وفی مجمع البحار امانقلا من الرحل بمعنی المنزل اومن الرحل بمعنی الکور وھو للبعیر کالسرج للفرش ۵؎
مجمع البحار میں ہے: یاتو رحل بمعنی منزل منقول ہے یا رحل بمعنی کجاوہ سے منقول ہے اور یہ اونٹ کیلئے ہوتا ہے جیسے زین گھوڑے کیلئے اھ۔
(۵؎ مجمع بحار الانوار باب الراء مع الحاء مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲/۴۷۳)
ومثلہ فی الدر النثیرللامام جلال السیوطی واقتصر الامام الراغب فی مفرداتہ علی التفسیر الاوّل فقال الرجل مایوضع علی البعیر للرکوب ثم یعبربہ تارۃ عن البعیر وتارۃ عما یجلس علیہ فی المنزل ۱؎ اھ لانہ لیس فی الکتاب العزیز الا بھذا المعنی فافاد ایضا انہ موضوع لہ مستقلا فکذا الثانی وعلی ھذا کلام عامۃ ائمۃ اللغۃ۔
اس کے مثل امام جلال الدین سیوطی کی ''الدر النثیر'' میں ہے۔ اور امام راغب نے مفردات میں صرف پہلی تفسیر ذکر کی ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے: ''رَحل وہ ہے جو اُونٹ پر سواری کیلئے رکھا جاتا ہے پھر کبھی اونٹ کو بھی رَحل کہتے ہیں اور کبھی اسے بھی جس پر منزل میں بیٹھتے ہیں'' اھ۔ انہوں نے صرف پہلا معنی اس لئے ذکر کیا ہے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے اس سے یہ افادہ ہُوا کہ اس معنی کیلئے مستقلاً اس کی وضع ہُوئی ہے تو دوسرا معنی بھی ایسا ہی ہوگا۔ اور عامہ ائمہ لغت کا کلام یہی ہے۔ (ت)
(۱؎ المفردات للامام الراغب الاصفہانی الراء مع الحاء نور محمد کتب خانہ کراچی ص۱۹۰)
ثانیاً اگر مان بھی لیا جائے تو یہ تعمیم اور استغراق افراد کا موقع نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ مطلق رکھا جائے فافہم۔ علّامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ان کا قول ''وھو مماینسی عادۃ'' (اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں عادۃً آدمی بھول جاتا ہے) جملہ حالیہ ہے اور اس میں اس سے احتراز ہے جو آگے کمالو نسیہ فی عنقہ الخ کے تحت بیان کیا قولہ لااعادۃ علیہ (اس پر اعادہ نہیں) یعنی جب نماز سے فارغت کے بعد یادآئے ۔ اگر نماز ہی میں یاد آجائے تو بالاجماع نماز توڑ کر اعادہ کرے گا __سراج __اور نماز سے فراغت کے بعد یاد آنے کو مطلق ذکر کیا تاکہ وقت کے اندر یا وقت کے بعد کسی بھی وقت یادآئے دونوں کے شامل رہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اُس کے برخلاف جو منیہ میں وہم کیا اور یہ اس کو بھی شامل ہو جب منزل میں پانی رکھنے والا وہ خود ہو یا دوسرے نے اس کے علم میں رکھا ہو اس کے حکم سے یا اس کے حکم کے بغیر __ بخلاف امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے __اور اگر دوسرے نے اس کی لاعلمی میں رکھا ہو تو بالاتفاق اس پر اعادہ نہیں۔ حلیہ اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۳)
اقول : یوھم(۱) ان فی المنیۃ حکم الاعادۃ فی احد الفصلین ولیس کذلک انّما توھمھا فی تخصیص خلاف ابی یوسف بصورۃ التذکر فی الوقت حیث قال ان کان معہ ماء فی رحلہ فنسیہ وتیمّم وصلی ثم تذکر فی الوقت لم یعد عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللّٰہ تعالٰی وان تذکر بعد الوقت لم یعد فی قولھم ۲؎ جمیعا ،
اقول : عبارت بالا سے منیہ کے متعلق وہم پیدا ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک صورت میں اعادہ کا حکم بیان کیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں منیہ کا وہم یہ ہے کہ اس میں امام ابویوسف کا اختلاف صرف اندرونِ وقت یاد آنے والی صورت سے خاص کردیا ہے (جب کہ ان کا اختلاف اِس صورت میں بھی ہے اور اُس صورت میں بھی ہے جب پانی خود رکھا ہو یا اس کے علم واطلاع میں دوسرے نے رکھا ہو اور یہ بھُول گیا ہو ۱۲ م الف) منیہ کی عبارت یہ ہے: ''اگر اس کے ساتھ خیمہ میں پانی ہو جسے یہ بھُول گیا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے وقت کے اندر یاد آگیا تو امام ابوحنیفہ وامام محمد رحمہما اللہ تعالٰی علیہما کے نزدیک اعادہ نہیں اور اگر وقت گزرنے کے بعد یاد آیا تو تینوں حضراتِ ائمہ کے نزدیک اعادہ نہیں'' اھ۔ ۲؎ منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۹
قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی قولہ (فی عنقہ) ای عنق نفسہ (او مقدمہ) ای مقدم رحلہ واحترزبہ عما لونسیہ فی مؤخرہ راکبا اومقدمہ سائقا فانہ علی الاختلاف وکذا اذا کان قائدا مطلقا بحر ۳؎۔
علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: قولہ ''فی عنقہ'' یعنی خود اپنی گردن میں (اومقدمہ) یعنی کجاوے کے اگلے حصہ میں اس لفظ کے ذریعہ اس صورت سے احتراز مقصود ہے جب وہ سوار ہونے کی حالت میں کجاوے کے پیچھے رکھا ہُوا پانی یا جانور ہانکنے کی حالت میں کجاوے کے آگے رکھا ہوا پانی بھول گیا ہو کیونکہ اس میں اختلاف ہے۔ اسی طرح جب جانور کی نکیل پکڑ کر آگے لیے جارہا ہو تو اس میں مطلقاً (پانی کجاوے کے آگے رکھا ہو یا پیچھے دونوں ہی صورتوں میں) اختلاف ہے۔ بحر۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۳)
(۱۵۹) مسافررات کو کنویں یا جھیل کے پاس اُترا چاہ ونہر جھاڑی کے اندر ہیں یا کُنواں ڈھکا ہوا ہے اگرچہ خاص اُسی پر اس نے خیمہ تانا ہو غرض نہ اُسے جنگل میں پانی ہونے کا علم ہے نہ پانی ظاہر نہ وہاں کوئی واقف کار جس سے پُوچھ سکے اس حالت میں اُس نے تیمم سے نماز پڑھ لی تو یہ بھی صورت عجز ہے اقول یہاں بھی اعادہ نہ کرے گا اگرچہ سلام کے بعد ہی پانی وہاں ہونا معلوم ہوجائے کہ یہاں صورت سابقہ سے بھی عذر واضح تر ہے وہاں علم تھا نسیان سے جاتا رہا اور یہاں سرے سے علم نہیں
حلیہ میں ہے:ظاھر ھذا وماقدمناہ عن شرح الجامع الصغیر لقاضی خان ومحیط الامام رضی الدین ان ھذا الحکم علی الوفاق وقد افصح بہ فی التجنیس حیث قال صلی بالتیمم وفی جنبہ بئر ماء لم یعلم بھا جاز علی قولھم ومافی جامع الفتاوٰی ضرب الخیمۃ علی بئر مندرس وتیمم وصلی ثم علم فالاحسن اعادتھا انتھی لایخالفہ وھو ظاھر ثم فی المحیط قیدہ بما اذالم یکن بحضرتہ من یسألہ عن الماء معللا بان الجھل یعجزہ عن استعمال الماء کالبعد ولم یکن مقتصرا فی جھلۃ قال وان کان بحضرتہ من یسألہ فلم یسألہ حتی تیمم وصلی ثم سألہ فاخبرہ بماء قریب لم تجز صلاتہ لانہ قادر علی استعمالہ بواسطۃ السؤال فاذالم یسألہ جاء التقصیر من قبلہ کالذی نزل بالعمران ولم یطلب الماء لم یجز تیممہ انتھی وسنذکر عن البدائع مایوافقہ فی ھذا الشرط ۱؎ اھ
یہ عبارت اور جو ہم نے امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر اور امام رضی الدین کی محیط کے حوالہ سے پہلے ذکر کی دونوں کا ظاہر یہی ہے کہ یہ حکم بالاتفاق ہے۔ اور تجنیس میں اس کی صراحت بھی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ''اس کی بغل میں پانی کا کنواں ہے جس کا اسے علم نہیں اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی تو ان سب کے قول پر جائز ہے''۔ اور جامع الفتاوٰی کی درج ذیل عبارت اس کے مخالف نہیں جیسا کہ واضح ہے: ''کسی بے نشان کنویں پر خیمہ لگایا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر کنویں کا علم ہُوا تو نماز کا اعادہ بہتر ہے انتہی''۔ پھر محیط میں اس مسئلہ کو اس شرط سے مقید کیا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا شخص نہ ہو جس سے پانی کے متعلق دریافت کرسکے۔ وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ لاعلمی پانی کے استعمال سے عجز کا باعث ہے جیسے پانی کی دُوری اور اس لاعلمی میں اس کی کوئی تقصیر اور کوتاہی نہیں۔ آگے فرمایا ہے: اگر اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو جس سے یہ دریافت کرسکتا تھا مگر دریافت نہ کیا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر پوچھا تو اس نے قریب ہی پانی ہونے کی خبر دی تو ایسی صورت میں نماز نہ ہوئی اس لئے کہ وہ دریافت کرکے پانی کے استعمال پر قادر تھا۔ جب دریافت نہ کیا تو کوتاہی اس کی جانب سے ہُوئی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی آبادی میں اُترا اور پانی تلاش نہ کیا تو اس کاتیمم جائز نہیں اھ۔ اور عنقریب ہم بدائع کی عبارت ذکر کریں گے جو اس شرط میں محیط کے موافق ہے''۔ اھ (یہاں تک کی عبارتیں حلیہ سے منقول ہیں) (ت)
(۱حلیۃالمحلی)
اقول: وقول المحیط ثم سألہ غیر قید بل کذلک الحکم لواخبرہ بدء کمالایخفی وکذلک قولہ اخبرہ خرج وفاقا فکذلک الحکم ان علم بعد بنفسہ فان المناط تفریطہ فی السؤال وقد حصل ثم ذکر فی الحلیۃ عن المجتبٰی ماظاھرہ ان ابایوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی یخالف فی ھذہ ایضا کمسألۃ النسیان وعن الخانیۃ ماظاھرہ مثلہ مع افادۃ ان عن ابی یوسف فی کلتا مسألۃ النسیان والجھل روایتین وعن المبتغٰی ماظاھرہ خلافہ علی روایۃ ھھنا اذا کان علی شاطئ النھرلا البئر حیث قال ولوصلی بہ وبجنبہ بئر ماء لم یعلم بھا جازت صلاتہ وان کان ذلک علی شاطئ النھر عن ابی یوسف فیہ روایتان ۲؎ اھ
اقول: محیط میں جو فرمایا ہے کہ ''پھر اس سے پُوچھا'' یہ قید نہیں بلکہ اگر اس نے نہ پُوچھا اور اس نے از خود بتادیا تو بھی یہی حکم ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ اسی طرح ان کا یہ قول ''اس نے قریب میں پانی ہونے کی خبر دی'' اتفاقی طور پر ہے اس لئے کہ اگر اس نے خبر نہ دی بلکہ بعد میں اس نے ازخود جان لیا تو بھی یہی حکم ہے کیونکہ تیمم جائز نہ ہونے کا مدار اس پر ہے کہ اس نے دریافت کرنے میں کوتاہی کی اور یہ امر حاصل ہے (اس طرح کہ بتانے والے کے ہوتے ہُوئے اس نے دریافت نہ کیا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی) پھر حلیہ میں مجتبٰی کے حوالہ سے ایک کلام ذکر کیا ہے جس کا ظاہر یہ ہے کہ مسئلہ نسیان کی طرح اس مسئلہ میں بھی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کا اختلاف ہے __اور خانیہ کی عبارت بھی ذکر کی ہے جس کا ظاہر اسی کے مثل ہے ساتھ ہی اس سے یہ افادہ بھی ہوتا ہے کہ نسیان اور لاعلمی دونوں ہی مسئلوں میں امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے دو۲ روایتیں ہیں __اور مبتغٰی کے حوالہ سے وہ ذکر کیا ہے جس کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں ایک روایت کی بنیاد پر ان کا اختلاف اس صورت میں ہے جب وہ کسی دریا کے کنارے ہو۔ کُنویں کے پاس ہونے کی صورت میں ان کا اختلاف نہیں۔ عبارت یہ ہے: ''اگر اس کے پاس پانی کا کنواں ہے جس کا اُسے علم نہیں اور تیمّم سے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ہوگئی، اور اگر دریا کے کنارے ایسا ہوا تو اس بارے میں امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں اھ''
۲حلیۃالمحلی)
ثم وجّہ ھذا الخلف بان من حکی الوفاق اختار الروایۃ الموافقۃ اولم یطلع علی الروایۃ المخالفۃ وبالعکس ثم قال وفی الخلاصۃ لوضرب الفسطاط علی رأس بئر قدغطی رأسھا ولم یعلم بذلک فتیمّم وصلی ثم علم بالماء امرتہ بالاعادۃ ۱؎ انتھی فافاد ظاھرا ضد مافی الکتاب من غیر حکایۃ خلاف ۲؎ اھ
پھر اس اختلاف کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ جس نے اتفاق کی حکایت کی ہے اس نے موافقت والی روایت اختیار کی یامخالفت والی روایت پر اسے اطلاع نہ ہوئی اسی طرح برعکس (یعنی حکایت اختلاف والے نے صرف روایتِ مخالفت اختیار کی یا روایتِ موافقت پر اسے اطلاع نہ ہُوئی ۱۲ م الف) پھر فرمایا: خلاصہ میں ہے: ''اگر کسی ایسے کنویں کے اوپر خیمہ لگایا جس کا مُنہ بند ہے اور اسے اس کا پتہ نہ چلا،تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے پانی کا علم ہُوا تو میں اسے اعادہ کا حکم دُوں گا انتہی تو صاحبِ خلاصہ نے حکایتِ اختلاف کے بغیر بظاہر اس کے برخلاف افادہ فرمایا جو کتاب میں ہے۔ (حلیہ کی عبارت ختم ہوئی) اھ (ت)
(۱؎ حلیہ بحوالہ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۳۲)
(۲؎ حلیہ)
اقول: یمکن(۱) ان یرید امرتہ ندبا فیکون مثل ما فی جامع الفتاوٰی ولایخالف الجم الغفیر ثم راجعت الخلاصۃ فوجدت تمامہ فیھا وھو مروی عن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی ۳؎ اھ
اقول: ہوسکتا ہے ان کی مراد یہ ہو کہ ''استحباباً میں اسے یہ حکم دُوں گا'' اس طرح یہ کلام بھی جامع الفتاوٰی کے مثل ہوگا اور جم غفیر کے مخالف نہ ہوگا پھر میں نے ''خلاصہ'' کو دیکھا تو اس میں پُوری بات ملی وہ یہ کہ ''یہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے'' اھ
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۳۲)
فبِتَرک ھذا نشأظن المخالفۃ بینھا وبین مافی الکتاب ولعلہ ساقط من نسختہ وقد(۱) زلت بہ قدم قلم العلامۃ المحقق البحر فمشی علیہ فی البحر موھما انہ قول الکل اوالمختار فی المذھب ولیس کذلک کما علمت وقدقال ایضا فی الھندیۃ عن المحیط اذاضرب خباء ہ علی رأس بئر غطی رأسھا وفیھا ماء وھو لایعلم اوکان علی شط النھر وھو لایعلم فتیمم وصلی بہ جاز عندھما خلافا لابی یوسف رحمھم اللّٰہ تعالٰی ۱؎ اھ فقد انکشف اللبس وللّٰہ الحمد وبہ تعالی العصمۃ۔
اتنا چھوڑ دینے سے یہ گمان پیدا ہوا کہ خلاصہ اور کتاب کے بیان میں باہم اختلاف ہے۔ ہوسکتا ہے صاحبِ حلیہ کے نسخہ میں اتنی عبارت ساقط ہو۔ اسی کی وجہ سے علّامہ محقق بحر کا پائے قلم لغزش میں پڑگیا تو وہ البحرالرائق میں اسی حکم پر چلے گئے اور اس طرح بیان کیا جس سے وہم ہوتا ہے کہ یہ سب کا قول ہے یا یہی مذہب میں مختار ہے حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ اور ہندیہ میں بھی محیط کے حوالہ سے لکھا ہے: ''جب ایسے کنویں پر خیمہ لگایا جس کا منہ بند ہے اور کنویں میں پانی ہے۔ اور یہ جانتا نہیں یا وہ دریا کے کنارے ہے اور اسے پتہ نہیں توتیمم کرکے نماز پڑھ لی، یہ طرفین (امام اعظم وامام محمد) کے نزدیک جائز ہے بخلاف امام ابویوسف کے۔ رحمہم اللہ تعالٰی اھ۔ اس تصریح سے التباس دُور ہوگیا۔ اور ساری خُوبیاں اللہ ہی کیلئے ہیں اور حفاظت اسی سے ملتی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۳۱)
(۱۶۰) سفر میں باپ بیٹے ہمراہ ہیں پانی دونوں کی ملک مشترک یا تنہا بیٹے کی ملک اور ایک ہی کیلئے کافی ہے اور باپ اس سے طہارت کرنا چاہتا ہے بیٹے کو جائز نہیں کہ اُس سے مزاحمت کرے کہ باپ وقتِ حاجت ملکِ اولاد کا مالک بن سکتا ہے لہذا بیٹے پر لازم کہ تیمم کرے فتاوی امام قاضیخان میں ہے:
لوکان الماء بین الاب والابن فالاب اولی بہ لان لہ حق تملک مال الابن ۲؎۔
اگر پانی باپ اور بیٹے کے درمیان مشترک ہو تو باپ زیادہ حقدار ہے کیوں کہ اسے مالِ فرزند کا مالک بننے کا حق حاصل ہے۔ (ت)
اسی طرح اُس سے خزانۃ المفتین وہندیہ واشباہ فن ثالث قول فی الدین میں ہے۔
اقول: ولایختص بالشرکۃ بل لوکان کلہ ملک ولدہ فالحکم کذلک اذا ارادہ الاب بدلیل الدلیل وزدت ان یرید الاب التطھیر بہ لان لہ ان یترکہ لابنہ ویتیمم فح لاعجز بالولد بل لوکان ملک الابن فما لم یظھر الاب اِرَادتَہ لایثبت عجز الابن حتی(۱) لوکان متیمما قبلہ انقض فان اخذہ الابُ اعاد تیمّمہ۔
اقول: یہ حکم ملک میں شرکت کی صورت سے ہی خاص نہیں۔ اگر سارا پانی بیٹے کی مِلک ہو تو بھی حکم ہے جب کہ باپ طہارت کا قصد کرلے باپ کے قصد طہارت کا اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ اسے یہ بھی اختیار ہے کہ پانی بیٹے کیلئے چھوڑ دے اور خودتیمم کرلے ایسی صورت میں بیٹا عاجز نہ ہوگا۔ بلکہ اگر پانی بیٹے کی ملک ہے تو جب تک باپ اپنے قصد طہارت کا اظہار نہ کرے بیٹے کا عجز ثابت نہ ہوگا یہاں تک کہ پانی ملنے سے پہلے بیٹا اگرتیمم سے تھا تو بعدِ ملک اس کاتیمم ٹوٹ گیا اب اگر وہ پانی لیتا ہے تو بیٹے کو دوبارہ تیمم کرنا ہوگا۔ (ت)