اقول: سبحٰن(۱) اللّٰہ کیف یباح للجنب المکث فی المسجد بلاتیمّم وھو حرام اجماعا والخائف ان عجز عن الخروج والاغتسال فھو بسبیل من التیمم والتیمم طھارۃ صحیحۃ عند العجز عن الماء فاباحۃ اللبث فی المسجد جنبا مع القدرۃ علی الطھارۃ مما تنبو عنہ القواعد الشرعیۃ وان جزم بہ فی التاترخانیۃ ایضا فعنھا فی الھندیۃ اذاخاف الجنب اوالحائض سبعا اولصا اوبردا فلاباس بالمقام فیہ والاولٰی ان یتیمم تعظیما للمسجد ۲؎ اھ
اقول: سبحان اللہ۔ صاحبِ جنابت کیلئے بلاتیمم مسجد میں ٹھہرنا کیوں کر جائز ہوگا جبکہ یہ بالاجماع حرام ہے۔ خوف والا اگر نکلنے اور غسل کرنے سے عاجز ہو تو اس کیلئے تیمم کی اجازت ہے۔ اور پانی سے عجز کے وقت تیمم طہارت صحیحہ ہے تو طہارت پر قدرت کے باوجود مسجد میں بحالتِ جنابت ٹھہرنے کو جائز قرار دینا ایسی بات ہے جس سے شرعی اصول وقواعد ہم آہنگ نہیں اگرچہ اس پر تاتارخانیہ میں بھی جزم کیا ہے۔ اس کے حوالہ سے ہندیہ میں ہے: ''جنبی یا حائض کو جب کسی درندہ یا چور یا ٹھنڈک کا خطرہ ہو تو مسجد کے اندر ٹھہرنے میں حرج نہیں، اور تعظیمِ مسجد کے پیشِ نظرتیمم کرلینا بہتر اور اولٰی ہے'' اھ۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الرابع فی احکام الحیض الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۳۸)
بل وفی الخانیۃ من موجبات الغسل ثم فی خزانۃ المفتین حیث قالا من احتلم فی المسجد ینبغی ان یخرج من ساعتہ فان کان فی اللیل وخاف الخروج یستحب لہ ان یتیمّم ۱؎ اھ۔
بلکہ خانیہ میں موجبات الغسل کے تحت پھر خزانۃ المفتین میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ: ''جسے مسجد میں احتلام ہو اسے فوراً باہر نکل جانا چاہئے۔ اگر رات کا وقت ہو اور نکلنے میں خطرہ ہو توتیمم کرلینا مستحب ہے'' اھ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یوجب الغسل مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۲۲)
نعم الخروج مسرعا بلاتیمّم لہ وجہ کمااشار الیہ فی المحیط الرضوی ولھذا مشی غیر واحد علی وجوب التیمم فی المکث وندبہ فی الخروج وان کان ظاھر ما مر عن خزانۃ المفتین ندب ترکہ فی الخروج ففی الدر من احکام الجنب لو احتلم فیہ ان خرج مسرعا تیمم ندبا وان مکث لخوف فوجوبا ۲؎ اھ قال ش افاد ذلک فی النھر توفیقا بین اطلاق مایفید الوجوب ومایفید الندب ۳؎ اھ۔
ہاں بغیرتیمم کے تیزی سے نکل جانا تو ایک وجہ رکھتا ہے جس کی طرف محیط رضوی میں اشارہ کیا ہے۔ اسی لئے متعدد حضرات اسی قول پر چلے ہیں کہ ٹھہرنے کی صورت میں تیمم واجب ہے اور نکلنے کی صورت میں مستحب ہے۔ اگرچہ خزانۃ المفتین کی گزشتہ عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ نکلنے کی صورت میں ترکِ تیمم مستحب ہے۔ درمختار میں احکامِ جنب کے تحت ہے: ''مسجد میں احتلام ہوا اگر تیزی سے نکلنا ہو توتیمم مستحب ہے اور اگر کسی خوف کی وجہ سے ٹھہرتا ہے تو واجب ہے''۔ اھ شامی میں کہا کہ: ''نہر فائق میں یہ افادہ فرمایا ہے تاکہ جن عبارتوں سے مطلقاً وجوب مستفاد ہوتا ہے اور جن سے مطلقاً استحباب مستفاد ہوتا ہے دونوں میں تطبیق ہوجائے (ت)
(۲؎ الدرالمختار مع الشامی موجبات الغسل مصطفی البابی مصر ۱/۱۲۶)
(۳؎ ردالمحتار موجبات الغسل مصطفی البابی مصر ۱/۱۲۶)
اقول: صریح(۱) نص الخانیۃ والمحیط والاختیار لایباح لہ الخروج فھذا لیس بتوفیق بل تلفیق وقال فی باب الحیض تحت قولہ یمنع حل الدخول مسجد افاد منع الدخول ولوللمرور وقدم(۲) فی الغسل تقییدہ بعدم الضرورۃ بان کان بابہ الی المسجد ولایمکنہ تحویلہ ولا السکنی فی غیرہ وذکرنا ھناک ان الظاھر حینئذ انہ یجب التیمّم للمرور اخذا مما فی العنایۃ عن المبسوط ۱؎ (ای کمایأتی) وکذا لومکث فی المسجد خوفا من الخروج بخلاف مالو احتلم فیہ وامکنہ الخروج مسرعا فانہ یندب لہ التیمم لظھور الفرق بین الدخول والخروج ۲؎ اھ
اقول: خانیہ، محیط اور اختیار کے صریح الفاظ یہ ہیں کہ اس کے لئے نکلنا مباح نہیں، تو یہ تطبیق نہ ہُوئی بلکہ تلفیق ہُوئی۔ اور علامہ شامی نے باب الحیض میں ''یمْنَعُ حِلَّ دخولِ مسجد'' (حیض دخولِ مسجد کے جواز سے مانع ہے) کے تحت تحریر فرمایا ہے:''ان الفاظ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر صرف گزرنے کے طور پر مسجد میں دخول ہو تو یہ بھی ممنوع ہے۔ اور غسل کے بیان میں گزرنے کی ممانعت صرف اس حالت سے مقید کی ہے جب مسجد سے گزرنے کی ضرورت نہ ہو۔ ضرورت کی صورت یہ ہے کہ مثلاً اس کا دروازہ مسجد میں ہے اور نہ دروازہ دوسری طرف پھیر سکتا ہے نہ کسی دوسرے گھر میں رہ سکتا ہے۔ وہاں پر ہم نے عنایہ میں مبسوط کے حوالہ سے ذکر شدہ عبارت (جو آگے آنے والی ہے) سے اخذ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ ایسی صورت میں مسجد سے گزرنے کے لئے تیمم واجب ہے۔ اسی طرح اگر نکلنے کے خوف سے مسجد ہی میں ٹھہرتا ہے تو بھی تیمم واجب ہوگا بخلاف اس صورت کے جبکہ مسجد میں اسے احتلام ہُوا اور تیزی سے نکل سکتا ہے کہ ایسے شخص کے لئے تیمم مستحب ہے اس لئے کہ داخل ہونے اور نکلنے میں نمایاں فرق ہے''۔ اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱/۲۱۴)
(۲؎ ردالمحتار باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱/۲۱۴)
وقال السید ط علی مراقی الفلاح لواجنب فیہ تیمّم و خرج من ساعتہ ان لم یقدر علی استعمال الماء وکذا لودخلہ وھو جنب ناسیا ثم ذکر و ان خرج مسرعا من غیر تیمّم ولبث فیہ ولایجوز لبثہ بدونہ الا انہ لایصلی ولایقرؤ کما فی السراج ۳؎ اھ
سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا ہے: ''اگر اسے مسجد میں جنابت لاحق ہُوئی توتیمم کرے اور فوراً باہر نکل جائے اگر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو ایسے ہی اگر جنابت کی حالت میں بھُول کر مسجد میں چلا گیا پھر یاد آیا تو یہی حکم ہے۔ اور اگر بغیرتیمم کے تیزی سے نکل جائے تو جائز ہے۔ اور اگر نکلنے پر قادر نہ ہو توتیمم کرکے مسجد میں ٹھہرے اس کے بغیر ٹھہرنا جائز نہیں مگر اس تیمم سے نہ نماز پڑھ سکتا ہے نہ تلاوت کرسکتا ہے جیسا کہ سراج میں ہے''۔ اھ (ت)
(۳؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الحیض والنفاس الخ مطبعۃ ازہریہ مصر ص۸۳)
اقول:(۱) ومعنی القدرۃ علی استعمال الماء ان یکون ثمہ ماء وموضع اعد للاغتسال اوعندہ اناء یمکن ان یغتسل فیہ بحیث لایقع شیئ من الغسالۃ فی المسجد اوتکون لہ ثیاب صفیقۃ تمسک الماء فیغتسل علیھا ثم یرمی بہ خارج المسجد وھو واقعتی وللّٰہ الحمد کنت معتکفا فی مسجدی فی الشتاء واردت الوضوء وکان المطر شدیدا فتؤضات علی لحافی ولم تصب المسجد قطرۃ وللّٰہ الحمد وکان ھذا بحمداللّٰہ تعالٰی الھاما من ربی ثم بعد سنین رأیت الارشاد الیہ فی البحر عن تجنیس الامام الاجل صاحب الھدایۃ قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی لو(۲) سبقہ الحدث وقت الخطبۃ یوم الجمعۃ فان وجد الطریق انصرف وتوضأ وان لم یمکنہ الخروج یجلس ولایتخطی رقاب الناس فان وجد ماء فی المسجد وضع ثوبہ بین یدیہ حتی یقع الماء علیہ ویتوضؤ بحیث لاینجس المسجد ویستعمل الماء علی التقدیر ثم بعد خروجہ من المسجد یغسل ثوبہ قال البحر وھذا حسن جدا ۱؎ اھ۔
اقول: پانی کے استعمال پر قدرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں پانی اور غسل کیلئے بنی ہوئی کوئی جگہ ہو۔ یا اس کے پاس کوئی ایسا برتن ہو جس میں اس طرح غسل کرسکتا ہو کہ مسجد میں اس کا غسالہ ذرا بھی گرنے نہ پائے۔ یا اس کے پاس پانی روک لینے والے دبیز کپڑے ہوں تو ان پر غسل کرے پھر پانی مسجد سے باہر پھینک دے بحمداللہ اسی صورت پر ایک بار مجھے عمل کا اتفاق ہوا۔ موسم سرما میں اپنی مسجد میں معتکف تھا اور سخت بارش ہورہی تھی میں نے وضو کرنا چاہا تو اپنے لحاف پر اس طرح وضو کیا کہ مسجد میں ایک قطرہ بھی نہ پڑ سکا۔ وللہ الحمد۔ اس وقت یہ طریقہ بحمد اللہ خدا کی جانب سے بطور الہام دل میں آیا پھر کئی سال بعد میں نے البحرالرائق میں دیکھا کہ امامِ اجل صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ تعالٰی کی ''تجنیس'' کے حوالہ سے اس کی ہدایت موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ''اگر کسی کو جمعہ کے دن خطبہ کے وقت حدث لاحق ہوگیا تو اگر نکلنے کا راستہ ملے نکل جائے اور وضو کرے۔ اور اگر نکلنا ممکن نہ ہو تو اس وقت بیٹھا رہے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نہ جائے، پھر اگر مسجد کے اندر پانی مل جائے تو سامنے اپنا کپڑا اس طرح رکھ لے کہ پانی اسی پر پڑے اور اس طرح وضو کرے کہ مسجد نجس نہ ہو اور پانی ایک خاص اندازے سے علی(التقدیر) استعمال کرے پھر مسجد سے نکلنے کے بعد اپنا وہ کپڑا دھولے''۔ صاحبِ بحر نے فرمایا: ''یہ بڑی اچھی صورت ہے''۔ اھ (ت)
اقول: قولہ لاینجس والامر بغسل الثوب بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل وقول علی التقدیر ای التقلیل کیلا ینفذ الماء من الثوب فانکان الثوب کثیرا لقطن کواقعتی یسبغ الوضوء کمافعلت وللّٰہ الحمد۔
اقول: صاحبِ ہدایہ کی عبارت میں مسجد کے نجس ہونے کی بات اور کپڑا دھونے کا حکم مائے مستعمل کی نجاست کی بنیاد پر ہے۔ اور ان کے قول ''علی التقدیر'' (ایک خاص اندازے سے) کا مطلب یہ ہے کہ پانی کم استعمال کرے تاکہ پانی کپڑے سے نفوذ کرکے مسجد میں نہ گرنے پائے۔ ہاں اگر کپڑا زیادہ رُوئی والا ہو جیسا کہ میرا واقعہ تھا تو وضو میں اسباغ کرے جیسے میں نے پورے طور سے وضو کیا۔ وللہ الحمد۔ (ت)
قال فی الدر(۱) ومن منھیاتہ التوضی فی المسجد الافی اناء اوفی موضع اعد لذلک ۱؎ اھ قال ط فعلہ فیہ مکروہ تحریما لوجوب صیانتہ عمایقذرہ وانکان طاھرا ۲؎ اھ بل نقل فی البحر من الاعتکاف عن البدائع ان غسل المعتکف راسہ فی المسجد لاباس بہ اذالم یلوثہ بالماء المستعمل فانکان بحیث یتلوث المسجد یمنع منہ لان تنظیف المسجد واجب ولوتوضأ فی المسجد فی اناء فھو علی ھذا التفصیل ۳؎ اھ
دُرمختار میں ہے: ''مسجد میں وضو کرنا بھی اس کے ممنوعات سے ہے مگر کسی برتن میں یا ایسی جگہ وضو کرسکتا ہے جو وضو کیلئے بنی ہُوئی ہو'' اھ۔ طحطاوی فرماتے ہیں: ''مسجد میں وضو کرنا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مسجد کو ہر آلودہ کرنے والی اور خلافِ نظافت چیز سے بچانا ضروری ہے اگرچہ وہ کوئی پاک ہی چیز ہو''۔ اھ بلکہ بحر کے باب الاعتکاف میں بدائع سے نقل کیا ہے کہ: ''اگر معتکف مسجد میں سر دھوئے تو حرج نہیں جبکہ مائے مستعمل سے مسجد آلودہ نہ ہونے دے، اگر مسجد آلودہ ہونے کی صورت ہو تو ممنوع ہے کیونکہ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے اور اگر مسجد کے اندر کسی برتن میں وضو کرے تو اس میں بھی یہی تفصیل ہے''۔ اھ ۔
(۱؎ الدرالمختار مع الطحطاوی مکروہات الوضوء مطبوعہ بیروت ۱/۷۶)
(۲؎ طحطاوی علی الدر مکروہات الوضوء مطبوعہ بیروت ۱/۷۶)
(۳؎ البحرالرائق باب الاعتکاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/)۳۰۳
ثم قال اعنی البحر بخلاف(۲) غیر المعتکف فانہ یکرہ لہ التوضوء فی المسجد ولوفی اناء الا ان یکون موضعا اتخذ لذلک لایصلی فیہ ۱؎ اھ
پھر صاحبِ بحرنے لکھا ہے: ''غیر معتکف کیلئے یہ اجازت نہیں اس لئے کہ اس کیلئے مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے، خواہ کسی برتن میں کرے لیکن اگر مسجد میں وضو کیلئے بھی بنی ہوئی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی (تو غیر معتکف بھی وہاں وضو کرسکتا ہے) اھ (ت)
(۱؎ البحرالرائق باب الاعتکاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۰۳)
اقول والیہ یشیر قولہ فی مکروھات الصلاۃ یکرہ الوضوء والمضمضۃ فی المسجد الا ان یکون موضع فیہ اتخذ للوضوء ولایصلی فیہ ۲؎ اھ فلم یستثن الا ھذا۔
اقول: اسی کی طرف مکروہاتِ نماز کے بیان میں ان کی درج ذیل عبارت کا بھی اشارہ ہے: ''مسجد میں وضو کرنا اور کُلی کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ اندرونِ مسجد کوئی ایسی جگہ ہو جو وضو کیلئے بنی ہو اور وہاں نماز نہ پڑھی جاتی ہے''۔ اھ اشارہ اس طرح ہے کہ صرف اسی صورت کا انہوں نے استثناء کیا۔
(۲؎ البحرالرائق فصل لما فرغ من بیان الکراھۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴)