(۱۶۱)اقول: باپ بیٹے کو جنگل میں مباح پانی ملا کہ ایک ہی کو کافی ہے اگر باپ وہاں پہلے پہنچ گیا اس کا قبضہ ہوگیا جب تو ظاہر ہے کہ بیٹاتیمم کرے کہ اب وہ ملکِ غیر ہے کہ مباح استیلا سے ملک ہوجاتا ہے یہ نمبر ۵۳ ہوا۔ اور اگر بیٹا پہلے پہنچا قابض ہُوا تو یہی نمبر ۱۵۵ ہے اور اگر دونوں ایک ساتھ پہنچے اگر باپ نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ پانی میں لُوں گا تو بیٹے کو مزاحمت جائز نہیں پانی پر صرف باپ کی قدرت ثابت ہوگی یہاں تک کہ اگر پہلے سے بیٹے کاتیمم تھا نہ ٹوٹے گا اور نہ تھا تو اب تیمم کرے گا اور اگر پہلے سے ایسا نہ کہا تھا تو دونوں قادر ہوگئے اگر پہلے سے تیمم کئے تھے جاتے رہے اب اگر باپ اس پانی کو لینا چاہے بیٹا دوبارہ تیمم کرے
ھذا کلہ ماظھر لی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی
(یہ سب بطورِ تفقہ میرے اوپر ظاہر ہُوا اور امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالٰی درست ہوگا۔ ت)
تنبیہ: خانیہ(۲) وخلاصہ واشباہ ودُرِمختار وغیرہا میں ہے کہ جنگل میں جُنب وحائض ومحدث ومیّت ہیں مباح پانی قابلِ غسل ملاکہ ایک ہی کو کافی ہے تو جنب اولٰی ہے وہ نہائے اور حائض ومحدث تیمم کریں اور میت کوتیمم کرایا جائے،
وھذا نظم الدر الجنب اولی بمباح من حائض اومحدث ومیت ولولاحدھم(۳) فھو اولی ولومشترکا ینبغی صرفہ للمیت ۱؎۔
اور دُرمختار کی عبارت یہ ہے: ''جُنب آبِ مباح میں حائض، محدث اور میت سے اولٰی ہے اور اگر پانی ان میں کسی کی ملک ہوتو وہی مستحق ہے اور اگر ملک میں سب کی شرکت ہے تو چاہئے کہ سب اپنا حصہ میت کو دے دیں۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۶)
اقول: یہ شکل پانی سے عجز کی نہیں یہاں(۱) تک کہ اگر تینوں متیمم تھے اب یہ آبِ مباح ملا سب کاتیمم ٹوٹ گیا جب جنب اُس سے نہائے حائض ومحدث دوبارہ تیمم کریں۔
فان(۲) وجد ان مباح یکفی لاحدھم علی سبیل البدلیۃ ینقض تیممھم جمیعا لان کل واحد منھم صارقادرا ۱؎ کما فی خزانۃ المفتین عن الکبری
اس لئے کہ اگر آبِ مباح اس مقدار میں ملا کہ بطور بدلیت ان میں سے ہر ایک کیلئے کافی ہوگا تو سبھی کاتیمم ٹوٹ گیا اس لئے کہ ان میں ہر ایک قادر ہوگیا جیسا کہ خزانۃ المفتین میں بحوالہ کبری لکھا ہوا ہے۔
(۱؎ خزانۃ المفتین)
وفی الخلاصۃ خمسۃ من المتیمّمین وجدوا من الماء المباح قدر مایتوضوء بہ احدھم انتقض تیمّم الکل ولو(۳) جاء رجل بکوزمن ماء وقال لیتوضأ بہ ایکم شاء انتقض تیمّم الکل وان کان الماء یکفی لاحدھم ولوقال ھذا الماء لمن یرید فکذلک ۲؎ اھ۔
خلاصہ میں ہے: ''ایسے پانچ آدمیوں کو جوتیمم سے ہیں آبِ مباح اس مقدار میں ملا کہ ان میں کسی ایک کیلئے کافی ہوگا تو سب کاتیمم ٹوٹ گیا اور اگر کوئی اپنے پانی کا برتن لے آیا اور کہا تم میں سے جو چاہے وضو کرلے تو سب کاتیمم ٹوٹ گیا اگرچہ پانی صرف ایک شخص کیلئے کفایت کرسکتا تھا اور اگر کہا: ''یہ پانی اس کیلئے ہے جو چاہے تو بھی یہی حکم ہے''۔ اھ (ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی خمسۃ من المتیمین مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۳۷)
باپ(۴) جب اُسے لینا چاہتا ہے بیٹا شرعاً ممنوع ہوگیا اور منع شرعی بھی موجب عجز ہے۔
کماتقدم عن الفتح فی ماء الحب والماء الموھوب وکذا الماء (۵) المملوک ملکا فاسدا اذا اذن بہ الشرکاء لاحدھم لاینتقض تیمّمہ قال فی البحر لایخفی انہ وان کان مملوکا لایحل التصرف فیہ فکان وجودہ کعدمہ ۳؎ اھ ونازع فیہ النھر بماھو من مثلہ عجیب۔
جیسا کہ سبیل کے پانی اور ہبہ شدہ پانی کے بیان میں فتح القدیر کے حوالہ سے گزرا اسی طرح جو پانی ملک فاسد کے طور پر ملکیت میں آیا ہے اس سے متعلق شرکاء جب کسی ایک کو اجازت دے دیں تو اس کاتیمم نہ ٹوٹے گا۔ البحرالرائق میں ہے: ''مخفی نہ رہے کہ یہ اگرچہ مملوک ہے مگر اس میں تصرف روا نہیں تو اس کا ہونا نہ ہونے کی طرح ہے''۔ اھ اس مسئلہ پر صاحبِ بحر سے ان کے برادر صاحب نہر نے اختلاف کرتے ہوئے ایسی بات لکھی ہے جو ان جیسی شخصیت کے قلم سے تعجب خیز ہے۔ (ت)
(۳؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۴)
بخلاف جنب کہ جب یہاں اس کا تنہا استحقاق جبری نہیں صرف اولویت ہے، محدث(۱) سے اس لئے کہ جنابت اغلظ ہے اور حائض سے محض اس مصلحتِ افضلیت کے لئے وہ تو امامت کرنہیں سکتی، جنب امام ہوگا اب اگر حائض نہائے اور جنب تیمم کرے تو یہ غاسل کی اقتداء متیمم سے ہوگی اور یہ(۲) اگرچہ صحیح وجائز ہے مگر عکس افضل ہے، لہذا مناسب کہ جنب نہائے اور حائض تیمم کرے اور میت سے یوں کہ غسلِ جنابت کا ثبوت قرآن عظیم سے ہے اور غسل میت کا سنّت واجماع سے، ایسے ہلکے مصالح کیلئے جنب کو ترجیح دی ہے نہ یہ کہ اُس کا استحقاق اوروں کو پانی سے عاجز کردے،
(ردالمحتار میں ہے: جُنب آبِ مباح کا زیادہ حقدار ہے، یہ بالاجماع ہے۔ تاتارخانیہ اھ۔ ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۶)
اقول: ھذا عجب بل جمہور المشایخ علی اولویۃ المیت وان کان الاصح الاول ففی البحر عن الظھیریۃ قال عامۃ المشایخ المیت اولی وقیل الجنب اولی وھو الاصح ۲؎ اھ ونازعہ ط بانہ حیث کان المشترک ینبغی صرفہ للمیت (ای کماتقدم عن الدر) فالمباح اولی ۳؎ اھ۔
اقول: یہ عجیب بات ہے جمہور مشایخ میت کو زیادہ حقدار کہتے ہیں اگرچہ اصح اوّل ہے البحرالرائق میں ظہیریہ کے حوالے سے ہے: ''عامہ مشایخ کا قول ہے کہ میت زیادہ حقدار ہے اور کہا گیا کہ جنب اولی ہے اور یہی اصح ہے''۔ اھ۔ سید طحطاوی نے اس سے اختلاف کرتے ہُوئے لکھا ہے کہ: ''جب مشترک پانی میت کیلئے صرف کرنا چاہئے (یعنی جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گزرا) تو آب مباح بدرجہ اولی اسی کا حق ہوگا''۔ اھ
(۲؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید اینڈ کمپنی ۱/۱۴۳)
(۳؎ طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱/۱۳۳)
ای اذا امروا ندبا بصرف ملکھم للمیت فما لاملک لھم فیہ اولی واجاب ش بانہ ینبغی لکل منھم صرف نصیبہ للمیت حیث کان کل واحد لایکفیہ نصیبہ ولایمکن الجنب ولاغیرہ ان یستقل بالکل لانہ مشغول بحصۃ المیت وکون الجنابۃ اغلظ لایبیح استعمال حصہ المیت فلم یکن الجنب اولی بخلاف ما اذا کان الماء مباحا فانہ حیث امکن بہ رفع الجنابۃ کان اولی ۱؎ اھ ای ان المشترک لایمکن لاحدھم الاستقلال بہ لمکان حصّۃ المیت فان سمحوا بہ امکن غسلہ والایمم وتیمموا فکان السماح اولی بخلاف المباح فان لکل ان یستقل بہ وقد امکن بہ رفع الجنابۃ فکان الجنب اولی۔
یعنی بطور استحباب جب یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملکیت کا حصّہ میت کو دے دیں تو جس میں ان کی ملکیت نہیں اس کیلئے بدرجہ اولٰی یہ حکم ہوگا علّامہ شامی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ''ہر ایک کو اپنا حصّہ میت کو اس وقت دے دینا چاہئے جب کہ ہر ایک کی یہ حالت ہے کہ اس کا اپنا حصہ اس کیلئے کفایت نہیں کرسکتا اور جنب وغیر جنب کوئی بھی ساراپانی اپنے تصرف میں نہیں لاسکتا اس لئے کہ اس میں میت کا حصّہ بھی شامل ہے اور حدیثِ جنابت کا زیادہ سخت ہونا اس کی اجازت نہیں دیتا کہ جنب میت کا حصّہ بھی استعمال کرے اس لئے جنب اولٰی نہ ہوا مگر آبِ مباح کی صورت اس کے برخلاف ہے کیونکہ جب اس سے جنابت دُور کی جاسکتی ہے تو جنب ہی اولٰی ہے'' اھ یعنی آب مشترک کو ان میں کوئی بھی پُورے طور سے اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا اس لئے کہ اس میں میت کا بھی حصّہ موجود ہے لیکن اگر یہ سب اپنا حصّہ میت کو دے دیں تو اس کا غسل ہوجائے گا ورنہ اسے بھی تیمم کرایا جائیگا اور یہ سب بھی تیمم ہی کرسکیں گے تو دے دینا اولٰی ہُوا آبِ مباح کا حکم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ ہر ایک اسے پُورے طور سے استعمال کرسکتا ہے اور اس سے رفعِ جنابت ممکن سے تو جنب کا استعمال کرنا اُولٰی ہوا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۶)
اقول: یحتاج(۱) الی تتمیم فان مجرد جواز استقلال کل بہ انما نفی ماذکر من داعی اولویۃ الصرف للمیت وھو لاینفی ان یکون لہ داع اٰخر فضلا(۲) عن ثبوت اولویۃ الجنب۔
اقول: ابھی یہ جواب ایک تتمہ کا محتاج ہے اس لئے کہ محض اس بات سے کہ ہر ایک کو آب مباح پُورے طور سے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ استعمال میت کے اولٰی ہونے کا جو سبب پہلے بیان ہوا وہ یہاں نہیں ہے مگر اتنے سے کسی دوسرے سبب اور داعی کی نفی ہوتی (ہوسکتا ہے کہ یہاں اُس کی اَولویت کا وہ سبب تو نہ ہو مگر کوئی اور سبب موجود ہو۔ م الف) پھر جنب کے میت سے بھی اولٰی ہونے کا ثبوت تو ابھی دُور کی بات ہے۔ (ت)
وانا اقول المباح انما یملک بالاستیلاء والمیت لیس من اھلہ فلاحق لہ فیہ بخلاف الباقین والجنب ارجحھم لمایأتی فکان اولی وسنذکرتمامہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی اماوجہ القول الاصح فقال ش الجنابۃ اغلظ من الحدث والمرأۃ لاتصلح اماما ۱؎ اھ
وانا اقول (اب تکمیلِ جواب کیلئے میں کہتا ہوں) مباح قبضہ کرنے سے ہی ملک میں آتا ہے۔ اور میت اس کا اہل نہیں، تو اس میں اس کا حق بھی نہیں۔ باقی (جنب، حائض، محدث)کا حال اس کے برخلاف ہے اور ان میں جنب کو ترجیح حاصل ہے تو وہی اولٰی ہے۔ وجہ ترجیح کا بیان آگے آرہا ہے اور اس کی تکمیل بھی ہم اِن شاء اللہ ابھی ذکر کریں گے۔ قولِ اصح کی وجہ بتاتے ہوئے علّامہ شامی نے یہ لکھا: ''اس لئے کہ جنابت، حدث سے زیادہ سخت ہے اور عورت قابلِ امامت نہیں'' اھ۔
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۶)
وفی ط اولٰی من حائض لامکان تیممھا بالتراب واقتدائھا بہ واقتداء المتیمم بالمتطھر افضل من عکسہ مع عدم تأتیہ ھنا ۲ اھ
اور حاشیہ سید طحطاوی میں یہ ہے کہ: ''جنب، حائض سے اولٰی ہے اس لئے کہ وہ تیمم کرکے اس کی اقتدا کرسکتی ہے۔ متیمم، غسل کرنے والے کی اقتدا کرے یہ برعکس کرنے سے افضل ہے اور برعکس صورت یہاں ہو بھی نہیں سکتی''۔ اھ (ت)
(۲؎ طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱/۱۳۳)
اقول: بل(۱) یتأتی بان یتیمم الجنب وتغتسل ھی ولایتوھم العکس بمعنی امامۃ المرأۃ ھذا وسکت ش وجہ تقدیم الجنب علی المیت وقال فقیہ النفس فی الخانیۃ لان غسلہ فریضۃ وغسل المیت سنۃ ۳؎ اھ
اقول: بلکہ ہوسکتی ہے اس طرح کہ جنب تیمم کرے اور حائض غسل کرے (تو غسل کرنے والی کاتیمم کرنے والے کی اقتدا کرنا پایا جائےگا اور یہ صورت ممکن وجائز ہے ۱۲ م الف) اور امامتِ عورت کے معنی میں عکس کا وہم کرنے کی گنجائش نہیں (اس لئے کہ حائض غسل کرے یاتیمم جنب بہرحال اس کی اقتدا نہیں کرسکتا خواہ یہ تیمم کرے یا غسل۔ کوئی صورت ایسی نہیں جس میں جنب وہ حائض کی امامت میں صرف افضل وغیر افضل کا فرق ہو ۱۲ م الف) یہ ذہن نشین رہے میت پر جنب کو مقدم کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اس سے علّامہ شامی نے سکوت اختیار کیا اور خانیہ میں امام فقیہ النفس نے یہ لکھا: ''اس لئے کہ جنب کا غسل فرض ہے اور میت کا غسل سنّت ہے''۔ اھ۔
(۳؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۲۷)
اس پر اشباہ میں فرمایا: ''مراد یہ ہے کہ غسلِ میت کی فرضیت سنّت سے ثابت ہے۔ اس کے برخلاف غسلِ جنب کی فرضیت قرآن میں مذکور ہے'' اھ۔ اشباہ کی اس عبارت پر سید حموی نے یہ تنقید کی: ''یہ تاویل اس وقت کامل ودرست ہوتی جب یہاں (غسلِ میت کے) مسنون ہونے کا کوئی قول نہ ہوتا۔ لیکن یہ قول ہوتے ہوئے تاویل مذکور تام نہیں'' اھ (ہوسکتا ہے کہ امام قاضیخان کا کلام غسل میت کی مسنونیت والے قول پر ہی مبنی ہو، ایسی صورت میں ان کے غسلِ میت کو سنّت کہنے کا یہ معنی بتانا کہ اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے درست نہ ہوگا ۱۲ م الف)