Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
109 - 166
 (۱۳۸ تا ۱۴۱) اقول جو پانی تک نہ جاسکتا ہو مثلاً لُنجھا یا اپاہج یا پاؤں کٹا ہوا یا مفلوج یا مریض یا نقیہ یا نہایت بوڑھا کہ چل نہیں سکتے یا اندھا جسے اٹکل نہیں یا رات کو شبکور یا کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور اس(۱) کے پاس اگر نوکر یا غلام یا بیٹا پوتا کوئی ایسا نہیں جس پر اس کی خدمت لازم ہو نہ ایسا کہ اس کے کہنے سے لادے نہ اُجرت پر لانے والا یا(۲) اجیر ہے مگر یہ اُجرت پر قادر نہیں یا(۳) قادر ہے مگر مال دوسری جگہ اور وہ اُدھار پر راضی نہیں یا(۴) اُجرت مثل سے بہت زیادہ مانگتا ہے تیمم کرے اور اعادہ نہیں علماء(۱) نے ان معذوروں کا ذکر جمعہ وجماعت میں فرمایا ہے
وقیدت الاعمی بمن لایھتدی تبعالما حقق العلامۃ الشامی رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔
اندھے کیلئے میں نے یہ قید لگائی ''جسے اٹکل نہیں'' یعنی خود راہ نہیں طے کر پاتا۔ یہ قید علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی کی تحقیق کے اتباع میں ہے۔ (ت)
اقول:  وردت النقیہ وھو غیر المریض والاعشی ومن بہ وجہ خاصرۃ اوغیرھا لایستطیع معہ المشی بل ھو داخل فی عدھم المقعد علی احد تفسیریہ انہ الذی لاحراک بہ من داء فی جسدہ کان الداء اقعدہ وقیل المقعد المتشنج الاعضاء ۱؎ ش عن المغرب۔
اقول:  میں نے ان سب کا اضافہ کیا: نقیہ(۱) (نقاہت، انتہائی کمزوری والا) یہ مریض سے الگ ہے۔ شبکور(۲) (رتوندی) یا (۳) کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور بلکہ مُقعَد (اپاہج) کی ایک تفسیر کے پیشِ نظر علماء کے شمارِ مقعد میں یہ بھی داخل ہے وہ تفسیر یہ ہے کہ مُقعَد وہ ہے جس میں جسم کی کسی بیماری کی وجہ سے حرکت نہ ہو گویا بیماری نے اسے بٹھا دیا ہے۔ اور کہا گیا کہ اپاہج وہ ہے جس کے اعضاء میں تشنّج (کھچاؤ) پایا جاتا ہو۔ شامی بحوالہ مغرب (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب الامامۃ    مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۰)
اور اگر پانی تک جا تو ہوسکتا ہے مگر ضعف یا مرض یا ہاتھوں میں درد وغیرہ کے باعث بھر نہیں سکتا تو یہ نمبر ۷۱ ہے۔

(۱۴۲) جنب کو جنب ہونا یاد نہ رہا مسجد میں چلا گیا اب یاد آیا یا معتکف مسجد میں سوتا تھا کہ اُسے جائز ہے یا غیر معتکف(۲) اگرچہ اُسے منع ہے اور نہانے کی حاجت ہُوئی یہ لوگ نہ مسجد میں چل سکتے ہیں نہ ٹھہر سکتے ہیں نہ مسجد میں غسل ہوسکتا ہے ناچار یہ صورت عجز ہُوئی فوراًتیمم کریں اگرچہ مسجد کی زمین یا دیوار سے اور معاً باہر چلے جائیں اگر جاسکتے ہوں اور اگر باہر جانے میں بدن یا مال پر صحیح اندیشہ ہے توتیمم کے ساتھ بیٹھے رہیں بیٹھنے کی صورت میں تیمم ضرور واجب ہے وخلافہ غیر بین ولامبین (اس کے برخلاف جو کہا گیا وہ نہ خود واضح ہے نہ اس پر کوئی بیان ودلیل۔ ت) اور نکلنے کی صورت میں بہت اکابر اس تیمم کو صرف مستحب جانتے ہیں اور فوراً بلاتیمم نکل جانا بھی جائز جانتے ہیں اور احوط تیمم ہے۔
اقول: ذہن(۱) فقیر میں یہاں بعض مہم تفصیلیں ہیں:
اوّلاً: اس تیمم کے کرنے میں جہاں تک حدِ امکان ہو تعجیل تام کا حکم ہے تو جو صورت جلد سے جلدتیمم ہوجانے کی ہو اُس کا بجالانا واجب اور ادنٰی تاخیر ناجائز کہ بضرورت اُتنی ہی دیر اسے توقف کی اجازت ہوئی ہے جس میں تیمم کرسکے ایک لحظہ بھی تیمم کرنے میں تاخیر روا نہیں کہ اتنی دیر بلاضرورت بحالِ جنابت مسجد میں ٹھہرنا ہوگا اور یہ حرام ہے لہٰذا اگر اس کے ہاتھ کے پاس مثلاً کوئی مٹّی کا برتن رکھا ہے اور دیوار قدم بھر دُور ہے تو واجب کہ اُسی برتن سے فوراًتیمم کرلے اور اگر دیوار قریب اور برتن دُور ہے یا ہے ہی نہیں تو اگر مسجد میں جہاں یہ بیٹھا ہے فرش نہیں تو زمینِ مسجدو دیوار میں نسبت دیکھی جائے گی اگر دیوار سے متصل ہے کہ صرف ہاتھ بڑھانا ہوگا تو اختیار ہے دیوار سے تیمم کرے یا زمین سے اور اگر دیوار تک بھی سرکنا ہوگا تو خاص زمینِ مسجد سے تیمم کرے دیوار تک نہ جائے اور اگر مسجد میں فرش ہے تو دیوار تک پہنچنا یا اُس فرش کا ہٹانا جو جلد ہوسکے وہ کرے۔
ثانیاً:  یہ تیمم مسجد سے نکل جانے کیلئے تھا کہ بحالِ(۲) جنابت جس طرح مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے یوں ہی ہمارے نزدیک اُس میں چلنا بھی حرام ہے اب کہ تیمم کرچکا فوراً نکل جائے اور اگر مسجد میں چند دروازے ہیں تو وہ دروازہ اختیار کرے جو قریب تر ہو(۳) اس نکلنے میں خواہ مسجد سے باہر جاکر اس تیمم سے کسی آیت کی تلاوت نہیں کرسکتا کہ یہ تیمم باوصف قدرتِ آب محض خروج عن المسجد کیے لئے تھا ہاں اگر باہر جانے میں جان یا مال یا آبرو کا صحیح اندیشہ ہو تو اسی تیمم سے مسجد میں ٹھہرا رہے مگر نماز(۴) وتلاوت نہیں کرسکتا اُن کیلئے دوبارہ اُن کی نیت سے تیمم کرنا ہوگا۔
ثالثاً:  نکلنے کیلئے تیمم کا حکم وجوباً خواہ استجاباً اُس صورت میں ہونا چاہئے جبکہ عین کنارہ مسجد پر نہ ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہوجائے گا جیسے دروازے یا حُجرے یا زمین پیشِ حجرہ کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہُوا یا جنابت(۵) یاد نہ رہی اور مسجد میں ایک ہی قدم رکھا تھا ان صورتوں میں فوراً ایک قدم رکھ کر باہر ہوجائے کہ اس خروج میں مرور فی المسجد نہ ہوگا اور جب تک تیمم پُورا نہ ہو بحالِ جنابت مسجد میں ٹھہرنا رہے گا۔ ھذا ماعندی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے: کان الرجل فی المسجد فغلبہ النوم واحتلم تکلموا فیہ قال بعضھم لایباح لہ الخروج قبل التیمم وقال بعضھم یباح ۱؎ اھ
آدمی مسجد میں تھا کہ اسے نیند آگئی اور احتلام ہوگیا اس کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے بعض نے کہاتیمم سے پہلے اس کیلئے نکلنا جائز نہیں۔ اور بعض نے کہا جائز ہے اھ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان    فصل فیما یجوزلہ التیمم    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۱)
وفی الاختیار شرح المختار ثم الشلبیۃ نام فی المسجد فاجنب قیل لایباح لہ الخروج حتی یتیمّم وقیل یباح ۱؎ اھ وفی تیمّم البحر عن المحیط(عہ۱) اصابتہ الجنابۃ فی المسجد قیل لایباح لہ الخروج من غیر تیمم اعتبارا بالدخول وقیل یباح لان فی الخروج تنزیہ المسجد عن النجاسۃ وفی الدخول تلویثہ بھا ۲؎ اھ۔
اختیار شرح مختار پھر شلبیہ میں ہے: ''مسجد میں سوگیا پھر اسے جنابت لاحق ہوئی، کہا گیا جب تک تیمم نہ کرے اس کیلئے نکلنا جائز نہیں۔ اور کہا گیا کہ جائز ہے'' اھ۔ البحرالرائق کے باب تیمم میں محیط کے حوالہ سے ہے: ''کسی کو مسجد میں جنابت لاحق ہُوئی تو کہا گیا کہ بغیرتیمم اس کیلئے نکلنا جائز نہیں جیسے جنبی کیلئے بغیرتیمم مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ نکلنا بغیرتیمم کے بھی جائز ہے اس لئے کہ نکلنے میں مسجد کو نجاست سے خالی اور منزہ کرنا ہوگا جب کہ داخل ہونے میں اسے نجاست سے آلودہ کرنا ہوگا اس لئے حکم خروج کا دخول پر قیاس درست نہیں اھ (ت)
 (عہ۱)یعنی الرضوی کمایظھر بمراجعۃ الحلیۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م) یعنی محیط رضوی جیسا کہ حلیہ دیکھنے سے پتا چلتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ شلبیۃ مع التبیین    باب الحیض            بولاق مصر            ۱/۵۶)

(۲؎ البحرالرائق        باب التیمم عند قولہ ولوجنباً اوحائضاً    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۷)
واحال تمامہ علی الحیض وقال ثمہ وفی منیۃ المصلی ان احتلم فی المسجد تیمّم للخروج اذالم یخف وان خاف یجلس مع التیمم ولایصلی ولایقرأ اھ وصرح فی الذخیرۃ ان ھذا التیمم مستحب وظاھر ما قدمناہ فی التیمم عن المحیط انہ واجب ثم الظاھر ان المراد بالخوف الخوف من لحوق ضرربہ بدنا اوما کأن یکون لیلا ۳؎ اھ کلامہ وھو برمتہ ماخوذ عن الحلیۃ الالفظ الظاھر فانہ اوردکلام المحیط وعزامثلہ للخانیۃ ثم قال وھذا صریح فی ان الخلاف فی الاباحۃ ۱؎ اھ۔
بحر نے حوالہ دیا کہ اس کا پُورا بیان باب الحیض میں ہے۔ وہاں یہ لکھا ہے منیۃ المصلی میں ہے: اگر مسجد میں احتلام ہُوا تو نکلنے کیلئے تیمم کرے اگر کوئی خوف نہ ہو، اور خوف کی صورت ہو توتیمم کرکے بیٹھا رہے اس سے نہ نماز پڑھے نہ تلاوت کرے اھ اور ذخیرہ میں تصریح ہے کہ یہ تیمم مستحب ہے اور محیط کے حوالہ سے باب التیمم میں ہم جو ذکر کرچکے ہیں اس کا ظاہر یہ ہے کہ واجب ہے۔ پھر ظاہر یہ ہے کہ خوف سے مراد بدن یا مال کو کوئی ضرر پہنچنے کا خوف ہے مثلا رات کا وقت ہو'' اھ بحر کی عبارت ختم ہوئی۔ سوائے لفظ ''ظاہر'' کے یہ سارا کلام حلیہ سے ماخوذ ہے اس لئے کہ اس میں محیط کی عبارت نقل کی ہے اور یہ بھی حوالہ دیا ہے کہ اسی کے مثل خانیہ میں ہے پھر لکھا ہے کہ ''یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اختلاف جواز میں ہے'' اھ (ت)
 (۳؎ البحرالرائق     باب الحیض             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی            ۱/۱۹۶)

( ۱؎ حلیہ)
اقول:  وھو(۱) کما تری لاشبھۃ فیہ فلاادری لم بدل الصریح بالظاھر وان تبعہ فیہ اخوہ المدقق فی النھر ثم ابو السعود علی مسکین ثم ط علی الدر ھذا۔
اقول:  اور واقعۃً اس میں کوئی شُبہ نہیں جیسا کہ عبارتوں سے عیاں ہے۔ پھر نہ معلوم کیوں صاحبِ بحر نے لفظ صریح کی جگہ لفظ ظاہر استعمال کیا اگرچہ اس میں ان کے برادر مدقق نے النہرالفائق میں پھر ابو السعود نے حاشیہ ملّا مسکین میں پھر طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں ان کی پیروی کی ہے۔ (ت)
وقال فی الحلیہ تحت قول المتن المذکور ھذا قول بعض المشائخ والتیمم عند ھذا القائل مستحب فی الفصلین کماصرح بہ فی الذخیرۃ اھ ثم ذکر مافی المحیط والخانیۃ وانہ صریح فی ان الخلاف فی الاباحۃ قال ثم الظاھر انھا (ای الاباحۃ) الاشبہ کما ھو غیر خاف عن المتأمل ان شاء اللّٰہ تعالٰی فان قلت بل یتعین لما فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال اقیمت الصلاۃ وعدلت الصفوف فخرج الینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فلما قام فی مصلاہ ذکر انہ جنب فقال لنا مکانکم ثم رجع فاغتسل ثم خرج الینا ورأسہ یقطر فکبر فصلینا معہ فان الظاھر انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لم یتیمّم لخروجہ من المسجد والالحکاہ اباھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ واذالم یتیمّم لہ کان الخروج منہ بلاتیمم مباحا وھو المطلوب قلت انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان مباحالہ دخول المسجد والمکث فیہ جنبا ۱؎ اھ ھذا تمام کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ملخصا۔
حلیہ میں متن کی مذکورہ عبارت کے تحت ہے: ''یہ مشائخ میں سے بعض کا قول ہے اور اس قائل کے نزدیک تیمم دونوں ہی صورتوں میں مستحب ہے جیسا کہ ذخیرہ میں اس کی تصریح ہے'' اھ پھر محیط اور خانیہ کی بات بیان کی ہے اور یہ کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اختلاف جواز میں ہے۔ لکھا ہے: ''پھر ظاہر یہ ہے کہ وہ (یعنی اباحت) ہی زیادہ مناسب ہے جیسا کہ غور کرنے والے پر مخفی نہ ہوگا ان شاء اللہ تعالٰی۔ اگر یہ کہو کہ جواز واباحت ہی متعین ہے، اس لئے کہ صحیحین میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں: ''نماز کی اقامت ہوئی اور صفیں برابر کی گئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تشریف لائے جب جائے نماز پر کھڑے ہوگئے تو حضور کو یاد آیا کہ وہ جنابت کی حالت میں ہیں، فرمایا: تم لوگ اپنی جگہ رہو۔ پھر واپس تشریف لے گئے، غسل فرمایا پھر تشریف لائے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا پھر تکبیر کہی اور ہم نے حضور کے ساتھ نماز ادا کی''۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مسجد سے نکلنے کیلئے تیمم نہ فرمایا ورنہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اسے بیان کرتے۔ اور جب اس کام کیلئے تیمم نہ فرمایا تو حضور کا بلاتیمم نکلنا جائز ومباح ہوا اور ہم بھی یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیلئے بحالتِ جنابت مسجد میں داخل ہونا اور ٹھہرنا مباح تھا'' اھ۔ یہ سب محقق حلبی رحمۃ اللہ تعالٰی کے کلام کی تلخیص ہے۔ (ت)
(۱؎ حلیہ)
Flag Counter