Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
118 - 166
 (۱۵۷) پانی ہے مگر طہارت مطلوبہ کیلئے کافی نہیں تیمم کرے مثلاً نہانا ہے اور صرف وضو کے قابل پانی ہے تو فقط تیمم کرے کہ وضو کرنے یعنی اعضائے وضو دھونے سے غُسل نہ اُترے گا اورتیمم سارے بدن کو پاک کردیگا تو وضو کرنا اس پانی کا ضائع کرنا ہے یہاں کفایت سے مراد قدر فرض کو کافی ہے مثلاً اتنا پانی ہے کہ غسل میں ایک بار کُلّی ایک بار ناک میں پانی ڈالنے ایک بار سارے بدن پر بہانے یا وضو میں ایک ایک بار کیلئے کافی ہے تیمم نہیں ہوسکتا اسی واسطے ہم نے فرض طہارت کیلئے کافی پانی کہا۔ امام ملک العلماء فرماتے ہیں:
الجنب اذاوجد من الماء قدر مایتوضوء بہ لاغیر اجزأہ التیمم عندنا لان المأمور بہ الغسل المبیح للصلاۃ والذی لایبیح وجودہ عدم کمالوکان الماء نجسا ولان الغسل اذا لم یفد الجواز کان الاشتغال بہ سفھا مع(۱) ان فیہ تضییع الماء وانہ حرام ۱؎۔
جنب کو جب اتنا ہی پانی ملے جس سے صرف وضو کرسکتا ہو تو ہمارے نزدیک اس کیلئے تیمم کرلینا کافی ہے اس لئے کہ اسے حکم تو اس غسل کا ہے جس سے نماز ہوجائے اور جس پانی کا وجود نماز کا جواز نہیں لاسکتا وہ عدم کے درجہ میں ہے جیسے اس صورت میں جب کہ پانی ہو مگر نجس ہو، دُوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب غسل سے جواز نماز کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو اس میں مشغولیت بیوقوفی ہے ساتھ ہی پانی کی بربادی بھی جو حرام ہے''۔ اھ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی شرائط رکن التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۰)
درمختار میں ہے:ناقضہ قدرۃ ماء کاف لطھرہ ولومرۃ مرۃ ۲؎۔
تیمم توڑنے والی چیز ایسے پانی پر قدرت ہے جو طہارت کیلئے کفایت کرسکے اگرچہ ایک ایک بار۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار مع الشامی     باب التیمم        مطبع مصطفی البابی مصر     ۱/۱۸۶ تا ۱۸۷)
ولہذا اگر پانی نہ پانے پرتیمم کیا تھا اور اب پانی اتنا ملا کہ ایک ایک بار مُنہ ہاتھ اور ایک پاؤں دھویا اور پانی ختم ہوگیاتیمم نہ ٹوٹا کہ یہ پانی وضو کو کافی نہ تھا اور اگر اس نے دو دو بار اعضا دھوئے اور وضو پورا ہونے سے پہلے پانی ختم ہوگیا لیکن اگر ایک ایک بار دھونا تو کافی ہوتا توتیمم ٹوٹ گیا۔ خلاصہ وبحر وشامی میں ہے:
لوغسل بہ کل عضو مرتین اوثلاثا فنقص عن احدی رجلیہ انتقض تیممہ ھو المختار عـہ لانہ لواقتصر علی المرۃ کفاہ ۱؎۔
اگر اس پانی سے ہر عضو دو یا تین بار دھویا کہ ایک پاؤں دھونے کیلئے پانی گھٹ گیا تو اس کاتیمم ٹوٹ گیا۔ یہی مختار ہے۔ اس لئے کہ اگر ایک بار دھونے پر اکتفا کرتا تو پانی کفایت کرجاتا۔ (ت)
عــہ علماء نے حکم لگایا کہ ایک ایک بار کو پانی کافی تھا لہذاتیمم ٹوٹ گیا اور فقیر نے بطور شرط کہا کہ اگر ایک ایک بار دھونے کو کافی ہوتا توتیمم ٹوٹ گیا اقول اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء نے دو دو بار دھونے اور ایک پاؤں باقی رہ جانے کی صورت ذکر فرمائی اس صورت میں یقیناً اگر ایک ایک بار دھوتا پانی کافی ہوتا بلکہ بچ رہتا، اور فقیر نے استیعاب صور کیلئے یہ مطلق صورت رکھی کہ وضو تمام ہونے سے پہلے ختم ہوگیا، اس میں وہ صورت بھی نکلے گی کہ ایک ایک بار دھونے کو بھی پانی کفایت نہ کرتا مثلاً دوبار منہ دھویا اور دوبار داہنا ہاتھ اور پانی نہ رہا تو یہ پانی ایک ایک بار میں بھی کفایت نہ کرتا کہ ایک ہاتھ کا تو دوبار دونوں ہاتھوں کو کافی ہوجاتا اور منہ کا ایک بار دونوں پاؤں کو کفایت نہ کرتا لہذا اس تقیّد کی حاجت ہوئی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۷)
 (۱۵۸) جو آبادی سے دُور ہے مسافر خواہ غیر مسافر مثل شکاری وغیرہ اُس نے پانی سے میل دو میل فاصلہ پر خیمہ لگایا اور پانی اُس کے خیمہ کے دوسرے حصّے میں جس میں یہ خود نہیں کسی نے رکھا یا اس نے رکھوایا یا خود اسی نے رکھا تھا یا یہ مثلاً اُونٹ پر سوار ہے اگرچہ کسی کام ہی کیلئے شہر سے میل دو میل دُور ہوگیا ہو اور پانی کی پکھال اپنی ہی لٹکائی ہوئی دُم کی طرف ہے یا یہ اُونٹ کو پیچھے سے ہانک رہا ہے اور پکھال آگے کی جانب ہے یا نکیل پکڑے آگے چل رہا ہے اب چاہے پانی اونٹ کی گردن کی طرف ہو خواہ دُم کی جانب۔ یونہی اگر یہ گاڑی میں سوار ہے اور پانی ماچی میں ہے یا گاڑی ہانک رہا ہے اور پانی گاڑی کے کھٹولے میں ہے غرض پانی ایسی جگہ نہیں کہ اس کے پیشِ نظر ہو یا جس کا بھُولنا عادت سے بعید ہو ان سب صورتوں میں جب نماز کا وقت آیا اسے پانی یاد نہ رہا یہ خیال کیا کہ میں پانی سے میل بھر یا زیادہ دُور ہوں تیمم کیا اور نماز پڑھ لی نماز ہوگئی۔ یہ صورت بھی شریعت مطہرہ کی رحمت نے پانی سے عجز کی رکھی ہے یہاں تک کہ اگر سلام پھیرتے ہی یاد آیا کہ پانی تو یہاں رکھا ہوا ہے یا میں نے خود ہی تو رکھا تھا جب بھی نماز پھیرنے کی حاجت نہیں، ہاں اگر نماز میں یاد آئے تو لازم ہے کہ نیت توڑے اور وضو کرکے نماز پڑھے یوں ہی پانی اگر اس کے پیشِ نظر یا ایسی جگہ ہے جہاں کا رکھا ہوا آدمی عادۃً نہیں بھُولتا مثلاً اپنی پیٹھ پر مشک یا سواری کی حالت میں آگے رکھا ہُوا پانی یا پیچھے سے ہانکنے کی صورت میں اونٹ کے پیچھے لٹکایا ہُوا تو بیشک ایسی بھُول معتبر نہیں نماز وضو کرکے پھر پڑھنی لازم  درمختار میں ہے:
 (صلی) من لیس فی العمران بالتیمم (ونسی الماء فی رحلہ) وھو مماینسی عادۃ (لااعادۃ علیہ) ولو(۱) ظن فناء الماء اعاد اتفاقا کمالونسیہ فی عنقہ اوظھرہ اوفی مقدمہ راکبا اومؤخرہ سائقا ۱؎۔
ایسا شخص جو آبادی میں نہیں اس نے تیمم سے نماز پڑھ لی اور پانی اپنے خیمہ میں بھُول گیا اور یہ ایسی جگہ ہے کہ عادۃً آدمی بھُول جاتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں اور اگر یہ گمان تھا کہ پانی ختم ہوگیا ہے تو بالاتفاق نماز کا اعادہ ہے جیسے اس صورت میں کہ پانی اس کی گردن یا پشت پر (سے لٹکی ہوئی مشک میں) ہو یا سوار ہونے کی حالت میں اس کے آگے حصّے میں ہو یا ہانکتے وقت سواری کے پچھلے حصے میں ہو اور بھول جائے تو اعادہ ہے۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۲ تا ۱۸۳)
ردالمحتار میں ہے:قولہ من لیس فی العمران ای سواء کان مسافرا اومقیما منح ونوح افندی عن شرح الجامع لفخر الاسلام اما من فی العمران فتجب علیہ الاعادۃ لان العمران یغلب فیہ وجود الماء فکان علیہ طلبہ فیہ وکذا فیما قرب منہ کماقدمناہ والظاھر ان الاخبیۃ بمنزلۃ العمران لان اقامۃ الاعراب فیھا لاتتأتی بدون الماء فوجودہ غالب فیھا ایضا وعلیہ فیشکل قولھم سواء کان مسافرا اومقیما فلیتأمل ۱؎ اھ۔
ان کا قول ''جو آبادی میں نہیں'' یعنی خواہ مسافر ہو یا مقیم منح ونوح آفندی بحوالہ شرح جامع از فخرالاسلام  _ لیکن جو آبادی میں ہے تو اس پر اعادہ واجب ہے اس لئے کہ آبادی میں اکثر پانی موجود رہتا ہے تو اسے تلاش کرلینا لازم تھا اسی طرح آبادی سے قریب مقام کا بھی حکم ہے جیسا کہ اسے ہم نے پہلے بیان کیا اور ظاہر یہ ہے کہ خیمے بھی آبادی ہی کے درجہ میں ہیں اس لئے کہ ان میں اعرابی بغیر پانی کے نہیں رہتے تو ان خیموں میں بھی پانی اکثر موجود ہی رہتا ہے۔ اس کے پیشِ نظر فقہا کی اس عبارت میں ''کہ خواہ مسافر ہو یا مقیم'' اشکال ہے تو اسی میں تأمل کرنا چاہئے اھ۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۳)
اقول:  لیس(۱) من شرط المقیم القرب من العمران اولیس من خرج للاحتطاب اوالاحتشاش اوالاصطیادو بعد عن المصر میلا فھو مقیم مباح لہ التیمم کمانص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وقد تقدم ولم یریدوا بہ حضریا فی مصرہ اوقرویا فی قریتہ اوکردیا فی خبائہ حتی یشکل علیہ ثم قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی الرحل للبعیر کالسرج للدابۃ ویقال لمنزل الانسان ومأواہ رحل ایضا ومنہ نسی الماء فی رحلہ مغرب، لکن قولھم لوکان الماء فی مؤخرۃ الرحل یفید ان المرادالاول بحر،اقول الظاہر ان مراد ما یوضع فیہ الماء عادۃ لانہ مفرد مضاف فیعم کل رحل سواء کان منزلا اورحل بعیر وتخصیصہ باحدھما مما لابرھان علیہ نھر ۲؎ اھ۔
اقول :مقیم ہونے کیلئے شرط نہیں کہ آبادی سے قریب ہی ہو جو لکڑی کاٹنے، یا گھاس لینے، یا شکار کرنے کیلئے نکلا، اور شہر سے ایک میل دُور ہوگیا وہ مقیم ہی ہے اور اس کیلئے تیمم جائز ہے جیسا کہ اس پر خانیہ وغیرہ میں تصریح موجود ہے اور عبارت پہلے گزر چکی __ مقیم سے خاص اپنے شہر میں موجود شہری یا اپنے گاؤں میں موجود دیہی یا اپنے خیمہ میں موجود کرد'' مراد نہیں کہ اس پر اشکال ہو۔ پھر علّامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: رَحل (کجاورہ) اُونٹ کیلئے ہوتا ہے جیسے سَرج (زین) سواری کے گھوڑے وغیرہ کیلئے اور آدمی کی منزل اور ٹھکانے کو بھی رَحل کہا جاتا ہے اسی سے ہے ''نسی الماء فی رحلہ'' (اپنی منزل میں پانی بھُول گیا__ مغرب__ لیکن ان کی یہ عبارت ''اگر پانی رَحل کے پچھلے حصّے میں ہو'' بتاتی ہے کہ رَحل سے مراد پہلا معنی (اُونٹ کا کجاوہ) ہے __بحر __اور میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد وہ ہے جس میں عادۃً پانی رکھا جاتا ہو اس لئے کہ مفردمضاف ہے تو ہر ''رَحل'' کو عام ہوگا خواہ منزل ہو یا اونٹ کا کجاوہ۔ اور کسی ایک سے خاص کرنے پر کوئی دلیل نہیں __نہر۔ اھ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۳)
اقول : اولا(۱) لیس الرحل(۲) مشترکا معنویا بینھما لیعم بل مشترک لفظی ولذا فسروہ بالتفسیرین لابتفسیر یشملھما کماسمعت من المغرب وقال فی المصباح المنیر الرحل مرکب للبعیر ورحل الشخص مأواہ فی الحضر ۱؎ اھ
اقول : اوّلا لفظ ''رَحل'' مذکورہ دونوں معنوں میں مشترک معنوی نہیں کہ دونوں کو عام ہو بلکہ مشترک لفظی ہے اس لئے اہلِ لغت نے اس کی دونوں تفسیریں کی ہیں کوئی ایک ایسی تفسیر نہیں کی ہے جو دونوں کو شامل ہو۔ جیسا کہ مغرب کے حوالہ سے سنا المصباح المنیر میں ہے: ''رَحل: اُونٹ پر سوار ہونے کی جگہ۔ رحل الشخص: حضر میں آدمی کا ٹھکانا اھ''۔
 (۱؎ المصباح المنیر    لفظ الرحل        مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۲۳۸)
وفی القاموس الرحل مرکب للبعیر کالراحول ومسکنک ۲؎ الخ وفصلہ بقولہ کالراحول یؤکدہ فان مسکن الانسان لایقال لہ راحول وکذلک فی قول المغرب لفظۃ ایضا ومثلہ فی مختار الصحاح الرحل مسکن الرجل ومایستصحبہ من الاثاث والرحل ایضا رحل البعیر ۳؎ اھ
قاموس میں ہے: رَحل: اونٹ پر سواری کی جگہ، جیسے راحول اور بمعنی مسکن بھی ہے''۔ پہلے معنی کے ساتھ ''جیسے راحول'' کا اضافہ اس بات کی تائید کرتا ہے (کہ لفظ رحل کے الگ الگ یہ دونوں معنی ہیں جن میں یہ مشترک لفظی ہے) اس لئے کہ انسان کے مسکن کو ''راحول'' نہیں کہا جاتا۔ اور اسی طرح مغرب میں ایضاً (بھی) کے لفظ سے بھی تائید ہوتی ہے۔ اسی کے مثل مختار الصحاح میں ہے کہ: ''رَحل: آدمی کا مسکن، اور وہ ساز وسامان جو ساتھ لئے ہو اور رَحل اُونٹ کے کجاوے کو بھی کہتے ہیں''۔ اھ
 (۲؎ القاموس المحیط    باب اللام فصل الراء    مطبع مصطفی البابی مصر            ۳/۳۹۴)

(۳؎ مختار الصحاح    باب الراء       مطبع مصطفی البابی مصر           ص۶۵۸)
وفی النھایۃ حدیث حولت رحلی البارحۃ حیث رکبھا من جھۃ ظھرھا کنی عنہ بتحویل رحلہ اما ان یرید بہ المنزل واما ان یرید الرحل الذی ترکب علیہ الابل وھو الکور ۴؎ اھ،
نہایہ میں ہے: ''حدیث: حوّلت رَحلی البارحۃ'' گزشتہ رات میں اپنا رَحل تبدیل کردیا جب اس پر پُشت کی طرف سے سوار ہوئے۔ اس سے رَحل بدلنے کا کنایہ ہے یا تو اس سے منزل مراد ہو یا کجاوہ جس پر اُونٹوں پر سوار ہوتے ہیں اھ۔
 (۴؎ النہایۃ لابن اثیر    لفظ رحل        مکتبہ اسلامیہ بیروت        ۲/۲۰۹)
Flag Counter