Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
123 - 166
 (۱۶۷ تا ۱۷۵) اقول مولٰی  سُبحٰنہ وتعالٰی نے مسلم میت کے غسل کفن دفن اُس کے حق بنائے اور زندہ مسلمانوں پر فرض فرمائے ان میں جہاں مال کی حاجت ہو اُس کے مال سے لیا جائے کہ یہ اس کی حاجاتِ ضروریہ سے ہے ولہذا(۳) تقسیم ترکہ درکنار ادائے دیون پر بھی مقدم ہے جس طرح(۴) زندگی میں پہننے کا ضروری کپڑا دین میں نہ لیا جائیگا اگر اس(۵) نے مال نہ چھوڑا تو زندگی میں جس پر اُس کا نفقہ واجب تھا وہ دے (اور عورت(۶) کا کفن مطلقاً شوہر پر ہے اگرچہ اس نے ترکہ چھوڑا ہو) اگر وہاں(۷) کوئی ایسا نہ ہو تو مسلمانوں کے بیت المال سے لیا جائے اگر بیت المال نہ ہو جیسے ان بلاد میں تو مسلمانوں پر واجب ہے جن جن کو اطلاع ہو۔ یہ مسائل کفن میں بالترتیب مصرح ہیں اور غسل ودفن اُس کے مثل بلکہ اہم اب ان تینوں نمبروں میں لڑکا یا لڑکی یا کافرہ جن جن سے نہلوانے کا حکم ہے اگر اُجرت مثل مانگیں دینی لازم میت کا مال نہ ہو تو موجودین اپنے پاس سے دیں تو یہاں بھی بدستور ہر نمبر میں تین تین صورتیں اور پیدا ہوں گی کہ اگر وہ اُجرت مثل سے بہت زیادہ مانگے یا کوئی دینے کے قابل نہیں یا ان کا مال دوسری جگہ ہے اور وہ ادھار پر راضی نہیں تیمم کرائیں واللہ سُبحٰنہ وتعالٰی اعلم الحمداللہ یہ پانی سے عجز کے پَونے دو سو صورتیں اس رسالہ کے خواص سے ہیں کہ اس کے غیر میں نہ ملیں گی اگرچہ جو کچھ ہے علمائے کرام ہی کا فیض ہے
ع اے بادصبا اینہمہ آوردہ تست
 (اے بادصبا! یہ سب تیرا ہی لایا ہوا ہے۔ ت)
رحمۃ اللّٰہ علیھم اجمعین ÷ وعلینا بھم ابدالآبدین ÷  یاارحم الراحمین ÷  اٰمین والحمدللّٰہ رب العٰلمین ÷  وافضل الصّلاۃ والسلام علٰی سید المرسلین ÷ وآلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین ÷
ان تمام حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی ہمیشہ ہمیشہ خدا کی رحمت ہو۔اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے، قبول فرما۔اور ساری خُوبیاں اللہ کیلئے جو سارے جہانوں کا مالک ہے اور بہتر درودوسلام ہو رسولوں کے سردار اور ان کی آل واصحاب اور ان کے فرزند اور ان کے گروہ سب پر۔ (ت)

دوم (عـہ) طہارت کے لئے کافی۔
 (عـہ) یہ اُس اوّل کا دوم ہے جو صفحہ ۴۱۱ پر گزرا ۱۲ (م)
سوم فرض طہارت ان قیدوں کے فائدے نمبر۱۵۷ میں معلوم ہولیے۔
چہارم ہم نے پانی کو مطلق سے مقید نہ کیا کہ طہارت کیلئے کافی کہنا ہی اس کے افادے کو کافی تھا،
بخلاف عبارۃ الدر(من عجز عن استعمال الماء) المطلق الکافی لطھارتہ لصلاۃ تفوت الی خلف (تیمّم) ۱؎ اھ
برخلاف درمختار کی درج ذیل عبارت کے: ''و ہ تیمم کرے جو عاجز ہو ایسا پانی استعمال کرنے سے جو مطلق ہو، اس کی طہارت کیلئے کافی ہو، ایسی نماز کیلئے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل ہو (بلفظِ دیگر کسی بدل کی جانب فوت ہونے والی نماز کیلئے آبِ مطلق کافی کے استعمال سے عاجز شخص تیمم کرے)'' اھ۔
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۰)
فانہ قدم ذکر المطلق فلم یلغ نعم لوترکہ کمافعلت لکفی اماقولہ لصلاۃ تفوت الی خلف فاحترز بہ عن التیمّم لنوم اورد سلام ونحوہ اولفائت لاالی خلف کصلاۃ جنازۃ وعید فانہ لایشترط لہ العجز ۲؎ اھ ش۔
انہوں نے اس عبارت میں لفظ مطلق پہلے ذکر کیا تو اس کے بعد کافی کہنا لغو نہ ہوا ہاں اگر لفظ مطلق ترک کردیتے جیسا میں نے کیا تو کافی ہوتا۔ لیکن ان کی عبارت ''لصلاۃ تفوتُ الٰی خلف'' (کسی بدل کی جانب فوت ہونے والی نماز کیلئے) تو اس میں اس تیمم سے احتراز ہے جو سونے یا سلام کا جواب دینے یا ایسے ہی کسی کام کیلئے ہو یا ایسی فوت ہونے والی چیز کیلئے ہو جس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے نمازِ جنازہ اور عیدین کہ اس کیلئے آب کافی سے عجز شرط نہیں۔ اھ شامی ملخّصاً۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر   ۱/۱۷۱)
اقول: اولاً  ھل(۱) تدل عبارۃ المصنّف علی اشتراط العجز ام لاعلی الثانی ماھذہ الاحترازات وعلی الاوّل یعود علی المقصود بالنقض فانہ یفید ان شرط التیمّم العجز فی صلاۃ لھا خلف فلا یجوز بلاعجز ولابعجز فی غیر صلاۃ ولافی صلاۃ لاخلف لھا وبالجملۃ مفاد ھذہ الزیادات تخصیص التیمّم بھذا العجز المخصوص لاتخصیص شرط العجز بھذا الخصوص نعم لوقال وھذا فی صلاۃ تفوت الٰی خلف لافاد مااراد۔
اقول:اوّلاً کیا مصنّف کی عبارتعجز کے ''شرط ہونے'' کو بتارہی ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو پھر یہ احترازات کیسے؟ اور اگر عجز کو شرط بتارہی ہے تو اس کا نتیجہ مقصود کے بالکل برخلاف نکلے گا کیوں کہ اس سے یہ مستفاد ہوگا کہ تیمم کیلئے شرط یہ ہے کہ ''ایسی نماز میں جس کا کوئی بدل ہو (آب کافی کے استعمال سے) عاجز ہو''۔ تو بغیر عجز کے تیمم جائز ہی نہ ہوگا۔ اور غیر نماز (مثلاً جوابِ سلام) میں عجز نہیں اور نہ ہی ایسی نماز میں جس کا کوئی بدل نہیں(جیسے جنازہ وعیدین توحاصل یہ نکلا کہ جواب سلام اور نماز جنازہ وغیرہ کیلئے تیمم جائز نہیں۔ جبکہ عجز کو شرط بنانے کا مقصد یہ بتاناتھا کہ جوابِ سلام اور نمازِ جنازہ وغیرہ کیلئے بلاعجز بھی تیمم جائز ہے ۱۲ م الف)(ت) الحاصل ان اضافوں کا مفاد یہ ہے کہ اس عجز مخصوص سے تیمم کو خاص کیا جائے۔ شرط عجز کو اس خصوصیت سے مختص کرنا مقصود نہیں۔ ہاں اگر یوں کہتے:
''وھذا فی صلاۃ تفوت الی خلف''
 (اور یہ اس نماز میں ہے جو کسی بدل کی جانب فوت ہو) تو عجز مذکور کو شرط قرار دینے کا افادہ ہوتا۔(اور خلاف مقصود نہ ہوتاکیوں کہ اس کا حاصل یہ ہوتاکہ آب کافی کے استعمال سے عاجزی کی شرط اُس نماز میں ہے جس کا کوئی بدل ہو تو جوابِ سلام وغیرہ جو نماز نہیں اور نماز جنازہ وغیرہ جن کا کوئی بدل نہیں ان میں آب کافی سے عاجزی شرط نہیں۔
الحاصل ھذا فی صلاۃ الخ
ہوتاتو عجزکو شرط اور ان الفاظ کو قید احترازی قرار دینا جو اُن کا مقصد ہے یہ ان کے طور پر حاصل ہوجاتا۔ ۱۲ م الف) (ت)
وثانیا لاتیمّم(۱)مع(۲)وجدان الماء الالفائت لاالی خلف کرد سلام والصلاتین کماتقدم اماالنوم ونحوہ فلاکما حققہ الشامی مخالفا لمافی البحر والدر والعجز معنی متحقق فیہ کماقدمنا فلاحاجۃ الی الاحتراز۔
ثانیاً: پانی دستیاب ہونے کے باوجودتیمم صرف ایسی چیز کے لئے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے جواب سلام اور نماز جنازہ وعیدین، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے سونے یا ایسے اور کسی کام کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں۔ جیسا کہ البحرالرائق اور درمختار کی مخالفت کرتے ہوئے علامہ شامی نے اس کی تحقیق کی ہے۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں بلابدل فوت ہونے والی چیز میں بھی معنیً (آب کافی کے استعمال سے) عجز متحقق اور ثابت ہے تو اس سے احتراز کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ (ت)
پنجم اقول:(میں کہتا ہوں۔ ت): صورتیں تین۳ ہیں:

(i) علم بعدمِ آب

(ii) علم بوجود

(iii) عدم علم
علم عدم کہ پانی مِیل بھر یا زائد دُور ہونا، معلوم ہو اس میں تو عجز ظاہر ہے۔ 

اور علم وجود میں عجز یوں ہوگا کہ حساباً یا طبعاً یا شرعاًاُس تک وصول یا اُس کے استعمال پر قادر نہیں جیسے محبوس یا مریض یا وہ پانی پانے والا جو پینے کیلئے وقف ہے۔

رہا عدم(۱) علم نمبر۱۵۸ و ۱۵۹ سے واضح ہُوا کہ شرع مطہر نے اسے بھی عجز میں رکھا اگرچہ بعد نماز پانی وہیں موجود ہونابھی معلوم ہوجائے اور جب شریعت نے یہاں وجود و عدم آب پر مدار نہ رکھا بلکہ اُس کے عدمِ علم پر تو واجب ہے کہ وہ جگہ مظنہ آب نہ ہو جیسے آبادی یا اُس کا قرب نہ اُسے وہاں وجود آبِ مظنون ہو مثلاً سبزہ لہلہا رہا ہے یا پرندے یا چرندے موجود ہیں یا ثقہ شخص کہہ رہا ہے کہ یہاں قرب میں پانی ہے کہ غلبہ ظن بھی انحائے علم سے ہے خصوصاً فقہیات میں کہ ملتحق بہ یقین ہے تو بحالِ ظن عدم علم نہ ہوا اور یہاں اسی پر مدار عجز تھا تو نہ عجز متحقق ہُوا نہ تیمم روا، نہ اُس سے نماز صحیح، اگرچہ بعد کو عدمِ آب ہی ظاہر ہو کہ وجود و عدم واقعی یہاں ساقط النظر تھا۔ درمختار میں ہے:
یجب ای یفترض طلبہ ولوبرسولہ قدر مالایضر بنفسہ ورفقتہ بالانتظار ان ظن ظنا قویا قربہ دون میل بامارۃ اواخبار عدل والایغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل(۲) یندب ان رجا والا لا ۱؎ اھ ملخصاً
پانی تلاش کرنا فرض ہے اگرچہ اپنے قاصد ہی کے ذریعہ، اس حد تک کہ انتظار سے خود اسے یا اس کے ہم سفروں کو ضرر نہ ہو۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کسی علامت یا کسی عادل کے بتانے سے قریب میں ایک میل سے کم دُوری پر پانی ہونے کا اسے قوی گمان ہو، اور اگر قریب میں پانی ہونے کا غالب گمان نہ ہو تو تلاش واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اگر ملنے کی کچھ امید ہو ورنہ مستحب بھی نہیں، اھ ملخصّاً۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی        باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۰ تا ۱۸۱)
ردالمحتار میں ہے:بامارۃ ای علامۃ کرؤیۃ خضرۃ اوطیر ۱؎ اھ و زاد فی الحلیۃ الوحش ۔
  بَامارۃٍ یعنی کسی علامت سے، مثلاً سبزہ یا پرند دیکھنے سے اھ اور حلیہ میں ''وحشی جانوروں'' کا لفظ بھی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۱)
حلیہ میں محیط سے ہے:
الذی نزل بالعمران ولم یطلب الماء لم یجز تیمّمہ ۲؎۔
جو آبادی میں اُترا اور پانی تلاش نہ کیا اس کاتیمم درست نہیں۔(ت)
 (۲؎ حلیہ)
خلاصہ میں ہے:ان تیمّم قبل طلب الماء وصلی فی العمرانات لایجوز وفی الفلوات یجوز ۳؎۔
اگر آبادیوں میں پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز نہیں اور بیابانوں میں جائز ہے۔ (ت)
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی    فصل خامس فی التیمم    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۱)
Flag Counter