اما قول البحر ان التیمم مسح فلا یکون بدلا عن مسح والراس ممسوح۔
لیکن صاحبِ بحر کا یہ قول کہ ''تیمم مسح ہے اس لئے وہ کسی مسح کا بدل نہ ہوگا اور سر پر مسح ہی ہوتا ہے''۔ تو اس پر کلام ہے۔
فاقول اوّلاً: (۱) لایتمشی فی الغسل فان الرأس فیہ مغسول وثانیا ھو(۲) عجیب من مثلہ فانہ لم تأمر الروایۃ بالتیمّم بدلا عن مسح الرأس بل بدلاعن الوضوء والغسل عند العجز عن اکمالھما ولاشک ان التیمّم بدل عنھا مع تحقق المسح فی الوضوء فلو لم تصح البدلیۃ بھذا الوجہ وجب ان لایجوز التیمم للمحدث فظھر ان ما فی غریب الروایۃ غیر غریب نعم الاشھر ماذکرہ الجلابی وبہ جزم الدر فی غیر موضع ففی اٰخر التیمم ما تقدم وقال فی اٰخر الوضوء قبیل سننہ مانصہ فی اعضائہ (۱) شقاق غسلہ ان قدر والا مسحہ والا ترکہ ولوبیدہ ولایقدر علی الماء تیمم ۱؎ اھ مسألۃ شقاق الید تقدمت اٰنفا مع قیودھا۔
فاقول: (پس میں کہتا ہوں) اوّلاً یہ بات غُسل میں نہیں چل سکتی کیوں کہ اس میں سر دھویا جاتا ہے۔ ثانیاً ان جیسے کے قلم سے ایسی عبارت حیرت خیز ہے اس لئے کہ روایت مذکورہ میں مسحِ سر کے بد لے تیمم کا حکم نہیں بلکہ وضو وغسل کی تکمیل سے عجز کے وقت ان دونوں کے بدلے تیمم کا حکم ہے اور بلاشبہ تیمم ان دونوں کا بدل ہے جب کہ وضو میں مسح بھی پایا جاتا ہے تو اگر اس سبب کی بنیاد پر بدلیت درست نہ ہوتی تو لازم تھا کہ محدث کیلئے تیمم کا جواز ہی نہ ہو۔ ظاہر یہ ہوا کہ غریب الروایۃ میں جو مذکور ہے وہ غریب نہیں، ہاں زیادہ مشہور وہی ہے جو جلابی نے ذکر کیا اورا سی پر دُرمختار میں متعدد جگہ جزم کیا اُس کی آخرتیمم کی عبارت گزر چکی اور آخر وضو میں سُنتوں کے بیان سے ذرا پہلے یہ عبارت ہے: ''اعضا میں پھٹن ہے تو اگر قدرت ہو دھوئے ورنہ مسح کرے یہ بھی نہ ہوسکے تو چھوڑ دے اور اگر ہاتھ میں ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو توتیمم کرے''۔ اھ ہاتھ میں پھٹن کا مسئلہ مع قیدوں کے کچھ پہلے گزرچکا۔
(۱؎ الدرالمختار مع الشامی باب الوضوء قبل سننہٖ مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۷۵)
وقال فی اٰخر مسح الخفین الحاصل لزوم غسل المحل ولوبماء جارفان ضرَّ مَسَحَہ فان ضرَّ مَسَحَھا فان ضرَّ سقط اصلا ۲؎ اھ
اور مسح خفین کے آخر میں ان کی یہ عبارت ہے: ''حاصل یہ ہے کہ محلِ طہارت کو دھونا لازم ہے اگرچہ آبِ رواں سے ہو اگر اس سے ضرر ہوتا ہو تو اس عضو پر مسح کرے اگر اس میں ضرر ہو تو پٹّی پر مسح کرے اگر اس سے بھی ضرر ہو تو بالکل ساقط ہے''۔ اھ
(۲؎ الدرالمختار مع الشامی آخر مسح الخفین مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۲۰۵)
اقول: بل(۲) ان ضرَّ مَسَحَہ فان ضرَّ غَسَلَھا فان ضرَّمَسَحَھا ثم قال (انکسر ظفرہ فجعل علیہ دواء اووضعہ علی شقوق رجلہ اجری الماء علیہ) ۳؎
اقول: بلکہ اگر عضو پر مسح سے ضرر ہو تو پٹّی پر پانی بہائے اور دھوئے اگر اس میں ضرر ہو تو پٹی پر مسح کرے۔ پھر لکھتے ہیں: ''ناخن ٹُوٹ گیا اس پر دوا ڈالی یا پاؤں کے شگافوں پر دوا رکھی تو اس پر پانی بہائے
(۳؎ الدرالمختار مع الشامی آخر مسح الخفین مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۲۰۳)
ان قدر والامسحہ والا ترکہ وفی التبیین والفتح والبحر والھندیۃ وغیرھا من الاسفار الغرلو انکسر(۱)ظفرہ فجعل علیہ دواء اوعلکا اوادخلہ جلدۃ مرارۃ اومرھما فان کان یضرہ نزعہ مسح علیہ وان ضرہ المسح ترکہ ۱؎ اھ۔
اگر بہاسکے ورنہ مسح کرے ورنہ یہ بھی ترک کردے''۔ تبیین الحقائق، فتح القدیر، البحرالرائق، ہندیہ وغیرہ میں ہے: ''اگر ناخن ٹوٹ گیا اس پر دوا یا گوند لگایا اس میں پتّے کی جلد یا مرہم ڈال لیا تو اگر اس کیلئے اسے نکالنے میں ضرر ہو تو اس پر مسح کرے اور اگر مسح سے بھی ضرر ہو تو چھوڑ دے'' اھ
(۱؎ تبیین الحقائق مسح الخفین مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۱/۵۳)
اقول: بل(۲) غسلہ فان ضرَّ مَسَحَہ فان ضر ترکہ قالوا وان کان فی اعضائہ شقوق امر علیھا الماء ان قدر والامسح علیھا ان قدر والا ترکھا وغسل ماتحتھا ۲؎ اھ
اقول: بلکہ اس کو دھوئے اگر اس سے نقصان ہو تو مسح کرے اگر اس سے بھی ضرر ہو تو چھوڑ دے۔ علماء نے فرمایا ہے: ''اگر اس کے اعضاء میں شگاف ہوگئے ہوں تو اگر قدرت ہو ان پر پانی بہائے ورنہ ہوسکے تو ان پر مسح کرے ورنہ چھوڑ دے اور ان کے نیچے کی جگہیں دھولے''۔ اھ (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق مسح الخفین مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۱/۵۳)
اقول: ان کان المراد بمسألۃ الشقوق مااذا وضع الدواء علیھا ومعنی امر علیھا امر علی دواء علیھا کماکان فی عبارۃ الدر فذاک والا فتقدیر مسح علیھا ان قدر والا اجری علی دواءِ اوعصابۃ علیھا ان استطاع والا مسحہ ان امکن والا ترک ثمّ بحمداللّٰہ تعالٰی رأیت النص عن ائمتنا الثلٰثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فی ظاھر الروایۃ انہ یجوز ترک المسح اذا اضر فانقطع الخلاف۔
اقول شگافوں کے مسئلہ سے اگر یہ مراد ہے کہ ان پر دوا چھوڑ رکھی ہو، اور ان پر پانی گزارنے کا یہ معنٰی ہے کہ ان شگافوں پر جو دوا ہے اس پر پانی بہائے جیسا کہ درمختار کی عبارت میں ہے تو یہ درست ہے ورنہ تقدیر معنی یہ ہوگی کہ ان شگافوں پر مسح کرے اگر اس کی قدرت ہو ورنہ جو دوا یا پٹّی لگا رکھی ہے اس پر پانی بہائے اگر ہوسکے، ورنہ مسح کرے اگر ممکن ہو ورنہ یہ بھی چھوڑ دے پھر بحمداللہ تعالٰی مجھے اپنے ائمہ ثلٰثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ظاہر الروایۃ کی صریح عبارت مل گئی کہ مسح بھی ترک کردینا جائز ہے جب اس میں ضرر ہو اس سے اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔
قال الامام ملک العلماء فی البدائع قدذکر محمد فی کتاب الصلاۃعن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ اذا ترک المسح علی الجبائر وذلک یضرہ اجزأہ وقال ابویوسف ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالٰی اذاکان ذلک لایضرہ لم یجز فخرج جواب حنیفۃ فی صورۃ وخرج جوابھما فی صورۃ اخری فلم یتبین الخلاف ولاخلاف فی انہ اذا کان المسح علی الجبائر یضرہ انہ یسقط عنہ المسح لان الغسل یسقط بالعذر فالمسح اولی ۱؎ اھ۔
امام ملک العلماء بدائع میں فرماتے ہیں: ''امام محمد نے کتاب الصلوٰۃ میں امام ابی حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ذکر فرمائی ہے کہ جب پٹّیوں پر مسح ترک کردے اور یہ مسح ضرر رساں رہا ہو تو یہ اس کے لئے کفایت کرجائے گا (جائز ہوگا) اور امام ابویوسف وامام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما فرماتے ہیں: جب مسح سے ضرر نہ ہو تو (مسح چھوڑنا) جائز نہیں۔ تو امام ابوحنیفہ کا حکم الگ صورت میں ہے اور صاحبین کا حکم دوسری صورت میں۔ اس لئے کوئی اختلاف ظاہر نہ ہوا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب پٹّیوں پر مسح سے ضرر ہوتا ہو تو اس سے مسح ساقط ہے اس لئے کہ عذر کی وجہ سے تو دھونا بھی ساقط ہوجاتا ہے تو مسح بدرجہ اولٰی ساقط ہوگا''۔ اھ (ت)
وفی الحلیۃ فی باب الوضوء والغسل من الاصل اذا اغتسل من الجنابۃ ومسح بالماء علی الجبائر التی علی یدہ اولم یمسح لانہ یخاف علی نفسہ ان مسحہ یجزئہ قال فی الحلیۃ ذکرہ مطلقا من غیران یضیفہ الی احد ۲؎ اھ ای فافاد انہ قول الکل فثبت ان سقوط بعض الوظیفۃ لاجل الضرورۃ غیر غریب واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور حلیہ باب الوضوء والغسل میں اصل (مبسوط) کے حوالے سے ہے: ''جب غسلِ جنابت کرے اور اپنے ہاتھ پر بندھی ہُوئی پٹّیوں پر پانی سے مسح کرلے یا بصورتِ مسح اپنی ذات پر خطرے کی وجہ سے مسح بھی نہ کرے تو جائز ہے''۔ حلیہ میں فرمایا ہے: ''مبسوط میں یہ مسئلہ کسی کی طرف انتساب کے بغیر مطلقاً مذکور ہے'' اھ یعنی اس طرح یہ افادہ فرمایا ہے کہ یہ سبھی حضرات کا قول ہے تو ثابت ہوا کہ ضرورت کی وجہ سے مقررہ عمل کا جز ساقط ہوجانا کوئی حیرت انگیز اور غریب امر نہیں، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ حلیہ)
غرض ثابت ہُوا کہ مذہب یہی ہے کہ اس صورت میں غسل ووضو کرے اور مسح معاف ہے اُس روایت تیمم پرعمل جائز نہیں ولہذا ہم نے اسے شمار میں نہ لیا وباللہ التوفیق وللہ الحمد۔
(۱۵۶) نمبر۸۸ میں دُرمختار سے گزرا کہ اگر آنکھ قدح کرائی اور طبیب نے چِت لیٹے رہنے کو کہا ہے نماز اشاروں سے پڑھے اقول تو اگر غسل کی حاجت ہوتیمم خود ظاہر ہے اور یہ نمبر۴۱ ہے یوں ہی وضو میں جبکہ کوئی کرادینے والا نہ ہو یا وہ اُجرت زیادہ مانگے یا یہ قادر نہ ہُوا اور یہ نمبر ۴۲ تا ۴۵ ہے مگر ایک صورت دقیق یہاں اور نکلے گی کہ وضو کرانے والا موجود ہے لیکن پلنگ ناپاک اور بچھونا پاک ہے وضو کرنے سے بچھونا کہ اس کے اعضاء کے نیچے ہے ناپاک ہوجائے گا تو اب بھی تیمم کرے واللہ تعالٰی اعلم۔