Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
115 - 166
 (۱۵۱) وضو میں اکثر اعضائے وضو یا غسل میں اکثر حصہ بدن میں زخم یا تر خارش ہے تیمم کرے اور کم میں تو صحیح 

کو دھوئے باقی کو مسح کرے مگر جب کہ صحیح دھونے سے زخمی تک پانی پہنچنے سے بچا نہ سکے تو اب بھی تیمم ہے
۱؎ کما فی الخانیۃ والحلیۃ والبحر
(جیسا کہ خانیہ، حلیہ اور البحرالرائق میں ہے۔ ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فیما یجوزبہ التیمم    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۲۸)
اور اگر صحیح ومجروح دونوں حصے برابر ہوں تو اختلاف تصحیح ہے خانیہ ومحیط میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ صحیح کو دھوئے جریح کو مسح کرے بحر وتنویر میں ہے یہی احوط ہے درمختار میں ہے یہی اصح ہے اور خلاصہ وتبیین وفتح وفیض واختیار ومواہب الرحمن میں ہے صحیح یہ کہ تیمم کرے۔
کما فی ردالمحتار قال و رأیت فی السراج مانصہ وفی العیون عن محمد اذاکان علی الیدین قروح لایقدر علی غسلھما وبوجھہ مثل ذلک تیمّم وان کان فی یدیہ خاصۃ غسل ولایتیمّم وھذا یدل علی انہ یتیمم مع جراحۃ النصف ۲؎ اھ
جیسا کہ ردالمحتار میں ہے، فرماتے ہیں: ''میں نے سراج میں یہ عبارت دیکھی: عیون میں امام محمد سے نقل ہے: جب دونوں ہاتھوں پر ایسے زخم ہوں کہ ہاتھوں کو دھو نہ سکتا ہو، اور چہرے میں بھی ایسے ہی ہوں توتیمم کرے۔ اور اگر صرف ہاتھوں میں ہوں تو دھوئے اورتیمم نہ کرے''۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نصف محلّ وضو  زخمی ہونے کی صورت میں تیمم کرے گا''۔ اھ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار        آخر باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۹)
اقول:  وبہ تترجح کفۃ القول الثانی وبہ رد الشامی علی الدر ان حکمہ فی المساواۃ بالغسل والمسح خلاف المروی عن محمد فان قلت لعل الشارح المدقق رحمہ اللّٰہ تعالٰی نظر الی ان الکلام ھھنا فی الغسل فان کان مایضرہ الغسل اکثر عددا مما لایضرہ تیمّم اعتبارا بالاکثر ولاشک ان الوجہ والیدین اکثر المغسول من اعضاء الوضوء فلاما فی السراج من الاستدلال بہ یتم ولا ما فی ردالمحتار علی الشارح یرد۔
اقول: اس سے قول ثانی کا پلّہ بھاری ہوجاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر علامہ شامی نے درمختار کا رد کیا ہے کہ صحیح اور زخمی اعضا برابر ہونے کی صورت میں دھونے اور مسح دونوں ہی کا حکم دینا اس کے خلاف ہے جو امام محمد سے مروی ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ شاید شارح مدقق رحمہ اللہ تعالٰی نے اس پر نظر کی ہو کہ یہاں کلام دھونے سے متعلق ہے تو جِن اعضاء کو دھونا مضر ہے یہ اگر گنتی میں ان اعضاء سے زیادہ ہوں جنہیں دھونا مضر نہیں ہے تو اکثر کا لحاظ کرتے ہوئے تیمم کرے گا اور اس میں شک نہیں کہ جتنے اعضائے وضو کو دھونا ہے ان میں دونوں ہاتھ اور چہرہ مل کر باقی سے زیادہ ہیں تو امام محمد کی روایت سے سراج میں جو استدلال کیا گیا ہے وہ تام نہیں اور اس سے ردالمحتار میں شارح پر جو رد کیا گیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ (ت)
اقول:  فاذن یضع قولہ وان استویا اذلا نصف لثلثۃ وضم(۱) الرأس الی ھذہ الاعضاء قدصرح بہ فی الفتح والحلیۃ والبحر حیث قال ھذا واختلف فی حد الکثرۃ منھم من اعتبر من حیث عدد الاعضاء ومنھم من اعتبر الکثرۃ فی نفس کل عضو فلوکان برأسہ و وجہہ ویدیہ جراحۃ والرجل لاجراحۃ بھا یتیمّم سواء کان الاکثر من اعضاء الجراحۃ جریحا اوصحیحا والاٰخرون قالوا ان کان الاکثر من کل عضو من اعضاء الوضوء المذکورۃ جریحا فھو الکثیر الذی یجوز معہ التیمم والا فلا کذا فی فتح القدیر من غیر ترجیح وفی الحقائق المختار اعتبار الکثرۃ من حیث عدد الاعضاء ۱؎ اھ ومثل مافی الفتح فی الحلیۃ غیر انہ مال بحثا الی اعتبار الکثرۃ فی اعضاء الوضوء ایضا مساحۃ ای بخلاف کلا القولین۔
اقول: اگر یہ بات ہو تو شارح کا یہ لکھنا کہ ''اگر دونوں برابر ہوں'' بیکار ہوگا اس لئے کہ (دھوئے جانے والے اعضاء تین ہیں اور) تین کا نصف نہیں --ان اعضاء کے ساتھ سر کے شامل ہونے کی تصریح فتح القدیر، حلیہ اور البحرالرائق میں موجود ہے الفاظ یہ ہیں: ''کثرت کی حد میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے اعضاء کی تعداد کا اعتبار کیا ہے اور بعض حضرات نے خود ہرہر عضو کے اندر زیادتی وکثرت کا اعتبار کیا ہے تو اگر اس کے سر، چہرے اور ہاتھوں میں زخم ہے اور پیر میں زخم نہیں توتیمم کرے گا خواہ زخم والے اعضاء کا اکثر حصہ زخمی ہو یا صحیح ہو اور دوسرے حضرات نے فرمایا کہ اگر وضو کے اعضائے مذکورہ میں سے ہر عضو کا اکثر حصہ زخمی ہو تو یہی وہ کثیر ہے جس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز ہے اور اگر یہ صورت نہ ہو توتیمم جائز نہیں''۔ فتح القدیر میں اسی طرح بغیر کسی ترجیح کے مذکور ہے، اور حقائق میں یہ لکھا ہے کہ: ''مختار یہ ہے کہ عدد اعضا کے لحاظ سے کثرت کا اعتبار ہے''۔ اھ۔ فتح القدیر کے مثل حلیہ میں بھی ہے مگر اس میں مزید یہ ہے کہ بطور بحث کے ان کا میلان اس جانب ہوا ہے کہ مساحت ومقدار کے لحاظ سے بھی اعضائے وضو میں کثرت کا اعتبار ہوگا (یہاں دو۲ قول تھے (۱) چاروں اعضائے وضو میں گنتی کے لحاظ سے کثرت کا اعتبار (۲) ہر عضوِ وضو کے زخمی وغیر زخمی حصّوں کے لحاظ سے کثرت کا اعتبار۔ اور تیسرا خیال ہوا کہ گنتی کا بھی اعتبار ہو اور اعضا میں زخمی وغیر زخمی حصوں کی مقدار اور مساحت کا بھی اعتبار ہو ۱۲ م۔ الف) تو ان کی بحث کا میلان دونوں کے برخلاف ایک تیسری جانب ہے۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق   باب التیمم قولہ ولو اکثرہ مجروحاً    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۶۳)
اقول:  عـــہ وقد کنت ارانی  امیل الیہ قبل ان اراہ غیرانی لم یکن لی الخیار لاسیما مع تصریح الحقائق بالمختار واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول:  حلیہ کی بحث دیکھنے سے پہلے ہی میرا میلان بھی اسی جانب نظر آرہا تھا مگر مجھے کیا اختیار، خصوصاً جب کہ حقائق میں مختار کی تصریح موجود ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
عــــہ اقول وکان میلی الیہ لاستبعاد فی اعتبار العدد فمن کانت لہ بثرۃ صغیرۃ فی اقصی جبھتہ واخری مثلھا علی مرفق یتیمّم للجراحۃ فی عضوین وھما نصف الاربعۃ وان کانت یداہ مجروحتین من الرسغین الی فوق المرفقین لایجوزلہ التیمّم لان الجریح عضو واحد فبثرتان تمنعان الوضوء ومئات منھا لاتمنع ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)

اقول: اس جانب میرا میلان گنتی اور عدد کے اعتبار کو بعید سمجھنے کی وجہ سے تھا وہ اس طرح کہ اگر کسی کی پیشانی کے کنارہ پر ایک چھوٹی سی پھنسی ہو اور ایسی ہی دوسری پھنسی کہنی پر ہو تو وہ تیمم کرے کیونکہ زخم دو عضووں میں ہے جو چار کا نصف ہیں اور اگر اس کے دونوں ہاتھ گٹوں سے کہنیوں کے اُوپر تک زخمی ہوں تو اس کیلئے تیمم جائز نہ ہو کیونکہ زخمی صرف ایک عضو ہے تو ایک صورت میں دو پھنسیاں تو وضو سے مانع ہوجاتی ہیں اور دوسری صورت میں ویسی ہی سیکڑوں ہوکر بھی مانع نہیں ہوتیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
 (۱۵۲) یہاں ایک مسئلہ اس مسئلہ اعتبار اکثر اعضا سے مستثنٰی ہے وہ یہ کہ دونوں ہتھیلیاں ایسی زخمی ہیں کہ ان پر پانی پڑنا ضرر دے گا یا بوجہ زخم لوٹا وغیرہ اُٹھ نہیں سکتا نہ پانی کسی ایسے برتن یا حوض وغیرہ میں ہے کہ اُس میں اپنا منہ اور پاؤں ڈال کر وضو کرسکے تیمم کرے گا۔ درمختار میں ہے:
یتیمّم لوالجرح بیدیہ ۱؎
(اگر اس کے دونوں ہاتھوں میں زخم ہو توتیمم کرے۔ ت)
 ( ۱؎ الدرالمختار مع الشامی    باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۹)
ردالمحتار میں ہے: ای ولم یمکنہ ادخال وجھہ و رجلیہ فی الماء فلو امکنہ فعل بلا تیمّم کما لایخفی فلاینافی ماقدمناہ عن العیون ۱؎۔
یعنی ساتھ ہی یہ بات بھی ہو کہ وہ چہرا اور دونوں پاؤں پانی میں نہ ڈال سکتا ہو، اگر یہ کرسکتا ہو تو اسے تیمم چھوڑ کر یہی کرنا ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ تو یہ اس کے منافی نہیں جو عیون کے حوالہ سے ہم پہلے بیان کر آئے۔ اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۹)
البحرالرائق میں ہے: فھذا یفیدان قولھم اذاکان الاکثر صحیحا یغسل الصحیح محمول علی ما اذا لم یکن بالیدین جراحۃ کما لایخفی ۲؎۔
تو اس سے اس بات کا افادہ ہوتا ہے کہ فقہا نے یہ جو فرمایا ہے کہ اکثر صحیح ہو تو صحیح کو دھونا ہے یہ اس صورت پر محمول ہے جب اس کے دونوں ہاتھوں پر زخم نہ ہو۔ جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
 (۲؎ البحرالرائق    باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۶۳)
(۱۵۳ تا ۱۵۵) اس مسئلہ جراحت ہر دوکف کو درمختار میں عام رکھا کہ اگرچہ کوئی وضو کرانے والا ملے جب بھی تیمم کی اجازت ہے۔
حیث قال بعد مامر وان وجد من یوضیہ خلافا لھما ۳؎۔
کیونکہ گزشتہ عبارت کے بعد ان کے الفاظ یہ ہیں: اگرچہ اسے کوئی وضو کرانے والا مل جائے (یہ امام صاحب کے یہاں ہے) بخلاف صاحبین کے۔ (ت)
 (۳؎ الدرالمختار مع الشامی باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۹)
مگر معتمد یہ ہے کہ اس حالت میں تیمم نہیں البحرالرائق میں ہے:
فی القنیۃ والمبتغی بیدہ قروح یضرہ الماء دون سائر جسدہ یتیمم اذا لم یجد من یغسل وجھہ وقیل یتیمّم مطلقا ۴؎ اھ اقول وقولہ وجھہ من باب الاکتفاء ای ورجلیہ ویمسح رأسہ۔
 (۴؎ البحرالرائق    باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۶۳)
قنیہ اور مبتغی میں ہے: اس کے ہاتھ پر ایسا زخم ہو کہ پانی اسے ضرر رساں ہو، باقی جسم میں زخم نہ ہو تو وہ بھی تیمم کرے گا بشرطیکہ اسے کوئی چہرہ دھونے والا نہ ملے، اور کہا گیا کہ مطلقاًتیمم کرے گا اھ
اقول:  صرف چہرہ کا نام لیا (چہرہ دھونے والا نہ ملے) پر اکتفا کے باب سے ہے، مراد یہ ہے کہ ایسا کوئی شخص نہ ملے جو چہرہ اور پیروں کو دھودے اور سر پر مسح کردے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے: وھو الموافق لمامر فی المریض العاجز من انہ لو وجد من یعینہ لایتیمم فی ظاھر الروایۃ فتنبہ ذلک ۱؎۔
اور یہ اس حکم کے مطابق ہے جو عاجز مریض سے متعلق گزرا کہ اسے اگر کوئی مدد دینے والا ملے تو ظاہر روایت میں وہ تیمم نہیں کرسکتا، تو اس پر متنبّہ رہنا چاہئے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب التیمم     مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۹)
اقول:  تو اب یہاں بدستور وہ تینوں صُورتیں نکلیں گی کہ وضو کرادینے والا اجرت زیادہ مانگتا ہے یا یہ مفلس ہے یا مال غائب اور وہ اُدھار پر راضی نہیں۔

تنبیہ: امام اجل فقیہ ابُو جعفر ہندوانی رحمہ اللہ تعالٰی نے کتاب غریب الروایۃ میں ایک صُورت تیمم کی یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اگر وضو میں سب اعضا بے تکلف دھو سکتا ہے مگر کسی مرض کے باعث سر کا مسح ضرر کرتا ہے توتیمم کرے یوں ہی اگر غسل میں سارے بدن پر پانی بہا سکتا ہو مگر سر دھونا درکنار مسح بھی نہ کرسکے تو غسل کی جگہ بھی تیمم کرے مگر صحیح ومعتمد ومشہور ومنصوریہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت نہیں بلکہ وضو میں تینوں اعضا اور غسل میں سر کے سوا سارا بدن دھوئے اور(۱) سر پر کوئی پٹّی باندھ کر اُس پر مسح کرے اور اس سے بھی نقصان ہو تو بالکل چھوڑ دے اس قدر معاف رہے گا۔
تنویر الابصار آخرتیمم میں ہے:
من بہ وجع رأس لایستطیع معہ مسحہ یسقط فرض مسحہ ۲؎۔
جس کا سر میں کوئی ایسا مرض ہو جس کے باعث سر کا مسح نہ کرسکے تو مسح سر کا فریضہ ساقط ہوجاتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار مع الشامی     باب التیمم      مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۹۰)
درمختار میں ہے:لایستطیع مسحہ محدثا ولاغسلہ جنبا ففی الفیض عن غریب الروایۃیتیمّم وافتی قارئ الھدایۃ انہ یسقط عنہ فرض مسحہ ولو علی جبیرۃ ففی مسحھا قولان وکذا یسقط غسلہ فیمسحہ ولو علی جبیرۃ ان لم یضرہ والاسقط اصلا وجعل عادما لذلک العضو حکما کما فی المعدوم حقیقۃ ۱؎۔
حالتِ حدث میں مسح نہ کرسکے اور حالتِ جنابت میں سر نہ دھو سکے تو فیض میں غریب الروایۃ سے یہ ہے کہ تیمم کرے اور قارئ ہدایہ کا فتوٰی یہ ہے کہ اس سے فرضِ مسح ساقط ہے۔اور اگر سر پرپٹی ہو تو اس کے مسح سے متعلق دو۲ قول ہیں اسی طرح (غسل میں) سر کا دھونا بھی ساقط ہے ایسی صورت میں دھونے کی بجائے سر پر مسح کرے اگرچہ کسی پٹّی پر جب کہ یہ مضر نہ ہو، اگر یہ بھی مضر ہو تو (دھونا اور مسح دونوں) بالکل ہی ساقط ہے،اور حکماً وہ اس کی طرح قرار دیا جائے گا جس کا یہ عضو ہی نہ ہو، جیسا کہ حقیقۃً عضو نہ رکھنے والے سے متعلق حکم ہے(کہ اس سے دھونا اور مسح کرنا سبھی ساقط ہے)۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی،  باب التیمم،  مطبع مصطفی البابی مصر ، ۱/۱۹۰)
Flag Counter