Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
111 - 166
ومثلہ فی غمز العیون عن شرح الجامع الصغیر للتمرتاشی لکن البحر قدم فی بحث الماء المستعمل عن الخانیۃ ان توضأ فی اناء فی المسجد جاز عندھم ۳؎ اھ وعلیہ مشی فی اشباھہ فقال تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعد لذلک لایصلی فیہ اوفی اناء ۴؎ اھ واعتمد السید الحموی مقالتہ فی الاعتکاف فقال ھذا الحکم وان کان فی الخانیۃ لکن لیس علی العموم کما یفھم من کلامہ بل فی المعتکف فقط بشرط عدم تلویث المسجد قال فی البدائع ۵؎ الی اٰخر ماقدمنا عن اعتکاف البحر ۔
اسی کے مثل غمزالعیون میں تُمُرتاشی کی شرح جامع صغیر کے حوالہ سے لکھا ہوا ہے۔ لیکن صاحبِ بحر خانیہ کے حوالہ سے مائے مستعمل کی بحث میں یہ لکھ چکے ہیں کہ: ''اگر مسجد کے اندر کسی برتن میں وضو کیا تو ان حضرات کے نزدیک جائز ہے''۔ اھ اسی قول پر وہ اپنی کتاب اشباہ میں بھی چلے ہیں۔ اس میں لکھا ہے: ''مسجد میں کُلی کرنا اور وضو کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ وہاں کوئی ایسی جگہ ہو جو اسی کام کیلئے بنی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو یا کسی برتن میں وضو ہو'' اھ۔ باب الاعتکاف میں ان کا جو قول ہے اسی پر سید حموی نے اعتماد کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ''یہ حکم اگرچہ خانیہ میں ہے مگر عام نہیں جیسا کہ ان کے کلام سے سمجھ میں آتا ہے۔ بلکہ صرف معتکف کیلئے ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔ بدائع میں ہے (اس کے بعد وہ پوری عبارت درج کی ہے جو اعتکافِ بحر کے حوالہ سے ابھی ہم لکھ چکے)
 (۳؎ البحرالرائق    آخر بحث الماء المستعمل             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱/۹۶)

(۴؎ الاشباہ والنظائر    القول فی احکام المسجد                  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۲۳۰)

(۵؎ غمز عیون البصائر   القول فی احکام المسجد                  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۲۳۰)
وقال العلامۃ الرملی فی حاشیتہ الظاھر ترجیح مافی فتاوٰی قاضئخان ۱؎ اھ نقلہ فی المنحۃ۔
اور صاحب خیر یہ علامہ رملی نے اپنے حاشیہ میں لکھا ہے کہ: ''ظاہر اسی کی ترجیح ہے جو فتاوٰی قاضی خان میں ہے اھ''۔ یہ عبارت علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کی ہے۔ (ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق مع البحر    بحث الماء المستعمل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۶)
اقول: بل(۱) الاولی التوفیق فان کان الاناء بحیث یخشی ان لاتقع الغسالۃ کلھا فیہ بل یترشش بعض منھا خارجہ کسرہ ولعلہ الغالب فلذا اطلق المنع فی باب الاعتکاف وان امن ذلک لم یکرہ وھو مراد الخانیۃ واللّٰہ تعالٰی ھذا وقال ط فی المسألۃ الدائرۃ ھو والسید ابو السعود الازھری ظاھر ما فی المحیط وجوب ھذا التیمّم وفصل فی السراج بین ان یخرج سریعا فیجوز ترکہ او یمکث فیہ للخوف فلایجوز ترکہ وعلیہ یحمل مافی المحیط ۲؎ اھ اھ دل قولھما اھ علی ان الجملۃ الاخیرۃ علیہ یحمل مافی المحیط من کلام السراج الوھاج۔
اقول: بلکہ (بجائے ترجیح کے) تطبیق بہتر ہے۔ اگر برتن ایسا ہو جس میں یہ اندیشہ ہو کہ سارا غسالہ اس کے اندر نہ پڑے گا بلکہ کچھ چھینٹے اس سے باہر بھی جائیں گے تو اندرونِ مسجد ایسے برتن میں وضو مکروہ ہے۔ شاید یہی صورت زیادہ تر پائی جاتی ہے اسی لئے باب الاعتکاف میں مطلقاً منع کیا ہے اور اگر چھینٹے باہر جانے کا اندیشہ نہ ہو تو مکروہ نہیں۔ یہی خانیہ کی مراد ہے واللہ تعالٰی اعلم، یہ ذہن نشین رہے زیرِ بحث مسئلہ (مسجد سے نکلنے کیلئے تیمم جنب) میں سید طحطاوی اور سید ابو السعود ازہری لکھتے ہیں کہ: ''عبارت محیط کا ظاہر بتاتا ہے کہ یہ تیمم واجب ہے اور سراج میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تیزی سے نکل جائے تو ترکِ تیمم جائز ہے اور کسی خوف کی وجہ سے ٹھہرا رہے تو ترک جائز نہیں اور اس پر وہ بھی محمول ہوگا جو محیط میں ہے اھ اھ'' طحطاوی وازہری کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آخری جملہ (اسی پر وہ بھی محمول ہوگا جو محیط میں ہے) سراج وہاج کا قول ہے۔ (ت)
 (۲؎ طحطاوی علی الدر    باب الحیض        مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت    ۱/۱۴۹)
اقول(۲) وفیہ نظر ظاھر فان صریح کلام المحیط فی الخروج دون اللبث ھذا وانا اقول وباللّٰہ التوفیق یؤید الفارقین بین الدخول والخروج مسألۃ فی الصوم فقد نصوا ان(۱) من جامع ناسیا اولیلا فطلع الفجر نزع مع الذکر والفجر لاشیئ علیہ وان امنی بعد النزع لانہ کالاحتلام ولومکث  قضی۱؎ کمافی الدر وعامۃ الاسفار الغر فا لایلاج جماع والمکث جماع والنزع اقلاع لاجماع والا لوجب فساد الصوم۔
اقول: یہ کھُلے طور پر محلِ نظر ہے اس لئے کہ عبارت محیط میں ٹھہرنے والی صورت کا ذکر نہیں بلکہ صرف صورتِ خروج کا صریح بیان اس میں ہے یہ ذہن نشین رہے۔ اور اب میں کہتا ہوں (اقول) اور توفیقِ خدا ہی سے ہے۔ جنابت کے ساتھ مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی صورتوں میں جو حضرات فرق کرتے ہیں ان کی تائید روزہ کے ایک مسئلہ سے ہوتی ہے۔ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ جس نے بھُول کر جماع کیا یا رات کو جماع کر رہا تھا کہ فجر طلوع ہوگئی اگر پہلی صورت میں یاد آتے ہی، اور دوسری صورت میں فجر نمودار ہوتے ہی ہٹ گیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں اگر ہٹنے کے بعد منی خارج ہو اس لئے کہ یہ احتلام کی طرح ہوگا اور اگر فوراً نہ ہٹا بلکہ ذرا دیر ہی ٹھہرا رہا تو روزہ کی قضا کرے جیسا کہ درمختار اور عامہ کتب میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ داخل کرنا جماع ہے اور ٹھہرنا بھی جماع ہے لیکن نکالنا اور ہٹنا جماع کرنا نہیں بلکہ جماع سے باز آنا ہے ورنہ روزہ ضرور فاسد ہوجاتا (اسی طرح جنب کا مسجد میں داخل ہونا اور ٹھہرنا تو ممنوع ہے اور بغیرتیمم جائز نہیں مگر مسجد سے نکلنا یہ ممنوع نہیں بلاتیمم بھی جائز ہے)۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی    باب مایفسد الصوم    مصطفی البابی مصر    ۲/۱۰۸)
الاّ ان یقال ھو مستثنی بدلالۃ الکریمۃ
 اُحِلّ لکم لیلۃ الصّیام الرفث الی نسائکم ۲؎
واللیل الٰی طلوع الفجر فالحل ممتد الیہ ومن لازمہ وقوع النزع بعد الفجر فلم یعد جماعا وان کان فیہ الکون فی الفرج مالم یستتم خروجا لانہ لاسبیل لہ الی الاقلاع الا ھذابخلاف من فی المسجد فلہ سبیل الی التیمّم تأمل فانہ موضعہ۔
مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جماع سے رُکنے والی مذکورہ صورت آیت کریمہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الٰی نسائکم (تمہارے لئے روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے قربت جائز کی گئی) سے مستثنٰی ہے۔ اس لئے کہ رات طلوعِ فجر تک ہے تو قربت کا جواز طلوعِ فجر تک دراز ہوگا جس کیلئے لازم ہے کہ رکنا اور نکالنا بعد فجر واقع ہو تو اس صورت میں جب تک کہ بعد فجر ہٹنا مکمل نہیں ہوتا شرمگاہ سے مشغولیت کا معنٰی متحقق رہتا ہے پھر بھی اسے جماع نہ شمار کیا گیا اس لئے کہ اس کیلئے ایسی حالت میں ہٹنے اور باز آنے کی اور کوئی صورت نہیں لیکن جو جنب مسجد سے نکلنا چاہتا ہے اس کیلئے جنابت کے ساتھ ہی نکلنا ضروری نہیں بلکہ اس کیلئے ایک صورت یہ ہے کہ تیمم کرکے نکلے تأمل فانہ موضعہ (یہاں تأمل اور غور کرنے کا موقع ہے)۔ (ت)
 (۲؎ القرآن        ۲/۱۸۷)
اقول: لایبعد علی ھذا ان قیل ان الجنب ممنوع عن المسجد لبثا واجتیازا وھو فی الخروج بلا تیمّم مجتاز وفی اللبث للتیمم ماکث لانہ لایطھر مالم یتم التیمم فان کان مکثہ ھذا لتطھیر الجسد فان اجتیازہ ھذا لتنزیہ المسجد فھو بین بیلتین فلیختر اھونھما وبین نجاتین فلیرتد اعجلھما بان ینظر ایھما اسرع تیممّہ اوخروجہ فیختارہ وان استویا خیر ولکن لیس لمثلی ان یکون لہ قیل فی حکم وانما علی اتباع مارجحوہ وصححوہ۔
اقول: اس اعتراض پر اگر یہ کہا جائے تو بعید نہ ہوگا کہ جنب کیلئے مسجد میں ٹھہرنا اور مسجد سے گزرنا دنوں ہی منع ہے اور اگر وہ بلاتیمم نکلتا ہے تو گزرنے کی صورت پائی جاتی ہے اورتیمم کرنے کیلئے رُکتا ہے تو ٹھہرنے کی صورت پائی جاتی ہے، اس لئے کہ جب تک اس کاتیمم مکمل نہیں ہوتا وہ ناپاک اور جنب ہی ہے۔ اب دیکھیے اس کا یہ ٹھہرنا اگر بدن کی تطہیر کیلئے ہے تو اس گا گزرنا مسجد کی تنزیہ کیلئے ہے تو وہ دو۲ مصیبتوں میں گھرا ہے (ٹھہرنا اور گزرنا) جو آسان اور ہلکی ہو اسے اختیار کرے اور دو۲ نجاتیں اس کے سامنے ہیں (تطہیر بدن اور تنزیہ مسجد) جو جلد مل سکے اسی کو حاصل کرلے وہ نظر کرے کہ کون جلد ہوسکتا ہے تیمم کرنا یا باہر نکلنا جو جلدی ہو اسے اختیار کرے اور اگر دونوں برابر ہوں تو کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے یہ وہ فیصلہ ہے جو میرے ذہن میں آیا مگر مجھ جیسے شخص کا یہ مقام نہیں کہ کسی حکم میں اس کا کوئی قول ہو۔ میرے ذمّہ تو اسی کا اتباع ہے جسے فقہائے کرام نے ترجیح دی اور جس کی تصحیح کی (ت)
فاذن اقول قدم فی الخانیۃ والمحیط والاختیار القول بالوجوب وفقیہ النفس لایقدم الا الاظھر الاشھر کماصرح بنفسہ فی صدر فتاواہ فیکون ھو المعتمد کما قالہ ط وش وکذلک قدمہ الباقون التقدیم دلیل الترجیح ثم نحن بین حاظر ومبیح فالاخذ بالحاظر احوط ثم المبیح لاینھی عن التیمّم بل یستحبہ والحاظر یوجبہ ففعلہ متفق علیہ وترکہ مختلف فیہ فالاخذ بالمتفق علیہ اولی واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس کے پیش نظر میں کہتا ہوں (اقول) خانیہ، محیط اور اختیار میں وجوبِ تیمم کا قول مقدم رکھا ہے اور امام فقیہ النفس اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو جیسا کہ فتاوٰی خانیہ کے شروع میں خود ہی اس کی تصریح فرمائی ہے تو معتمد قول یہی ہوگا جیسا کہ طحطاوی وشامی نے فرمایا اسی طرح دیگر حضرات نے بھی اسے مقدم رکھا ہے اور تقدیم دلیل ترجیح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم حاظر ومبیح (ناجائز قرار دینے اور جائز قرار دینے والے) کے درمیان ہیں تو حاظر کو اختیار کرنے میں ہی زیادہ احتیاط ہے۔ تیسری بات یہ  ہے کہ جو جائز کہتے ہیں وہ بھی تیمم سے منع نہیں کرتے بلکہ اسے مستحب کہتے ہیں اور جو ناجائز کہتے ہیں وہ تیمم کو واجب قرار دیتے ہیں توتیمم کرنے کی صورت متفق علیہ ہے (کسی کو اس کے جواز سے اختلاف نہیں) اور ترک تیمم کی صورت مختلف فیہ ہے (کیونکہ تیمم کو واجب کہنے والوں کے نزدیک ترکِ تیمم جائز نہیں) تو اُسی صورت کو اختیار کرنا بہتر اَولٰی ہے جو متفق علیہ ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۱۴۳) نہانے کی حاجت ہے پانی مسجد کے اندر ہے جیسے وسط مسجد میں حوض یا وہ کُنواں جس تک مسجد ہی میں ہوکر راہ ہے اور اس کے سوا پانی اور کہیں نہیں پاتا نہ کوئی مسجد میں سے لادینے والا ہے تیمم کرکے جائے اور پانی لے آئے۔ محیط رضوی پھر البحرالرائق میں ہے:
جنب مر علی مسجد فیہ ماء یتیمم للدخول ولایباح لہ الابالتیمّم ۱؎۔
کسی جنابت والے کو کسی ایسی مسجد سے گزرنا ہے جس میں پانی ہے تو دخولِ مسجد کے لئے وہ تیمم کرے اور اسے  بغیرتیمم داخل ہونا جائز نہیں اھ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق    باب التیمم عند قولہ ولوجنباً اوحائضاً  ا یچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۷)
مبسوط پھر عنایہ پھر شامی میں ہے:مسافر مر بمسجد فیہ عین ماء وھو جنب ولایجد غیرہ یتیمم لدخول المسجد عندنا ۲؎۔
کوئی مسافر بحالتِ جنابت کسی ایسی مسجد کے پاس سے گزرا جس میں پانی کا چشمہ ہے اور دوسرا پانی اس کی دسترس میں نہیں تو ہمارے نزدیک دخول مسجد کیلئے اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار، باب الحیض، مصطفی البابی مصر ، ۱/۲۱۴)
منیہ میں ہے : جنب وجد الماء فی المسجد ولیس معہ احد تیمّم ودخل ۱؎ قال فی الحلیۃ اذا کان لایجد ماء غیرہ یقدر علی استعمالہ شرعا ۲؎ الخ۔
کوئی جنب ہے جس کے لئے مسجد ہی میں پانی دستیاب ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا نہیں تو وہ تیمم کرکے مسجد میں جائے۔ حلیہ میں فرمایا: بشرطیکہ کوئی دوسرا ایسا پانی اس کی دسترس میں نہ ہو جس کے استعمال پر شرعاً اسے قدرت ہو الخ۔ (ت)
 (۱؎ منیۃ المصلی     باب التیمم     مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور    ص۵۲)

(۲؎ حلیہ)
اقول: فقد جمع بین الشرطین وھما مراد ان قطعا وان اھملھما فی المحیط واقتصر فی المبسوط والمنیۃ علی واحد واحد۔
اقول: حلیہ میں دونوں شرطیں جمع کردی ہیں اور دونوں ہی قطعاً مراد ہیں اگرچہ محیط میں دونوں ذکر نہ کیں۔ اور مبسوط ومنیہ میں صرف ایک ایک پر اکتفاء کیا۔ (ت)
 (۱۴۴ تا ۱۴۶) اقول بد ستور یہاں بھی وہی صورتیں ہوں گی کہ اگر پانی لادینے والا اُجرت مثل مانگتا ہے اور یہ ابھی دے سکتا ہے يا وہ ادھار پر راضی ہے تیمم جائز نہیں ورنہ جائز،
ثم رأیت بحمداللّٰہ تعالی اشار الی بعضھا فی الحلیۃ مع افادات عـــہ زائدۃ فراجعھا تحت قول المنیۃ المذکور۔
پھر میں نے دیکھا کہ بحمداللہ تعالٰی ان میں سے بعض کی طرف حلیہ میں مزید کچھ افادات کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ منیہ کی مذکورہ عبارت کے تحت یہ سب حلیہ میں دیکھا جائے۔ (ت)
عــــہ قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی ھل یجب سوال ذلک لاحد اویستحب، فیہ تأمل ویمکن ان یفرع علی مسئلۃ طلب الماء رفیقہ اذا کان معہ ماء فیقال تفریعا علی احد اقوال فیھا یجب ان غلب علی ظنہ اجابتہ ولو باجرۃ المثل والالا وعلٰی قول اٰخر لایجب عند ابی حنیفۃ ویجب عندھما وعلٰی قول اٰخر یجب مطلقا بلا اختلاف وحیث یجب لایصح تیمّمہ للدخول الابعد المنع ۱؎ اھ

صاحبِ حلیہ رحمہ اللہ تعالٰی رقم طراز ہیں: اس دوسرے شخص سے پانی مانگنا واجب ہے یا مستحب ہے۔ یہ مقامِ تأمّل ہے۔ اِس کی تفریع اُس مسئلہ پر کی جاسکتی ہے جب رفیقِ سفر کے پاس پانی ہو۔ اس مسئلہ سے متعلق اقوال میں سے ایک قول پر تفریع کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ظنِ غالب ہو کہ طلب کرنے پر دے دے گا خواہ اُجرتِ مثل پر سہی، تو طلب کرنا واجب ہے ورنہ نہیں اور دوسرے قول پر یہ کہ امام اعظم کے نزدیک واجب نہیں اور صاحبین کے نزدیک واجب ہے اور ایک قول پر یہ مطلقاً بلا اختلاف واجب ہے اور جس صورت میں وجوب ہے دخولِ مسجد کیلئے تیمم جائز نہیں مگر اس کے بعد ہے کہ وہ دوسرا اسے پانی نہ دے اھ۔
 (۱؎ حلیہ)
Flag Counter