Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
108 - 166
اقول:  وانت تعلم ان علی شدۃ الاذیۃ المدار فان ثبت نھارا ثبت الرخصۃ اولم تثبت لیلالم تثبت۔
اقول: معلوم ہے کہ مدار تکلیف واذیت کی شدت پر ہے اگر یہ دن میں متحقق ہو تو دن میں بھی رخصت ہوگی اور اگر رات میں متحقق نہ ہو تو رات کو بھی رخصت نہ ہوگی۔ (ت)
اسی کے باب الجمعہ میں ہے:
شرط لافتراضھا عدم مطر شدید و وحل وثلج ونحوھما ۳؎۔
فرضیت جمعہ کے لئے شرط ہے کہ سخت بارش، کیچڑ، برف اور ایسی ہی کوئی چیز حائل نہ ہو۔ (ت)
 (۳؎ الدرالمختار مع الشامی باب الجمعہ   مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۱ و ۶۰۳)
ردالمحتار میں ہے:
ای کبرد شدید کما قدمناہ فی باب الامامۃ ۴؎ اھ۔
یعنی جیسے سخت ٹھنڈک، جیسا کہ اسے ہم باب الامامۃ میں بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار       باب الجمعہ   مصطفی البابی مصر      ۱/۶۰۳)
اقول: بل قدمہ ھو کمارأیت الاٰن وشمل قولہ نحوھما مازدت من زلزلۃ وصاعقۃ والعیاذ باللّٰہ تعالی بل بالاولی کمالایخفی۔
اقول: نہیں بلکہ خود صاحبِ دُرِمختار نے اسے پہلے بیان کیا ہے جیسا کہ ان کی عبارت ابھی نقل ہُوئی۔ اور ان کا قول نحوھما (ایسی ہی کوئی چیز) زلزلہ اور صاعقہ، والعیاذ باللہ تعالٰی، جن کا میں نے اضافہ کیا انہیں بھی شامل ہے بلکہ یہ تو بدرجہ اولی شامل ہوں گے جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)
 (۱۲۳) جس طرح شدّت کامینہ جمعہ وجماعت میں عذر ہے
کما تقدم عن الدر
 (جیسا کہ دُرِمختار کے حوالہ سے گزرا۔ ت) یوں ہی جمع العلوم ومبتغی ومجتبی وکفایہ وقنیہ وحلیہ وبحر وہندیہ وغیرہا میں اُسے تیمم کیلئے عذرگنا۔
کما قدمتہ فی ۸۸ ففی الحلیۃ والبحر عن المبتغی بالغین المعجمۃ من کان فی کلۃ جاز تیممہ لخوف البق اومطر اوحرشدیدا ۱؎ الخ۔
(۱؎ البحرالرائق    باب التیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۰)
جیسا کہ میں نے ''الظفر لقول زفر'' ۸۸ میں یہ نقل کیا ہے تو حلیہ اور بحر میں مبتغی بغین معجمہ کے حوالہ سے ہے جو کِلّہ (مچھّر دانی کی طرح مچھّر وغیرہ سے بچانے والے چھوٹے سے خیمہ) میں ہو اس کیلئے پسّو یا بارش یا سخت گرمی کے اندیشہ سے تیمم جائز ہے اگر وقت نکلنے کا خوف ہو۔ (ت)
قلت و رأیتہ فی بعض الکتب بزیادۃ اوبرد وکانّ ترکھم من باب الاکتفاء کما قال فی جامع الرموز عند قولہ لبعدہ میلا اومرض اوبرد تخصیص البرد من قبیل الاکتفاء فان الحر الشدید مبیح التیمم ۲؎ اھ وعزاہ للزاھدی۔
قلت اور یہ مسئلہ میں نے بعض کتب میں ''اوبرد'' (یا ٹھنڈک) کے اضافہ کے ساتھ دیکھا ہے گویا علماء کا اسے ذکر نہ کرنا چند کے ذکر پر اکتفاء کے طور پر ہے جیسا کہ جامع الرموز میں ''لبعدہ میلا اومرض اوبرد'' (ایک میل دُوری یا بیماری یا سردی کی وجہ سے) کے تحت لکھا ہے خاص سردی کا ذکر اکتفاء کے قبیل سے ہے اس لئے کہ سخت گرمی سے بھی تیمم جائز ہوجاتا ہے اھ۔ اور اسے زاہدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ جامع الرموز    فصل فی التیمم    المکتبۃ الاسلامیہ ایران        ۱/۶۶)
اقول: مگر یہ بظاہر بہت عجب ہے کہ پانی کا وجودتیمم کا موجب ہو شدّت کے مینہ میں وضو وغسل سب کچھ ہوسکتا ہے خود مینہ سے یا پرنالے سے یا کسی برتن میں پانی لے کر۔

وانا اقول: وباللّٰہ التوفیق (اور میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) اس کی ایک ظاہر صورت یہ ہے کہ وضو کرنا ہے اور سر پر دیر تک پانی گرنا مثلاً بوجہ ضعف دماغ مضر ہے اور چھتری یا چادر وغیرہ نہیں جس سے سر کو پانی سے بچا سکے نہ چھجّے کا کوئی پرنالہ چل رہا ہے کہ چھجّے کے نیچے کھڑا ہوکر اُس سے وضو کرے یا ہوا سے پانی کی دھاریں اسی طرف آرہی ہیں کہ چھجّا حاجب نہ ہوگا نہ خادم، غلام، لڑکا کوئی ایسا ہے کہ پانی لے کر اسے دے دے نہ کوئی برتن کہ اُسے کسی پرنالے کے نیچے رکھ دے یا پرنالہ ہی نہیں اور مینہ میں رکھے تو پانی قابلِ وضو اتنی دیر میں جمع ہوکہ وقت نکل جائے غرض وضو کی کوئی صورت نہیں سوا اس کے کہ مینہ میں کھڑا ہوکر اعضائے وضو دھوئے اور اتنی دیر تک پانی سر پر لے اور یہ اُسے مضر ہے تو یہاں مینہ کا وجود ہی وضو سے مانع ہوا ورنہ وضو مضر نہ تھا۔

(۱۲۴) اقول: دوسری دقیق صورت یہ ہے کہ وضو کرنا یا نہانا ہے اور پانی اصلاً مضر نہیں مگر اور طریقے مسدود ہیں سوا اس کے کہ مینہ میں کھڑا ہو کر وضو یا غسل کرے اور کوئی خلوت کا مکان نہیں کہ کپڑے اتار کر طہارت کرے مثلاً سفر میں سرراہ ہے اور کپڑے باریک ہیں کہ پانی میں بھیگ کر بے ستری ہوگی اور باندھنے کو کوئی دبیز رنگین تَہبند نہیں تو استظہار حلیہ وغنیہ مذکور نمبر ۵۴ پر مطلقاًتیمم کا حکم ہوگا اور اگر وقت اتنا نہیں کہ ان بھیگے کپڑوں کو نچوڑ کر خشک کرکے پہننے تک باقی رہے تو دوسرے قول پر بھی صریح عذر موجود ہے کہ اب خود نماز میں بے ستری ہوگی لہذاتیمم کرے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ۔(۱۲۵ تا ۱۳۰) اقول ان دونوں صورتوں میں حسبِ دستور تین تین صورتیں اور نکلیں گی کہ پانی لے دینے والا اُجرت چاہتا ہے یا برتن یا تہبند کرایہ پر ملتا ہے اور یہ مفلس ہے یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اجرت مثل سے بہت زائد مانگتا ہے۔
 (۱۳۱ تا ۱۳۵) پہاڑ سے لگاتار پانی جھر رہا ہے مگر خفیف نہ دھار بندھ کر اور ریت میں جذب ہوتا جاتا ہے اس(۱) کے پاس کوئی ایسا کپڑا نہیں نہ مول ملتا ہے جسے گزرگاہِ آب پر پھیلا کر اُسے اعضاء پر نچوڑ کر یا کسی برتن میں جمع کرکے وضو کرے یا(۲) خریدنے کو دام نہیں یا(۳) دوسری جگہ ہیں اور وہ اُدھار نہیں دیتا یا(۴) قیمت سے بہت زیادہ مانگتا ہے یا(۵) کپڑا موجود ہے مگر اُسے یوں بھگونے نچوڑنے میں ایک درم یا زیادہ کا نقصان ہے پانچوں صورتوں میں تیمم کرے۔

(۱۳۶) انہی عبارات میں گزرا کہ اگر مچھروں کے خوف سے مسہری کے اندر پردے چھوڑے ہوئے ہے اور وقت جاتا ہے تیمم سے پڑھ لے یعنی پھر اعادہ کرے اقول مچھّر(۱) پسّو سے ایسی اذیت جس کے خوف کے باعث ترک وضو وغسل کی اجازت ہو بعید ہے ہاں ڈانس کی ایذا شدید ہے۔

(۱۳۷) اقول:  یونہی اگر پانی کے پاس مہال چھڑی ہوئی ہے اور انتظار میں خوفِ فوت وقت ہے۔
وھو داخل فی معنی مانصوا علیہ من خوف سبع وحیۃ وان لم یدخل فی لفظہ وکذا صاحبہ السابق۔
درندے اور سانپ کا خوف جس کی فقہاء نے تصریح کی ہے یہ اس کے معنٰی کے تحت داخل ہے اگرچہ اس کے لفظ میں داخل نہیں۔ اسی طرح اس سے پہلے والی صورت۔ (ت)
Flag Counter