اقول:وھو ظاھر فان مجرد(۱) لحوق مشقۃ ما لوکان عذرا مسقطا لسقت تکالیف الشریعۃ عن اٰخرھا قال فی الفتح لو(۲) قدر علی القیام لکن ئخاف بسببہ ابطاء برء ا وکان یجد الماء شدیدا جاز لہ ترکہ فان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ۲؎ اھ ومثلہ فی الکافی وغیرہ فی الخانیۃ من(۳) لایقدر علی الوضوء الابمشقۃ لایباح لہ التیمم ۳؎ اھ قال ش والظاھر انہ لایکلف الی ایقاد نحو سراج وان امکنہ ذلک ۴؎ اھ
اقول: یہ بات واضح ہے اس لئے کہ مطلقاً ذرا سی بھی مشقّت کا لاحق ہونا اگر ساقط کرنے والا عذر ہوتا تو تمام تکالیف شرعیہ بالکل ہی ساقط ہوجائیں۔ فتح القدیر میں ہے: ''اگر کھڑے ہونے پر قدرت رکھتا ہو لیکن اس کی وجہ سے دیر میں اچھے ہونے کا اندیشہ ہو یا سخت تکلیف محسوس کرتا ہو تو اس کیلئے قیام ترک کرنا جائز ہے۔ اور اگر تھوڑی سی مشقت لاحق ہوتی ہو تو ترک جائز نہیں''۔ اھ۔ اسی کے مثل کافی وغیرہ میں بھی ہے۔ اور خانیہ میں ہے: ''جو شخص مشقت ہی سے سہی، وضو کرسکتا ہے اس کیلئے تیمم جائز نہیں'' اھ علّامہ شامی نے فرمایا: ''ظاہر یہ ہے کہ وہ چراغ وغیرہ جلانے کا مکلّف نہیں اگرچہ یہ اس کیلئے ممکن ہو'' اھ
(۲؎ فتح القدیر باب صلٰوۃ المریض نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۴۵۷)
(۳؎ فتاوی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۲۸)
(۴؎ ردالمحتار باب الامامۃ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۱)
اقول: وکأنہ اخذہ من قولھم فی تطہیر الانجاس لایضر(۴) بقاء اثر کلون وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الی ماء حار اوصابون ونحوہ ۵؎ اھ دُر۔ حار ای مسخن۔ ونحوہ کحرض واشنان ۶؎ اھ ش۔
اقول: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ مسئلہ نجاستوں کی تطہیر سے متعلق فقہاء کے اس قول سے اخذ کیا ہے: ''اگر رنگ بُو جیسا کچھ اثر باقی رہ جائے جو زائل نہیں ہوتا تو یہ مضر نہیں لہذا وہ اسے دُور کرنے کیلئے گرم پانی یا صابون یا ایسی ہی کوئی اور چیز استعمال کرنے کا مکلّف نہیں''۔ اھ درمختار ''گرم پانی یعنی جو (اس مقصد سے) گرم کیا گیا ہو صابون جیسی کوئی اور چیز جیسے حرض اور اشنان (صابن کی طرح صفائی لانے کیلئے استعمال ہونے والی گھاسیں ہیں) اھ۔ شامی۔ (ت)
(۵؎ الدرالمختار مع الشامی باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱/۲۴۱)
(۶؎ ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱/۲۴۱)
یہاں دو۲ مسئلے ہیں: ایک مسئلہ جماعت، دُوسرا مسئلہ تیمم جو زیر بحث ہے (دونوں کی قدرے توضیح وتفصیل کی جائے تو مسئلہ کا حکم واضح ہوسکتا ہے)
اما الاولی فاقول الظاھر(۱) فیھا عندی البناء علی التیسر فمن(۲) عندہ فانوس متقد ویقدر علی الخروج بہ الی المسجد اوکان متقدا والاٰن اطفأہ وفیہ دھن وعندہ کبریت فأی مشقۃ تلحقہ فی ایقادہ والخروج بہ نعم من(۳) لیس عندہ اولہ واحد وفی البیت العیال÷ ان خرج بہ تعسرت علیھم الاعمال÷ اوھالت ظلمۃ اللیل الاطفال÷ اومرأۃً وحدھا مالھا مونس فی الحال÷ فھذا لایؤمربان یحصل الاٰن فانوسا بشراء اوسؤال÷
(۱) مسئلہ جماعت۔ اقول اس میں میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ آسانی سے میسر آنے پر حکم کی بنارکھی جائے جس کے پاس جلتا ہُوا چراغ یا لالٹین موجود ہے اور اسے لے کر مسجد جاسکتا ہے یا چراغ پہلے جل رہا تھا، اس وقت بُجھا دیا ہے مگر اس میں تیل موجود ہے اور اس کے پاس دیا سلائی بھی ہے تو اسے جلانے اور لے کر مسجد جانے میں کون سی مشقّت ہے؟ ہاں جس کے پاس چراغ نہیں یا ہے مگر ایک ہی ہے اور گھر میں بال بچّے ہیں کہ اگر لے کر چلا گیا تو ان کے کاموں میں دشواری ہوتی ہے یا رات کی تاریکی سے بچّے خوف ودہشت میں مبتلا ہوتے ہیں، یا اکیلی عورت ہے جو فی الحال کوئی مونس نہ ہونے کی وجہ سے تاریکی میں خوف زدہ ہوتی ہے تو ایسے شخص کو اس حالت میں کوئی چراغ خرید کر مانگ کر حاصل کرنے کا حکم نہ دیا جائے گا۔ (ت)
وقد قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بشرا(۴) المشائین فی الظلم الی المساجد بالنور التام یوم ۱؎ القیمۃ اخرجہ ابوداؤد والترمذی بسند صحیح عن بریدۃ وابن ماجۃوالحاکم عن انس وسھل بن سعد رضی اللّٰہ تعالی عنھم۔
جب کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ ''تاریکیوں میں مسجدوں تک کثرت سے پیادہ جانے والوں کو روزِ قیامت بھرپور روشنی ملنے کی بشارت دے دو'' یہ حدیث ابوداؤد نے روایت کی۔ اور ترمذی نے بسند صحیح حضرت بریدہ سے اور ابن ماجہ وحاکم نے حضرت انس اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی۔
واتی(۱) النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم رجل اعمی فقال یارسول اللّٰہ لیس لی قائد یقودنی الی المسجد فسأل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان یرخص لہ فیصلی فی بیتہ فرخص لہ فلما ولی دعاہ فقال ھل تسمع النداء بالصلاۃ قال نعم قال فاجب ۱؎ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
''اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص حاضر ہوئے، عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم! مجھے کوئی مسجد لے جانیوالا نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں گھر میں نماز ادا کرلینے کی رخصت مرحمت فرمادیں۔ حضور نے انہیں رخصت دے دی۔ جب وہ واپس چلے تو انہیں بلاکر فرمایا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ عرض کیا: ہاں: فرمایا: ''تو حاضری دو''۔ یہ حدیث امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم فصل صلٰوۃ الجماعۃ وبیان التشدید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۳۲)
اقول: حکم اولاً بالرخصۃ وھی الحکم العام ثم ارشدہ الی العزیمۃ ولابی داؤد والنسائی عن عبداللّٰہ بن ام مکتوم رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما انہ قال یارسول اللّٰہ ان المدینۃ کثیرۃ الھوام والسباع فھل تجدلی من رخصۃ قال ھل تسمع حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح قال نعم قال فحیھلا ۲؎۔
اقول: حضور نے پہلے انہیں رخصت کا حکم دیا جو حکم عام ہے۔ پھر انہیں عزیمت کی جانب ہدایت فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ابو داؤد اور نسائی کی روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! مدینہ میں زہریلے جانور اور درندے بہت ہیں تو کیا میرے لئے کوئی رخصت ہے؟ فرمایا: تم حی علی الصلاۃ ،حی علی الفلاح (آؤ نماز کی طرف، آؤ فلاح کی طرف) سنتے ہو؟ عرض کی: ہاں۔ فرمایا: تب حاضری دو۔ (ت)
اقول: لم یجبہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بالنفی بل بدأبسؤال لیرشدہ الی العزیمۃ فاذا(۲) کانت نفس الشارع صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم متشوقۃ الی حضور الجماعۃ الی ھذہ الغایۃ فکیف یقال تسقط عنہ الجماعۃ بظلمۃ اللیل وان کان ایقادہ نحوفانوس وخروجہ بہ متیسرا بلاکلفۃ اصلا ومسألۃ النجاسۃ انما امرنا فیھا بالتطھیر بالماء وقدحصل ومایشق زوالہ عفو والعفو لایتکلف فی ازالتہ۔
اقول: حضور نے رخصت کے سوال پر نفی میں جواب دیا، بلکہ ازسرِنو ایک سوال کردیا تاکہ عزیمت کی جانب انہیں ارشاد و رہنمائی فرماسکیں۔ جب حضرت شارع صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے قلب پاک جماعت میں لوگوں کی حاضری کا اس حد تک مشتاق ہے تو یہ حکم کیسے دیا جاسکتا ہے کہ رات کی تاریکی میں جماعت ساقط ہے اگرچہ چراغ وغیرہ جلانا اور لے کر جانا بآسانی اور بغیر کسی زحمت کے میسر ہو۔ اور مسئلہ نجاست میں ہمیں صرف یہ حکم تھا کہ پانی سے پاک کردیں یہ کام ہوگیا اور جس اثر کا دُور ہونا دشوار ہو وہ معاف ہے اور جو معاف ہے اسے دُور کرنے کا مکلف نہیں۔ (ت)