Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
121 - 166
وقال قبلہ قال المصنف عــ۱ فی البحر ومانقلہ عــ۲ مسکین من قولہ وقیل غسل المیت سنۃ مؤکدۃ ففیہ نظر بعد نقل الاجماع یعنی فی فتح القدیر اللھم الا ان یکون قولا غیر معتمد فلایقدح فی انعقاد الاجماع ۱؎ اھ
مصنفِ اشباہ نے البحرالرائق میں لکھا ہے: ''(فتح القدیر میں) غسلِ میت کی فرضیت پر نقلِ اجماع کے پیشِ نظر ملّا مسکین کی یہ نقل کی ''کہا گیا غسلِ میت سنّتِ مؤکدہ ہے'' محلِ نظر ہے ہاں مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر معتمد قول ہو تو وہ انعقادِ اجماع میں خلل انداز نہ ہوگا''۔ اھ (ت)
عــ۱ ذکرہ قبیل المیاہ عند قول المتن وجب للمیت ومن اسلم جنبا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اسے باب المیاہ سے ذرا پہلے متن کی عبارت ''وجب للمیت ومن اسلم جنبا'' (میت کیلئے اور حالتِ جنابت میں اسلام لانے والے کیلئے غسل واجب ہے) کے تحت ذکر کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عـــ۲ وحکاہ القھستانی ایضا فی الجنائز فقال یفرض غسلہ کفایۃ وقیل یجب وقیل یسن سنۃ مؤکدۃ اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

قہستانی نے بھی باب الجنائز میں اس کی حکایت کی ہے اس کی عبارت یہ ہے: غسلِ میت فرضِ کفایہ ہے، اور کہا گیا کہ واجب ہے اور ایک قول یہ ہے کہ سنّتِ مؤکدہ ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائر    تذنیب فیما یقدم عند الاجتماع الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۲۱۶)
اقول: مثلہ(۱) لایعد قولا ولایحمل علیہ مثل کلام الخانیۃ وقال ط لعل اولویتہ علی المبت بسبب انہ یؤدی ماکلف بہ من صلاۃ وقراء ۃ فاحتیاجہ الیہ اکثر من المیت وتعبیرہ باولی یفید جواز التیمم للجنب ۱؎ اھ
اقول: تو ایسا قول قابل شمار نہیں نہ ہی ایسے قول پر امام فقیہ النفس جیسی شخصیت کاکلام محمول ہی کیا جاسکتا ہے (یہ اشباہ کی عبارت پر حموی کی تنقید کا جواب ہے ۱۲ م الف) سید طحطاوی نے فرمایا: ''میت سے جنب کے اولٰی ہونے کی وجہ شاید یہ ہو کہ جنب غسل کرلے گا تو اس سے نماز وقرأت کی ادائیگی کرے گا جس کا وہ مکلّف ہے تو اسے میت سے زیادہ غسل کی ضرورت ہے اور اسے اولٰی کہنے سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ جنب کیلئے تیمم جائز ہے''۔ اھ (ت)
 (۱؎ طحطاوی علی الدر    باب التیمم    مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت    ۱/۱۳۳)
اقول:  ویجوز بنائہ  اولاً علی القول بان فرض(۱) العین اقوی من فرض الکفایۃ۔
اقول:  __اولاً غُسلِ جنب کو اولٰی قرار دینے کی بنا اس قول پر ہو سکتی ہے کہ فرض عین، فرض کفایہ سے زیادہ قوی ہے۔
وثانیا علی ان لا(۲) ایثار فی القرب وذلک لانھم استولوا دون المیت وترجح الجنب من بین الاحیاء لمامر فصرفہ لنفسہ اَولی من صرفہ للمیت فافھم۔
ثانیاً:  اس پر کہ قربتوں کے معاملہ میں ایثار نہیں۔ یہ اس طرح کہ آبِ مباح پر جنب، حائض اور محدث نے ہی قبضہ کیا میت نے نہیں۔ اور جنب کو زندوں پر اس سبب سے ترجیح ہوئی جو ذکر ہوا (کہ جنابت، حدث سے زیادہ سخت ہے اور حائض غسل کرے تو امام نہیں ہوسکتی افضل یہ ہے کہ امام غسل والا ہو اور مقتدی متیمم ۱۲ م الف)

اب جنب کا اُس پانی کو اپنے غسل میں صرف کرنا غسلِ میت میں صرف کرنے سے اولٰی ہے فافھم (تو اسے سمجھو)۔ (ت)
(۱۶۲) اقول اُس صورت میں بیٹے پر نماز کا اعادہ بھی نہیں
 لان المنع من جھۃ الشرع
ایک یہ کہ وہ پانی اس کی مِلک تھا اور ظالم نے غصباً دبالیا اور یہ اس سے چھین نہیں سکتا توتیمم سے پڑھے پھر وضو سے پھیرے
لان المنع من جھۃ العباد
 (اس لئے کہ رکاوٹ بندوں کی جہت سے ہے۔ ت)
دوسرے یہ کہ پانی مباح تھا اُس پر اگر اس کے قبضہ کرلینے کے بعد اُس نے اس سے چھین لیا تو یہ وہی صورتِ اولٰی ہوئی کہ پانی بعد قبضہ اس کی ملک ہوگیا تھا اور اگر یہ قبضہ کرنا چاہتا تھا وہ زبردست ہے اُس نے پہلے قبضہ کرلیا تو اس میں اس کا ظلم نہ ہُوا کہ آبِ مباح پر قبضہ کیا ہے وہی مالک ہوا اور اب یہ شخص نمبر ۵۳ میں ہے کہ پانی دوسرے کی ملک اور اس کی اجازت نہیں تیمم کرے اور اعادہ کی حاجت نہیں،

(۱۶۳) اقول مسافر کے پانی کا پیپا صندوق میں بند ہے کہ جن راستوں میں پانی کی قلّت ہو وہاں وہ عزیز ترین اشیا سے ہے قفل کی کنجی گُم ہوگئی تو اُس حکم کی بنا پر کہ نمبر۶ میں گزرا اگر قفل توڑنے میں ایک درم کا نقصان ہوتا ہوتیمم کرے اور اعادہ نہیں ورنہ قفل توڑے اور وضو کرے فلیحرر ولیراجع واللّٰہ تعالٰی اعلم (اس میں مزید وضاحت ومراجعت کی ضرورت ہے۔ ت)
 (۱۶۴) جنگل میں خنثٰی مشکل کا انتقال ہوا جواتنا صغیر السِّن بچّہ نہ تھا جس کیلئے ستر کا حکم ہی نہ ہو اُسے نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت ناچارتیمم کرایا جائے اقول بلکہ اگر وہاں(۱) کوئی سات آٹھ برس کی لڑکی یا دس گیارہ برس کا لڑکا ہو کہ نہلا سکے تو اسے بتاکر نہلوانا لازم ہاں یہ بھی نہ ہو تو اُسے کوئی محرم تیمم کرائے مرد ہو خواہ عورت اور محرم نہ ملے تو اجنبی عورت اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کرتیمم کرائے اور اُسے آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں اور کوئی عورت بھی نہ ہو تو اجنبی مرد کپڑے کے ساتھ تیمم کرائے اور اپنی آنکھیں بھی بند کرے کہ خنثٰی کے سر کے بال یا کلائی کے کسی حصّہ پر نگاہ نہ پڑے۔ بدائع وفتاوٰی امام قاضی خان وفتح القدیر وبحرالرائق وسراج وہاج ودرِمختار وہندیہ وغیرہا میں ہے یہ عمر جس میں سترِ میت ضروری نہیں وہ عمر ہے جس میں بچّہ حدِ شہوت تک نہ پہنچا ہو۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ لڑکا بارہ سال سے کم اور لڑکی نو برس سے کم۔ اقول اس تقدیر پر خنثٰی  کیلئے نوبرس لیے جائیں گے لاحتمال انوثتھا (اس احتمال کی بنیاد پر کہ وہ لڑکی ہو۔ ت) مگر محرر(۲) المذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰینے کتاب مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے یہ حد مقرر فرمائی کہ جب تک بچّہ باتیں نہ کرے۔ فتح میں ہے:
الصغیر والصغیرۃ اذالم یبلغا حد الشھوۃ یغسلھما الرجال والنساء وقدرہ فی الاصل بان یکون قبل ان یتکلم ۱؎۔
کمسن لڑکا اور لڑکی جب حدِ شہوت کو نہ پہنچے تو انہیں مرد، عورت کوئی بھی غسل دے سکتا ہے اور امام محمد نے مبسوط میں اس کی حد یہ بتائی ہے کہ بچّہ ابھی بات نہ کرتا ہو۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    فصل فی غسل المیت    نوریہ رضویہ سکّھر    ۲/۷۶)
اقول:  مولٰی  عزوجل کے بے شمار رحمتیں امام محمد پر بیشک وہ عمر جس میں ستر کی حاجت نہیں یہی ہے اور(۱) بلاشبہ(۲) دربارہ نظر ومس زندہ ومُردہ کا حکم ایک ہی ہے۔
الاتری الی قول البدائع لومات الصبی لایشتھی لاباس ان تغسلہ النساء وکذلک الصبیۃ التی لاتشتھی اذاماتت لاباس ان یغسلھا الرجال لان حکم العورۃ غیر ثابت فی حق الصغیر والصغیرۃ ۱؎ اھ وکیف ترضی الشریعۃ المطھرۃ ان یمشی غلام دون اثنتی عشرۃ سنۃ وبنت دون تسع بشھر فی الاسواق عریانین وقد قال فی الدرعن السراج الوھاج لاعورۃ للصغیر جدا ثم مادام لم یشتہ فقبل ودُبر ثم تغلظ الی عشر سنین کبالغ ۲؎ اھ
دیکھئے بدائع کی عبارت یہ ہے: ''بچّہ جو شہوت والا نہ ہو اگر مرجائے تو عورتوں کے اسے غسل دینے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح بچّی جو شہوت والی نہ ہو مرجائے تو مردوں کے اسے غُسل دینے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ کمسن لڑکے اور لڑکی کے حق میں سَتر کا حکم ثابت نہیں''۔ اھ۔ اور شریعت مطہرہ یہ کیوں کر گوارا کرسکتی ہے کہ بارہ سال سے کم عمر والا لڑکا اور نوسال سے کم کی لڑکی بازاروں میں برہنہ چلتے رہیں؟ درمختار میں سراج وہاج کے حوالے سے ہے: ''بہت کم سِن لڑکے کیلئے ستر نہیں۔ پھر جب تک شہوت والا نہ ہو اس کیلئے پیشاب پاخانے کے مقام ستر نہیں۔ پھر دس سال کی عمر تک اس کے ستر کے معاملہ میں بالغ کی طرح شدت آجائے گی'' اھ
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان من یغسل الخ        مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۳۰۶)

(۲؎ الدرالمختار مع الشامی    باب شروط الصّلوٰۃ        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۳۰۰)
Flag Counter