اقول:لاخلاف فان المبنی ثمہ حقیقۃ العجزا ماھنا فعدم علمہ کماعلمت قال الامام صدرالشریعۃ ثم المحقق الحلبی فی الحلیۃ لواتم الصلاۃ فیما اذاظن العطاء ثم سأل فان اعطی بطلت صلاتہ وان ابی تمت لانہ ظھر ان ظنہ کان خطأ بخلاف مسألۃ(۱) التحری لان القبلۃ(۲) حینئذ جھۃ التحری اصالۃ وھھنا الحکم دائر علی حقیقۃ القدرۃ والعجز اقیم غلبۃ الظن مقامھما تیسیرا فاذا ظھر خلافہ لم یبق قائما مقامھما ۱؎ اھ۔
اقول:(اس کا جواب یہ ہے) کہ اس میں اختلاف نہیں کہ وہاں بنائے حکم حقیقت عجز پر ہے لیکن یہاں بنائے حکم، عدم علم پر ہے جیسا کہ بیان ہُوا۔امام صدرالشریعۃ پھر حلیہ میں محقق حلبی لکھتے ہیں: ''اُس صورت میں جب کہ پانی دینے کا گمان ہو اگر نماز پُوری کرلی پھر طلب کیا تو اب اگر دے دے نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پُوری ہوگئی، اس لئے کہ ظاہرہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا۔ اور تحری قبلہ کا مسئلہ اس کے برخلاف ہے کیوں کہ جب کوئی بتانے والا نہ ہو تو اس وقت سمت تحری اصالۃً قبلہ ہے اور یہاں مدار حکم حقیقت قدرت وعجز پر ہے غلبہ ظن کو ان دونوں کے قائم مقام آسانی کیلئے رکھا گیا ہے تو جب اس (غلبہ ظن) کے خلاف ظاہر ہوجائے تو غلبہ ظن ان دونوں کے قائم مقام نہیں رہ جاتا'' اھ (ت)
(۱؎ شرح الوقایۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۰۳)
اقول: ویمکن ان یوجہ بان الماء ثمہ معلوم الوجود وھو قادر علی تحصیل العلم بحقیقۃ العجز والقدرۃ بان یسألہ فیعطی اویابی فلایسوغ(۳) لہ العمل بالظن عند القدرۃ علی العمل بالعلم
ان الظن لایغنی من الحق شیأ ۲؎
اما ھھنا فالماء مجھول الوجود ولیس بیدہ تحصیل العلم بہ الابحرج والحرج مدفوع وماشرع التیمّم الالدفعہ والظن الغالب فی العملیات یقوم مقام العلم عند فقدانہ وقد ذکرنا تتمۃ الکلام فی الرسالۃ المذکورۃ بتوفیق اللّٰہ تعالٰی۔
اقول:اس کی یہ توجیہ بھی کی جاسکتی ہے کہ وہاں (جب کہ دوسرے کے پاس پانی ہے) پانی کا موجود ہونا معلوم ہے۔اور اس پانی سے متعلق اپنے عجز و قدرت کی حقیقت کا علم بھی حاصل کرسکتا ہے اس طرح کہ اس سے مانگ کر دیکھ لے کہ دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ ایسی صورت میں جبکہ وہ علم ویقین پر عمل کرسکتا ہے ظن پر عمل کرنا جائز نہیں۔ان الظن لایغنی من الحق شیأا (گمان حقیقت کی جگہ کوئی کام نہیں دے سکتا)لیکن یہاں تو پانی کا وجود نامعلوم ہے،مشقت وحرج کے بغیر اس کا علم ویقین حاصل کرنا اس کے بس میں نہیں۔اور حرج مدفوع ہے۔خودتیمم کی مشروعیت ہی دفع حرج کیلئے ہوئی ہے۔اور علم ویقین کے فقدان کی حالت میں باب عملیات میں ظن غالب یقین کے قائم مقام ہے بتوفیق اللہ تعالٰی اس کلام کا تکملہ ہم نے رسالہ مذکورہ میں ذکر کیا ہے۔(ت)
(۲؎ القرآن ۱۰/۳۶)
اقول: وقد ظھر بحمداللّٰہ تعالٰی بتقریرنا ھذا ان شرط طلب الماء اذا ظن قربہ حتی لایصح تیممہ قبل الطلب مندرج فی شرط العجز لانہ مادام یظن قربہ لم یعدم علمہ فلایثبت عجزہ الااذا(۱) طلب الی حد لا یضربہ ولابرفقتہ ویقع الیاس من وجدان الماء لانہ حینئذ یخیب ظنہ الذی کان قام مقام العلم فیعدم العلم فیثبت العجز فماوقع(۲) فی ردالمحتار من ان ھذا الشرط زادہ فی المنیۃ وسیذکرہ المصنف بقولہ ویطلبہ غلوۃ ان ظن قربہ ۱؎ اھ غیر سدید بل قد ذکرہ المصنف فی قولہ من عجز عن استعمال الماء ۲؎ الخ
اقول: بحمدہٖ تعالٰی ہماری اس تقریر سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ قریب میں پانی کا گمان ہونے کے وقت پانی تلاش کرنے کی جو شرط رکھی گئی ہے کہ بغیر تلاش کیے تیمم جائز نہیں یہ شرط بھی عجز میں مندرج اور داخل ہے اس لئے کہ جب تک قریب میں پانی ہونےکا گمان موجود ہے علم آب معدوم نہیں تو عجز ثابت نہیں ہاں مگر جب اس حد تک پانی تلاش کر لےکہ اسے اور اس کے ہم سفروں کو ضرر نہ ہو اور پانی ملنے سے مایوسی ہوجائے۔اس لئے کہ اس حالت میں اس کا ظن جو علم کے قائم مقام تھا ناکام ہوجاتا ہے۔ظن کے ختم ہوجانے سے علم بھی معدوم ہوجاتا ہے تو عجز ثابت ہوجاتا ہے، جب یہ بات طے ہوگئی (کہ شرط عجز میں تلاشِ آب والی شرط بھی مندرج اور داخل) تو ردالمحتار کا یہ قول درست نہیں ''کہ منیہ نے اس شرط کا اضافہ کیا ہے اور عنقریب مصنّف اسے یوں ذکر فرمائیں گے کہ ''ایک غَلوہ(ہر طرف سے تین سو قدم) کی مقدار پانی تلاش کرے اگر قریب میں پانی ہونے کا گمان ہو'' اھ ملخصّا۔ بلکہ مصنّف نے من عجز عن استعمال الماء الخ (جو پانی کے استعمال سے عاجز ہو الخ)کے تحت اسے ذکر کردیا (کیوں کہ عدم علم بھی عجز ہی میں داخل ہے)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۰)
(۲؎ الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۰)
الا تری الی قول البحر قدرۃ بدون العلم لان القادر علی الفعل ھو الذی لوارادتحصیلہ یتأتی لہ ذلک ۱؎ اھ۔وماذکرہ المصنف لیس لبیان شرط التیمم بل قدر الطلب ومایتعلق بہ من التفریعات کما اعاد متصلا بہ ذکر شرط النیۃ لاجل ھذا مع ذکرہ لھا فی نفس حد التیمّم۔
یہ دیکھئے البحرالرائق کی عبارت: ''علم کے بغیر قدرت کا وجود نہیں اس لئے کہ کسی کام پر قادر وہی شخص ہوگا جو اسے کرنا چاہے تو کرسکے''۔ اھ (اور پانی کا علم ہی نہیں تو اسے کام میں لانے کا ارادہ وعمل بھی نہیں ہوسکتا پھر قدرت کہاں؟ ۱۲م الف) اور مصنّف نے ایک غَلوہ تک تلاش کرنے کی جو بات کہی ہے یہ شرط تیمم کے بیان کیلئے نہیں بلکہ یہ بتانے کیلئے ہے کہ کتنی دُور تک تلاش کرنا ہے اور اس سے متعلق تفریعات بیان کرنا بھی مقصود ہے جیسے اسی کے متصل مصنّف نے تفریعات ہی کے پیش نظر شرطِ نیت کو دوبارہ ذکر کیا ہے حالانکہ اس سے پہلے خودتیمم کی تعریف میں اس کا ذکر کرچکے ہیں۔ (ت)
ششم: مسلمان کی تخصیص اس لئے کہ کافرتیمم کا اہل نہیں اس کاتیمم باطل ہے اگر کافر(۱) نے وضو کیا پھر اسلام لایا اُسی سے نماز پڑھ سکتا ہے جبکہ اُسکے بعد کوئی حدث نہ ہوا ہو، لیکن اگر وہاں(۲) پانی نہ تھاتیمم کرکے مسلمان ہُوا تو اس تیمم سے نماز نہیں پڑھ سکتا نماز کیلئے دوبارہ تیمم کرنا ہوگا وجہ یہ کہ وضو کیلئے پانی کا اعضائے وضو پر گزر جانا کافی ہے اگرچہ بلاقصد ہو کافر کے وضو میں یہ بات حاصل ہوگئی لیکن تیمم میں نیت شرط ہے اور نیت اللہ عزّوجلّ کیلئے اور کافر اُسے جانتا ہی نہیں اس کیلئے نیت کیا کرے گا کفر کہتے ہی اسے ہیں کہ اللہ سبحٰنہ کو نہ جانے۔
تنبیہ جلیل: یہ بات ناواقف کی نگاہ میں بعید ہے اور اس کا بیان نہایت مفید ہے لہذا فقیہ غفرلہ المولی القدیر نے اسے چند مختصر جُملوں میں بیان کیا ہے جن سے روشن ہو کہ تمام کفار(۳) اگرچہ کلمہ گو نماز گزار ہوں اللہ عزوجل کو ہرگز نہیں جانتے اور اُن میں کوئی ایسا نہیں جو اُسے بُرے بُرے عیب بڑے بڑے دھبّے نہ لگاتا ہو اُس بیان پر اطلاع لازم ہے تاکہ مسلمان اُن سے پرہیز کریں اور اپنے رب کی محبت وحمایت میں اُن سے نفرت وگریز کریں ''باب العقائد والکلام" (۱۳۳۵ھ) اُس کا تاریخی نام یا ''گمراہی کے جھوٹے خدا ''(۱۳۳۵ھ) تاریخی لقب یہ ایک نہایت مختصر مگر ان شاء اللہ تعالٰی کمال مفید رسالہ ہے اگر کوئی سُنّی عالم رسائلِ فقیر سےاس کے دعاوی کا بیان لے کر تفصیل دے اور موقع بموقع مناسب فوائد کے اضافہ سے اس کی شرح لکھے تو اِن تمام فرقوں کی دندان شکنی کا بعونہ تعالٰی کافی مسالا ہے، بیچ میں طول فصل کے خیال سے اُسے یہاں سے جُدا کرکے اس رسالہ تیمم کے آخر میں ملحق کریں وباللہ التوفیق۔
ہفتم: ہم نے بالغ کی قید نہ لگائی کہ تیمم نابالغ کا بھی صحیح ہے۔
ہشتم: عاقل کی قید ذکر کی کہ مجنون یا ناسمجھ بچّہ اگرتیمم کی نقل کرے وہ معتبر نہیں کہ تیمم کی شرط نیت ہے۔
نہم: میت میں صرف اسلام شرط کیا کہ بالغ ہو یا نہیں، عاقل ہویا نہیں، ہر طرح تیمم کرایا جائے گا جبکہ پانی سے عجز ہو۔
دہم :نجاست کو حکمیہ سے مقید کیا کہ زندہ کاتیمم نجاست حکمیہ ہی کو دُور کرتا ہے، حقیقیہ کا مٹّی سے ازالہ صرف استنجا میں ہے۔
یازدہم: حکمیہ کو حقیقیہ و صوریہ سے عام کیا کہ نابالغ میں نجاست حکمیہ کا حقیقۃً وجود محلِ نظر ہے۔
دوازدہم: دربارہ میت حقیقیہ و حکمیہ کی تشقیق بر بنائے اختلاف ائمہ ہے کہ موت سے بدن کو نجاست حقیقیہ عارض ہوتی ہے یا حکمیہ، برتقدیر اوّل(۱) قبل غسل اس کے پاس قرآن عظیم کی تلاوت منع ہوگی جبکہ اس کا بدن سر سے پاؤں تک کپڑے سے چھُپا نہ ہو جیسے جہاں (۲) کوئی نجاست پڑی ہو تلاوت مکروہ ہے اور تقدیر ثانی پر تلاوت میں حرج نہ ہوگا جیسے(۳) کوئی قرآن مجید پڑھے اور اس کے پاس کوئی جنب یا حیض ونفاس سے نکلی ہُوئی بے نہائی عورت بیٹھی ہو۔اور اُوپر گزرا کہ فقیر کی تحقیق میں قول دوم ہی زیادہ راجح ہے اِن شاء اللہ تعالٰی۔
سیزدہم: دُور کرنے کیلئے یہ لفظ جانب نیت مشیر ہوا کہ بے نیت تیمم صحیح نہیں اور اس نے یہ بھی بتایا کہ نیت(۴) اپنے بدن سے نجاست حکمیہ یا بدنِ میت سے نجاست موت دُور کرنے کی ہو اور اسی کے معنی میں ہے نیت تطہیر عــہ اگرچہ استحباباً اور اسی کو مؤدی ہے،
عــہ اشارہ ہے اُن عبادات کیلئے نیت تطہیر کی طرف جن میں طہارت شرط نہیں جیسے سلام وجوابِ سلام واذان واقامت وزیارتِ قبور وعیادتِ مریض وغیرہا کہ پانی نہ ہونے(۵) کی حالت میں اُن کیلئے بھی تیمم صحیح وجائز ہے کما سیأتی وہ اسی نیت سے ہوگا کہ قربت الٰہی بحال طہارت کروں یہ تطہیر استحبابی ہوئی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس فعل سے کوئی عبادت مباح کرنے کی نیت مقصودہ ہو جیسے نماز اور جنب کیلئے قرأتِ قرآن یا غیر مقصودہ جیسے مصحف شریف کا چھُونا، جنب کیلئے مسجد میں جانا۔ ہاں عبادت غیر مقصودہ مباح کرنے کیلئے جوتیمم ہوگا اُس سے نماز نہیں پڑھ سکتا، جوتیمم(۱) رفع حدث وحصولِ طہارت کی نیت سے کیا جائے اُس سے تو نماز وغیرہ سب کچھ جائز ہے مگرتیمم(۲) کے وقت یہ نیت نہ کی ہو بلکہ صرف اتنا قصد کیا ہو کہ فلاں عبادت ادا کرنے کوتیمم کرتا ہُوں تو اُس تیمم سے نماز جائز ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ وہ عبادت مقصودہ بھی ہو اور بغیر طہارت کے جائز بھی نہ ہوتی ہو ورنہ اگر پانی(۳) نہ پانے کی صورت میں محدث بحدث اکبر خواہ اصغر نے قرآن عظیم چھُونے یا جنب نے مسجد میں جانے کیلئے تیمم کیاتیمم صحیح ہوجائے گا لیکن اُس سے نماز روانہ ہوگی کہ مسِ مصحف یادخولِ مسجد فی نفسہ کوئی عبادت مقصودہ نہیں بلکہ عبادت مقصودہ تلاوت ونماز ہیں اور یہ اُن کے وسیلے، یوں(۴) ہی اگر پانی نہ ملنے کی حالت میں بے وضو نے یاد پر تلاوت یا جنب نے اور اذکار الٰہی مثل کلمہ طیبہ اور درودشریف پڑھنے کیلئے تیمم کیاتیمم صحیح ہے اور اس سے نماز ناجائز کہ یہ عبادتیں اگرچہ مقصودہ ہیں مگر ان کو بے طہارت رَوا تھیں۔ تو ظاہر ہوا کہ یہ شرطیں نفسِ تیمم کی نہیں بلکہ اُس سے جواز نماز کی ہیں ولہذا ہم نے تعریف میں ان کو نہ لیا۔
اقول: وبہ(۵) ظھر ان قول العلامۃ ش عند قول التنویر لاقامۃ قربۃ ای لاجل عبادۃ مقصودۃ لاتصح بدون الطھارۃ اھ۔ غیر سدید فانہ فی مقام الاطلاق تقیید ۱؎۔
اقول:(میں کہتا ہوں) اس سے ظاہر ہوگیا کہ تنویر الابصار کی عبارت ''لاقامۃ قربۃ'' (ادائے قربت کیلئے) کے تحت علّامہ شامی کا یہ لکھنا کہ ''یعنی ایسی عبادت مقصودہ کیلئے جو بغیر طہارت کے درست نہ ہو''۔ صحیح نہیں۔اس لئے کہ وہ حکم جو مطلق ہی رہنا چاہئے ان کے اس اضافہ سے مقید ہوجاتا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۶۹)