Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
122 - 166
فالحق عندی ان مافی عامۃ الکتب ھنا مفسربما فی الاصل ومعنی بلوغہ حد الشھوۃ حد یوجب فیہ النظر الی عورتہ تذکر تلک الامور لاان یشتھی ھو بنفسہ او تقع علی نفسھا الشھوۃ وقال ش تحت قولہ للصغیر جدا وکذا الصغیرۃ قال ح وفسرہ شیخنا بابن اربع فمادونھا ولم ادرلمن عزاہ ۳؎ اھ اقول قدیؤخد مما فی الجنائز الشرنبلالیۃ الخ فذکر ماقدمنا عن الفتح عن الاصل۔
تو میرے نزدیک حق یہ ہے کہ اس مقام پر (کم عمر مرد بچّے کو غسل دینے کے مسئلہ میں) عام کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تفسیر وہی ہے جو امام محمد کی مبسوط میں ہے اور یہاں اس کے حدِ شہوت کو پہنچنے کا معنی یہ ہے کہ اس حد کو پہنچ جائے کہ اس کا ستر دیکھنے سے ان باتوں کی یاد آئے، یہ معنی نہیں کہ لڑکا خود شہوت والا ہوجائے یا خود لڑکی کے دل میں شہوت پیدا ہو۔ علامہ شامی نے دُرمختار کی عبارت ''للصغیر جدا'' (بہت کمسِن لڑکے کیلئے ستر نہیں) کے تحت فرمایا: ''یہی حکم لڑکی کا بھی ہے۔ حلبی نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اس کی تفسیر یہ بتائی ہے کہ چار سال یا اس سے کم عمر ہو۔ یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس کے حوالے سے فرمایا''۔ اھ علّامہ شامی فرماتے ہیں ''میں کہتا ہوں یہ اس سے اخذ ہوتا ہے جو شرنبلالیہ کے باب الجنائز میں ہے'' الخ۔ اس کے بعد وہ عبارت ذکر کی ہے جو ہم نے فتح القدیر سے بحوالہ مبسوط نقل کی۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار        باب شروط الصّلوٰۃ        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۳۰۰)
اقول: فی الاخذ نظر ظاھر فان التکلم یحصل غالباً قبل اربع بکثیر۔
اقول:  عبارت مذکورہ سے چار سال کی تحدید اخذ کرنے میں عیاں طور پر کلام کی گنجائش ہے اس لئے کہ عموماً بچّہ چار سال سے پہلے ہی بولنے لگتا ہے۔ (ت)
ہاں نہلانے والے بچے میں اُس عمر کا اعتبار موجہ ہے کہ نہایت کم عمر نہلا نہیں سکتا۔

(۱۶۵) اگر میت عورت یا مشتہاۃ لڑکی ہو جو اُتنی صغیر السِّن نہیں اور وہاں کوئی عورت نہیں تو دس گیارہ برس کا لڑکا اگر نہلا سکے اگرچہ دُوسرے کے بتانے سے یا کوئی کافرہ عورت ملے اور بتانے کے موافق نہلاسکے تو اس سے نہلوائیں ورنہ کوئی محرم تیمم کرائے۔ اقول یا اگر میت کنیز تھی شوہر یا کوئی اجنبی ویسے ہی تیمم کرادے اور کنیز نہ تھی اور کوئی محرم نہیں تو شوہر اسی طرح ہاتھوں پرکپڑا چڑھا کر بے آنکھیں بند کیے تیمم کرائے اور شوہر بھی نہ ہو تو اجنبی مگر آنکھیں بند کرے۔

(۱۶۶) اگر میت مرد یا ہوشیار لڑکا ہے کہ اُتنا صغیر السن نہیں ہے اور وہاں کوئی مرد نہیں تو اگر میت کی زوجہ ہے کہ ہنوز حکم زوجیت میں باقی اور اسے مس عـــہ کرسکتی ہو وہ نہلائے وہ نہ ہو تو سات آٹھ برس کی لڑکی اگر نہلاسکے اگرچہ سکھانے سے یا کوئی کافر ملے اور بتانے کے مطابق غسل دے سکے تو ان سے نہلوایا جائے ورنہ جو عورت میت کی محرم یا کسی کی شرعی کنیز ہو وہ اپنے ہاتھوں سے یوں ہی تیمم کرائے اور آزاد ونامحرم ہے تو کپڑا لپیٹ کر مگر رُوو دست میت پر نگاہ سے یہاں ممانعت نہیں،
عــہ اقتصر فی الدر علی اشتراط بقاء الزوجیۃ اقول  ولا یکفی فان المنکوحۃ فاسد اوالموطوء ۃ بشبھۃ ھی او اختھا لاشک فی بقاء زوجیتھن ولذا یغسلنہ ان انقضت عدتھن بعد موتہ قبل غسلہ ولایجوز لھن مادمن فی تلک العدۃ فلذا زدت یحل لھا مسہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

درمختار میں صرف بقائے زوجیت کی شرط پر اکتفا کیا۔ اقول اور یہ کافی نہیں اس لئے کہ وہ زوجہ جس سے کسی دوسرے نے نکاح فاسد کیا ہو اور یا کہ اس سے یا اس کی بہن سے وطی شبہ کی گئی ہو (تینوں صورتیں کتاب میں چند سطور آگے وضاحت سے مذکور ہیں ۱۲م الف) ان کی زوجیت باقی رہنے میں کوئی شک نہیں اسی لئے اگر شوہر کے مرنے کے بعد اسے غسل دینے سے پہلے ان کی عدّت ختم ہوگئی تو یہ اسے غسل دے سکتی ہیں اور جب تک ''اُس عدّت'' میں رہیں اُسے غسل نہیں دے سکتیں۔ اسی لئے مَیں نے ''اُسے مس کرسکتی ہو'' کا اضافہ کیا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
زوجہ کو اگر طلاق(۱) بائن یا تین(۲) طلاقیں دے دی تھیں یا زوجہ (۳) نے پسر زوج کا بوسہ بشہوت لیا خواہ کوئی فعل اس سے یا اُس کے ساتھ ایسا واقع ہوا جس سے شوہر کے ساتھ حرمتِ مصاہرت پیدا ہو یا اپنی(۴) صغیرہ سوت کو کہ عمر رضاعت میں تھی دُودھ پلادیا یا(۵) معاذہ اللہ مرتدہ ہوگئی پھر بعد موت اسلام لے آئی یہ تینوں باتیں خواہ حیاتِ شوہر میں واقع ہوئی ہوں یا اُس کے بعد یا حیاتِ(۶) زوج میں کسی نے اُس سے وطی شبہہ کی یا کسی(۷) نے اُس سے نکاح فاسد کیا تھا اب وہ رَد ہوا اور عورت شوہر کو ملی پھر شوہر مر گیا اور عورت ابھی اس وطی شبہہ یا نکاح فاسد کی عدّت میں ہے یا زوج(۸) نے سالی سے وطی شبہہ کی تھی پھر مرگیا اور ہنوز وہ اُس کی عدّت میں ہے یا(۹) مجوسی خواہ ہندو مسلمان ہوکر مرا اور عورت ہنوز مجوسیہ یا مشرکہ ہے اگرچہ ان سب صورتوں میں زوجہ ہنوز عدّت میں ہو اقول یوں(۱۰) ہی اگر عدّت سے نکل گئی مطلقاً نہیں نہلا سکتی اور اُس کی صُورت یہ ہے کہ حاملہ تھی موت شوہر ہوتے ہی وضع حمل ہوگیا اب عدّت میں نہ رہی ان سب حالتوں میں زوجہ مثل اجنبیہ ہے غسل نہیں دے سکتی ہاں اگر شوہر نے طلاق رجعی دی اور عورت ابھی عدت میں تھی کہ مر گیا یا بعد شوہر اُس نکاح فاسد یا دونوں صورت وطی بشبہہ کی عدّت گزر گئی یا نو مسلم کی زوجہ مشرکہ مجوسیہ اب مسلمان ہوگئی تو ان صورتوں میں غسل دے سکتی ہے
والمسائل مفصلۃ فی البدائع والخانیۃ والفتح والبحر والدر وغیرھا وقد انتقیت من خلافیات احسنھا۔
یہ مسائل بدائع، خانیہ، فتح القدیر، البحرالرائق، درمختار وغیرہا میں تفصیل سے مذکور ہیں اور اختلافی مسائل میں سے احسن کا انتخاب کیا ہے (ت)
اقول: خنثٰی  میں تفصیل اور اُس کے اور عورت کے طہارت کرانے والوں میں ترتیب اور عورت کنیز وحرہ میں فرق یہ سب زیاداتِ فقیر سے ہے اور اُس کی وجہ بحمدہ تعالٰیظاہر ومنیرکہ:

(۱) سب میں پہلے غسل ہے کہ وہی اصل ہے مگر عورت میں کسی کافرہ سے نہلوانا کہا نہ خنثٰی میں کہ عورت بھی اسے نہیں دیکھ سکتی کہ احتمال ذکورت ہے بخلاف غسلِ زن۔
 (۲) عورت میں خاص لڑکا کہا کہ اُس کیلئے اُنثٰی کی نابالغی کیا ضرور بالغہ عورت ہوتی تو غسل ہی دیتی اور خنثٰی  میں لڑکا لڑکی دونوں کہے کہ بالغ حدشہوت اُسے غسل نہیں دے سکتا اور اس حد نہ پہنچنے کے بعد پسرودختر یکساں۔

(۳) خنثٰی  کے تیمم میں محرم کو مقدم رکھا مرد ہو یا عورت کہ بہرحال اُسے خنثٰی  کے اعضائے تیمم دیکھنے

چھُونے دونوں کا اختیار ہے اُس کے بعد اجنبی عورت کہ باحتمال ذکورت چھُونہ سکے دیکھ تو سکے گی پھر اجنبی مرد کہ احتمالِ انوثت کے سبب نہ چھُونا ممکن نہ دیکھنا۔

(۴)تیمم کنیز کو جُدا کیا اور یہاں محرم شوہر، اجنبی میں ترتیب نہ رکھی کہ اُس کے اعضائے تیمم کا دیکھنا چھُونا سب کو روا، درِمختار(۱) میں ہے:
 (حکم امۃ غیرہ) کمحرمہ وماحل(۲) نظرہ حل لمسہ الا من اجنبیۃ ۱؎ قال ش ای غیر الامۃ وفی التاترخانیۃ(۳) عن جامع الجوامع لاباس ان تمس الامۃ الرجل وان تدھنہ وتغمزہ مالم تشتھہ الامابین السُرۃ والرکبۃ ۲؎۔
دُوسرے کی کنیز کا حکم اپنی محرم عورت کی طرح ہے۔ اور جس حصّہ بدن کو دیکھنا جائز ہے اس کو چھُونا بھی جائز ہے مگر اجنبی عورت کے جس حصہ بدن (منہ کی صرف ٹِکلی) کو دیکھنا جائز ہے اسے بھی چھُونا جائز نہیں۔ علّامہ شامی نے فرمایا: اجنبی عورت سے مراد وہ ہے جو کنیز نہ ہو۔ اور تاتارخانیہ میں جامع الجوامع کے حوالے سے ہے: ''اگر کنیز مرد کو چھُوئے یا اس کے سر میں تیل ڈالے یا بدن دبائے تو اس میں حرج نہیں جب کہ شہوت سے خالی ہو مگر ناف اور گھٹنے کے مابین حصہ بدن کا چھُونا اس کیلئے بھی جائز نہیں''۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی    فصل فی النظر والمس    مطبع مصطفی البابی مصر    ۵/۲۵۹)

(۲؎ ردالمحتار        فصل فی النظر والمس    مطبع مصطفی البابی مصر        ۵/۲۶۰)
 (۵) تیمم حرہ میں یہ ترتیب لی کہ پہلے محرم مرد پھر شوہر پھر اجنبی اور اس کی وہی وجہ کہ محرم کو دیکھنا چھُونا دونوں روا اور شوہر کو صرف دیکھنا اور اجنبی کو کچھ نہیں، درمختار میں ہے:
یمنع زوجھا من غسلھا ومسھا لامن النظر الیھا علی الاصح ۳؎۔
شوہر کیلئے اپنی مرنے والی زوجہ کو غسل دینا اور چھُونا منع ہے، اور قولِ اصح کی بنیاد پر اسے دیکھنا منع ہے۔ (ت)
 (۳؎ الدرالمختار مع الشامی    صلوٰۃ الجنائز        مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۶۳۳)
ہاں تیمم مرد میں کنیز وحرہ کی تفصیل بدائع میں ہے: المیممۃ اذاکانت ذات رحم محرم منہ تیممہ بغیر خرقۃ والابخرقۃ تلفھا علی کفھا لانہ(۱) لم یکن لھا ان تمسہ فی حیاتہ فکذا بعد وفاتہ والامۃ وامۃ الغیر تیممہ بغیر خرقۃ لانہ یباح للجاریۃ مس موضع التیمّم بخلاف(۲) ام ولدا لمیت لانھا تعتق وتلتحق بالحرائر الاجنبیات ۱؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
تیمم کرانے والی عورت محرم ہو تو بغیر کپڑے کے تیمم کرائے گی ورنہ اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کرتیمم کرائے گی اس لئے کہ یہ جب اس کی زندگی میں اسے نہیں چھُوسکتی تھی تو اس کے مرنے کے بعد بھی نہیں چھُو سکتی اور اس کی کنیز یا دوسرے کی کنیز بغیر کپڑے کے تیمم کرائے گی اس لئے کہ باندی کیلئے اعضاء تیمم کو مَس کرنا مباح ہے۔ مرنے والے کی اُمّ ولد کا حکم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ وہ مولٰی  کے مرتے ہی آزاد ہوکر اجنبی آزاد عورتوں میں شامل ہوجاتی ہے۔ اھ واللہ تعالٰیاعلم۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان من یغسل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۳۰۵)
Flag Counter