وسابعھا: کما اقول اباحوہ(۲)لخوف عدو ولص وسبع وحیۃ ونار ومعلوم ان کثیرا من ھذہ لایلبث الاقلیلا فالنار تنطفی اوتمر فی ساعۃ اوساعتین ولم یقولوا یصبر وان خرج الوقت۔
دلیل ہفتم جیسا کہ میں کہتا ہوں، دشمن، چور، درندے، سانپ اور آگ کے خوف سے تیمم جائز قرار دیا گیا ہے جبکہ معلوم ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جو تھوڑی ہی دیر رہتی ہیں۔آگ بھی گھنٹے دو گھنٹے میں بُجھ جاتی ہے یا گزر جاتی ہے۔مگر یہ حکم نہ ہُوا کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے۔(ت)
فان اجبت کما خطرببالی ان التیمّم لیس لحفظ الوقت وانما ھو لدفع الضرر والحرج حیث کان وفی البرد والنار وامثالھا ضرر وفی بعدہ میلا حرج فتحقق المناط لانہ اذا(۳) ادرک الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھا ولاینظر الا الی حالتہ الواھنۃ وھو فیھا متضرر اومتحرج بالوضوء اوالغسل فابیح لہ التیمّم۔
اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے جیسا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ تیمم تحفّظِ وقت کیلئے نہیں بلکہ ضرر وحرج دفع کرنے کیلئے ہے جہاں بھی ہو۔ٹھنڈک اور آگ جیسی چیزوں میں ضرر ہے اور ایک میل دُور ہونے میں حرج ہے تو جو امر مدار جواز ہے وہ پالیا گیا۔اس لئے کہ جب نماز کا وقت آگیا اور اس نے نماز پڑھنا چاہی تو اس سے اسے روکا نہ جائے گااور اس کی موجودہ حالت ہی دیکھی جائے گی۔اس حالت میں وضو یا غسل سے واقعۃً اس کیلئے ضرر یا حرج ہے توتیمم اس کیلئے جائز قرار دیا گیا۔(ت)
اقول:ھل ئختص الحرج والضرر بمایصیب بدنہ ومالہ ام یعم مایستضر بہ فی دینہ علی الاول لم ابحتم لخوف فوت جنازۃ وعید وعلی الثانی ان کان علیہ ضرر فی دینہ لفوت فرض کفایۃ مع انھا قد اقیمت و واجب بل و سنۃ لا الی بدل اذ لا براء ۃ لعھدتہ عن ھذہ المطالبۃ الشرعیۃ الا بالتیمم فضرر اعظم واشد منہ فی فوت الفریضۃ عن وقتھا ولابراء ۃ لعھدتہ عن ھذہ المطالبۃ الشرعیۃ العظمی اعنی الاتیان بھا فی وقتھا الا بالتیمّم فیجب ان یباح۔
اقول:(میں کہتا ہوں): کیا حرج یا ضرر اسی چیز سے خاص ہے جو اس کے بدن اور مال سے تعلق رکھتی ہو یا اسے بھی عام ہے جس سے اس کے دین میں نقصان وضرر ہو؟ پہلی تقدیر پر یہ کلام ہے کہ پھر آپ نے فوت جنازہ وعید کے اندیشہ سے تیمم کیوں جائز کہا؟ اور دُوسری تقدیر پر یہ کہ اگر اس کے دین کا نقصان اِس میں ہے کہ ایک فرض کفایہ فوت ہورہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں سے اس کی ادائیگی عمل میں آچکی اور اس میں کہ ایک واجب فوت ہورہا ہے بلکہ صرف ایک سنّت بھی جس کا کوئی بدل نہیں۔(اس لئے آپ نے تیمم کو جائز کہا)کیوں کہ بغیرتیمم کے وہ اس شرعی مطالبہ سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا تو اس سے زیادہ عظیم اور اس سے زیادہ شدید نقصان تو اس میں ہے کہ ایک فرضِ عین اپنے وقت سے فوت ہورہا ہے اور بغیرتیمم کے اِس عظیم تر شرعی مطالبہ وقت کے اندر ادائیگی سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ تو لازم ہے کہ اس کیلئے بھی تیمم جائز ہو۔(ت)
ھذا ماعندی فاستنار بحمداللّٰہ تعالٰی ماجنح الیہ المحقق واتباعہ من قوۃ دلیل زفر بل دلیل ائمتنا جمیعا فی الروایۃ الاخری وکیفما کان لاینزل من ان یؤخذ بہ تحفظا علی فریضۃ الوقت ثم یؤمر بالاعادۃ عملا بالروایۃ المشھورۃ فی المذھب لاجرم ان قال فی الغنیۃ بعد ایراد ماقدمنا عن شمس الائمۃ وحینئذ فالاحتیاط ان یصلی بالتیمم فی الوقت ثم یتوضؤ ویعید لئخرج عن العھدتین بیقین ۱؎ اھ۔
ھذا ماعندی (میرے علم وفکر کی رُو سے یہی ہے) اس تفصیل سے بحمداللہ تعالٰی وہ روشن ہوگیا جس کی طرف محقق علی الاطلاق اور ان کے متبعین کا رُجحان ہے کہ امام زفرکی دلیل بلکہ روایتِ دیگر کے لحاظ سے ہمارے سبھی ائمہ کی دلیل قوی ہے اور جیسا بھی ہو کم از کم اتنا ضرور ہے کہ فریضہ وقت کے تحفظ کیلئے اس قول کو لیا جائے پھر اعادہ کا حکم دیا جائے تاکہ مذہب کی روایتِ مشہورہ پر بھی عمل ہوجائے شمس الائمہ کے حوالہ سے جو ہم نے پہلے بیان کیا اسے ذکر کرنے کے بعد غنیہ میں لکھا ہے: ''اس کے پیشِ نظر احتیاط یہی ہے کہ وقت کے اندرتیمم سے نماز پڑھ لے، پھر وضو کرکے اعادہ کرے تاکہ دونوں ذمہ داریوں سے یقینی طور پر سبکدوش ہوجائے''۔
(۱؎ غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۳)
وقد نقل کلامہ ھذا فی الدر واقرہ ھو والسادۃ الاربعۃ محشوہ ح ط ش وابو السعود وقال الشامی ھذا قول متوسط بین القولین وفیہ الخروج عن العھدۃ بیقین فلذا اقرہ الشارح فینبغی العمل بہ احتیاطا ولاسیما وکلام ابن الھمام یمیل الی ترجیح قول زفر بل قد علمت انہ روایۃ عن مشائخنا الثلٰثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم(۱) ونظیر ھذا مسألۃ الضیف الذی خاف ریبۃ فانھم قالوا یصلی ثم یعید ۲؎ اھ۔
ان کا یہ کلام درمختار میں نقل کرکے برقرار رکھا اور دُرمختار کے چاروں محشی سید حلبی، سید طحطاوی، سید شامی اور سید ابو السعود نے بھی برقرار رکھا۔ اور علامہ شامی نے فرمایا: ''یہ دونوں قولوں کے مابین ایک درمیانی قول ہے، اور اس میں یقینی طور پر ذمہ داری سے سبکدوشی ہے۔اسی لئے شارح نے اسے برقرار رکھا۔تو احتیاطاً اسی پر عمل ہونا چاہئے خصوصاً جبکہ امام ابن الہام کا کلام امام زفر کے قول کی ترجیح کی جانب مائل نظر آتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوچکا کہ یہ تو ہمارے تینوں مشائخ سے ایک روایت ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم۔اس کی نظیر اس مہمان کا مسئلہ ہے جسے تہمت کا اندیشہ ہو۔اس کے بارے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھ لے پھر اعادہ کرے'' اھ
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۰)
وانما اطنبنا الکلام ھھنا لما رأینا بعض العلماء تعجب منہ حین افتیت بہ فی مجلس جمعنا وباللّٰہ التوفیق والوصول الی ذری التحقیق والحمدللّٰہ رب العٰلمین وصلی اللّٰہ تعالٰی وسلم علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین۔
اس مقام پر ہم نے تفصیلی بحث اس لئےکی ہے کہ میں نے دیکھا کہ جب ایک محفل میں اس پر میں نے فتوٰی دیا تو ایک عالم کو بڑا تعجب ہوا اور خدا ہی کی جانب سے توفیق، اور بلندی تحقیق تک رسائی ہوتی ہے اور ساری خُوبیاں اللہ تعالٰی کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے اور اللہ تعالٰی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر۔ آمین۔(ت) رسالہ ضمنیہ الظفر لقول زفر تمام ہوا۔
(۸۹) کنویں پر ہجوم ہے جگہ تنگ ہے یا ڈول ایک ہی ہے لوگ نوبت بنوبت پانی بھرتے وضو کرتے ہیں اور یہ دُور ہے کہ اس تک باری اُس وقت پہنچے گی جب نماز کا وقت جاتا رہے گا آخر وقت کے قریب تک انتظار کرے جب دیکھے کہ وقت نکل جائےگا تیمم کرکے پڑھ لے پھر اعادہ کرے۔
(۹۰) کسی نے پانی بھرنے کیلئے ڈول یا رسّی دینے کا وعدہ کیا ہے انتظار کرکے تیمم سے پڑھ لے۔یہ دونوں مسئلے ابھی گزرے۔ اقول: اور اب اعادہ کی بھی حاجت نہیں کہ یہاں حکم تیمم خود مذہب صاحبِ مذہب ہے رضی اللہ تعالٰی عنہ ہاں بہ لحاظِ مذہب صاحبین اعادہ اولٰی ہے درمختار میں تھا:
یجب طلب الدلو والرشاء وکذا الانتطار لوقال لہ حتی استقی وان خرج الوقت ۱؎۔
ڈول اور رسّی طلب کرنا ضروری ہے۔اسی طرح انتظار کرنا بھی واجب ہے اگر کسی نے اس سے کہا ہو کہ میں پانی بھرلوں تو تمہیں دُوں گا، اگرچہ انتظار میں وقت نکل جائے۔
(۱؎ الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۴۴)
اس پر ردالمحتار میں ہے:ای یجب انتطارہ للدلو اذا قال ۔۔۔الخ لکن ھذا قولھما وعندہ لایجب بل یستحب ان ینتظر الی اٰخر الوقت فان خاف فوت الوقت تیمّم وصلی وعلی (۱) ھذا لوکان مع رفیقہ ثوب وھو عریان فقال انتظر حتی اصلی وادفعہ الیک واجمعوا(۱) انہ اذا قال ابحت لک مالی لتحج بہ انہ لایجب علیہ الحج واجمعوا انہ فی الماء ینتظر وان خرج الوقت ومنشؤ الخلاف ان القدرۃ(۲) علی ماسوی الماء ھل تثبت بالاباحۃ فعندہ لا وعندھما نعم کذا فی الفیض والفتح والتاترخانیۃ و غیرھا (قلت) ای کالخانیۃ والخلاصۃ وغیرھما) وجزم فی المنیۃ بقول الامام وظاھر کلامھم ترجیحہ (اقول:ولوسکتوا لکان لہ الترجیح لان کلام الامام امام الکلام کما حققناہ فی اجلی الاعلام) وفی الحلیۃ والفرق للامام ان الاصل فی الماء الاباحۃ و الحظر ففیہ عارض فیتعلق الوجوب بالقدرۃ الثابتۃ بالاباحۃ ولا کذلک ما سواہ فلایثبت الابالملک کمافی الحج اھ فتنبہ ۱؎ اھ مافی الشامی۔
یعنی اسے ڈول کا انتظار کرنا واجب ہے جب اس سے مذکورہ وعدہ کیا ہو الخ لیکن یہ صاحبین کا قول ہے امام اعظم کے نزدیک واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے کہ آخر وقت تک انتظار کرلے اگر وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو توتیمم کرکے نماز پڑھ لے یہی اختلاف اُس صورت میں بھی ہےجب یہ برہنہ ہے اور اس کے رفیق کے پاس ایک کپڑا ہے اس نے کہا انتظار کرو میں نماز ادار کرکے تمہیں یہ کپڑا دوں گا۔ اور اس پر ان ائمہ کا اجماع ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ تمہارے حج کیلئے میں نے اپنا مال مباح کردیا تو اس پر حج واجب نہیں اور اس پر بھی اجماع ہے کہ پانی دینے کا وعدہ کیا ہو تو انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے اور اصل منشاء اختلاف یہ ہے کہ پانی کے ماسوا چیزوں پر اباحت سے قدرت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ امام اعظم کے نزدیک نہیں ہوتی اور صاحبین کے نزدیک ہوجاتی ہے۔ایسا ہی فیض، فتح، تاتارخانیہ وغیرہا (میں کہتا ہوں:یعنی جیسے خانیہ، خلاصہ وغیرہما) میں ہے منیۃ المصلی میں امام اعظم کے قول پر جزم کیا ہے۔اور ان کے ظاہر کلام سے اسی کی ترجیح معلوم ہوتی ہے (اقول: اگر یہ حضرات ترجیح سے سکوت اختیار کرتے تو بھی اسی کو ترجیح حاصل ہوتی۔اس لئے کہ کلامِ امام، امامِ کلام ہے جیسا کہ اجلی الاعلام میں ہم نے اس کی تحقیق کی ہے) اور حلیہ میں ہے: ''امام اعظم کے مذہب کی بنیاد پر وجہ فرق یہ ہے کہ پانی میں اصل اباحت ہے اور ممانعت عارضی ہوتی ہے تو اس میں اِباحت سے ثابت ہونے والی قدرت سے ہی وجوب ہوجاتا ہے اور اس کے ماسوا کا یہ حال نہیں۔ تو اس میں بغیر ملک کے وجوب کا ثبوت نہ ہوگا جیسے حج میں اھ''۔ اس پر متنبہ رہنا چاہئے شامی میں جو ہے ختم ہوا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۴)
اقول: بل(۳) فی الماء فوق ذلک فانہ اوجب فیہ الانتظار وان خرج الوقت بمجرد الوعد غیر الاباحۃ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: بلکہ پانی میں اس سے بھی زیادہ ہے اس لئے کہ اس میں محض وعدہ کی بناء پرانتظار واجب کیا ہے اگرچہ وقت نکل جائے اور وعدہ اباحت نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۹۱) کسی نے پانی دینے کا وعدہ کیا ہے یہاں بھی جب وقت جاتا دیکھے تیمم سے پڑھ لے پھر پانی مل جائے تو وضو سے دوبارہ پڑھے۔
لان فیہ المشی علی قول زفر علی خلاف قول الائمۃ الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم کما علمت اٰنفا۔
اس لئے کہ اس میں قول ائمہ ثلاثہ کے برخلاف امامِ زفر کے قول پر عمل ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔(ت).اقول: ظاہرا اس(۱) صورت میں اگر وہ اس کے نماز پڑھتے میں پانی لے آیاتیمم نہ جائےگا نماز پُوری کرے جبکہ جانے کہ وضو کرنے سے نماز وقت پر نہ ملے گی۔
لانہ کان واجد الماء قبل ھذا ظاھرا کمامر عن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی وانما ساغ لہ التیمّم لضیق الوقت عن استعمالہ ولم یتبدل ھذا السبب فلاینتقض التیمم بخلاف صورۃ افادھا فی الدر اذقال لوتیمم(۲) لعدم الماء ثم مرض مرضا یبیح التیمم (ای وقد وجد الماء بعدہ کما بینہ ش)لم یصل بذلک التیمّم لان اختلاف(۳) اسباب الرخصۃ یمنع الاحتساب بالرخصۃ الاولی وتصیر الاولی کان لم تکن جامع الفصولین فلیحفظ ۱؎ اھ۔
اس لئے کہ ظاہراً اس سے پہلے بھی پانی اسے دستیاب تھا جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے اس کا بیان گزرا اور اس کیلئے تیمم صرف اس لئے جائز ہوا کہ وقت میں پانی استعمال کرنے کی گنجائش نہ تھی اور اس سبب میں اب بھی کوئی تبدیلی نہ آئی توتیمم نہ ٹوٹے گا ہاں اس کے برخلاف تیمم ٹوٹنے کی ایک صورت ہے جس کا درمختار میں اس طرح افادہ کیا ہے: ''اگر پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کیا۔ اس کے بعد اسے ایسی بیماری ہوگئی جس سے تیمم جائز ہوجاتا ہے(پھر پانی مل گیا جیسا کہ شامی نے بیان کیا ہے) تو سابقہ تیمم سے نمازنہ پڑھے۔اس لئے کہ اسبابِ رخصت میں تبدیلی پہلی رخصت کو شمار کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ اور پہلی رخصت کالعدم ہوجاتی ہے جامع الفصولین اسے ذہن نشین رکھنا چاہئے اھ''۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۴۲)