع التیمّم مع وجود الماء لغیر المشروطۃ بالطھارۃ نظر عــہ عندی وکذا فی استدلال البحر بالمبتغی ،
اقول: جس عبادت میں طہارت شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہُوئے تیمم کے عدم جواز پر منیہ کی عبارت سے استدلال میرے نزدیک محل نظر ہے۔ اسی طرح اس کے جواز پر مبتغی کی عبارت سے البحرالرائق کے،
عــہ  اوردھا فی الدر ردا علی مافی البحر من جواز التیمّم لکل ما لا تشترط لہ الطھارۃ مع وجود الماء فان عبارۃ المنیۃ شاملۃ لدخول المسجد لصاحب الحدث الاصغر واجاب ح کما فی ش وتبعہ ط بتخصیص الدخول بالجنب قال ش ولایخفی انہ خلاف المتبادر ولذا عللہ فی شرح المنیۃ بماذکرہ الشارح ۱؎ الخ۔

منیہ کی عبارت درمختار میں نقل کی ہے جس سے شارح اس کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو صاحبِ بحر نے لکھا ہے کہ ہر وہ عمل جس میں طہارت شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے۔ منیہ کی عبارت سے تردید اس طرح ہوتی ہے کہ یہ عبارت (جس میں تیمم نہ ہونے کا ذکر ہے) بے وضو شخص کے مسجد میں داخل ہونے کو بھی شامل ہے سید حلبی نے جیسا کہ شامی میں ہے۔ اور سید طحطاوی نے بھی حلبی کا اتباع کیا ہے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دخولِ مسجد خاص جنب (بے غسل) سے متعلق ہے اس پر علامہ شامی نے کہا کہ یہ متبادر مفہوم کے خلاف ہے اور اسی لئے شرح منیہ میں اس حکم کی علّت وہ بتائی ہے جو شارح نے ذکر کی الخ۔ (ت)
 (۱؎ رد المحتار        باب التیمم        دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱/۱۶۳)
اقول: دلالۃ التعلیل مسلم اما(۱) المتبادر فلقائل ان یقول لابل الظاھر ارادۃ مایحتاج الی الطھور ولذا قال فی الحلیۃ وکذا لوتیمّم لغیر ھذین الامرین من الامور التی لاتستباح الابالطھارۃ مع وجود الماء والقدرۃ قال وقد کان الاولی ترک التعرض لھذا لظھورہ وعدم الخلاف فیہ ۲؎ اھ۔ فافھم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول:  تعلیل کی دلالت تو تسلیم ہے، رہی تبادر کی بات تو اس پر کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ عمل مراد ہو جس کیلئے طہارت کی احتیاجی ہے۔ اسی لئے حلیہ میں یہ لکھا ہے ''اور یہی حکم ہے اگر پانی اور قدرت ہوتے ہوئے ان دو کاموں کے علاوہ ایسے امور کیلئے تیمم کیا جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تعرض نہ کرنا ہی بہتر تھا اس لئے کہ یہ ظاہر ہے، اور اس میں اختلاف بھی نہیں اھ۔ اسے سمجھو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۲؎ حلیہ)
والدر بالبزازیہ عــہ۱ علی جوازہ کمابینہ ش وقضیۃ الدلیل المنع۔
اور بزازیہ کی عبارت سے درمختارکے استدلال پر بھی کلام ہے جیسا کہ علامہ شامی نے اسے بیان کیا ہے اور دلیل کا اقتضا یہ ہے کہ ممنوع ہو۔
عــہ۱: بل حاول العلامۃ ش ان یستدل بھا علی خلافہ وھو المنع فقال عبارۃ البزازیۃ لوتیمّم عند عدم الماء لقراء ۃ قراٰن عن ظھر قلب او من المصحف اولمسہ اولدخول المسجد اوخروجہ اولدفن اوزیارۃ قبراوالاذان اوالاقامۃ لایجوزان یصلی بہ عند العامۃ ولوعند وجود الماء لاخلاف فی عدم الجواز اھ۔ فقولہ لاخلاف فی عدم الجواز ای عدمہ جواز الصلاۃ بہ ظاھر فی عدم صحتہ فی نفسہ عند وجود الماء فی ھذہ المواضع لان من جملتھا التیمّم لمس الصحف ولاشبھۃ فی انہ عند وجود الماء لایصح اصلا  ۱؂ اھ۔ کلام ش۔

بلکہ علامہ شامی نے اس عبارت سے درمختار کے برخلاف، منع پر استدلال کرنا چاہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ''بزازیہ کی عبارت یہ ہے: اگر پانی نہ ہونے کے وقت، یاد سے یا مصحف سے قرآن پڑھنے، یا مصحف چھُونے، یا مسجد میں داخل ہونے، یا نکلنے، یا دفن کرنے، یا زیارتِ قبر، یا اذان یا اقامت کیلئے تیمم کیا تو عامہ علماء کے نزدیک اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں اور اگر پانی ہوتے ہوئے ان امور کیلئے تیمم کیا تو عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں'' اھ۔ تو یہ عبارت کہ ''عدمِ جواز یعنی اس تیمم سے نماز کے عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں''۔ اس بارے میں ظاہر ہے کہ پانی ہوتے ہوئے ان مقامات میں یہ تیمم خود بھی درست نہیں کیوں کہ ان ہی میں وہ تیمم بھی ذکر ہُوا ہے جو مصحف چھُونے کیلئے ہو اور پانی ہوتے ہوئے اس کے نا درست ہونے میں قطعاً کوئی شبہ نہیں اھ۔ شامی کا کلام ختم ہوا۔
 ( ۱؂  رد المحتار        باب التیمم        دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱/۱۶۳)
Flag Counter