Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
124 - 166
حلیہ میں ہے:لان العلم بقرب الماء قطعاً اوظاھراً ینزلہ منزلۃ کون الماء موجوداً بحضرتہ فلایجوز تیمّمہ فی شئ من ھذہ الاحوال کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ ۴؎۔
اس لئے کہ قطعی یا ظاہری طور پر قریب میں پانی کے ہونے کا علم، اپنے پاس پانی موجود ہونے کے درجہ میں ہے تو ان میں سے کسی بھی حالت میں اس کاتیمم جائز نہیں جیسے خود اس کے پاس پانی موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ۔ (ت)
(۴؎ حلیہ)
بحرالرائق میں ہے : ولوتیمم من غیر طلب وکان الطلب واجبا وصلی ثم طلبہ فلم یجدہ وجبت علیہ الاعادۃ عندھما خلافا لابی یوسف کذا فی السراج الوھاج وفی المستصفی وفی ایراد ھذہ المسألۃ (ای مسألۃ وجوب الطلب ان ظن قربہ) عقیب المسألۃ المتقدمۃ (ای مسألۃ من نسی الماء فی رحلہ وتیمم وصلی لایعید عندھما خلافا لابی یوسف) لطیفۃ فان الاختلاف فی تلک المسألۃ بناء علی اشتراط ا لطلب وعدمہ ۱؎ اھ۔
اگر پانی تلاش کئے بغیرتیمم کرلیا، جبکہ تلاش کرنا واجب تھا۔ اور نماز بھی پڑھ لی۔ پھر پانی تلاش کیا پانی نہ ملا تو بھی امام اعظم وامام محمد کے نزدیک،بخلاف امام ابویوسف کے۔اس پر اعادہ فرض ہے سراج وہاج میں اسی طرح ہے مستصفی میں ہے کہ قریب میں پانی کا گمان ہونے کی صورت میں تلاش لازم ہونے کا مسئلہ سابقہ مسئلہ (جسے اپنے خیمہ میں پانی ہونا یاد نہ رہا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی تو طرفین کے نزدیک، بخلاف امام ابویوسف کے، اعادہ نہیں) کے بعد ذکر کرنے میں ایک خاص نکتہ ہے اس لئے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ پانی تلاش کرنا شرط ہے یا نہیں'' اھ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۶۱)
اقول:لیس معناہ انھما لایقولان باشتراط الطلب بل ھو مجمع علیہ فی مظنۃ الماء وانما المعنی ان الرحل مظنۃ الماء عند ابی یوسف فیجب الطلب فیمتنع بدونہ التیمم وعندھما لافلا کما افادہ المحقق فی الفتح۔
اقول: اس کا یہ مطلب نہیں کہ طرفین تلاش کرنے کو شرط نہیں کہتے بلکہ جہاں پانی ملنے کا گمان ہو وہاں تلاش کے شرط ہونے پر اتفاق ہے __بلکہ اصل بات یہ ہے کہ امام ابویوسف کے نزدیک خیمہ وجود آب کے گمان کی جگہ ہے اس لئے ان کے نزدیک تلاش کرنا فرض ہے تو تلاش کیے بغیرتیمم ناجائز ہے اور طرفین کے نزدیک خیمہ مظنہ آب نہیں اس لئے تلاش فرض نہیں__ جیسا کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا ہے۔ (ت)
نیز بحر میں ہے : اللّٰہ تعالٰی جعل شرط الجوا عدم الوجود من غیر طلب فمن زاد شرط الطلب فقد زاد علی النص بخلاف العمرانات لان العدم وان ثبت حقیقۃ لم یثبت ظاھراً لان العمرانات دلیل ظاھرعلی وجود الماء لان قیام العمارۃ بالماء فکان العدم ثابتا من وجہ دون وجہ وشرط الجواز العدم المطلق ولایثبت ذلک فی العمرانات الابعد الطلب وبخلاف ما اذاغلب علی ظنہ قربہ لان غلبۃ الظن تعمل عمل الیقین فی حق وجوب العمل ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے پانی کے عدم وجود کو جوازتیمم کی شرط قرار دیا ہے اور تلاش کی شرط نہیں رکھی ہے تو تلاش کی شرط زیادہ کرنے والا نص پر زیادتی کرنے والا ہے مگر آبادیوں میں یہ بات نہیں اس لئے کہ وہاں اگرچہ حقیقۃً عدم وجود ہو مگر یہ ظاہراً ثابت نہیں اس لئے کہ آبادی خود ہی وجود آب کی کھلی ہوئی دلیل ہے کیونکہ آبادی پانی سے ہی قائم ہوتی ہے تو عدمِ آب ایک طرح سے ثابت ہے اور ایک طرح سے ثابت نہیں اور جوازتیمم کیلئے عدم مطلق شرط ہے جو بغیر تلاش کیے آبادیوں میں ثابت نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح قریب میں پانی کے غلبہ ظن کی صورت میں بھی وہ بات نہیں کیوں کہ جوجوب عمل کے حق میں غلبہ ظن یقین کا کام کرتا ہے۔(ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۶۱)
منیہ میں ہے : شرطہ النیۃ وکذا طلب الماء ان غلب علی ظنہ ان ھناک ماء اوکان فی العمرانات ۲؎ اھ
تیمم کی شرط نیت ہے اور اسی طرح پانی کا تلاش کرنا بھی شرط ہے اگر اسے غالب گمان ہوکہ وہاں پانی ہوگا یا وہ آبادیوں میں ہو''۔ اھ(ت)
 (۲؎ منیۃ المصلی    فصل فی التیمم    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۴۷)
اقول: وبھذہ النصوص ظھر ان الحکم سواء فیما اذا ظن فی فلاۃ بامارۃ اوکان فی مظنۃ کالعمرانات اوقربھا انہ لایصح تیمّمہ بدون الطلب وان ظھر بعدُ عدم الماء افادہ اطلاق المحیط والخلاصۃ وقد صرح بہ فی السراج فان وجوب الطلب شامل للفصلین وذلک لان الطلب فی المظنۃ شرط جوازہ کما نص علیہ فی المنیۃ والمستصفی ،
اقول: انہی نصوص سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ کسی جنگل میں کوئی علامت دیکھ کر گمان کر رہا ہو یا آبادی وقرب آبادی جیسی گمانِ آب کی جگہ میں ہو دونوں صورتوں میں یہ حکم یکساں ہے کہ پانی تلاش کئے بغیرتیمم درست نہیں اگرچہ بعد میں یہی ظاہر ہو کہ وہاں پانی کا وجود نہیں اس کا افادہ اس سے ہُوا کہ محیط اور خلاصہ نے بغیر تلاشِ آب،تیمم کو مطلقاً ناجائز کہا اور سراج وہاج میں تو اس کو صراحۃً بیان کردیا کیونکہ اس کی عبارت ''لوتیمم من غیر طلب وکان الطلب واجبا'' (اگر بلاتلاش تیمم کرلیا جبکہ تلاش کرنا واجب تھا) میں ''وجوب تلاش'' دونوں ہی صورتوں کو شامل ہے۔ اور عدمِ جوازتیمم کا حکم اس لئے ہے کہ جہاں وجوب آب کا گمان ہو وہاں پہلے پانی تلاش کرلیناتیمم جائز ہونے کی شرط ہے۔ جیسا کہ منیہ اور مستصفی میں اس کی صراحت ہے۔
وقد اوضحہ فی البحر غایۃ الایضاح فاذا فقد الشرط فقد المشروط فبطلت الصلاۃ وظھور عدم الماء لایجعل المفقود موجودا ولا الباطل صحیحا فماوقع فی الحلیۃ بعدمانقلنا عنھا من قولہ وھذا یفید انہ لوکان فی العمران اوبقرب من العمران فتیمم وصلی قبل الطلب ولم یستکشف عن الحال انہ لایجوز وھو ظاھر الخلاصۃ حیث قال فیھا (فنقل ماقدمناہ قال) لکن فی البدائع وکذلک اذا کان بقرب من العمران یجب علیہ الطلب حتی لوتیمم وصلی ثم ظھر الماء لم تجز صلاتہ لان العمران لایخلو عن الماء ظاھرا وغالبا والظاھر یلحق بالمتیقن فی الاحکام انتھی۔ولعلہ قید اتفاقی بدلیل التعلیل المذکور او احتراز عما لواستکشف الحال فلم یجد بالعمران فان الظاھر جواز صلاتہ لظہور انتفاعہ ذلک الظاہر ویحمل مافی الخلاصۃ علی ما اذا لم یستکشف الحال کماھو ظاھرھا ۱؎ اھ
اور البحرالرائق میں تو اسے انتہائی وضاحت سے بیان کیا ہے تو جب شرط مفقود ہوئی مشروط بھی مفقود ہوا (شرط_ تلاش آب _نہ پائی گئی تو مشروط جوازتیمم بھی نہ پایا گیا) تو نماز بھی باطل ہوئی اور بعد میں وہاں پانی کا عدم وجود ظاہر ہونے سے مفقود (تیمم) موجود نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باطل(نماز)صحیح قرار پاسکتاہے۔اس تمہید کے بعد اب حلیہ کی درج ذیل عبارت دیکھیے جو حلیہ کے حوالہ سے اُوپر نقل کی ہُوئی عبارت کے بعد آئی ہے: ''اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر آبادی میں یا آبادی کے قریب ہے اور پانی تلاش کیے بغیرتیمم کرکے نماز پڑھ لی اور بعد میں بھی حقیقتِ حال (وہاں پانی ہونے نہ ہونے کی تفتیش نہ کی) تو جائز نہیں اور خلاصہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کیوں کہ اس کے الفاظ یہ ہیں (اس کے بعد صاحبِ حلیہ نے خلاصہ کی وہ عبارت نقل کی ہے جو ہم اوپر درج کر آئے ہیں) لیکن بدائع میں یہ لکھا ہُوا ہے کہ ''اور اسی طرح جب آبادی کے قریب ہو تو بھی پانی تلاش کرنا واجب ہے۔ یہاں تک کہ اگرتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر پانی ہونا ظاہر ہوا تو اس کی نماز جائز نہ ہوئی۔اس لئے کہ ظاہراً اور عموماً آبادی پانی سے خالی نہیں ہوتی اور احکام کے معاملہ میں ظاہر ملحق بہ یقین ہے (عبارت بدائع ختم) شاید یہ (نماز کے عدمِ جواز کیلئے بعد میں پانی ظاہر ہونے کی قید) قیدِ اتفاقی ہے (ورنہ اگر بعد میں ظاہر ہو کہ پانی نہیں جب بھی قبل تلاش جوتیمم کیا اس تیمم سے پڑھی ہُوئی نماز باطل ہی ہے) اس کی دلیل وہ تعلیل ہے جو صاحبِ بدائع نے خود ذکر کی یا اس قید کے ذریعہ اُس صورت سے احتراز مقصود ہے جب بعد نماز حقیقتِ حال کی تفتیش کی اور آبادی میں پانی نہ پایا۔ کیوں کہ اس صورت میں ظاہر یہ ہے کہ اس کی نماز ہوگئی اس لئے کہ (بلحاظ غالب) وہاں جو ظاہر تھا (پانی کا وجود) اس کا نہ ہونا (عدم وجودِ آب) ظاہر ہوگیا اور خلاصہ میں جو بیان کیا گیا ہے وہ اُس صورت پر محمول ہوگا جب بعد نماز حقیقت حال کی تفتیش ہی نہ کی ہو جیسا کہ اس کی ظاہر عبارت سے پتہ چلتا ہے''۔اھ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
اقول: تجویزہ الاول اعنی جعلہ قید ثم ظھر الماء فی عبارۃ البدائع اتفاقیا ھو الصواب وکفی دلیلا علیہ التعلیل المذکور کما قال و تجویزہ الاٰخر اعنی استظھارہ جواز صلاتہ اذا طلب بعد فلم یجد بحث صادم المنقول والمعقول فالمعقول(۱) ماقرر الفقیر ان الشرع ادار الامر ھھنا علی عدم علمہ بالماء ولم ینظر الی وجودہ فی نفس الامر اوعدمہ فاذاظن الماء اوکان فی مظنتہ فقد انتفی عدم العلم فلم یصح التیمّم سواء ظھر بعد وجود الماء اوعدمہ الاتری ان من نسی الماء فی رحلہ اوضرب الخباء علی بئر وھو لایعلم فتیمّم وصلی ثم ذکر وظھر لااعادۃ علیہ فکما ان ظھور الماء لم یجعل تیممہ الصحیح غیر صحیح کذلک ظھور عدمہ لایجعل تیممہ الفاسد غیر فاسد(۲)
اقول::عبارت بدائع سے متعلق صاحبِ حلیہ نے جو پہلی تجویز رکھی وہی صحیح ہے یعنی یہ کہ ''ثم ظھر الماء'' (عدمِ جواز نماز کیلئے بعد میں پانی ظاہر ہونے) کی قید اتفاقی ہے اور اس کی دلیل کیلئے ان کی ذکر کی ہوئی تعلیل ہی کافی ہے جیسا کہ صاحبِ حلیہ نے خود کہا لیکن حلیہ کی دوسری تجویز یعنی یہ اظہار کہ جب بعد نماز پانی تلاش کرے اور نہ پائے تو نماز جائز ہوجائے یہ ایسی بحث ہے جو نقل وعقل سے متصادم ہے۔عقلی دلیل تو وہ ہے جس کی فقیر نے تقریر کی کہ شریعت نے یہاں مدارِ امر عدمِ علم آب پر رکھا ہے اور واقع میں اس کے وجود و عدم پر نظر نہیں کی ہے تو جب پانی کا گمان ہو یا گمان کی جگہ ہو تو عدم علم نہ رہا اس لئے تیمم نہ ہُوا خواہ بعد میں پانی کا وجود ظاہر ہو یا عدم ظاہر ہو۔ دیکھئے جسے اپنے خیمہ یا کجاوہ میں پانی ہونا یاد نہ رہا یا جس نے لاعلمی میں کسی کُنویں پر خیمہ لگایا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے یاد آیا، یا وہاں پانی ہونا ظاہر ہوا تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں تو جیسے ظہور آب نے اس کے صحیح تیمم کو غیر صحیح نہ کیا اسی طرح ظہور عدم آب بھی اس کے فاسدتیمم کو غیر فاسد نہ کرسکے گا
والمنقول ماتقدم من تصریح السراج ومثلہ فی الجوھرۃ النیرّۃ وبہ(۱) ظھر ان تقییدہ فی الاستفادۃ بقولہ ولم یستکشف غیر صحیح بل الحکم مطلق وجعلہ(۲) ایاہ ظاھر الخلاصۃ ممنوع بل صریحھا الاطلاق۔
اور نقلی دلیل سراج وہاج کی وہ تصریح ہے جو پہلے گزر چکی اور اسی کی مثل جوہرہ نیرہ میں بھی ہے۔اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ مستفاد بتاتے ہوئے صاحبِ حلیہ نے جو یہ قید لگائی کہ ''بعد نماز حقیقت حال کی تفتیش نہ کی'' یہ صحیح نہیں۔بلکہ حکم مطلق ہے (بعد میں تلاش کرے یا نہ کرے اور پھر پانی ملے یا نہ ملے بہرحال سابقہ تیمم ونماز درست نہیں ۱۲م الف) اور اس قید کو عبارت خلاصہ کا ظاہر بتانا ناقابلِ تسلیم ہے بلکہ اس میں صراحۃً حکم مذکورکو مطلق ہی رکھا ہے(جس سے بہرصورت عدمِ جواز ہی ثابت ہوتا ہے ۱۲م الف)(ت)
فان قلت حاصل ما قررت ھھنا ان لوظن القدرۃ علی الماء لایصح تیمّمہ وان ظھر بعد وانہ عاجز ولوظن العجز صح وان ظھر بعدُ انہ قادر فالمبنی ظنہ لامایظھر بعدہ وھو خلاف مانصوا علیہ فی مسألۃ من(۳) وجد مع غیرہ ماء فانہ ان لم یسألہ وتیمّم وصلی ثمّ سأل فان اعطی بطلت صلاتہ وان کان یظن قبلہ المنع وان ابی صحت وان کان یظن قبلہ الاعطاء فکان المبنی مایظھر بعد لا ماظن وقد ذکرنا نصوصہ وبلغنا الغایۃ تحقیقہ فی رسالتنا قوانین العلماء بعون اللّٰہ تعالٰی۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ یہاں آپ کی تقریر کا حاصل یہ ہے کہ اگر اسے پانی پر قدرت کا گمان ہو توتیمم درست نہ ہوگا اگرچہ بعد میں پانی سے عاجز ہونا ہی ظاہر ہو۔اور اگر پانی سے عجز کا گمان ہو تو توتیمم درست ہے اگرچہ بعد میں پانی پر قادر ہونا ہی ظاہر ہو۔ تو بنائے کار اس کے گمان پر ہے اس پر نہیں جو بعد میں ظاہر ہو اور دوسرے کے پاس پانی موجود پانے کے مسئلہ میں فقہا نے جو صراحت کی ہے یہ اس کے برخلاف ہے۔ اس لئے کہ اگر اس نے نہ مانگا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر طلب کیا اب اگر وہ دے دے تو نماز باطل ہوگئی اگرچہ پہلے اس کا گمان یہ رہا ہو کہ نہ دے گا اور اگر انکار کردے تو نماز صحیح ہوگئی اگرچہ پہلے اس کا گمان یہ رہا ہو کہ پانی دے دے گا۔ تو بنائے حکم اُس پر ہُوئی جو بعد میں ظاہر ہو اس پر نہیں جو پہلے گمان ہو اس سلسلہ کے نصوص اور مسئلہ کی انتہائی تحقیق بعون اللہ تعالٰی ہم اپنے رسالہ ''قوانین العلماء فی متیمّمٍ علم عند زیدٍ ماء'' (۱۳۳۵ھ) میں رقم کرچکے ہیں۔(ت)
Flag Counter