Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
116 - 166
ردالمحتار میں ہے:قولہ قولان ذکر فی النھر عن البدائع مایفیدہ ترجیح الوجوب وقال وھو الذی ینبغی التعویل علیہ اھ بل قال فی البحر والصواب الوجوب ۲؎۔
دُرمختار کی عبارت قولان (دو قول ہیں) کو النہرالفائق میں بدائع کے حوالے سے ذکر کیا ہے جس سے وجوبِ مسح کی ترجیح مستفاد ہوتی ہے اور لکھا ہے کہ اسی پر اعتماد ہوناچاہئے اھ۔ بلکہ البحرالرائق میں یہ ہے کہ صحیح وجوب ہی ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    باب التیمم   مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۹۱)
البحرالرائق میں ہے : ذکر الجلابی فی کتاب الصلاۃ لہ ان من بہ وجع فی رأسہ لایستطیع معہ مسحہ یسقط فرض المسح فی حقّہ ۳؎۔
جلابی نے اپنی کتاب الصلوٰۃ میں ذکر کیاہے کہ ''جس کے سر میں ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے سر کا مسح نہ کرسکے تو اس کے حق میں فرض ساقط ہے'' اھ۔
 (۳؎ البحرالرائق   باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۶۴)
وھذہ مسألۃ مھمۃ اجبت ذکرھا لغرابتھاوعدم وجودھا ففی غالب الکتب وقد افتی بھا الشیخ سراج الدین قارئ الھدایۃ استاذ المحقق کمال الدین بن الھمام وبہ اندفع ماکان قدتوھم قبل الوقوف علی ھذا النقل انہ یتیمم لعجزہ عن استعمال الماء ولیس بعد النقل الاالرجوع الیہ ولعل الوجہ فیہ ان یجعل عاد مالذلک العضو حکما فتسقط وظیفتہ کمافی المعدوم حقیقۃ بخلاف مااذا کان ببعض الاعضاء المغسولۃ جراحۃ فانہ یغسل الصحیح ویمسح علی الجریح لان المسح علیہ کالغسل لماتحتہ ولان التیمم مسح فلایکون بدلاعن مسح وانما ھو بدل عن غسل والرأس ممسوح ولھذا لم یکن التیمّم فی الرأس ۱؎ اھ
اور یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کی ندرت وغرابت اور عامہ کتب میں مذکور نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اسے بیان کردینا بہتر سمجھا اور محقق کمال الدین ابن الہمام کے استاذ شیخ سراج الدین قارئ ہدایہ نے یہی فتوٰی دیا ہے۔اس سے وہ وہم بھی دفع ہوجاتا ہے جو اس نقل پر اطلاع سے پہلے کیا گیا تھا،کہ اس کیلئے حکم یہ ہوگا کہ پانی استعمال کرنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے وہ تیمم کرے نقل مل جانے کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص حکماً وہ عضو نہ رکھنے والا قرار دیا جائے تو اس عضو سے متعلق عمل ساقط ہوجائیگا جیسے حقیقۃً وہ عضو نہ رکھنے والے کے بارے میں حکم ہے اس صورت کے برخلاف جب کہ اس کے بعض دھوئے جانے والے اعضاء میں زخم ہو کہ اس کا حکم یہ ہے کہ صحیح کو دھوئے اور زخمی پر مسح کرے اس لئے کہ اس پر مسح کرنا اس کے نیچے والے عضو کو دھونے ہی کی طرح ہے۔ اور اس لئے کہ تیمم مسح ہے تو وہ کسی مسح کا بدل نہ ہوگا بلکہ دھونے کا بدل ہوگا اور(وضو میں) سر پر مسح ہی ہوتا ہے اس لئے سر کاتیمم نہیں''۔ اھ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق، باب التیمم،  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،  ۱/۱۶۴)
منحۃ الخالق میں ہے:قولہ ماکان قدتوھم) الذی توھم ذلک العلامۃ عبدالبر بن الشحنۃ فانہ ذکر عبارۃ الجلابی فی شرحہ علی الوھبانیۃ ونظمھا بقولہ: ؎

 		ویسقط مسح الرأس عمن برأسہ	 من الداء ماء ان بلہ یتضرر
صاحبِ بحر کا قول ''وہ جو وہم کیا گیا تھا''یہ وہم علامہ عبدالبر ابن شحنہ کو ہوا تھا۔ انہوں نے جلابی کی عبارت اپنی شرحِ وہبانیہ میں ذکر کی اور اسے یوں نظم کیا: ؎

جس کے سر میں کوئی ایسا مرض ہو کہ سر کو ترکرنے سے ضرر ہوتا ہو تو ایسے شخص سے سر کا مسح ساقط ہے۔
ثم قال وکان یقع فی نفسی قبل وقوفی علی ھذا النقل انہ یتیمم لعجزہ عن استعمال الماء ولیس بعد النقل الاالرجوع ولعل الوجہ فیہ انہ یجعل عادما لذلک العضو حکما فتسقط وظیفتہ کمافی المعدوم حقیقۃ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اس نقل پر اطلاع سے پہلے میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ایسا شخص تیمم کریگا اس لئے کہ وہ پانی کے استعمال سے عاجز ہے۔ اور نقل مل جانے کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے۔ شاید اس (مسح سر ساقط ہونے)کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص حکماً وہ عضو نہ رکھنے والا قرار دیا جائیگا تو اس عضو سے متعلق مقررہ عمل مسح ساقط ہوجائے گا جیسا کہ حقیقۃً عضو نہ رکھنے والے کا حکم ہوتا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
قولہ ولیس بعدالنقل الخ یوھم ان التیمم غیر منقول مع انہ منقول ایضاففی الفیض للکرکی عن غریب الروایۃمن برأسہ صداع من النزلۃ ویضرہ المسح فی الوضوء اوالغسل فی الجنابۃ یتیمّم(۱) والمرأۃ لوضرھا غسل رأسھا فی الجنابۃ اوالحیض تمسح علی شعرھا ثلاث مسحات بمیاہ مختلفۃ وتغسل باقی جسدھا اھ قال فی الفیض وھو عجیب ۱؎ اھ مافی المنحۃ۔
ان کا قول ''نقل کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے'' یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ تیمم کا حکم غیر منقول ہے حالانکہ وہ بھی منقول ہے۔ کرکی کی کتاب "فیض" میں غریب الروایۃ سے نقل کیا ہے کہ ''جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکّر آتا ہو اور اسے وضو میں مسح یا جنابت میں غسل ضرر دیتا ہو توو ہ تیمم کرے،اور اگر عورت کو جنابت یا حیض میں سر دھونے سے ضرر ہو تو وہ تین بار مختلف پانیوں سے اپنے بالوں پر مسح کرلے اور باقی جسم دھوئے اھ''۔ فیض میں کہا: ''یہ حکم عجیب ہے'' اھ منحۃ الخالق کی عبارتیں ختم ہوئیں۔ (ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق مع البحر    باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۶۴)
اقول: ظھر(۲)لی بحمداللّٰہ تعالٰی من معناہ مایرفع العجب وذلک ان العجب انماھوفی مسئلۃ الغسل ان یجوزلہ التیمم اذاضرہ غسل رأسہ وھذا باطل قطعابل یجب الرجوع الی المسح لان(۱) مسح مایغسل عند تعذر غسلہ کغسلہ کماتقدم اٰنفا عن البحرو مثلہ فی البدائع ولذاجاز(۲) جمعہ مع الغسل بخلاف مسح(۳) الخفین فانہ لایجوزلہ ان یغسل احدی رجلیہ ویمسح خف الاخرٰی وان کانت(۴) علی احدھماجبیرۃ اوعصابۃ مسحھا وغسل الاخری کمانصوا ۱؎ علیہ فی التبیین وغیرہ ومسألۃ من اکثر بدنہ صحیح انہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح مشہور صریح غیر محتاج الی التصریح فکیف حکم ھھنا بالتیمّم ولکن ھذا(۵) التوھم انما کانت اکدتہ عبارۃالدرفی النقل بالمعنی فلمارأیت عبارۃغریب الروایۃ المنقولۃ فی الفیض وفیھایضرہ المسح فی الوضو، اوالغسل فی الجنابۃ لامسح رأسہ محدثا وغسلہ جنباکما فی الدر تحدس فی خاطری وللّٰہ الحمد ان الغسل ھھنا بضم الغین لافتحھا فلیس المراد غسل الرأس بل المعنی(۶) ضرہ الغسل واسالۃ الماء علی بدنہ ولومع ترک الرأس لماتصعدبہ الا بخرۃ الی الدماغ کما علم فی الطب وکیف(۱) تکون عبارۃ غریب الروایۃ بفتح الغین مع انہ المصرح متصلابھا ان المرأۃ ان ضرھا غسل رأسھا مسحتہ فلیس المعنی الاماقررت وھذا صاف لاغبار علیہ وللّٰہ الحمد۔
اقول: مجھ پر غریب الروایۃ کی عبارت کا ایک ایسا معنی منکشف ہوا، والحمدللہ تعالٰی، جس وجہ سے تعجب دُور ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ تعجب غُسل کے مسئلہ میں ہے کہ سر دھونے سے ضررہوتا ہے تو اس کیلئے تیمم کیسے جائز ہوگیا؟ یہ حکم قطعاً باطل ہے۔ اس پر تو مسح سر کی طرف رجوع لازم ہے،اس لئے کہ جب کسی دھوئے جانے والے عضو کا دھونا متعذر اور دشوار ہوجائے تو اس پر مسح کرلینا اسے دھونے ہی کی طرح ہے جیسا کہ ابھی بحر کے حوالے سے گزرا،اسی کے مثل بدائع میں بھی ہے اسی لئے اس مسح کو دھونے کے ساتھ جمع کرناجائز ہے، اس کے برخلاف موزوں کے مسح میں یہ جائز نہیں کہ ایک پاؤں دھولے اور دوسرے پاؤں کے موزے پر مسح کرلے۔(لیکن بحالتِ عذر)مگر ایک پاؤں پر لکڑی یا کپڑے کی پٹّی بندھی ہو تو اس پر مسح کرے گا اور دوسرا پاؤں دھوئے گا۔جیساکہ اس پر تبیین وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور جس کا اکثر بدن صحیح ہو اس کا مسئلہ مشہور وصریح اور غیر محتاجِ تصریح ہے کہ وہ صحیح حصّہ بدن دھوئےگا اور زخمی حصہ پر مسح کریگا۔ تو حیرت یہی ہے کہ یہاں (غُسل میں مسح سر اور باقی بدن کو دھونے کا حکم دینے کی بجائے) تیمم کا حکم کیسے دے دیا ہے(یہ تعجب ایک وہم سے پیدا ہوا) اور اس وہم کو اس سے تقویت پہنچی کہ درمختار میں غریب الروایۃ کی عبارت مفہوماً نقل کی۔ جب میں نے فیض میں نقل شدہ عبارتِ غریب الروایۃ دیکھی اور اس میں یہ ملا کہ: ''یضرّہ المسح فی الوضوء اوالغسل فی الجنابۃ'' یہ عبارت نہیں کہ ''مسح رأسہ محدثا وغسلہ جنبا'' جیسا کہ درمختار میں ہے تو یہ عبارت دیکھتے ہی بحمداللہ تعالٰی میرے دل میں خیال ہوا کہ لفظ ''غسل'' یہاں غین کے ضمہ سے ہوگا، فتحہ سے نہ ہوگا۔ تو اس عبارت کا یہ معنٰی نہیں کہ ''وضو میں مسح کرنا اور جنابت میں ''دھونا'' ضرر دیتا ہو'' بلکہ معنی یہ ہے کہ جنابت میں غسل اور بدن پر پانی بہانا ضرر دیتا ہو اگرچہ سر کو چھوڑ کر پانی بہائے، ضرر اس لئے ہو کہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہوں جیسا کہ فنِ طب اسے بتاتا ہے۔اور غریب الروایۃ کی عبارت غین کے فتحہ کے ساتھ (دھونے کے معنی میں)کیوں کر ہوسکتی ہے جبکہ اس کے متصل ہی یہ تصریح موجود ہے کہ اگر عورت کو سردھونے سے ضرر ہو تو اس پر مسح کرے (پھر یہاں بجائے سر کے سب کچھ چھوڑ کر صرف تیمم کا حکم کیسے ہوسکتا ہے) تو معنی وہی ہے جو میں نے بیان کیا اور یہ بالکل صاف بے غبار ہے۔ وللہ الحمد۔ (ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق    مسح الخفین    مطبعۃ امیریہ بولاق مصر     ۱/۵۲)
اما مسألۃ الوضوء فغیر عجیب بل لہ وجہ وجیہ قریب فاقول معلوم(۲) ان الحدث لایتجزی فکذا رفعہ فلواغتسل وبقیت شعرۃ لم یسل الماء علیھا فلاغسل لہ وھو جنب کماکان وقد نصوا ان النجاسۃ الحکمیۃ(۳) اشد من الحقیقیۃ اذقد عفی من ھذہ قدردرھم اواقل من الربع ولاعفو  عـہ  فی الحکمیۃ قدر ذرۃ اصلا ۔
اب رہا وضو کا مسئلہ، تو وہ بھی تعجب خیز نہیں بلکہ اس کی ایک عمدہ قریبی وجہ ہے فاقول یہ معلوم ہے کہ حدث منقسم نہیں ہوتا تو اسی طرح ازالہ حدث بھی منقسم نہ ہوگا۔ اگر کوئی غسل کرے اور ایک بال چھوٹ جائے جس پر پانی نہ بہایا ہو تو اس کا غسل نہ ہُوا وہ اب بھی جُنب ہے اور علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نجاست حکمیہ نجاست حقیقیہ سے زیادہ سخت ہے اس لئے کہ حقیقیہ سے تو بقدر درہم یا چوتھائی سے کم معاف ہے اور حکمیہ میں ایک ذرّہ کے برابر بھی معاف نہیں۔
عـہ اقول ای فی السعۃ اما مواضع الضرو رۃ فنعم کشعر تعقد ونیم ذباب وجرم حناء ومداد الٰی غیر ذلک مما فصلنا فی الجود الحلو ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول:  یعنی بحالت وسعت کچھ معاف نہیں۔ ہاں ضرورت کی جگہوں میں کچھ عفو ہے جیسے بال جو خود گِرہ کھا کر رہ گیا ہو اور مکھّی کی بیٹ، مہندی، روشنائی وغیرہ کا جرم جس کی تفصیل ہم نے رسالہ ''الجود الحلوفی ارکان الوضو'' میں کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فمن لایستطیع غسل رأسہ فی الغسل یمسحہ فان لم یستطع فعصابۃً علیہ وقد تم التطھیر لما علمت ان ھذا المسح یقوم مقام غسلہ وھی مسألۃ الصحیح الجریح اما اذالم یقدر علیہ اصلا فی الغسل اوالوضوء تبقی وظیفۃ الرأس متروکۃ رأسا فیکون ھذا بعض طھارۃ لاطھارۃ وھو لایتجزی فینتفی اصلا فقد ظھر عــہ  عجزہ عن طہارۃ الماء فوجب المصیر الی التیمم۔
تو جو شخص غسل میں اپنا سر دھو نہیں سکتا تو اس پر مسح کرلے گا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو پٹّی باندھ کر اس پر مسح کرے گا اور اس سے تطہیر کا عمل مکمل ہوجائے گا اس لئے کہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ مسح دھونے کے قائم مقام ہے، صحیح زخمی کا مسئلہ بھی یہی ہے لیکن جب غسل یا وضو میں یہ بھی (پٹّی پر مسح) نہ ہوسکے تو سر سے متعلق عمل بالکل ہی متروک رہ جائےگا جس کی وجہ سے یہ (بقیہ اعضاء کو دھونے کا) عمل جزو طہارت تو ہوگا طہارت نہ ہوگا حالانکہ یہ عمل منقسم نہیں ہوتا تو کہا جائے گا کہ سرے سے طہارت حاصل ہی نہ ہوئی اس طرح پانی والی طہارت سے اس کا عجز ظاہر ہوگیا توتیمم کی طرف رجوع لازم ہوا۔ (ت)
عــہ  والجواب مااشرنا الیہ ان ھذا موضع ضرورۃ وفیہ العفو ثابت فی الحکمیۃ ایضا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اور جواب وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ یہ ضرورت کی جگہ ہے اور مقامِ ضرورت میں معافی نجاست حکمیہ میں بھی ثابت ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
Flag Counter