Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
114 - 166
اقول:  ای اذا وجد فی الفلاۃ ماء موضوعا للشرب لایجوزلہ التوضی منہ بل یتیمّم مع قدرتہ علی الماء حسا ولغۃ حقیقۃ لعجزہ عنہ شرعا کذا ھذا بخلاف الشراء فانہ قادر علیہ شرعا ایضا وبالجملۃ فالمنع الشرعی ایضا من اسباب العجز عن استعمال الماء کسائر وجوہ العجز وھو حاصل ھھنا فساغ التیمّم ھذا تقریرہ وقد اقرہ فی البحر واستحسنہ فی الحلیۃ وتعقبہ المقدسی قائلا یمکن ان یقال انما یکون الرجوع محذورا اذا کان عقد الھبۃ حقیقیا اما اذا کان علی وجہ الحیلۃ فلا اذ الموھوب لہ لایتأذی من الرجوع ھنا اصلا تأمل ۱؎ اھ
اقول:  یعنی جب جنگل میں پینے کیلئے رکھا ہُوا پانی پائے تو پانی پر حِسّاً اور لغت میں حقیقۃً قدرت ہونے کے باوجود اس کیلئے اس سے وضو کرنا جائز نہیں بلکہ تیمم کرے گا اس کیلئے شرعاً وہ پانی سے عاجز ہے ایسے ہی ہبہ سے رجوع والا معاملہ ہے اور خریدنے کی صورت اس کے برخلاف ہے کیونکہ اس پر وہ شرعا بھی قادر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پانی سے عجز کی دوسری صورتوں کی طرح ممانعت شرعیہ بھی پانی کے استعمال سے عجز کا ایک سبب ہے اور وہ یہاں پر موجود ہے توتیمم جائز ہوا یہ کلام محقق کی تقریر ہے اسے بحر میں برقرار رکھا اور حلیہ میں پسند کیا۔ا ور مقدسی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ ''کہا جاسکتا ہے کہ رجوع اس وقت ممنوع ہوتا ہے جب ہبہ کا معاملہ حقیقی طور پر منعقد ہو لیکن اگر حیلہ کے طور پر ہو تو ممنوع نہیں اس لئے کہ جسے ہبہ کیا گیا اسے رجوع سے یہاں کوئی اذیت نہ ہوگی، تأمل اھ۔
 (۱؎ منحۃ الخالق مع البحرالرائق    باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۴)
واختلف نظر العلامۃ ش فاید فی المنحۃ تعقب المقدسی بقولہ علا انہ سیأتی عن الوافی انہ اذا کان مع رفیقہ ماء فظن انہ ان سألہ اعطاہ لم یجز التیمّم وان کان عندہ انہ لایعطیہ یتیمم وان شک فی الاعطاء ویتیمّم وصلی فسألہ فاعطاہ یعید وھنا ان لم یرجع بھبتہ یجب علیہ ان یسألہ لوجود الظن باعطائہ اللھم الا ان یتعا ھدا علی انہ ان سألہ بعد الھبۃ لایعطیہ تتمیما للحلیۃ تأمل ۱؎ اھ واید فی ردالمحتار استحسان الحلیۃ بقولہ علا ان الرجوع فی الھبۃ یتوقف علی الرضا اوالقضاء لکن قد یقال انہ ماوھبہ الا لیستردہ والموھوب منہ لایمنعہ اذاطلبہ الواھب وذلک یمنع التیمم والجواب انہ یستردہ بھبۃ اوشراء لابالرجوع فلایلزم المکروہ والموھوب منہ اذاعلم بالحیلۃ یمتنع من دفعہ للوضوء تأمل ۲؎ اھ
یہاں علّامہ شامی کا کلام دو طرح کا ہے۔ منحۃ الخالق میں مقدسی کے اعتراض کی اس طرح تائید کی ہے: ''علاوہ اس کے کہ عنقریب وافی کے حوالہ سے یہ مسئلہ آرہا ہے کہ جب رفیقِ سفر کے پاس پانی ہو اور یہ گمان ہو کہ مانگنے پر دے دے گا توتیمم جائز نہیں اور اگر اس کا یہ عندیہ ہو کہ نہیں دے گا توتیمم کرلے۔ اور اگر دینے سے متعلق اسے شک تھا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اس سے طلب کیا اور اس نے دے دیا تو اعادہ کرے۔ اور یہاں اگرچہ اپنے ہبہ سے رجوع نہ کرے لیکن اس پر یہ واجب ہے کہ پانی اس سے مانگے کیونکہ دینے کا ظن موجود ہے، ہاں مگر یہ صورت کہ دونوں باہم عہد کرلیں کہ اگر ہبہ کے بعد اس سے طلب کرے تو نہ دے تاکہ حیلہ مکمل ہوجائے، تأمل کرو''۔ اھ اور ردالمحتار میں حلیہ کے استحسان کی ان الفاظ میں تائید فرمائی ہے: ''علاوہ ازیں ہبہ سے رجوع موہوب لہ کی رضامندی یا حاکم کے فیصلہ پر موقوف ہے۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے ہبہ اسی لئے کیا ہے پھر واپس لے گا اور جسے ہبہ کیا ہے وہ واہب کے مطالبہ کے وقت پانی دینے سے انکار نہ کریگا۔ اور یہ امرتیمم سے مانع ہے اس کا جواب یہ ہے کہ دینے والا ہبہ کے ذریعے یا خرید کر واپس لے گا ہبہ سے رجوع کرکے واپس نہ لے گا۔ تو امر مکروہ لازم نہ آئے گا۔ اور جسے دیا گیا ہے جب اسے حیلہ کا علم ہے تو وضو کیلئے دینے سے وہ انکار کردے گا غور کرو''۔ اھ (ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق مع البحرالرائق    باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۴)

(۲؎ ردالمحتار        باب التیمم    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۸۶)
اقول: لا وجہ(۱) للتعقب فان الھبۃ حقیقیۃ قطعا صدرت من اھلھا فی محلھا والحیلۃ لا تنفی الحقیقۃ بل توجبھا اذ لولاھا لبطلت وکونہ یتوصل(۲) بہ الی مقصد اٰخر لاینافی قصد العقد بل یؤکدہ اذبہ یتوصل فکیف لایقصدہ وانما العقد بالایجاب والقبول عـــہ لابالغایات المضمرۃ فی النفوس والالانسدباب الحیل الشرعیۃ عن اٰخرھا مع انہ مفتوح بالکتاب العزیز والاحادیث الصحاح کمابینتہ فی کفل الفقیہ واذا ثبت العقد ثبت باحکامہ ومن احکامہ کراھۃ الرجوع تحریما فکیف لایکون محذورا ولیس المنع(۱) منہ لتأذی الموھوب لہ حتی لولم یتأذ جاز بل لا(۲) یجوز وان لم یتأذ الا تری ان لہ طریقین الرضا والقضاء ولاتأذی فی الرضا بل منعہ لانہ لیس لنا بحمداللّٰہ تعالٰی مثل السوء کما افصح بہ الحدیث الشریف اما علاوۃ الشامی فقد تکفل بالجواب عنھا وقد جزم فی ردالمحتار بما استضعفہ فی المنحۃ۔
اقول: علامہ مقدسی کے اعتراض کی کوئی وجہ نہیں اس لئے کہ ہبہ حقیقۃً ہبہ ہے جو اہل سے محل میں صادر ہوا، اور حیلہ حقیقت کو ختم نہیں کرتا بلکہ ثابت ولازم کرتا ہے اس لئے کہ اگر حقیقت کا ثبوت ہی نہ ہوتا تو حیلہ ہی باطل ہوتا۔ اور اسے کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانا قصدِ عقد کے منافی نہیں بلکہ اس سے تو قصد اور مؤکد ہوتا ہے کیونکہ اسی کے ذریعے اسے دوسرا مقصد حاصل کرنا ہے تو عقد کا قصد کیوں کر نہ ہوگا؟ عقد تو ایجاب وقبول سے ہوتا ہے، دلوں میں پوشیدہ مقاصد کا اعتبار نہیں ورنہ تمام تر شرعی حیلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے جب کہ یہ کتاب عزیز اور احادیث صحاح کی رُو سے کھُلا ہوا ہے جیسا کہ میں نے ''کفل الفقیہ الفاھم'' میں اسے واضح کیا ہے۔ اور جب عقد کا ثبوت ہوگاتو اس کے احکام کا بھی ثبوت ہوگا۔ اور عقد ہبہ کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ اس سے رجوع کرنا مکروہ تحریمی ہے تو رجوع ممنوع کیسے نہ ہوگا؟ اور رجوع سے ممانعت اس بنیاد پر نہیں کہ اس سے موہوب لہ کو اذیت ہوگی کہ اگر اسے اذیت نہ ہو تو رجوع جائز ہوجائے۔ بلکہ اسے اذیت نہ ہو جب بھی رجوع جائز نہیں۔ دیکھ لیجئے کہ رجوع کے دو۲ طریقے ہیں موہوب لہ کی رضامندی یا حاکم کا فیصلہ، اور رضامندی کی صورت میں اسے کوئی اذیت نہیں (مگر ممانعت دونوں ہی صورتوں میں ہے) بلکہ رجوع سے ممانعت اس لئے ہے کہ بحمدہٖ تعالٰی ہمارے لئے بُری مَثَل نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں اس کا صاف بیان ہے (ہبہ سے رجوع کرنے والا اس کُتّے کی طرح ہے جو اپنا قے کیا ہُوا کھانا پھر کھاتا ہے۔ مفہوماً ۱۲ م۔ الف) رہا علّامہ شامی کا ''علاوہ'' تو اس کا جواب انہوں نے خود ہی دے دیا ہے اور منحۃ الخالق میں جسے انہوں نے ضعیف سمجھا تھا ردالمحتار میں اسی پر جزم فرمایا ہے۔ (ت)
عـــہ کمن(۳) نکح الٰی شھر اوسنۃ اومائتی عام بطل وان نکح مطلقا وفی نیتہ ان یطلقھا بعد شھر اویوم اوساعۃ جاز کما فی الدر وغیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

جیسے اگر کسی نے ایک ماہ یا ایک سال یا دوسو۲۰۰ سال تک کیلئے نکاح کیا تو باطل ہے اور اگر قیدِ وقت کے بغیر نکاح کیا اور دل میں یہ نیت ہے کہ ایک ماہ یا ایک دن یا ایک ساعت کے بعد طلاق دے دے گا تو جائز ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں مذکور ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت مافائدتہ الاالتمکن من الرجوع وھو عنہ ممنوع اقول لایرجع بل یشتری اویستوھب کما قال ش وفائدتہ ان الموھوب لہ لایمتنع من بیعہ اوھبتہ علما منہ بانہ ان لم یفعل فلہ الرجوع فلایفید الامتناع بخلاف مااذا انقطع حق رجوعہ یمتنع لعلمہ ان الواھب لایقدر علی استردادہ فالصواب مع عامۃ الائمۃ ان شاء اللّٰہ تعالٰی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ اس کا فائدہ یہی تو تھا کہ آئندہ رجوع پر قدرت رہے گی اور رجوع ممنوع ہے (تو فائدہ مفقود ہے) اقول ہبہ سے رجوع نہیں کرے گا بلکہ موہوب لہ سے آبِ زمزم خرید کر یا اس سے ہبہ کراکے حاصل کرے گا جیسا کہ علامہ شامی نے فرمایا۔ اور فائدہ یہ ہے کہ موہوب لہ بیع یا ہبہ سے انکار نہ کرسکے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو واہب رجوع کرسکتا ہے تو انکار بے سود ہوگا۔ بخلاف اس صورت کے جس میں حق رجوع ختم ہوجائے اس صورت میں موہوب لہ انکار کردے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ واہب کو واپس لینے کا اختیار نہ رہا۔ تو اس مسئلہ میں حق وصواب عامہ ائمہ رحمہم اللہ کے ساتھ ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۱۴۹) پانی ایسی حالت پر ہے کہ اس کے مطلق ومقید ہونے میں اشتباہ ہے جیسے نبیذتمر وغیرہ جس میں تحقیق نہ ہو کہ پانی اُس میوے سے مغلوب ہوکر نبیذ ہوگیا یا ابھی نہیں اُس سے وضو بھی کرے کہ شاید پانی ہو اورتیمم بھی کہ شاید نہ ہو ہمارے امامِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نبیذتمر میں جو تین حکم مروی ہیں، اُس سے وضو کرے، وضو نہ کرے تیمم ہی کرے۔ وضو وتیمم دونوں کرے وہ انہیں تین حالتوں پر مبنی ہیں، جہاں پانی ہنوز مغلوب نہ ہوا وہاں اُس سے وضو کا حکم فرمایا جہاں مغلوب ہوگیاتیمم کا حکم دیا جہاں مغلوب ہونا نہ ہونا مشتبہ ہے دونوں کا جمع کرنا ارشاد فرمایا
کماذکرناہ علی ھامش رسالتنا النور والنورق
 (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ ''النور والنورق'' کے حاشیہ میں ذکر کیا ہے۔ ت)
 (۱۵۰) گدھے کا جھُوٹا پانی موجود ہے، اور نہیں اُس سے وضو بھی کرے اورتیمم بھی۔ ان دونوں نمبروں میں اختیار ہے چاہے وضو پہلے کرے خواہ تیمم اور بہتر یہ ہے کہ وضو پہلے کرے اور(۱) ان دونوں میں وضو بلانیت جائز نہ ہوگاتیمم کی طرح اس وضو میں بھی نیت شرط ہے۔ تنبیہ یہی حکم خچّر کے جھُوٹے کا ہے اگر گدھی پر گھوڑا پڑنے سے پیدا ہوا ہو ہمارے(۲) ملک میں عام خچر وہ ہیں کہ گھوڑی پر گدھا ڈال کر لیے جاتے ہیں ان خچّروں کا جھُوٹا مشکوک نہیں طاہر ہے ان کا حکم گھوڑے کی مثل ہے کہ جانوروں(۳) میں اعتبار ماں کا ہے درمختار میں ہے:

(سؤرحمار) اھلی (وبغل) امہ حمارۃ ''  اہلی (گدھے کا جھُوٹا اور خچر کا) جس کی ماں گدھی ہو۔
فلوفرسا اوبقرۃ فطاھر (مشکوک فی طھوریتہ) حتی لووقع فی ماء قلیل اعتبر بالاجزاء (فیتوضؤ بہ) اویغتسل (ویتیمّم ان فقد ماء وصح تقدیم ایہما شاء) فی الاصح اھ اماما قال بعدہ (ویقدم التیمم علی نبیذ التمر علی المذھب) المصحح المفتی بہ لان المجتھد اذارجع عن قول لایجوز الاخذ بہ ۱؎ اھ ففیما صار نبیذا ومعنی التقدیم الاختیار ای یختار التیمم حتما ولایتوضوء بہ کما افادہ ش وبیناہ فی الرسالۃ المذکورۃ۔
اگر ماں گھوڑی یا گائے ہو تو ایسے خچر کا جھوٹا پاک ہے (اس کے مطہّر ہونے میں شک ہے) یہاں تک کہ اگر آبِ قلیل میں پڑ جائے تو اجزاء کا اعتبار ہوگا (تو اس سے وضو کیا جائے گا) یا غسل کیا جائے گا (اورتیمم بھی کیا جائے گا اگر دوسرا پانی نہ ہو۔ اور) اصح مذہب میں، (تیمم وضو میں سے جسے چاہے مقدم کرے) اھ۔ لیکن اس کے بعد دُرمختار میں یہ عبارت ہے: ''(اور) تصحیح یافتہ مفتی بہ (مذہب کی بنیاد پرتیمم کو نبیذتمر پر مقدم کرے) اس لئے کہ مجتہد جب کسی قو ل سے رجوع کرلے تو اسے لینا جائز نہیں اھ یہ حکم اس صورت میں ہے جب پانی نبیذ بن گیا ہو اور یہاں تقدیم کا معنی اختیار ہے یعنی واجبی طور پرتیمم ہی اختیار کرے اور نبیذ سے وضو نہ کرے جیسا کہ علامہ شامی نے یہ افادہ فرمایا ہے اور اسے ہم نے اپنے مذکورہ رسالہ میں بھی ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار    فصل فی البئر    مطبع مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۵ تا ۱۶۷)
ردالمحتار میں ہے:فی النھر عن الفتح اختلف فی النیۃ بسؤر الحمار والاحوط ان ینوی اھ ای الاحوط القول بوجوبھا فقد قدمنا فی بحث النیۃ عن البحر عن شرح المجمع والنقایۃ معزیا الی الکفایۃ انھا شرط فیہ وفی نبیذ التمر ۲؎۔
''النہرالفائق میں فتح القدیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ گدھے کے جھُوٹے سے وضو میں نیت سے متعلق اختلاف ہے اور احوط یہ ہے کہ نیت کرے''۔ اھ یعنی احوط وجوبِ نیت ماننا ہے کیونکہ ہم نیت کی بحث میں یہ بیان کر آئے ہیں کہ گدھے کے جھُوٹے سے اور نبیذتمر سے وضو میں نیت شرط ہے اسے ہم نے البحرالرائق سے نقل کیا ہے اور بحر میں شرح مجمع اور نُقایہ سے نقل ہے اور ان دونوں میں کفایہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     فصل فی البئر    مطبع مصطفی البابی مصر       ۱/۱۶۵)
Flag Counter