Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
126 - 166
بالجملہ بہ نیتِ عبادت تیمم کرنے سے نماز جائز ہونے کی تو یہ دو۲ شرطیں ہیں اور خود اس نیت سے تیمم صحیح ہونے کیلئے ان دونوں میں سے کچھ شرط نہیں مسائل بالا میں گزرا کہ مسجد کے اندر ہی پانی ہے جنب اُسے لینے کو جائے تیمم کرے سلام وجوابِ سلام فوت ہونے کے خیال سے پانی ہوتے ہوئے تیمم کرے، حالانکہ وہ عبادت مقصودہ نہیں اور یہ بے طہارت جائز۔ ہاں(۶) فی نفسہٖ جائز ہونے کو یہ مشروط ہے کہ پانی نہ ہونے کی صورت میں یا تو وہی نیت عامہ تطہیر ورفعِ حدث ہو یا مطلقاً کسی عبادت کی نیت خواہ مقصودہو عــہ  یا نہیں اس کیلئے طہارت شرط ہو یا نہیں جیسے نماز (۱) سجدہ تلاوت سجدہ شکر سجدہ جنب کو تلاوت یا اسلام(۲)، سلام، جواب سلام، بے وضو کو یاد پر تلاوت یا(۳) مصحف شریف کا چھُونا، جنب کا مسجد میں جانا یا اذان(۴)، اقامت، بے وضو کا مسجد میں جانا چاروں قسم کے لئے تیمم صحیح ہے اگرچہ نماز ان میں صرف اسی تیمم سے روا ہوگی جو قسم اول کی نیت سے کیا اور پانی(۱) ہونے کی حالت میں خاص اُس عبادت فرض یا واجب یا سنّت مؤکدہ کیلئے ہوکہ پانی سے طہارت کرے تو فوت ہوجائے اور اس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے سلام وجوابِ سلام اور قولِ محقق و احوط پر نمازِ پنجگانہ وجمعہ میں محافظت وقت
کماتقدم تحقیقہ بما لامزید علیہ
 (جیسا کہ اس کی تحقیق گزر چکی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں۔ت)
عـــہ عبادت دو۲ قسم ہے مقصودہ کہ خود مستقل قربت ہو دوسری قربت کیلئے محض وسیلہ ہونے کو مقرر نہ ہوئی ہو، دوسری غیر مقصودہ کہ صرف وسیلہ ہے اور ان میں ہر قسم سے بعض مشروطہ بطہارت ہیں کہ بے طہارت جائز نہیں خواہ طہارت صغرٰی یعنی وضو بھی شرط ہو یا صرف کبرٰی یعنی غسل اور بعض غیر مشروطہ تو عبادات چار۴ قسم ہوگئیں:

(۱) مقصودہ مشروطہ جیسے نماز ونمازِ جنازہ وسجدہ تلاوت وسجدہ شکر کہ سب مقصود بالذات ہیں اور سب کیلئے طہارت کاملہ شرط یعنی نہ حدثِ اکبر ہو نہ اصغر۔ نیز یاد پر تلاوت قرآن مجید کہ مقصود بالذات ہے اور اس کیلئے صرف حدثِ اکبر سے طہارت شرط ہے بے وضو جائز ہے۔

(۲) مقصودہ غیر مشروطہ کہ ہو تو مقصود بالذات مگر اس کیلئے طہارت ضرور نہ ہو مطلقاً خواہ صغرٰی جیسے اسلام لانا سلام کرنا سلام کا جواب دینا سب مقصود بالذات ہیں اور ان کیلئے اصلاً طہارت شرط نہیں نیز یاد پر تلاوتِ قرآن مجید کہ اُس کیلئے طہارتِ صغرٰی یعنی باوضو ہونا ضرور نہیں۔یہاں سے ظاہر ہوا کہ یاد پر تلاوت جنب کے اعتبار سے قسم اوّل میں ہے اور بے وضو کے اعتبار سے قسم دوم میں۔

(۳) غیر مقصودہ مشروطہ کہ ہو تو دوسری عبادت کا وسیلہ مگر بے طہارت جائز نہ ہو خواہ صرف طہارت کبرٰی شرط ہو یا کاملہ جیسے مصحف شریف کا چھُونا کہ بے وضو بھی حرام ہے اور مسجد میں جانا کہ صرف حدثِ اکبر میں حرام اور حدثِ اصغر میں جائز ہے۔

(۴) غیر مقصودہ غیر مشروطہ کہ وسیلہ ہو اور طہارت شرط نہیں جیسے اذان واقامت کہ وسائل نماز ہیں اور جنب سے بھی صحیح اگرچہ اس کی اقامت زیادہ مکروہ ہے اور مسجد میں جانا کہ بے وضو جائز ہے۔یہاں سے ظاہر ہوا کہ دخولِ مسجد جنب کے لحاظ سے قسم سوم میں ہے اور محدث کی نظر سے قسم چہارم میں۔ پانی نہ ہونے کی حالت میں چاروں قسموں کیلئے تیمم صحیح ہے اور نماز صرف اسی سے ہوسکے گی جو اس عام نیتِ تطہیر ورفع حدث سے کیا گیا یا خاص قسم اوّل کی نیت سے۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ان دو۲ صورتوں کے سوا اگر کسی دوسری نیت سے تیمم کیا مثلاً پانی(۲) نہ ہونے کی حالت میں بے وضو نے مسجد میں ذکر کیلئے بیٹھنے بلکہ مسجد(۳) میں سونے کیلئے کہ سرے سے عبادت ہی نہیں یا(۴) پانی ہوتے ہُوئے سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر یا مس مصحف یا باوجود وسعتِ وقت نماز پنجگانہ یا جمعہ یا جنب نے تلاوتِ قرآن کیلئے تیمم کیا لغو وباطل وناجائز ہوگا کہ ان میں سے کوئی بے بدل فوت نہ ہوتا تھا،یونہی(۱) ہماری تحقیق پر تہجد یا چاشت یا چاند گہن کی نماز کیلئے اگرچہ اُن کا وقت جاتا ہو کہ یہ نفل محض ہیں سنّتِ مؤکدہ نہیں تو(۲) باوجود آب زیارت قبوریا عیادت مریض یا سونے کیلئے تیمم بدرجہ اولٰی لغو ہے۔
کماحققہ ش مخالفا وقع فی البحر وتبعہ فی الدر واستدلالہ بمالا دلیل لھما فیہ کمابینہ ھو وان تبعھما فیہ ح وط رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیھم اجمعین وعلینا بھم اٰمین۔
جیسا کہ علّامہ شامی نے اس کی تحقیق کی ہے اس کے برخلاف جو البحرالرائق میں ہے اور درمختار نے بھی اس کی پیروی کی اور ان دونوں حضرات نے اپنے موقف کیلئے ایسی بات سے استدلال کیا جس میں ان کے موقف کی کوئی دلیل نہیں جیسا کہ علامہ شامی نے بیان کیا،اگرچہ اس استدلال میں حلبی وطحطاوی نے بھی بحر ودر کی پیروی کرلی ہے ان سبھی حضرات پر خدائے تعالٰی کی رحمت ہو اور ان کے طفیل ہم پر بھی__ قبول فرما__ (ت)
اقول:یہاں سے عــہ ظاہر ہوا کہ یہ چیزیں ہماری تعریف پر نقض نہیں ہوسکتیں کہ کوئی کہے دیکھو ان کیلئے تیمم صحیح ہے اور پانی سے عجز نہیں۔ نہیں نہیں تیمم وہیں صحیح ہوگا جہاں پانی سے عجز ہے اگرچہ اسی طرح کہ پانی سے طہارت کرنے میں مطالبہ شرعیہ بلابدل فوت ہُوا جاتا ہے یہ بھی صورتِ عجز ہے کماتقدم (جیسا کہ گزر چکا۔ ت)
عــہ ای من انکار التعمیم الذی مشی علیہ فی البحر والدر وحصر التیمم مع وجود الماء فی مطلوب مؤکد یفوت لا الی خلف ۱۲منہ غفرلہ (م)

یعنی تیمم کو عام رکھنے کا جو موقف صاحبِ بحر و درمختار نے اختیار کیا ہے اس کا انکار کرنے سے اورتیمم کو پانی موجود ہونے کی حالت میں ایسے مؤکد مطلوب پر منحصر کرنے سے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو، ظاہر ہُوا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بدائع ملک العلماء قدس سرہ، میں ہے: لوتیمّم ونوی مطلق الطھارۃ اونوی استباحۃ الصلاۃ فلہ ان یفعل کل مالایجوز بدون الطھارۃ وکذا لوتیمّم لسجدۃ التلاوۃ اوالقراءۃ القراٰن بان کان جنبا جازلہ ان یصلی بہ سائر الصلوات لان کل واحد من ذلک عبادۃ مقصودۃ فاما اذا تیمم لدخول المسجد اومس المصحف لایجوزلہ ان یصلی بہ ویقع طھور الماء اوقعہ لہ لاغیر ۱؎۔
اگرتیمم کیا اور مطلق طہارت کی نیت تھی یا نماز کا جواز حاصل کرنے کی نیت تھی تو اس تیمم سے ہر اس عمل کی ادائیگی کرسکتا ہے جو بغیر طہارت جائز نہیں۔اسی طرح اگر سجدہ تلاوت کیلئے یاتلاوت قرآن کیلئے تیمم کیا اس وجہ سے کہ حالتِ جنابت میں تھا تو وہ اس تیمم سے ساری نمازیں پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ ان میں ہر ایک عمل عبادتِ مقصودہ ہے لیکن جب مسجد میں داخل ہونے یا مصحف چھُونے کے لئے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں جس عمل کے لئے یہ تیمم کیا ہے اس کیلئے تو وہ طہارت ہوگا مگر کسی اور عمل کیلئے طہارت نہ بن سکے گا۔(ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    شرائط رکن التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۲)
ردالمحتار میں ہے: فی البحر شرطہا عــہ ان ینوی عبادۃ مقصودۃ۔الخ اوالطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃاو رفع الحدث اوالجنابۃ فلا تکفی نیۃ التیمم علی المذھب ولا تشترط نیۃ التمییز بین الحدث والجنابۃ خلافا للجصاص اھ۔ وتکفی نیۃ الوضوء ۲؎ الخ۔
البحرالرائق میں ہے اس کی شرط یہ ہے کہ عبادتِ مقصودہ کی نیت ہو الخ۔ یا طہارت یا جوازِ نماز یا رفع حدث یا رفعِ جنابت کی نیت ہو۔ تو بر بنائے مذہب محض تیمم کی نیت کافی نہیں۔اور حدث وجنابت کے درمیان تمیز وتفریق کی نیت شرط نہیں، جصّاص اس کے خلاف ہیں اھ اور وضو کی نیت بھی کافی ہے الخ۔(ت)
عــہ ای شرط النیۃ المشروطۃ فی التیمم المبیح للصلاۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) یعنی نماز کو جائز کرنے والے تیمم میں مشروطہ نیت کی شرط ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار  باب التیمم   مطبع مصطفی البابی مصر   ۱/۱۸۱)
درمختار میں ہے : شرط للتیمم فی حق جواز الصلاۃبہ نیۃ عبادۃعــہ مقصودۃ لاتحل بدون طہارۃ خرج السلام وردہ وصح تیمّم جنب بنیۃ الوضوء بہ یفتی ۱؎۔
جوازِ نماز کے حق میں تیمّم کیلئے ایسی عبادت مقصودہ کی نیت کرنا شرط ہے جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ اس قید سے سلام وجوابِ اسلام (کی نیت سے ہونے والاتیمم) خارج ہوگیا اور وضو کی نیت سے جنابت والے کاتیمم صحیح ہے۔ اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی   باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر  ۱/۱۸۱)
عــہ بعدہ فی الدر ولو صلاۃ جنازۃ اوسجدۃ تلاوۃ لاشکر فی الاصح ۱؎ اھ۔ قال ش ھذا بناء علی قول الامام انھا مکروھۃ اما علی قولھما المفتی بہ انھا مستحبۃ فینبغی صحتہ وصحۃ الصلاۃ بہ افادہ ح ۲؎ اھ وکذا اقرہ ط فاجتمع علیہ السادۃ الثلٰثۃ۔

اس کے بعد درمختار میں ہے: یہ عبادت اگرچہ نماز جنازہ یا سجدہ تلاوت ہی ہو مگر اصح قول کی بنیاد پر سجدہ شکر نہیں اھ۔ علّامہ شامی نے کہا سجدہ شکر کی نفی امام اعظم کے اس قول کی بنیاد پر ہے کہ سجدہ شکر مکروہ ہے لیکن صاحبین اس کے مستحب ہونے کے قائل ہیں اور ان کا قول مفتی بہ ہے تو اس قول کی بنیاد پر اس کیلئے تیمم صحیح ہونا چاہئے اور اس سے نماز بھی صحیح ہونی چاہئے۔ حلبی نے یہ افادہ فرمایا اھ۔ اسی طرح طحطاوی نے بھی اسے برقرار رکھا تو یہ تینوں حضرات (سید حلبی، سید طحطاوی، سید شامی) اس پر متفق ٹھہرے۔
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی    باب التیمم        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۱)

(۲؎ ردالمحتار        باب التیمم        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۱)
اقول: قولہ ینبغی یدل انہ بحث منہ وقد رأیتہ منقولا فی الھندیۃ عن الذخیرۃ وفی البحر عن التوشیح ولفظ الاولین لوتیمّم لسجدۃ الشکر علی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف لایصلی المکتوبۃ بذٰلک التیمم وعند محمد یصلی بناء علی ان السجدۃ قربۃ عند محمد خلافا لھما ۳؎ اھ۔
اقول:  حلبی کی عبارت ''صحیح ہونا چاہئے'' یہ بتاتی ہے کہ یہ خود ان کی بحث ہے اور میں نے دیکھا کہ اسے ہندیہ میں ذخیرہ سے اور بحر میں توشیح سے نقل کیا ہے۔ہندیہ وذخیرہ کے الفاظ یہ ہیں: ''اگر سجدہ شکر کیلئے تیمم کیا تو امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف کے قول پر اس تیمم سے نمازِ فرض کی ادائیگی نہیں کرسکتا اور امام محمد کے نزدیک اس سے نمازِ فرض پڑھ سکتا ہے اس بنیاد پر کہ امام محمدکے نزدیک__ بخلاف شیخین __سجدہ شکر قربت ہے اھ۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الاول من التیمم    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۶)
ولفظ الاخیرین لوتیمّم لسجدۃ الشکر لایصلی بہ المکتوبۃ وعند محمد یصلیھا بناء علی انھاقربۃ عندہ وعندھما لیست بقربۃ ۱؎ اھ۔
اور بحر و توشیح کے الفاظ یہ ہیں: ''اگر سجدہ شکر کے لئے تیمم کیا تو اس سے نمازِ فرض کی ادائیگی نہیں کرسکتا اور امام محمد کے نزدیک اس سے فرض نماز پڑھ سکتا ہے یہ اس بنیاد پر کہ سجدہ شکر امام محمد کے نزدیک قربت ہے اور شیخین کے نزدیک قربت نہیں اھ۔
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۵۰)
اقول:  والمکتوبۃ غیر قید کما لایخفی ثم فیھما خلاف ما ذکروا من نسبۃ الاستحباب الی الصاحبین لکن مثلہ فی الغنیۃ عن المصفی فاذن عن ابی یوسف روایتان۔
اقول: ''نماز فرض'' کا لفظ قید نہیں (نماز نفل یا دوسری عبادت کی ادائیگی کا بھی یہی حکم ہوگا) جیسا کہ مخفی نہیں پھر__  (غور طلب بات یہ ہے کہ) دونوں ہی عبارتوں میں اُس کے برخلاف ہے جو علما نے ذکر کیا ہے کہ سجدہ شکر کا مستحب ہونا صاحبین کا قول ہے لیکن غنیہ میں بھی مصفی کے حوالہ سے اسی کے مثل لکھا ہُوا ہے جب ایسا ہے تو اس مسئلہ میں امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں۔
اقول: والعجب من الشارح کیف یجعل النفی اصح مع قولہ سجدۃ الشکر مستحبۃ بہ یفتی اھ۔ ولاشک ان الفتوٰی علی ھذا فتوی علی جواز الصلاۃ بتیمّم فعل لھا قال الغنیۃ عن المصفی قالا ھو قربۃ یثاب علیہ وعلیہ یدل ظاھر النظم وثمرۃ الاختلاف تظھر فی انتقاض الطھارۃ اذا نام فی سجود الشکر وفیما اذا تیمم لسجدۃ الشکر ھل تجوز الصلاۃ بہ اھ۔ ای فجواب محمد فی الاولی لاوفی الثانیۃ نعم وجواب الامام بالعکس۔
اقول:  شارح (صاحبِ درمختار) پر تعجب ہے کہ سجدہ شکر کی نفی کو انہوں نے اصح کیسے قرار دیا جب کہ خود ان کی عبارت موجود ہے کہ ''سجدہ شکر مستحب ہے اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے اھ۔ اور اس میں شک نہیں کہ سجدہ شکر کے استحباب پر فتوی اس پر بھی فتوی ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے جوتیمم کیا گیا ہو اس سے نماز جائز ہے۔ غنیہ میں مصفی کے حوالہ سے ہے: ''صاحبین نے فرمایا: سجدہ شکر قربت ہے جس پر ثواب ہوگا۔ اور نظم کے ظاہر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔اور ثمرہ اختلاف ان دو مسئلوں میں ظاہر ہوگا:

(۱) سجدہ شکر میں سوجائے تو طہارت ٹوٹے گی یا نہیں؟

(۲) سجدہ شکر کی ادائیگی کیلئے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز ہوگی یا نہیں؟ اھ'' یعنی پہلے مسئلہ میں امام محمد کا جواب یہ ہوگا کہ نہیں ٹوٹے گی اور دوسرے میں یہ جواب ہوگا کہ نماز جائز ہوگی اور امام صاحب کا جواب برعکس ہوگا۔
Flag Counter