وفیہ کلام اوردہ ش وقد اجبنا عنہ فیما علقنا علیہ لابأس بایرادہ تتیمما للفائدۃ قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی اقول لکن یشکل علیہ مافی البدائع لو(۱)مر المتیمّم علی ماء لایستطیع النزول الیہ لخوف عدو اوسبع لاینتقض تیممہ کذا ذکرہ محمد بن مقاتل الرازی وقال ھذا قیاس قول اصحابنا لانہ غیر واجد للماء معنی فکان ملحقا بالعدم اھ۔ومثلہ فی المنیۃ اذلائخفی ان خوف العدو سبب اٰخر غیر الذی اباح لہ التیمم اولا فان الظاھر فی فرض المسألۃ انہ تیمم اولا لفقد الماء اللھم الا ان یجاب بان السبب الاول ھناباق وفیہ بحث فلیتأمل ۱؎ اھ۔
اس پر کچھ کلام ہے جو علّامہ شامی نے ذکر کیا ہے پھر ہم نے حاشیہ شامی میں اس کا جواب بھی دیا ہے تکمیل فائدہ کیلئے یہاں اسے نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔علّامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ''اقول: لیکن اس پر بدائع کے اس مسئلہ سے اعتراض ہوتا ہے: اگرتیمم کرنے والا ایسے پانی کے پاس سے گزرا جہاں وہ کسی دشمن یا درندہ کے خوف کی وجہ سے اُتر نہیں سکتا تو اس کاتیمم نہ ٹُوٹے گا۔ایسا ہی محمد بن مقاتل رازی نے ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارے اصحاب کے مذہب پر قیاس کا تقاضا یہی ہے اس لئے کہ معنیً پانی اسے دستیاب نہیں تو یہ معلوم سے ملحق ہے۔اسی کے مثل منیہ میں بھی ہے۔ وجہ اشکال یہ ہے کہ ظاہر ہے کہ پہلے جس سبب سے اس کیلئے تیمم روا ہوا تھا وہ اور ہے اور دشمن کا خوف ایک دوسرا سبب ہے۔اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ مفروضہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ پہلے اس کاتیمم اس لئے تھا کہ اسے پانی نہ ملا ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پہلا سبب اب بھی باقی ہے مگر اس میں بحث ہے۔اس لئے تأمل کی ضرورت ہے اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۴)
وکتب وجہ البحث فی منھیتہ انہ اذا تیمم اولالبعدہ عن الماء فھو فاقد لہ حقیقۃ وخوف العدو فقد معنی فالحقیقی قدزال واعقبہ المعنوی فلافرق بینہ وبین المرض اذا وجد بعد الفقد الحقیقی ۲؎ اھ۔
وجہ بحث اپنے حاشیہ میں یہ بیان فرمائی کہ جب اس نے پہلے پانی سے دُور ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو حقیقۃً پانی کا فقدان تھا اور دشمن کا خوف ہونے کی صورت میں معنیً پانی کا فقدان ہے۔ تو حقیقی فقدان ختم ہوگیا اور اس کی جگہ معنوی فقدان آگیا۔ تو اس صورت میں، اور فقدان حقیقی کے بعد پانی ملنے کے وقت مرض ہونے کی صورت میں کوئی فرق نہیں اھ۔ (ت)
(۲؎ منہیۃ علی الرو باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۴)
وکتبت علیہ مانصّہ اقول رحمک اللّٰہ تعالی ورحمنا بک الاعدام(۱) ثلثۃ عدم الشیئ فی نفسہ وعدمہ فی مکان وعدم فی حق المکلف والماء لایفقد بالمعنی الاول الا اذا انعدم من الدنیا ولایکون ذلک بل یوم القیمۃ وانما ینعدم(۲) عن مکان وفی حق المکلف و ذلک بان لایکون حیث ھو مع لحوق الحرج فی الوصول الیہ وھذا ھو معنی عدمہ الشرعی المذکور فی باب التیمم اما اذا کان بیدہ اولاحرج علیہ فی الوصول الیہ فھو غیر معدوم فی حقہ قال فی الھدایۃ المیل ھو المختار فی المقدار لانہ یلحقہ الحرج بدخول المصر والماء معدوم(عہ) حقیقۃ ۱؎ اھ
اس بحث پر میں نے درج ذیل جواب تحریرکیا:اقول: اللہ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے اور آپ کے طفیل ہم پر بھی رحم فرمائے عدم کی تین قسمیں ہیں: (۱) کسی شئے کا فی نفسہٖ معدوم ہونا (۲) کسی جگہ معدوم ہونا (۳) مکلّف کے حق میں معدوم ہونا پہلے معنی پر پانی کا فقدان اسی وقت ہوگا جب وہ دنیا سے معدوم ہوجائے اور یہ روزِ قیامت سے پہلے نہ ہوگا۔ پانی کسی جگہ میں اور مکلّف کے حق میں معدوم ہوتا ہے۔ یہ اس طرح کہ مکلّف جہاں پر ہے وہاں پانی نہ ہو ساتھ ہی پانی تک رسائی میں حرج لاحق ہوتا ہو پانی کا عدم شرعی جو باب تیمم میں ذکر ہوتا ہے اس کا یہی معنی ہے۔ لیکن جب پانی اس کے ہاتھ میں ہو یا پانی تک پہنچنے میں اس کیلئے کوئی حرج اور دشواری نہ ہو تو پانی اس کے حق میں معدوم نہیں۔ ہدایہ میں ہے: مقدار کے بارے میں ''میل'' ہی مختار ہے۔ اس لئے کہ شہر میں داخل ہونے سے اس کو حرج ہوگا۔ اور پانی حقیقۃً معدوم ہے۔ (ت)
(عہ)فقد اشار بھذا الی العدم الثانی وبقولہ یلحقہ الحرج الی العدم الثالث وانما احتاج الی اثبات الثانی لان الثالث یتوقف علیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس عبارت سے عدم ثانی کی طرف اشارہ کیا۔ اور ''اسے حرج ہوگا'' سے عدمِ ثالث کی طرف اشارہ کیا اور انہیں عدم ثانی ثابت کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ عدم ثالث اس پر موقوف ہے ۱۲ منہ غفرلہ، (ت)
(۱؎ الہدایۃ باب التیمم المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/۳۱)
قال فی العنایۃ تقریرہ ان المنصوص علیہ کون الماء معدوما وھھنا (ای فی مکان المکلف الاٰن) معدوم حقیقۃ لکن نعلم بیقین ان عدمہ مع القدرۃ علیہ لیس بمجوز للتیمّم والا لجاز لمن سکن بشاطیئ البحر وعدم الماء من بیتہ فجعلنا الحد الفاصل بین البعد والقرب لحوق الحرج لان الطاعۃ بحسب الطاقۃ قال اللّٰہ تعالٰی
وَمَا جَعَل علیکم فی الدّین من حرج ۱؎ اھ۔
عنایہ میں فرمایا: اس کی تقریر یہ ہے کہ نص میں یہ وارد ہے کہ پانی معدوم ہو اور اس وقت مکلف جس جگہ ہے وہاں پانی حقیقۃً معدوم ہے۔ لیکن ہم یقینی طور پر یہ جانتے ہیں کہ پانی پر قدرت ہوتے ہوئے پانی کا معدوم ہوناتیمم جائز نہیں کرتا۔ ورنہ سمندر کے ساحل پر بسنے والا شخص جس کے گھر میں پانی معدوم ہے اس کیلئے تیمم جائز ہوتا۔ اس لئے ہم نے حرج لاحق ہونے کو دُوری ونزدیکی کے درمیان حد فاصل قرار دیا۔ کیونکہ طاعت بلحاظ طاقت ہی لازم ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: ''اور تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہ رکھی اھ۔
(۱؎ العنایۃ مع الفتح باب التیمم مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۰۸)
ولاشک ان الماء اذا کان علیہ عدو اولص اوسبع فالمعنی باق بعینہ اذلیس الماء فی مکان المکلف فھو معدوم حیث ھو حقیقۃ وفی وصولہ الیہ حرج فتحقق الامران اللذان علیھما یدور العدم الشرعی المذکورھنا ولا(۱) نظر فیہ الی کونہ بعیدا عن النظر اوبمرأی منہ اوبعیدا بعدا معینا اواقرب منہ وانما المناط لحوق الحرج فی الوصول الیہ بل ھو الفاصل ھھنا بین القرب والبعد کما سمعت اٰنفا فثبت العدم الشرعی ولم یتبدل السبب وان(۲)تبدل سبب السبب اعنی سبب الحرج فی الوصول الیہ کما اذا کان عندہ عدوہ ئخاف منہ علی نفسہ ولم یبرح حتی وردہ نص ئخاف منہ علی مالہ وذھب العدوفلایتوھم احدانہ تبدل السبب بخلاف حدوث المرض مع وجود الماء عندہ فان الماء لیس معدوما فیہ شرعا بالمعنی المذکور بل اماموجود فی نفس مکانہ کما اذا کان بیدہ اولاحرج علیہ فی الوصول الیہ کما اذا کان فی بیتہ انما الحرج فی استعمالہ فقد تبدل السبب۔
اس میں شک نہیں کہ جب پانی پر دشمن یا چوریا درندہ ہو تو فقدان کا معنی بعینہ باقی ہے اس لئے کہ مکلّف کی جگہ پر تو پانی موجود نہیں اس لئے جہاں وہ ہے وہاں پانی حقیقۃً معدوم ہے اور پانی تک پہنچنے میں اس کیلئے حرج بھی ہے تو دونوں باتیں جن پر یہاں ذکر شدہ عدم شرعی کا مدار ہے وہ پالی گئیں اور اس معاملہ میں اس کا لحاظ نہیں ہے کہ پانی نگاہ سے دُور ہو، یا دیکھنے کی جگہ میں ہو یا معین دوری پر ہو یا اس سے قریب تر ہو۔ مدار صرف یہ ہے کہ پانی تک پہنچنے میں حرج لاحق ہوتا ہو۔ بلکہ یہی قرب وبُعد کے درمیان یہاں حدِّ فاصل ہے جیسا کہ ابھی سن چکے تو عدم شرعی ثابت ہوگیا۔ اور سبب میں تبدیلی نہ آئی اگرچہ سبب کے سبب یعنی پانی تک رسائی میں حرج کے سبب میں تبدیلی آگئی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پانی پر پہلے کوئی دشمن تھا جس سے اسے اپنی جان کا خطرہ تھا وہ اس جگہ سے ہٹا نہیں کہ کوئی چور آگیا جس سے اس کو اپنے مال کیلئے خطرہ ہے اور دشمن چلا گیا اس صورت میں کسی کو یہ وہم نہیں ہوسکتا کہ سبب بدل گیا بخلاف اُس صورت کے جس میں یہ ہے کہ پانی اس کے پاس موجود ہوتے ہوئے اسے مرض عارض ہوگیا یہاں پانی مذکورہ معنی میں شرعی طور پر معدوم نہیں بلکہ یا تو خود اسی جگہ پانی موجود ہے مثلاً خود اس کے ہاتھ میں ہے، یا پانی تک پہنچنے میں اس کیلئے کوئی دشواری وحرج نہیں مثلاً پانی اس کے گھر میں موجود ہے۔ حرج صرف اس کے استعمال میں ہے تو یہاں پر سبب بدل گیا۔ (ت)
اما قول ابن مقاتل انہ غیر واجد للماء معنی فکان ملحقا بالعدم فاقول ارادبہ العدم عـــہ الحسی دون الشرعی بالمعنی المذکور ولاشک ان الماء موجود ھھنا بحضرتہ وان لم یکن فی قبضتہ وھو واجد لہ حسا غیر واجد لہ بمعنی القدرۃ علیہ وعدم الحرج فی وصولہ الیہ فکان ملحقا بالعدم الحسی ومعدوما بالعدم الشرعی بالمعنی المذکور ھکذا ینبغی ان تفھم کلمات العلماء الکرام÷ والحمدللہ ولی الانعام÷ وعلی نبینا واٰلہ الصلاۃ والسلام۔
لیکن ابن مقاتل کا یہ قول کہ ''معنیً'' اسے پانی دستیاب نہیں تو وہ معدوم سے ملحق ہے فاقول: اس سے ان کی مراد عدم حسّی ہے۔ عدم شرعی بمعنی مذکور مراد نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں تو پانی اس کے پاس موجود ہے اگرچہ اس کے قبضہ میں نہیں تو حسّی طور پر پانی اسے دستیاب ہے اور دستیاب نہیں ہے اس معنی میں کہ اس پر اسے قدرت ہو اور اس تک رسائی میں کوئی حرج نہ ہو۔ اس لئے وہ عدم حسّی سے ملحق ہے اور معدوم بہ عدم شرعی بمعنی مذکور ہے اسی طرح علمائے کرام کے کلمات کو سمجھنا چاہئے۔ اور ساری تعریف خدا کیلئے جو صاحبِ فضل واحسان ہے۔ اور ہمارے نبی اور ان کی آل پر درود وسلام۔ (ت)
عـــہ اقول ومن الدلیل علیہ قول البدائع اما العدم من حیث المعنی لامن حیث الصورۃ فھو ان یعجز من استعمال الماء مع قرب الماء منہ نحوما اذا کان بینہ وبین الماء عدو اولصوص اوسبع اوحیۃ ۱؎الخ فجعلہ موجوداصورۃ والوجود الصوری ھو الحسی۔ (م)
اقول: اس کی ایک دلیل بدائع کی یہ عبارت ہے ''لیکن عدم بلحاظ معنی، نہ بلحاظ صورت یہ ہے کہ پانی قریب ہوتے ہوئے اس کے استعمال سے عاجز ہو۔ جیسے اس کے اور پانی کے درمیان دشمن ہو یا چور ہوں یا درندہ یا سانپ ہو'' الخ۔ اس عبارت سے مذکورہ حالت میں انہوں نے پانی کو صورۃً موجود قرار دیا اور وجود صوری اور وجود حسّی دونوں ایک ہی ہیں۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۹۲) پانی کو ٹھری میں رکھا ہے اندھیرا سخت ہے جاتے ہوئے خوف ہے اور دیا سلائی وغیرہ پاس نہیں اور اجالے کا انتظار کرتا ہے تو وقت جاتا ہے (اقول یوں کہ نماز نمازِ عشا ہے یا مثلاً وقت صبح اور اندھیرا ابرکثیف کا ہے) توتیمم کرکے پڑھ لے اور پھر اعادہ کرے
وقد تقدم نقلہ عن الحلیۃ والبحر
(اس کی نقل حلیہ اور بحر کے حوالہ سے گزرچکی۔ ت)
اقول ولم اذکر ماقالوہ من کونہ علی سطح لان المراد بہ ان لایکون حیث الماء وکذا قولھم لیلا بل عممت مثل وقت الصبح لان المناط الخوف فی الظلمۃ وزدت الاعادۃ لماعلمت مرارا۔
اقول: ان حضرات نے ''چھت پر ہونے'' کا ذکر کیا تھا۔ مگر میں نے اس قید کے ساتھ ذکر نہ کیا کیونکہ چھت پر ہونے کی تعبیر سے ان کی مراد یہ ہے کہ ایسی جگہ نہ ہو جہاں پانی موجود ہے اسی طرح انہوں نے ''رات'' کی قید کے ساتھ یہ مسئلہ بیان کیا تھا میں نے یہ لفظ ذکر نہ کیا بلکہ مثلاً وقتِ صبح کہہ کر اسے عام کردیا اس لئے کہ اصل مدار یہ ہے کہ تاریکی کے اندر اسے خوف محسوس ہورہا ہو (خواہ یہ تاریکی کسی بھی وقت ہو) اور اعادہ کا حکم میں نے زیادہ کیا جس کی وجہ بارہا بیان ہوچکی۔ (ت)
(۹۳) اقول:یوں ہی اگر اندھیری رات یا صبح کو بدلی ایسی کالی شدید محیط یا سیاہ آندھی چل چکی اور اُس کی تاریکی پھیلی ہے اگرچہ کوئی وقت ہو اور ان سب صورتوں میں ظلمت اتنی ہے کہ کنویں تک راہ نظر نہیں آتی اور یہ روشنی پر قادر نہیں اور انتظار میں وقت جاتا ہے تیمم کرکے پڑھ لے اور اعادہ کرے۔ ایسی(۱) سیاہی کو علماء نے جماعت میں عذر گِنا ہے۔
جیسا کہ تبیین الحقائق اور ہندیہ میں ہے۔ اور درمختار کے حوالہ سے آگے ذکر آئیگا۔ اور ان حضرات نے ''سخت تاریکی''سے تعبیر کی۔
(۱؎ الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۸۲)
فقال ش الظاھر ان المراد کونہ لایبصر طریقہ الی المسجد فیکون کالاعمی ۱؎ اھ۔
جس پر علّامہ شامی نے فرمایا: ''ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد اس کا ایسی حالت میں ہونا ہے کہ مسجد تک پہنچنے کا راستہ اسے نظر نہ آتا ہو جس کی وجہ سے وہ نابینا کی طرح قرار پاتا ہو''۔ اھ (ت)