| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: مگر شربت زیادہ دن نہ ٹھہرے گا اور صورت زعفران میں بھی پینا دشوار ہوگا لہذا گلاب ہی اولٰی ہے اگر حاضر ہو غرض وہ صورت کردے کہ قابلِ غسل و وضو نہ رہے اب تیمم کرے۔ (۱۴۸) اس کا دوسرا حیلہ یہ فرمایا ہے کہ زمزم کسی رفیق کو ہبہ کرکے اس کے قبضہ میں دے دے پھر اُس سے اپنے پاس بطور امانت لے لے یا اُسی کے پاس رہنے دے اورتیمم کرے کہ پانی اپنی مِلک میں نہ رہا جب وطن پہنچے یا اُس کی راہ جُدا ہو اُس سے اپنے نام مثلاً ہبہ کرالے یا کچھ دے کر خریدلے۔
خلاصہ میں ہے:رجل فی البادیۃ معہ ماء زمزم وقد رصص راس القمقمۃ لایجوزلہ التیمم والحلیۃ ان یھبھا لغیرہ ثمّ یودعھا منہ اویجعل فیہ ماء الورد او ماء الزعفران حتی یصیر مقیدا ۱؎۔
جنگل میں کوئی شخص ہے جس کے پاس آبِ زمزم ہے جس کے برتن کا مُنہ خوب بند کر رکھا ہے، اس کیلئے تیمم جائز نہیں۔ اور حیلہ یہ ہے کہ دوسرے کو بطور ہبہ دے دے پھر اس سے بطور امانت لے لے، یا اس میں گلاب یا زعفران ملا دے کہ وہ (آبِ مطلق نہ رہ جائے بلکہ) آبِ مقید ہوجائے۔ (ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی الماء الموضوع فی الفلوات الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۳۳)
فتح القدیر میں ہے:یبتلی الحاج بحمل ماء زمزم للھدیۃ (زاد فی المنیۃ اوللاستشفاء) ویرصص رأس القمقمۃ فمالم یخف العطش ونحوہ لایجوزلہ التیمّم قال المصنف والحیلۃ فیہ ان یھبہ من غیرہ ثم یستودعہ منہ ۲؎ اھ زاد فی الحلیۃ اوترکہ مع الموھوب لہ اھ۔
حاجی کو جب اس میں ابتلا ہوتا ہے کہ آبِ زمزم ہدیہ کیلئے لیے ہُوئے ہے (منیہ میں زیادہ کیا: ''یا شفاء حاصل کرنے کیلئے'') اور برتن کو مُہر بند کردیا ہے تو جب تک پیاس وغیرہ کا خطرہ نہ ہو اُس کیلئے تیمم جائز نہیں۔ مصنّف نے فرمایا: ''اس میں حیلہ یہ ہے کہ دوسرے کو بطور ہبہ دے دے پھر اس سے بطور امانت اپنے پاس لے لے''۔ اھ۔ حلیہ میں یہ اضافہ کیا: ''یا اُسی کے پاس رہنے دے جسے ہبہ کیا''۔ اھ۔
(۲؎ فتح القدیر فرع من باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۱۹)
وقال فیھا انہ مما تواردہ کثیر من المتأخرین من غیر قدح فی ھذہ الحیلۃ کصاحب الھدایۃ فی التجنیس وصاحب المبتغی بالغین المعجمۃ ۱؎ اھ
حلیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ''اسے بہت سے متأخرین نے اس حیلہ پر کوئی جرح کے بغیر ذکر کیا ہے جیسے صاحبِ ہدایہ نے تجنیس میں اور صاحب مبتغی بغین معجمہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اھ
(۱؎ حلیہ)
واعترضہ فی الخانیۃ وعن المحیط فی المنیۃ وتبعھم البزازی فی الوجیز وقال الحلبی فی الغنیۃ ھو الفقہ بعینہ ۲؎ وھذا لفظ الامام فقیہ النفس قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی ھذا لیس بصحیح عندی فانہ لو رأی مع غیرہ ماء یبیعہ بمثل الثمن اوبغبن یسیر یلزمہ الشراء ولایجوز لہ ان یتیمّم فاذا تمکن من الرجوع فی الھبۃ کیف یجوز لہ التیمّم ۳؎ اھ
خانیہ میں اور منیہ میں محیط کے حوالہ سے اس پر اعتراض کیا ہے اور وجیز میں بزازی نے اِن حضرات کی پیروی کی ہے۔ حلبی نے غنیہ میں فرمایا ہے: ''یہی فقاہت ہے، اور امام فقیہ النفس رحمہ اللہ تعالٰی کے الفاظ یہ ہیں: ''یہ میرے نزدیک درست نہیں اس لئے کہ اگر وہ کسی کے پاس پانی پائے جسے وہ ثمن مثل پر یا معمولی زیادتی کے ساتھ اسے فروخت کررہا ہے تو اس پر خریدنا لازم ہے اورتیمم جائز نہیں تو جب وہ ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے تو تیمم اس کیلئے کیونکر جائز ہوگا؟'' اھ۔
(۲؎ غنیۃ المستملی باب التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰) (۳؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۲۶)
وعن ھذا جعل الحیلۃ الاخری فی الغنیۃ وتبعہ فی الدر ان یھبہ علی وجہ ینقطع بہ الرجوع ۴؎ اھ ای بان تکون الھبۃ بشرط العوض ۵؎ اھ ش۔
اسی لئے غنیہ میں اور اس کی تبعیت کرتے ہُوئے درِمختار میں دوسرا حیلہ یہ بتایا ہے کہ اس طرح ہبہ کرے کہ رجوع نہ کرسکے اھ۔ یعنی اس طرح کہ ہبہ بشرط عوض ہو اھ شامی۔
(۴؎ غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰) (۵؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۶)
واعترضہ العلامۃ ط قائلا عدم التقیيد اولی (ای ترک تقیيد الھبۃ بشرط الرجوع) لانہ اذاکان یھبہ علی ھذا الوجہ لا تعود علیہ فائدتہ فالاولی ان ینتفع بہ لنفسہ ۱؎ اھ ای اذا وھب بحیث سقط تمکن الرجوع خرج من یدہ واختیارہ ففیم الحیلۃ لانھا انما کانت لینتفع بہ اھداء واستشفاء واجاب ش بان المراد یھبہ ممن یثق بہ بانہ یردہ علیہ بعد ذلک ۲؎ اھ۔
اس پر علامہ طحطاوی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ''ہبہ بشرط رجوع کی قید نہ لگانا'' اولی ہے اس لئے کہ جب اسے اس طور پر ہبہ کردے گا تو اس کا فائدہ اسے حاصل نہ ہوسکے گا۔ تو بہتر یہ ہے کہ خود ہی اس سے فائدہ اٹھائے'' اھ یعنی جب اس طرح ہبہ کردیا کہ رجوع نہیں کرسکتا تو وہ اس کے قبضہ واختیار سے نکل گیا پھر حیلہ کس بات کا؟ حیلہ تو اسی لئے تھا کہ اسے ہدیہ کرنے یا اس سے شفاء حاصل کرنے کا فائدہ اٹھا سکے۔ علّامہ شامی نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا: ''مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو ہبہ کرے جس پر اعتماد ہو کہ وہ بعد میں اسے واپس کردے گا'' اھ۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۳۴) (۲؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۶)
اقول:(۱) ربما لایجد فی السفر من یثق بہ ولذا قالوا یھبہ من غیرہ ولم یقیدوہ بموثوق بہ ولوکان(۲) المراد ھذا لکان یکفی ان یبیعہ ثم اذا وصلا اوتفرق طریقھما یشتری منہ وقد کان البیع اشھر منھا یعرفہ کل احد بخلاف الھبۃ بشرط العوض التی ھی برزخ بینھما ھبۃ ابتداء وبیع انتھاہ ولم یذکر البیع احد اما اشکال الخانیۃ فقد اجاب عنہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح بان الرجوع تملک بسبب مکروہ وھو مطلوب العدم شرعا فیجوز ان یعتبر الماء معدوما فی حقہ لذلک وان قدر علیہ حقیقۃ کماء الحب بخلاف البیع ۳؎ اھ
اقول: سفر میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ قابلِ اعتماد آدمی نہیں ملتا۔ اسی لئے فقہاء نے دوسرے کو ہبہ کرنے کی بات تو کہی ہے مگر اس کے قابلِ اعتماد ہونے کی قید نہیں لگائی۔ اگر یہ مراد ہوتی تو یہی کافی تھا کہ اسے فروخت کردے پھر جب دونوں وطن پہنچ جائیں یا جب دونوں کا راستہ الگ الگ ہو تو یہ اس سے خریدلے۔ اور بیع تو زیادہ مشہور چیز ہے جسے ہر شخص جانتا ہے بخلاف ہبہ بشرط عوض کے جو بیع وہبہ کے درمیان برزخ ہے کہ ابتداءً ہبہ ہے اور انتہاءً بیع ہے اور بیع کو کسی نے ذکر نہ کیا۔ رہا خانیہ کا اعتراض تو فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ''رجوع کرنا ایک مکروہ سبب کے ساتھ مالک بننا ہے اور اس فعل کا عدم شرعاً مطلوب ہے تو اس کے باعث پانی اس کے حق میں معدوم قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ حقیقۃً اس پر قادر ہو جیسے سبیل کا پانی، بخلاف بیع کے'' اھ۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۱۹)