| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
واما الثانیۃ فاقول یبنی الامر فیھا علی الامکان لما علمنا ان قلیل المشقۃ لایکون عذرا فیہ مالم تشتد و تبلغ حد الحرج والضرر ولذا لم یبیحوا للمحدث التیمم لاجل البرد ۱؎ کما فی الخانیۃ والخلاصۃ والمصفی والفتح والنھر وغیرھا(۱) وقد اوجبوا فیہ علی الجنب دخول الحمام باجرۃ اوتسخین الماء ان قدر فی الھندیۃ یجوز التیمم اذا خاف الجنب اذااغتسل ان یقتلہ البرد اویمرضہ والخلاف فیما اذا لم یجد ما یدخل بہ الحمام فان وجدلم یجز اجماعا وفیما اذا لم یقدر علی تسخین الماء فان قدرلم یجز ھکذا فی السراج الوھاج ۲؎ اھ فاتضح ماذکرتہ فی تصویر المسألۃ۔
(۲) مسئلہ تیممّ۔ اقول: اس میں بنائے حکم امکان پر ہے اس لئے کہ معلوم ہے اِس میں معمولی مشقّت عذر نہیں جب تک شدید اور حرج وضرر کی حد تک نہ پہنچ جائے۔ اسی لئے حدث والے کیلئے ٹھنڈک کی وجہ سے تیمم مباح نہ ہوا جیسا کہ خانیہ، خلاصہ، مصفّی، فتح القدیر، النہرالفائق وغیرہا میں ہے۔ اور جنابت والے پر اجرت دے کر حمام میں نہانا یا اگر قدرت ہو تو پانی گرم کرنا واجب ہوا۔ ہندیہ میں ہے: ''جنابت والے کو جب یہ خوف ہو کہ غسل کرے گا تو ٹھنڈک سے ہلاک ہوجائیگا یا بیمار پڑ جائے گا توتیمم جائز ہے۔ اور حمام میں جاکر نہلانے کی اجرت اس کے پاس نہ ہو تو اس صورت میں اختلاف ہے اور اگر اجرت اس کے پاس ہو تو بالاجماع اس کے لئے تیمم جائز نہیں۔ اس صورت میں بھی اختلاف ہے جب پانی گرم کرنے پر قادر نہ ہو۔ اگر قدرت ہو توتیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی سراج وہاج میں ہے اھ۔ ابتداءً صورتِ مسئلہ بیان کرتے ہوئے ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی صحت مذکورہ بالا تفصیلات سے روشن ہوجاتی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۲۸) (۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸)
(۹۴ تا ۹۶) اقول: بدستور اگر روشنی کا سامان بقیمت ملتا ہے اور اس کے پاس حاجت سے زائد قدر وقیمت موجود ہے یا بیچنے والا اُدھار پر راضی اور قیمت مثل پر زیادت فاحشہ نہیں خریدنا واجب ورنہ تیمم کرے۔ (۹۷) اقول مسئلہ نمبر ۹۲ سے دو۲ فائدے اور حاصل ہُوئے ایک یہ کہ اگر مسافر جنگل میں اُترا اور اندھیری رات ہے اور کُنویں تک جانے میں خوف ہے تیمم کرے کہ جب گھر میں تیمم کی اجازت دی تو جنگل میں بدرجہ اولٰی۔ (۹۸ تا ۱۰۲) اقول دوم یہ کہ نمبر ۸ تا ۱۲ میں کہ پانی پر درندے۹۸ سانپ آگ یا رہزن۹۹ یا دشمن۱۰۰ یا فاسق۱۰۱ یا ۱۰۲ قرضخواہ کا ہونا مذکور ہُوا اگر ان اشیاء کا فی الحال وہاں ہونا معلوم نہیں مگر صحیح اندیشہ ہے جب بھی اجازت تیمم ہے کہ ظلمت شب میں کوٹھری میں جاتے ہوئے اُسی مظنہ سے خوف ہے نہ شے معلوم التحقق سے۔ (۱۰۳ تا ۱۱۱) دشمن وفاسق وقرضخواہ کی ہر صورت میں بدستور وہ تین تین صورتیں ہوں گی کہ اُجرت پر لادینے والا زیادہ مانگتا ہے یا اُدھار پر راضی نہیں یا یہ دے ہی نہیں سکتا توتیمم کرے۔ (۱۱۲ تا ۱۱۵) اقول یونہی اگر رات کو جنگل میں ہے اور گود میں بچّہ اور اُسے پانی تک لے جانے میں بھیڑئیے کا اندیشہ اور کوئی ایسا نہیں کہ پانی لادے یا جس کے بچّہ کو چھوڑ جائے یا ہے اور زیادہ اجرت کا طالب یا یہ دے نہیں سکتا یا مال اور جگہ ہے اور وہ ادھار پر راضی نہیں ان صورتوں میں بھی تیمم کرے مرد ہو خواہ عورت۔ (۱۱۶ و ۱۱۷) سخت تڑاقے عـــہ کی دھوپ پڑ رہی ہے یا شدّت کی ٹھٹھر ہے پالا گررہا ہے ان عذروں کے سبب پانی لینے کو جانا واقعی سخت دشوار اور ناقابلِ برداشت تکلیف کا باعث ہے اور انتظار میں وقت جاتاہے تیمم سے پڑھ کر وضو سے اعادہ کرلے کما سیأتی۔
عـــہ البرد یذکر فی النمرۃ بعدھا والحرفی ۱۲۳ عن عدۃ کتب ۱۲ منہ غفرلہ (م) برودت کا ذکر اس کے بعد والے نمبر میں آئے گا اور حرارت کا ذکر نمبر ۱۲۳ میں متعدد کتابوں سے آئے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱۱۸ تا ۱۱۲) اقول یونہی اگر ہولناک آندھی چل رہی ہے خصوصاً رات میں یا معاذاللہ زلزلہ ہے یا عیاذاً باللہ بجلی تڑپ تڑپ کر گررہی ہے یا کثرت سے اولے پڑ رہے ہیں یا کیچڑ اندھن بشدت ہے کہ یہ سب(۱) جماعت تو جماعت خود فرض جمعہ میں عذر ہیں تو اسی طرح تیمم کیلئے بھی اور حکم اعادہ بدستور۔ درمختار باب الامامۃ میں ہے:
لاتجب علی من حال بینہ وبینھا مطروطین وبردشدید وظلمۃ کذلک وریح لیلا لانھارا ۱؎۔
اس شخص پر جماعت واجب نہیں جس کی حاضری جماعت میں سخت بارش، کیچڑ، ٹھنڈک اور تاریکی حائل ہو یا رات کے وقت آندھی حائل ہو دن کو نہیں۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار باب الامامۃ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۱)
ردالمحتار میں ہے:وانما کان عذرا لیلا فقط لعظم مشقتہ فیہ دون النھار ۲؎ اھ۔
یہ صرف رات کو عذر ہوا کیونکہ اس وقت اس کیلئے بڑی مشقّت ودشواری ہے دن میں یہ بات نہیں اھ (ت)
(۲؎ ردالمحتار ، باب الامامۃ، مصطفی البابی مصر، ۱/۴۱۱)